بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 28
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے (وہ اللہ کی طرف سے ہیں)؟
اور وه لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا، کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟
اور جب کوئی بے حیائی کریں تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،
اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور خدا نے (بھی) ہمیں یہی حکم دیا ہے اے رسول کہیئے کہ یقینا کبھی اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ پر ایسی بات کی تہمت لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے؟
اور جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہالت اور طواف کعبہ ٭٭

مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔ «اَلْیَوْمَ یَبْدَوُ بَعْضُہُ اَوْ کُلُّہُ» «وَمَا بَدَاَ مِنْہُ فَلَا اُحِلُّہُ» آج اس کا تھوڑا سا حصہ یا کل حصہ ظاہر ہو جائے گا۔ اور جتنا بھی ظاہر ہو، میں اسے اس کے لیے جائز نہیں رکھتی۔

اس پر آیت «وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا» الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں، اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کر سکیں۔ ہاں قریش جو اپنے آپ کو حمس کہتے تھے، اپنے کپڑوں میں ہی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں، وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کر سکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کر سکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا، اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتے تھے۔ پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد۔ عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گزرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں۔ یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی۔ اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لیے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی! آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہو۔ دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو۔ یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چناچہ وہ لباس اتار کر طواف کرتے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، اس لئے، صرف اپنی شرم گاہ پر کوئی کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرم ناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کیے۔ ایک تو یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے؟ یوں ہی تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔ جب انہیں حق کی بات بتائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں یا ہمارے امام اور پیر و شیخ کا یہی حکم ہے، یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی، یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعتوں پر قائم رہے (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ {وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً ……:} یہاں {” فَاحِشَةً “} اور{ ” بِالْفَحْشَآءِ “ } سے مراد وہ عبادات ہیں جو انھوں نے از خود ایجاد کر لی تھیں، مثلاً ان کے مرد اور عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتے کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان میں طواف کیسے کریں؟ اس کے علاوہ اس آیت میں مشرکین کے اپنی بے حیائی اور بد کاری پر قائم رہنے کے دو عذر بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یعنی اپنے بڑوں کو ایسا کرتے ہوئے پانے کی چونکہ درست تھی اس لیے یہاں اس کی نفی نہیں کی گئی۔ ہاں دوسری کئی آیات میں بتایا گیا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰) اور سورۂ مائدہ (۱۰۴)۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی سن چکے کہ باپ نے شیطان کا فریب کھایا، پھر باپ کی سند کیوں لاتے ہو؟“ (موضح) رہا دوسرا عذر تو چونکہ بطور واقعہ بھی غلط تھا اور بطور دلیل بھی، اس لیے یہاں اس کی تردید فرمائی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ جب انبیاء کی زبان سے ان کاموں کا برا اور قبیح ہونا ثابت ہو چکا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس قسم کی بے حیائی کا حکم دے۔ (رازی) ➋ { اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ ……:} اس آیت میں ان لوگوں کو بھی سخت تنبیہ ہے جو محض باپ دادا کی رسموں کو دین سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کو ثواب سمجھتے ہیں اور ان مقلدین کے لیے بھی جو امام پرستی، شیخ پرستی یا کسی بھی شخصیت پرستی میں گرفتار ہیں، جب بھی انھیں حق کی بات دلیل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اور وہ لاجواب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو کیا اس کا علم نہ تھا؟ کیا وہ جاہل تھے؟ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں، ہم بھی اسی پر قائم رہیں گے۔ یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعت پر قائم رہے۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →