بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 42
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾
بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیاده کسی کا مکلف نہیں بناتے وہی لوگ جنت والے ہیں اور وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے، یہ لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭

اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔

ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں، حسد، بغض دور کر دیئے جائیں گے۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2440] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے، جو آیت «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:73] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5673] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

42۔ 1 یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، بلکہ ہر انسان ان کو باآسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے عمل کو بروئے کار لاسکتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ:} یہ جملہ کہ ” ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے“ جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔“ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →