بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 126
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 126
آیت نمبر: 126 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾٪
تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"
اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال
اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا
اور تم ہم سے صرف اس بات کا انتقام لینا چاہتے ہو کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لائے ہیں جب وہ ہمارے پاس آئی ہیں۔ (پھر یوں دعا کی) اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے سچے مسلمان (فرمانبردار) ہوں۔
اور تو ہم سے اس کے سوا کس چیز کا بدلہ لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے، جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حال میں فوت کر کہ فرماں بردار ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

📖 احسن البیان

126۔ 1 یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہ عیب ہے۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ درآنحالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں یہ تو خوبی ہے بہت بڑی خوبی کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہو کر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست دعا ہوگئے۔ 126۔ 2 تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کرلیں، اور حق اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ 126۔ 3 اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 126) {وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا …: ” نَقَِمَ مِنْهُ} (ض، ع) “ اور {”اِنْتَقَمَ“ عَاقَبَهُ} یعنی {”نَقَمَ مِنْهُ“} اور {”اِنْتَقَمَ مِنْهُ“} کا معنی بدلہ لینا، سزا دینا ہے اور{” نَقَّمَ الْأَمْرَ“ } کا معنی {” كَرِهَهُ“ } یعنی کسی شے سے نفرت اور کراہت ہے۔ (قاموس) مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی گناہ ہے تو صرف یہ کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چنانچہ ان جادوگروں نے جب موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے، اس لیے وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر پختگی تھی کہ انھوں نے جان تک کی پروا نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ سے صبر و استقامت اور ایمان و اسلام پر موت کی دعا کی۔ مشہور قول کے مطابق وہ قتل کر دیے گئے، چنانچہ طبری اور دوسرے مفسرین نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے کہ شروع دن میں وہ جادوگر تھے اور پھر دن کے آخری حصے میں شہداء میں داخل ہو گئے۔ دکتور حکمت بن بشیر نے تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول کے متعلق لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ قول ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ سدی عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے جب کہ سدی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نہیں سنا (لہٰذا روایت منقطع ہے صحیح نہیں)۔ قرآن مجید نے اس مقام پر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا انجام کیا ہوا، نہ ہی سورۂ شعراء اور سورۂ طٰہٰ میں یا کسی اور جگہ یہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقصد عبرت کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی مدد، فرعون کی شکست، جادوگروں کے ایمان لانے، فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اس پر قائم رہنے کے عزم اور صبر اور ایمان پر خاتمے کی دعا کا بیان ہے، محض قصہ بیان کرنا نہیں، جیسا کہ سورۂ نازعات میں فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى }» [ النازعات: ۲۶ ] ”بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ فرعون اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا، جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا: ”مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ [ المؤمن: ۲۶ ] اور آل فرعون میں سے وہ مومن جس نے بھرے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی مخالفت کی اس کے خلاف بھی فرعون نے بدترین سازش کی، مگر وہ موسیٰ علیہ السلام کو قتل نہ کر سکا اور اس مومن کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی سازشوں سے بچا لیا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۴۵) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ تسلی دے کر بھیجا تھا: «{ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ }» [ القصص: ۳۵ ] ”ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمھاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔“ زیر تفسیر مقام پر بھی اگر وہ اپنی اس دھمکی پر عمل کر چکا ہوتا تو اس کی قوم کے سرداروں کو اسے نئے سرے سے بھڑکانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
← پچھلی آیت (125) پوری سورۃ اگلی آیت (127) →