بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 125
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 125
آیت نمبر: 125 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾ۚ
انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے
انہوں نے جواب دیا کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے
بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں
انہوں نے کہا (ہمیں کیا پروا ہے) ہم لوگ بہرحال اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔
انھوں نے کہا یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

📖 احسن البیان

125۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 125) {قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ:} یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور آنی ہے، اگر ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ہمارا خاتمہ سولی پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے سولی دو، ہمیں کوئی پروا نہیں۔
← پچھلی آیت (124) پوری سورۃ اگلی آیت (126) →