بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 121
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 121
آیت نمبر: 121 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۱﴾ۙ
کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو
کہنے لگے کہ ہم ایمان ﻻئے رب العالمین پر
بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،
اور کہنے لگے ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے۔
انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

📖 احسن البیان

121۔ 1 جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ انہوں نے موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 122،121) {قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ …:} ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ «{ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ }» (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔
← پچھلی آیت (120) پوری سورۃ اگلی آیت (122) →