بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 104
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 104
آیت نمبر: 104 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
موسیٰؑ نے کہا "اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہو ں
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں پرور دگا ر عالم کا رسول ہوں،
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! بے شک میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 104){ وَ قَالَ مُوْسٰى يٰفِرْعَوْنُ اِنِّيْ رَسُوْلٌ …:} فرعون مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا، جیسا کہ روم کے بادشاہ کا قیصر اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے اس کے عزت والے نام کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ مخاطب فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھیجتے وقت تلقین فرمائی تھی۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۴۴) اس فرعون کا نام منفتاح بن رعمسیس ثانی یا ولید بن ریان بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں۔
← پچھلی آیت (103) پوری سورۃ اگلی آیت (105) →