بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 105
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 105
آیت نمبر: 105 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
حَقِیۡقٌ عَلٰۤی اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِبَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَرۡسِلۡ مَعِیَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿۱۰۵﴾ؕ
میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے"
میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لےکر آیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے
میرے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہوں میں تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں۔ پس تو بنی اسرائیل کو (آزاد کرکے) میرے ساتھ بھیج دے۔
اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ پر حق کے سوا نہ کہوں، بلا شبہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں، سو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے۔ 15۔ 2 بنی اسرائیل جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورة، بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ نے فرعون سے دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جاکر عزت اور احترام کی زندگی گزاریں اور اللہ کی عبادت کریں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 105) ➊ {حَقِيْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ:} کیونکہ میں اللہ کا رسول(پیغام پہنچانے والا) ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچا دے، اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے، لہٰذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہو گی۔ نافع کی قراء ت میں ہے: {” حَقِيْقٌ عَلَيَّ أَلَّا أَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ إِلَّا الْحَقَّ “} اس صورت میں {” حَقِيْقٌ “} کا معنی ہے واجب، یعنی مجھ پر واجب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ عاصم کی قراء ت میں وہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں: «{ حَقِيْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ }» اس صورت میں {” حَقِيْقٌ “} کا معنی ہے قائم، ثابت۔ {” حَقِيْقٌ “} مبتدا محذوف {” أَنَا “} کی خبر ہے، یعنی میں اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ ➋ { فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} یعنی انھیں غلامی سے آزاد کر، تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آزادی کے ساتھ عبادت کر سکیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس مطالبے کا پس منظر یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے بھائی مصر میں آکر آباد ہو گئے اور وہیں ان کی نسل پھیلی جو بنی اسرائیل کہلائی۔ یوسف علیہ السلام کی زندگی تک تو انھیں پوری طرح اقتدار حاصل رہا لیکن اس کے بعد فرعونوں نے انھیں غلام بنا لیا اور مصر میں ان کی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہو گئی، وہ چونکہ مسلمان تھے اس لیے موسیٰ علیہ السلام کے مشن میں جہاں یہ چیز شامل تھی کہ فرعون کو توحید کی دعوت دی جائے وہاں یہ بھی ضروری تھا کہ اگر فرعون دعوت حق کو قبول نہ کرے اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز نہ آئے تو بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلا کر کسی دوسری جگہ لے جایا جائے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کر سکیں۔ یہاں {” فَاَرْسِلْ “ } میں حرف فاء تفریع کے لیے ہے، یعنی جب تو کھلے دلائل جاننے کے باوجود انکار پر قائم ہے تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب فرعون نے ہر طرح رب العالمین کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، جیسا کہ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔
← پچھلی آیت (104) پوری سورۃ اگلی آیت (106) →