بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 130
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 130
آیت نمبر: 130 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِیۡنَ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾
ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے
اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں، تاکہ وه نصیحت قبول کریں
اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں
اور ہم نے فرعونیوں کو قحط اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں گرفتار کیا کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے فرعون کی آل کو قحط سالیوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

📖 احسن البیان

130۔ 1 آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ اور سنین سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 130){ وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ …:} اوپر کی آیت میں جب موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمھارا مالک تمھارے دشمن کو تباہ کر دے، تو اب یہاں سے ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا بیان شروع کیا جن میں وقتاً فوقتاً آل فرعون کو مبتلا کیا گیا، حتیٰ کہ آخر کار تباہ کر دیے گئے، تاکہ ان مشرکین کو کفر پر کچھ تنبیہ ہو اور انھیں خبردار کیا جائے کہ پیغمبروں کے جھٹلانے کا انجام تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف اور مصیبتیں ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آ جائیں، کیونکہ مصیبت کے وقت دل نرم اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (129) پوری سورۃ اگلی آیت (131) →