بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 142
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 142
آیت نمبر: 142 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ "میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا"
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعده کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
اور ہم نے موسیٰ سے (توراۃ دینے کے لیے) تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اسے مزید دس (راتوں) سے مکمل کیا۔ اس طرح ان کے پروردگار کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوگئی اور جناب موسیٰ نے (کوہ طور پر جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو۔ اور اصلاح کرتے رہو اور (خبردار) مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کی میعاد مقرر کی اور اسے دس راتوں کے ساتھ پورا کر دیا، سو اس کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم میں تو میرا جانشین رہ اور اصلاح کرنا اور مفسدوں کے راستے پر نہ چلنا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسانات پہ احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لیے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔ تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا۔ اسی دن دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کامل ہوا ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا» ۱؎ [5-المائدة:3] ‏‏‏‏ وعدہ پورا کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے طور کا قصد کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ا’ ے گروہ بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور طور ایمن کا وعدہ کیا الخ۔ ‘ ۱؎ [20-طه:80] ‏‏‏‏ آپ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور انہیں اصلاح کی اور فساد سے بچنے کی ہدایت کی۔ یہ صرف بطور وعظ کے تھا ورنہ خود ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے شریف و کریم اور ذی عزت پیغمبر تھے۔ «صلوات اللہ علیھم اجمعین»

📖 احسن البیان

142۔ 1 فرعون اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جاتے وقت حضرت ہارون ؑ کو جو ان کے بھائی، بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقر کردیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے۔ 142۔ 2 حضرت ہارون ؑ خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں محض تذکرہ تنبیہ کے طور پر یہ نصیحتیں کیں، میقات سے یہاں مراد وقت معین ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 142) {وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً …:} فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر طلب فرمایا، تاکہ انھیں کتاب دی جائے۔ پہلے تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کر دیا گیا، تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ علیہ السلام روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تیس راتوں کی خلوت سے عبادت اور مناجات کی عادت پڑ جائے گی اور مناجات کی لذت سے آشنائی کے بعد دس راتیں بڑھانے سے بھی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی چالیس راتیں تھیں جو دس بڑھانے سے مکمل ہو گئیں۔ (واللہ اعلم) بعض روایات میں ہے کہ ان دس دنوں کا اضافہ اس لیے کیا گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے تیس دن کے روزوں کے بعد مسواک کر لی، جس سے وہ بو جاتی رہی جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب تھی، مگر اس روایت کا کوئی سراغ قرآن و حدیث سے نہیں ملا، نہ کسی صحیح سند سے اس کی تائید ہوتی ہے اور مسواک سے وہ بو جاتی بھی نہیں، کیونکہ وہ درحقیقت معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے روزے دار کے لیے مسواک کے مستحب ہونے کا ایک باب مقرر فرمایا ہے: [ بَابُ السِّوَاكِ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ ] یعنی روزے دار تازہ اور خشک مسواک کر سکتا ہے۔ [ بخاری، الصوم، قبل ح: ۱۹۳۴ ] جب موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کی یہ میعاد پوری کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا اور انھیں تورات کی الواح (تختیاں) عطا فرمائیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کا مزاج سمجھتے تھے، ہارون علیہ السلام اگرچہ اس سے پہلے بھی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے تھے مگر ان کی حیثیت ایک مددگار اور وزیر کی تھی، اصل قائد موسیٰ علیہ السلام ہی تھے، اب ان دنوں کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے انھیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ وہ ان کی اصلاح کرتے رہیں اور فسادیوں کے پیچھے مت لگیں۔
← پچھلی آیت (141) پوری سورۃ اگلی آیت (143) →