بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 102
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 102
آیت نمبر: 102 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا وَجَدۡنَا لِاَکۡثَرِہِمۡ مِّنۡ عَہۡدٍ ۚ وَ اِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَکۡثَرَہُمۡ لَفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا
اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا
اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا،
اور ہم نے ان کی اکثریت میں عہد و پیمان کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے اکثر کو فاسق و فاجر پایا ہے۔
اور ہم نے ان میں سے اکثر کا کوئی بھی عہد نہیں پایا اور بے شک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭

پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ’ جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:15] ‏‏‏‏ ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ’ تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:109-110] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔

ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے: { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ } [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ خود قرآن کریم میں ہے: ’ ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ ‘ ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: ’ اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ ‘ ۱؎ [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ ‘ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ ‘ [6-الأنعام:28] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

12۔ 1 اس سے بعض نے عہد الست جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، بعض نے عذاب ٹالنے کے لئے پیغمبروں سے جو عہد کرتے تھے، وہ عہد اور بعض نے عام عہد مراد لیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ اور یہ عہد شکنی، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، فسق ہی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 102) ➊ {وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ:مِنْ عَهْدٍ “} (کوئی بھی عہد) کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے، جس کا عموم {” مِنْ “} سے مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد کسی بھی قسم کا عہد ہے، نہ فطری جو {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} کے وقت کیا تھا، نہ شرعی جو پیغمبروں سے عذاب ٹالنے کی درخواست کے وقت کرتے تھے اور نہ عرفی جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ ➋ {لَفٰسِقِيْنَ:} ”نافرمان“ یعنی کسی عہد کا پاس نہ کرنے والے پکے بے ایمان۔
← پچھلی آیت (101) پوری سورۃ اگلی آیت (103) →