بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 145
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 145
آیت نمبر: 145 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ کَتَبۡنَا لَہٗ فِی الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡعِظَۃً وَّ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذۡہَا بِقُوَّۃٍ وَّ اۡمُرۡ قَوۡمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: "اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا
اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی، تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں، اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر
اور ہم نے موسیٰ کے لیے ان تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے۔ پس اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو لے لیں (اس کے احکام پر کاربند ہو جائیں) میں عنقریب تم لوگوں کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھا دوں گا۔
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر چیز کے بارے میں نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، سو انھیں قوت کے ساتھ پکڑ اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی بہترین باتوں کو پکڑے رکھیں، عنقریب میں تمھیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

145۔ 1 گویا تورات تختیوں کی شکل میں عطا فرمائی گئی جس میں ان کے لئے دینی احکام، امر و نہی تر غیب و ترتیب کی پوری تفصیل تھی۔ 145۔ 2 یعنی رخصتوں کی ہی تلاش میں نہ رہیں جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے۔ 145۔ 3 مقام (دار) سے مراد تو انجام یہی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا اور اس سے مراد ملک شام ہے۔ جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 145) ➊ {وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ …:} یعنی تمام عقائد و احکام اور نصائح جن کی بنی اسرائیل کو حلال و حرام اور دین کے دوسرے معاملات معلوم کرنے کے سلسلہ میں ضرورت پیش آ سکتی تھی۔{ ” كُلّ “ } کا لفظ موقع کی مناسبت ہی سے متعین ہوتا ہے، مثلاً ملکۂ سبا کے متعلق آتا ہے: «{ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ }» [ النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا: «{ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا }» [ الأحقاف: ۲۵ ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ حالانکہ ظاہر ہے کہ نہ ملکۂ سبا کو کائنات کی ہر چیز عطا ہوئی تھی اور نہ اس آندھی نے کائنات کی ہر چیز کو برباد کیا تھا۔ ➋ {فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ:} اسے قوت کے ساتھ پکڑ۔ مجاہد نے فرمایا، جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کر۔ [ بخاری، التفسیر، قبل ح: ۴۴۷۷ ] ➌ موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن کے اعتکاف کے بعد کتاب ملی، جب کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور ان کے احکام سے انکار کی وجہ سے ہلاک کی جا چکی تھی اور اس وقت تک موسیٰ علیہ السلام کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی، تقریباً چالیس سال تک اترنے والی وحی موسیٰ علیہ السلام کی حدیث ہی تھی، جس کے انکار کی وجہ سے فرعون غرق ہوا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی طرح دونوں قسم کی وحی اتری، ایک کتاب اللہ اور دوسری حدیث۔ جس طرح کتاب اللہ کا منکر مسلمان نہیں اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے والا بھی کافر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پہلے نبیوں کی طرح دونوں قسم کی وحی اتری۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۳ تا ۱۶۵) از فوائد مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ۔ ➍ {وَ اْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا:} ”اس کی بہتر باتیں“ یعنی جو کرنے کے حکم ہیں اور بری باتیں (وہ ہیں) جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ (موضح) یا رخصت کے بجائے عزیمت اختیار کریں جو بہترین ہے اور جس کا اجر زیادہ ہے، یا دو کاموں میں سے ایک اچھا ہے اور ایک اس سے بھی اچھا ہے تو بہترین پر عمل کی کوشش کریں، مثلاً قصاص لینا یا معاف کر دینا، انتقام لینا یا صبر کرنا اور درگزر سے کام لینا، قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا وغیرہ، اگرچہ دونوں اچھے ہیں مگر احسن پر عمل کی کوشش کریں۔ ➎ {سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ:} یعنی میں تمھیں فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا، یعنی دوبارہ فرعون اور اس کی آل کے گھر مصر لے جاؤں گا، اگرچہ کچھ دیر کے بعد، جیسا کہ بعد میں بنی اسرائیل کو فرعون کے باغات اور خزانوں کا مالک بنا دیا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۷) کے حواشی۔ استاد محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے، یعنی اگر تم نے ان باتوں پر عمل نہ کیا تو تمھیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ میری نافرمانی کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور انھیں کس قسم کی تباہی و بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے (گویا {” دَارَ الْفٰسِقِيْنَ “} سے مراد جہنم ہے)۔ (ابن جریر) بعض نے لکھا ہے کہ {” دَارَ الْفٰسِقِيْنَ “} سے مراد اہل شام ہیں، گویا اس میں وعدہ ہے کہ ملک شام تمھارے قبضے میں آئے گا۔ (کبیر) یا یہ کہ اگر تم نے نافرمانی کی تو تم کو اسی طرح ذلیل کریں گے جس طرح شام کا ملک ان سے چھین کر تم کو دیا۔ (موضح)
← پچھلی آیت (144) پوری سورۃ اگلی آیت (146) →