بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 150
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 150
آیت نمبر: 150 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّکُمۡ ۚ وَ اَلۡقَی الۡاَلۡوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾
ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا "بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟" اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا "اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر"
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی، اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے! ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ﻇالموں کے ذیل میں مت شمار کرو
اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی اور تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا
اور جب موسیٰ خشمناک اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے۔ تو فرمایا: اے قوم! تم نے میرے بعد بہت ہی بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کر لی (وعدہ خداوندی چالیس راتوں کے پورا ہونے کی انتظار بھی نہ کی) اور پھر (للہی جوش میں آخر تورات کی) تختیاں (ہاتھ سے) پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کا سر ہاتھ میں لے کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا اے میرے ماں جائے! قوم نے مجھے کمزور اور بے بس کر دیا تھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں پس تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اور نہ ہی مجھے ظالم گروہ کے ساتھ شامل کرو۔
اور جب موسیٰ غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا اپنی قوم کی طرف واپس آیا تو اس نے کہا بری ہے جو تم نے میرے بعد میری جانشینی کی، کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی، اور اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کو پکڑ لیا، اسے اپنی طرف کھینچتا تھا۔ اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! بے شک ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے قتل کر دیتے، سو دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ کر اور مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ { دیکھنا سننا برابر نہیں۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:321/2] ‏‏‏‏ اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل] ‏‏‏‏ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟

اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔ ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:271/1:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

150۔ 1 جب حضرت موسیٰ ؑ نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضبناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں جسے قرآن نے " ڈال دیں " سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء بےادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بےادبی نہیں تھا بلکہ دینی غیرت و اہمیت میں بےخود ہو کر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سر زد ہوا۔ 150۔ 2 حضرت ہارون ؑ و موسیٰ ؑ آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون نے ماں جائے ' اس لئے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔ 150۔ 3 حضرت ہارون ؑ نے اپنا عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ قوم کو شرک جیسے جرم عظیم سے روکنے میں ناکام رہے۔ ایک اپنی کمزوری اور دوسرا بنی اسرائیل کا عناد اور سرکشی کہ انہیں قتل تک کردینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لئے خاموش ہونا پڑا، جس کی اجازت ایسے موقعوں پر اللہ نے دی ہے۔ 150۔ 4 میری ہی سرزنش کرنے سے دشمن خوش ہونگے، جب کہ یہ موقع تو دشمنوں کی سرکوبی اور ان سے اپنی قوم کو بچانے کا ہے۔ 150۔ 5 اور ویسے بھی عقیدہ و عمل میں مجھے کس طرح ان کے ساتھ شمار کیا جاسکتا ہے، میں نے نہ شرک کا ارتکاب کیا، نہ اس کی اجازت دی، نہ اس پر خوش ہوا، صرف خاموش رہا اور اس کے لئے بھی میرے پاس معقول عذر موجود ہے، پھر میرا شمار ظالموں (مشرکوں) کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے؟ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے بھائی ہارون ؑ کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا مانگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 150) ➊ {وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا:غَضْبَانَ”فَعْلَانَ“ } کے وزن پر کسی چیز سے بھرے ہوئے ہونے پر دلالت کرتا ہے، یعنی غصے سے بھرے ہوئے۔ {” اَسِفًا “ } صفت کا صیغہ ہے، لغت میں اس کا معنی غصے والا بھی ہے جو غضب سے بھی بڑھ کر ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ }» [ الزخرف: ۵۵ ] ”پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔“ اور اس کا معنی افسوس اور غم بھی ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ شدید غصہ اور افسوس ایک ہی چیز کی دو حالتیں ہیں، کوئی کمزور ہو تو اس پر غصہ آتا ہے اور طاقت ور ہو تو افسوس ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں رہ کر موسیٰ علیہ السلام کو ان پر غلبہ بھی حاصل تھا اور ان کی جہالتوں پر بے بس بھی تھے۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام غصے اور افسوس سے بھرے ہوئے واپس لوٹے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں طور پر ہی خبر دے دی تھی کہ سامری نے آپ کے بعد آپ کی قوم کو گمراہ کر دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۸۵)۔ ➋ {بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ۠ مِنْۢ بَعْدِيْ:} یعنی میں جاتے وقت تمھیں کہہ گیا تھا کہ جب تک میں نہ آؤں ہارون میرے خلیفہ ہوں گے، ان کا حکم ماننا اور مفسدوں کے پیچھے نہ لگنا، مگر میں جب مقرر میعاد (۳۰) دن تک واپس نہ آیا تو تم نے سمجھ لیا کہ میں مر گیا ہوں، اس پر تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کر دیا، اس طرح تم میرے بعد بہت برے جانشین ثابت ہوئے، یا تم نے بہت برا کام کیا ہے۔ (المنار) ➌ {وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ …: } موسیٰ علیہ السلام کا شدید غصہ دو کاموں کی صورت میں ظاہر ہوا، ایک الواح کو پھینکنا اور دوسرا ہارون علیہ السلام کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیکھنے اور سننے میں بہت فرق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنی ہوئی بات آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی جو ان کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں کیا تھا، مگر انھوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، جب آنکھوں سے دیکھا جو کچھ انھوں نے کیا تھا تو تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔“ [ أحمد: 271/1، ح: ۲۴۵۱۔ مستدرک حاکم: 321/2، ح: ۳۲۵۰، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما وصححہ الألبانی ] ➍ {قَالَ ابْنَ اُمَّ:} موسیٰ علیہ السلام ہارون علیہ السلام کے سگے بھائی ہی تھے، مگر انھوں نے ان کی شفقت حاصل کرنے کے لیے ”اے میری ماں کے بیٹے“ کہا۔ {” ابْنَ اُمَّ “} اصل میں {”يَا ابْنَ أُمِّيْ“} تھا، حرف ندا یاء حذف کر دیا اور {”أُمِّيْ“} کی یاء کو الف سے بدل دیا تو {”ابْنَ اُمَّا“} بن گیا، پھر مزید تخفیف کے لیے الف بھی حذف کر دیا تو {” ابْنَ اُمَّ “} بن گیا۔ ➎ {اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ …:} یعنی میں نے انھیں بچھڑے کی پوجا سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۹۰) مگر یہ لوگ مجھ پر پل پڑے اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔ ➏ {فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَآءَ …: ”شَمَاتَةٌ “} کا معنی کسی نقصان پر دشمن کا خوش ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس اندازِ غضب پر دشمن تو ضرور خوش ہوئے ہوں گے، دشمنوں سے مراد بچھڑا بنانے والے اور اس کی عبادت کی حمایت کرنے والے ہیں۔ اس لیے ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح میری گرفت کرکے دشمنوں کو خوش نہ کرو۔ «{ وَ لَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» اور یہ طے نہ کر لو کہ میں بھی ان کے بچھڑا بنانے یا پوجنے کے عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ اس سے ہارون علیہ السلام پر تورات کی اس تہمت کا واضح رد ہو گیا جس کا ذکر پیچھے (آیت ۱۴۸) میں ہوا ہے کہ یہ بچھڑا ہارون علیہ السلام نے بنایا تھا۔ ہارون علیہ السلام کو اس بات سے بھی بہت تکلیف ہوئی کہ بھائیوں کے اختلاف سے دشمن خوش ہوں گے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ {”شَمَاتَةُ الْاَعْدَاءِ“} سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، یعنی اس بات سے ہمیشہ پناہ مانگتے کہ کسی مصیبت پر دشمنوں کو خوشی حاصل ہو۔ پوری دعا اس طرح ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ] [ بخاری، الدعوات، باب التعوذ من جہد البلاء: ۶۳۴۷ ]
← پچھلی آیت (149) پوری سورۃ اگلی آیت (151) →