بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 117
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 117
آیت نمبر: 117 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ
ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا
اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا
ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا پھینکو۔ تو یکایک وہ (اژدھا بن کر) ان کے طلسموں (جادو کے جھوٹے سانپوں) کو نگلنے لگا۔
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

📖 احسن البیان

117۔ 1 لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چناچہ موسیٰ ؑ کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 118،117){ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى …:} موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے اپنی لاٹھی پھینکی تو اس نے ان کے جھوٹ موٹ بنائے ہوئے سانپوںکو نگلنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جو حق تھا، ثابت ہو گیا اور جادو جو جھوٹ، شعبدے اور مکاری پر مبنی تھا، بے کار اور باطل ہو گیا۔
← پچھلی آیت (116) پوری سورۃ اگلی آیت (118) →