یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
تفسیر احسن البیان
(آیت 1تا5) ➊ {الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ …: ” الٓمّٓ“} کے متعلق سورۂ بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آ جائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکینِ مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکینِ مکہ پر غلبہ حاصل ہو گا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے اطراف میں دو بڑی طاقتیں موجود تھیں۔ ایک روم کی عیسائی حکومت، جو دو باتوں میں مسلمانوں سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں اہلِ کتاب تھے، دوسرے دونوں آخرت پر یقین رکھتے تھے، لہٰذا مسلمانوں کی ہمدردیاں انھی کے ساتھ تھیں۔ مسلمانوں کی عیسائی حکومت سے ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریشیوں کی مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش کے باوجود حبشہ کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور قریش کی سفارت بری طرح ناکام ہوئی اور انھیں خالی ہاتھ وہاں سے آنا پڑا تھا۔ دوسری بڑی طاقت ایران کی تھی، جو دو وجہوں سے مشرکین مکہ سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ ایرانی دو خداؤں کے قائل اور آتش پرست تھے اور مشرکین بت پرست تھے اور دوسرے یہ کہ دونوں آخرت کے منکر تھے۔ انھی وجوہ کی بنا پر مشرکینِ مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان چھ سو برس کا وقفہ تھا۔ [ دیکھیے بخاري، مناقب الأنصار، باب إسلام سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ: ۳۹۴۸ ] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو اس وقت روم و ایران میں جنگ شروع تھی اور اس کی خبریں مکہ میں بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ جب ایران کی فتح کی کوئی خبر آتی تو مشرکینِ مکہ بغلیں بجاتے اور اس خبر کو اپنے حق میں نیک فال قرار دیتے اور کہتے کہ جس طرح ایران نے روم کا سر کچلا ہے، ایسے ہی ہم بھی کسی وقت مسلمانوں کا سر کچل دیں گے۔ اس جنگ میں ایرانیوں نے رومیوں کو فیصلہ کن شکست دی، جس کے نتیجے میں عرب کے ساتھ ملنے والے علاقوں میں روم کا اقتدار بالکل ختم ہو گیا۔ یہ خبر مشرکین کے لیے بڑی خوش کن اور مسلمانوں کے لیے بہت صدمے کا باعث تھی۔ مشرکین نے انھیں یہ کہہ کر چھیڑنا شروع کردیا کہ جس طرح ایران نے روم کو ختم کر دیا ہے، ایسے ہی ہم بھی تمھیں مٹا ڈالیں گے۔ ایسے حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اگرچہ بظاہر اہلِ روم کی فتح کے کوئی آثار نہیں تھے مگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر پورا یقین تھا۔ اسی یقین کی بنیاد پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ساتھ شرط بھی باندھ لی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کی تفصیل کے لیے بہت سی روایات نقل فرمائی ہیں، جن میں سے اکثر کی سند کمزور ہے۔ صرف دو روایتوں کی سند اچھی ہے، وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ پہلی روایت یہ کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {” الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ “} کےمتعلق فرمایا: [ غُلِبَتْ وَ غَلَبَتْ ] ”رومی مغلوب ہو گئے اور (پھر) غالب آگئے۔“ اور فرمایا، مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہلِ فارس رومیوں پر غالب آئیں، کیونکہ مشرکین اور اہلِ فارس دونوں بت پرست تھے اور مسلمان پسند کرتے تھے کہ رومی فارس والوں پر غالب آئیں، کیونکہ وہ (رومی) اہلِ کتاب تھے۔ لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُوْنَ ] ”سن لو! یقینا وہ (رومی) غالب آئیں گے۔“ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات مشرکین کو بتائی تو وہ کہنے لگے: ”ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لو، اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں یہ کچھ ملے گا اور اگر تم غالب آگئے تو تمھیں یہ کچھ ملے گا۔“ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پانچ سال مدت مقرر کر لی۔ مگر رومی غالب نہ آئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ مدت دس سے کم تک کیوں مقرر نہ کی۔“ ابوسعید نے کہا {”اَلْبِضْعُ“} کا لفظ دس سے کم تک ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، پھر بعد میں رومی غالب آ گئے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: «{ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ }» سفیان نے فرمایا: ”میں نے سنا ہے کہ وہ ان پر بدر کے دن غالب آئے۔“ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الروم: ۳۱۹۳، و قال حسن صحیح غریب ] احمد شاکر نے مسند احمد (۲۴۹۵) کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے اور شیخ البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ دوسری روایت یہ کہ نیار بن مکرم الاسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیات اتریں: «{ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ }» تو ان دنوں فارس کے لوگ رومیوں پر پوری طرح غالب تھے، لیکن مسلمان ان پر رومیوں کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ رومی اور مسلمان اہلِ کتاب تھے اور اللہ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: «{ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ }» جبکہ قریش فارس کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ مشرکین اور فارس والے اہلِ کتاب نہیں تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور مکہ کے کناروں میں چیخ چیخ کر یہ آیات سنانے لگے: «{ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ }» قریش کے کچھ لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا، ہمارے تمھارے درمیان یہ بات طے ہو گئی، تمھارے ساتھی کا گمان ہے کہ روم فارس پر {” بِضْعِ سِنِيْنَ “} (چند سالوں) میں غالب آ جائیں گے، تو کیا ہم اس پر تمھارے ساتھ شرط نہ رکھ لیں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا، کیوں نہیں! اور یہ جوئے کی شرط حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور مشرکین نے شرط باندھ لی اور شرط کی مقدار طے کر لی۔ انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، بتاؤ کتنی مدت مقرر کرتے ہو۔{”بِضْعٌ“} تین سال سے نو سال تک ہوتا ہے، تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک اوسط وقت مقرر کر لو جہاں مدت پوری ہو جائے، تو انھوں نے چھ سال کی مدت مقرر کر لی۔ پھر یہ ہوا کہ رومیوں کے غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے، تو مشرکین نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے طے شدہ شرط وصول کر لی۔ لیکن جب ساتواں سال شروع ہوا تو رومی اہلِ فارس پر غالب آ گئے، تو اس پر مسلمانوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا چھ سال مقرر کرنا ان کا قصور قرار دیا کہ انھوں نے چھ سال کی مدت کیوں مقرر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو {” فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ “} کا لفظ فرمایا ہے، جو نو(۹) سال تک پر بولا جاتا ہے اور اس وقت بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الروم: ۳۱۹۴، و قال حدیث حسن صحیح غریب وقال الألباني حسن ] ان دونوں صحیح حدیثوں سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں رومی اس وقت بری طرح سے مغلوب تھے کہ تمام لوگوں کی نگاہوں میں چند سالوں کے اندر ان کا غالب آنا ممکن نہیں تھا۔ دوسری یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ کی آیات پر اتنا مضبوط ایمان تھا کہ ظاہری اسباب کے بالکل مخالف ہونے کے باوجود انھوں نے ان کے سچا ہونے پر مشرکین کے ساتھ شرط طے کرلی۔ تیسری یہ کہ امت کے بڑے سے بڑے شخص سے بھی اجتہاد میں خطا ہو سکتی ہے۔ امتِ مسلمہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے عظیم شخصیت کوئی نہیں، لیکن یہاں ان سے مدت کی تعیین میں خطا ہو گئی، مگر اپنے اجتہاد کے خطا ثابت ہونے پر بھی ان کے اللہ کی آیات پر ایمان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رضی اللہ عنہ نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی درست رائے سے نوازا تھا کہ ان کی خطا پکڑنا بہت ہی مشکل ہے، مگر ان سے بھی خطا ہو جاتی تھی، پھر انھوں نے ان کی خطا کی مثال کے لیے صحیح بخاری سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت بیان کی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”آج رات میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اسے اپنی ہتھیلیوں میں لے رہے ہیں، کوئی زیادہ لینے والا ہے اور کوئی کم لینے والا۔ پھر اچانک ایک رسی آسمان سے زمین تک آ ملی، تو میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا، وہ اس کے ساتھ چڑھ گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔ پھر وہ کٹ گئی، پھر دوبارہ مل گئی۔“ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان، آپ کو اللہ کی قسم! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر کروں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعبیر کرو۔“ انھوں نے کہا: ”وہ سائبان تو اسلام ہے اور جو شہد اور گھی ٹپک رہا ہے وہ قرآن کی حلاوت ہے، جو ٹپک رہی ہے۔ پھر کوئی قرآن سے زیادہ حاصل کرنے والا ہے اور کوئی کم حاصل کرنے والا ہے۔ رہی وہ رسی جو آسمان سے زمین تک ملی ہوئی ہے، تو اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے گا، پھر آپ کے بعد اسے ایک اور آدمی پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا تو اس کے ساتھ وہ کٹ جائے گی، پھر اس کے لیے ملا دی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا۔ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان، مجھے بتائیے! میں نے درست کہا یا خطا کی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ درست کہا، کچھ خطا کی۔“ انھوں نے کہا: ”آپ کو اللہ کی قسم ہے! آپ مجھے وہ ضرور بتائیں جو میں نے خطا کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مت ڈالو۔“ [ بخاري، التعبیر، باب من لم یر الرؤیا الأوّل عابر إذا لم یصب: ۷۰۴۶ ] زیر تفسیر آیت میں {” بِضْعِ “} کی تعیین میں بھی ابو بکر رضی اللہ عنہ سے خطا ہو گئی۔ جب امت کے سب سے بڑے شخص سے خطا ہو سکتی ہے تو ان ائمہ سے خطا کیوں نہیں ہو سکتی جن کی تقلید میں لوگوں نے اسلام میں چار فرقے بنا رکھے ہیں، جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر تو کجا صحابی یا تابعی بھی نہیں ہیں اور جن کی بہت سی اجتہادی خطائیں ان کے شاگردوں نے بھی بیان کی ہیں اور جو وحی کے شرف کے حامل بھی نہ تھے کہ وحی کے ذریعے سے ان کی خطا کی اصلاح ہو جاتی ہو۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ امتیوں کے اجتہادات و آراء کو دین سمجھنے کے بجائے صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو خطا سے پاک ہیں، فرمایا: «{ اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ }» [ الأعراف: ۳ ] ”اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔“ چوتھی بات یہ کہ ان دونوں روایتوں میں سے ایک میں پانچ سال کی مدت مقرر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری میں چھ سال کا۔ اس کے باوجود ائمہ حدیث نے دونوں کو صحیح کہا ہے اور اس اختلاف کو روایتوں کے ضعف کا باعث نہیں سمجھا، کیونکہ اصل مقصود دونوں کا ایک ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو مدت طے کی تھی وہ {” بِضْعِ “} کی اصل مراد سے کم تھی۔ ➋ ابن کثیر رضی اللہ عنہ نے ابن ابی حاتم اور ابن جریر سے دو روایتیں نقل کی ہیں، جن میں ذکر ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طے کردہ مدت میں رومی غالب نہ آئے اور مشرکین نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شرط کی رقم لے لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر کہ {”بِضْعٌ“} سے مراد نو(۹) سال تک ہوتے ہیں، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ مشرکین سے شرط لگائی، جس میں مدت زیادہ کی اور شرط کی رقم بھی زیادہ کی۔ چنانچہ نو سال پورے ہونے سے پہلے رومی فارسیوں پر غالب آگئے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے شرط کی رقم وصول کر لی۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو، کیونکہ صحیح روایات میں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔ مگر سند کی رو سے یہ روایات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس مقام پر ابن کثیر رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے فارسیوں پر غالب آنے کے واقعات کی مزید کچھ تفصیل بیان کی ہے، مگر اسے غریب ترین قرار دیا ہے۔ ہمارے بعض اردو مفسرین نے بعض انگریز مؤرخین سے لمبی تفصیل ذکر کی ہے، مگر ان تمام تفصیلات کی کوئی پکی سند ہے نہ کوئی معتبر ذریعہ۔ قرآن کی تفسیر کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے جو قرآن مجید اور صحیح روایات سے ثابت ہے۔ اور یہ کوئی کم عجیب نہیں کہ وہ بات جس کا ہونا لوگوں کی نگاہ میں ممکن ہی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی فرما دی اور ظاہری اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہونے کے باوجود چند ہی سالوں میں وہ رومی دوبارہ غالب آگئے جو بری طرح مغلوب تھے۔ ➌ { فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ:} ”سب سے قریب زمین“ سے مراد جزیرۂ عرب کی قریب ترین زمین ہے۔ یہ ”اذرعات“ اور ”بصريٰ“ کے درمیان کا خطہ ہے، جو شام کی سرحد پر حجاز سے ملتا ہوا مکہ کے قریب واقع ہے۔ ➍ { فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ متعین وقت بتانے کے بجائے {” بِضْعِ “} کا لفظ بولنے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ کو وہ سال، وہ مہینا اور وہ وقت معلوم تھا جس میں روم نے فارس پر غالب آنا تھا مگر اس وقت خبروں کا دوسرے مقامات پر پہنچنا اس طرح تیز رفتار نہ تھا جس طرح آج کل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ متعین وقت بتا دیتا، پھر کسی مقام پر اطلاع پہنچنے میں دیر ہو جاتی تو وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پر طعن کا موقع مل سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدت کی تعیین کے لیے ایسا لفظ استعمال فرمایا جس سے اس بات کا امکان ہی نہ رہا اور ہر شخص کو قرآن کی پیش گوئی کا حق ہونا ثابت ہو گیا۔ اس کے علاوہ وہ وقت تھوڑا مخفی رکھنے میں یہ حکمت بھی تھی کہ اس غلبے کے انتظار میں مسلمانوں کے حوصلے بلند رہیں کہ اب غلبہ ہوا اور اب ہوا۔ اگر متعین وقت بتا دیا جاتا تو اتنی مدت تک حوصلے ٹوٹے رہتے۔ ➎ { لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ: ” الْاَمْرُ “} سے مراد اللہ کا تکوینی امر ہے، یعنی اس کا {”كُنْ“} کہنا، جس سے ہر کام ہو جاتا ہے۔ یعنی روم کے مغلوب ہونے سے پہلے بھی ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے اختیارمیں تھا اور رومیوں کے چند سالوں میں غالب آنے کے بعد بھی ہر کام اسی کے اختیار میں ہے۔ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ فلاں کی تدبیر کی وجہ سے اسے فتح ہوئی اور فلاں کی کوتاہی کی وجہ سے اسے شکست ہوئی۔ نہیں! وہ تدبیر یا کوتاہی بھی اسی کی تقدیر میں طے شدہ ہے۔ اسی طرح کوئی یہ نہ سمجھے کہ آسمان کی گردش یا سورج، چاند یا کسی ستارے کی تاثیر سے ایسا ہوا، نہیں! جو ہوا پہلے بھی اللہ کے حکم سے ہوا اور بعد میں بھی اسی کے حکم سے ہوگا۔ سورج، چاند، ستاروں یا آسمان کی گردش کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلٰكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُمَا فَصَلُّوْا ] [ بخاري، الکسوف، باب لا تنکسف الشمس لموت أحد ولا لحیاتہ: ۱۰۵۷ ] ”سورج اور چاند نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، بلکہ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب ان دونوں کو دیکھو تو نماز پڑھو۔“ ➏ { وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ:} ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب بدر کا دن ہوا تو رومی فارس پر غالب ہوئے اور مسلمانوں کو اس سے خوشی ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں: «{ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ }» (ابو سعید رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”تو مسلمان روم کے فارس پر غالب آنے سے خوش ہوئے۔“ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الروم: ۳۱۹۲، و قال حسن غریب و قال الألباني صحیح لغیرہ ] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس روایت اور سفیان ثوری اور بہت سے اہلِ علم کے قول کے مطابق روم کو فارس پر یہ غلبہ اس روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرکین پر فتح یاب ہوئے۔ مفسر رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان {” وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ “} (اور اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے) سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس دن مومن روم کی فارس پر فتح کی خبر سے خوش ہوں گے اور یہ بھی کہ اس دن مومن مشرکین کے خلاف اللہ کی نصرت اور بدر کی فتح پر خوش ہوں گے۔ مگر راجح یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس دن اہلِ روم فارس پر غالب آئیں گے اس دن مسلمان مشرکین پر فتح یابی اور اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے، کیونکہ بدر کے دن مسلمانوں کو اپنی فتح پر خوشی ہوئی تھی اور کسی روایت میں ذکر نہیں کہ روم کی فتح یابی کی خبر عین بدر کے دن پہنچی تھی۔ گویا اس آیت میں دو خوش خبریاں ہیں، ایک روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اور ایک اس دن مسلمانوں کا مشرکین پر غلبے سے خوش ہونا اور سب جانتے ہیں کہ دونوں بشارتیں پوری ہوئیں۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح صلح حدیبیہ کے بعد ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) جائے گا۔ چنانچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہیں ہوا تھا کہ اسے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط ملا جو آپ نے اس کے نام صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے ابو سفیان کو بلایا (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور شام میں تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے) اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مختلف سوالات کیے، جیسا کہ صحیح بخاری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح بھی اسی سال ہوئی، لیکن اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ رومیوں کو پہلی فتح تو بدر کے دن ہوئی، مگر دشمن کی فوجوں کی مکمل صفائی اور تمام علاقوں کے مکمل بندوبست کے بعد منت پوری کرنے کی نوبت چار سال بعد صلح حدیبیہ کے سال آئی۔ (واللہ اعلم) ➐ { يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ:} آپس میں لڑنے والے کفار میں سے جس کی چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے اور مسلمانوں اور کافروں کی لڑائی میں بھی جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ نہ فتح یاب کرنا اس کے راضی ہونے کی دلیل ہے اور نہ شکست دینا اس کی ناراضی کی دلیل ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ آدمی کو آزماتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ }» [ آل عمران: ۱۴۰ ] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے۔“ اور فرمایا: «{ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ }» [ آل عمران: ۲۶ ] ”کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ ➑ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ:} اور وہی عزیز (سب پر غالب) ہے، جسے وہ نصرت سے نواز دے پھر کوئی اس پر فتح نہیں پا سکتا، مگر اس کا غلبہ بے رحم نہیں، بلکہ وہ رحیم (بے حد رحم والا) ہے، جب چاہتا ہے مغلوب اور شکست خوردہ لوگوں کو پھر فتح سے ہمکنار کر دیتا ہے۔
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
نزدیک کی زمین پر اور وه مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے عنقریب غالب ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
قریب ترین زمین میں (اہلِ فارس سے) اور یہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سب سے قریب زمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آئیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
چند برس میں حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
چند سالوں میں اختیار اللہ کو ہی حاصل ہے پہلے بھی اور بعد بھی۔ اور اس دن اہلِ ایمان خوش ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
چند سالوں میں، سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کی مدد سے، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی مدد سے مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کی نصرت سے، اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا فرماتا ہے اور وہ غالب ہے (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کی مدد سے، وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
5-1عہد رسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جب کہ مسلمان کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لئے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی و رسالت پر یقین رکھتے تھے، ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں پیش گوئی کی گئی کہ رومی پھر غالب آجائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہوجائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے یقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق نے ابو جہل سے یہ شرط باندھی کہ رومی پانچ سال کے اندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا بِضْع کا لفظ تین سے دس تک کے عدد کے لئے استعمال ہوتا ہے تم نے-5سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کرلو، چناچہ آپ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہوا کہ رومی-9سال کی مدت کے اندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آگئے، جس سے یقینا مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے، یعنی شام و فلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔
یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کا وعده ہے، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کا وعدہ اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
6-1یعنی اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو جو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب رومی، فارس پر دوبارہ غالب آجائیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو مدت مقررہ کے اندر یقینا پورا ہو کر رہے گا۔
(آیت 6) ➊ { وَعْدَ اللّٰهِ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ:} یعنی روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، جس کی سنت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ ➋ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ:} لیکن اکثر لوگ، جن میں کفارِ قریش بھی شامل ہیں، یہ بات نہیں جانتے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کوئی ایسی بات کرتا ہے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے ممکن نہیں ہوتی تو وہ اللہ کے وعدے کو جھوٹا کہنے لگتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ ظاہری اسباب کے علاوہ بے شمار باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں اور نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کام کا ارادہ کر لے، چاہے تو اس کے اسباب پیدا کردے اور چاہے تو اسباب کے بغیر ہی اسے پورا کر دے۔
لوگ دُنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ﻇاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بےخبر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ دنیا کی زندگی کے کچھ ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے، وہی غافل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ { رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے }۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4767] ۔ اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ { «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ } جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: { پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو } چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔ اور روایت میں ہے کہ { مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ }۔ ۱؎ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“ ”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“ ”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو }۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔ بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔ اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ { تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔ ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ’ ایمان والوں کے س
7-1یعنی اکثر لوگوں کو دنیاوی معاملات کا خوب علم ہے۔ چناچہ وہ ان میں تو اپنی چابک دستی اور مہارت فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا فائدہ عارضی اور چند روزہ ہے لیکن آخرت کے معاملات سے یہ غافل ہیں جن کا نفع مستقل اور پائیدار ہے۔ یعنی دنیا کے امور کو خوب پہچانتے اور دین سے بیخبر ہیں۔
(آیت 7) ➊ { يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: ” ظَاهِرًا “} پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی وہ دنیا کی زندگی کے بس ظاہر کو جانتے ہیں، وہ بھی تھوڑا سا۔ ان کا علم یہیں تک محدود ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور ہر قسم کی لذتوں اور آسائش و آرائش کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کے باطن، یعنی اس کی اصل حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ یہ چند روزہ ہے اور امتحان گاہ ہے۔ رہی آخرت، تو وہ اس سے بالکل ہی غافل ہیں، یعنی انھیں اس کی فکر ہی نہیں کہ وہاں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے پیش ہونا ہے۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ دنیا کی زندگی کے ظاہر کے کچھ حصے کو جانتے ہیں، جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کفار حیران کن ایجادات کر چکے ہیں، مثلاً بری، بحری اور فضائی سواریاں، تیل، گیس، ہوا اور پانی سے چلنے والی بے شمار قسم کی مشینیں، بجلی اور ایٹم وغیرہ، تو یہ سب کچھ تھوڑا سا کیسے ہوا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی دنیوی ترقی جس طرح آج کے مقابلے میں بالکل معمولی ہے، اسی طرح ہر آنے والے دن کے مقابلے میں موجودہ ترقی بالکل معمولی ہے، مگر کافر صرف اسی ترقی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، آخرت کے امور کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ ➌ کفار کے دنیا کے ظاہر کا کچھ علم رکھنے اور آخرت سے یکسر غافل ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے حساب اور علم ہندسہ میں اتنا کمال حاصل کیا کہ انھوں نے کیلکولیٹر اور کمپیوٹر ایجاد کر لیے، جن کے ذریعے سے وہ بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی رقموں کا بالکل صحیح حساب لگا لیتے ہیں، مگر آخرت کے معاملات سے اس قدر بے خبر ہیں کہ ان میں سے بعض پیدا کرنے والے ہی کے منکر ہیں۔ جب کہ جاہل سے جاہل شخص بھی جانتا ہے کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں بنتی۔ پھر بعض اعلیٰ درجے کی مخلوق ہو کر پتھروں کو پوج رہے ہیں اور بعض ایک رب ماننے کے بجائے تین رب مانتے ہیں، مسیح خدا، مریم خدا اور روح القدس خدا، جو ایک جمع ایک، جمع ایک کے نتیجے میں تین خدا بنتے ہیں، مگر ان کا اصرار ہے کہ یہاں ایک جمع ایک، جمع ایک تین نہیں بنتے بلکہ ایک خدا بنتا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہو سکتی ہے، کبھی ایک، ایک اور ایک بھی ایک ہو سکتے ہیں؟ پھر ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہم توحید فی التثّلیث کو اس لیے مانتے ہیں کہ یہ عقل سے اونچی بات ہے، حالانکہ یہ بھی ان کی جہالت ہے۔ کوئی شخص دو جمع دو کا نتیجہ پانچ نکالے تو یہ عقل سے اونچی بات نہیں ہو گی، بلکہ صریح عقل کے خلاف ہو گی۔ یہی حال تین خداؤں کے ایک خدا ہونے کا ہے۔
کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے اپنے آپ میں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو (حق اور حکمت کے) ساتھ ایک مقررہ مدت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حضوری کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اوران کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بے شک بہت سے لوگ یقینا اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔ اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ہے۔
8-1یا ایک مقصد اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے بےمقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انھیں نیست سے ہست کیا اور پانی کے ایک حقیر قطرے سے ان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان و زمین کا ایک خاص مقصد کے لیے وسیع و عریض سلسلہ قائم کیا نیز ان سب کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہوجائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقینا اللہ کے وجود اس کی ربوبیت و الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انھیں ادراک و احساس ہوجاتا اور اس پر ایمان لے آتے۔ 8-2اور اس کی وجہ وہی کائنات میں غور و فکر کا فقدان ہے ورنہ قیامت کے انکار کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔
(آیت 8) ➊ { اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ …:} اس میں دو احتمال ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ{” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “} ایک مستقل جملہ ہے اور{” مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} دوسرا جملہ ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے جو اللہ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلاتے ہیں اپنی جانوں میں غور نہیں کیا، کیونکہ ان کی جانوں میں کئی نشانیاں ہیں، جن کے ساتھ وہ جان سکتے ہیں کہ جس ذات نے انھیں عدم سے وجود بخشا ہے وہ اس کے بعد انھیں دوبارہ بھی زندہ کر ے گا اور یہ کہ وہ ذات جس نے انھیں ایک سے دوسری کئی حالتوں میں منتقل کیا، چنانچہ نطفے سے علقہ میں، پھر مضغہ میں، پھر ذی روح انسان میں، پھر بچے کی صورت میں، پھر جوان، پھر بوڑھے، پھر کھوسٹ بوڑھے کی شکل میں منتقل کیا۔ آیا اس ذات کے لائق ہے کہ انھیں شتربے مہار چھوڑ دے، نہ انھیں کوئی حکم دے، نہ کسی چیز سے منع کرے، نہ انھیں کوئی ثواب ہو نہ عقاب ہو۔ نہیں، بلکہ ہر حال میں وہ مختلف حالتوں سے منتقل ہوتے ہوئے اپنے اعمال کے محاسبے کے لیے اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ انشقاق: ۶ اور ۱۶ تا ۱۹) (عبد الرحمن سعدی) دوسرا احتمال یہ ہے کہ{” فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “ ” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا “} کا ظرف ہے اور جملہ{” بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} پر مکمل ہو رہا ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے دلوں میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کی تمام اشیاء کو نہ عبث اور بے مقصد پیدا فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیشہ رہنے کے لیے بنایا ہے، بلکہ انھیں اپنی کمال حکمت کے مطابق حق کے ساتھ یعنی حقیقی مقصد (آزمائش) کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا }» [ھود: ۷ ] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔“ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، جہاں پہنچ کر ہر حال میں اس سلسلے کو ختم ہونا ہے اور وہ مقررہ مدت قیام قیامت، حساب اور ثواب و عتاب کا وقت ہے۔ یہی بات اس آیت میں فرمائی ہے: «{ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ }» [ المؤمنون: ۱۱۵ ] ”تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟“ دیکھیے یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے واضح فرمایا کہ اگر وہ مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی چھوڑ دے اور انھیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے پاس لے جا کر حساب نہ کرے تو اس کا انسانوں کو پیدا کرنا عبث ہو گا۔ (شنقیطی) آیت کی تفسیر کا پہلا احتمال بھی صحیح ہے مگر یہ دوسرا زیادہ واضح ہے، اس لیے ترجمہ اسی احتمال کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ دونوں باتیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں بلکہ حق ہی کے ساتھ ہے اور یہ کہ قیامت ہر حال میں قائم ہو گی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اکٹھی بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ دخان (۳۸ تا ۴۰) اور سورۂ حجر (۸۵)۔ ➋ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ:} اور بہت سے لوگ آخرت کے اور دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کی ملاقات کے اور حساب کتاب کے منکر ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے دلوں میں غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ اپنے دلوں میں زمین و آسمان پر اور ان کے درمیان کی بے شمار عجیب و غریب اشیاء (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) پر غور کرتے تو انھیں اپنے رب کی ملاقات کا یقین ہو جاتا۔
اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے اُن کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیاده آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
آیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ وہ قوت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین کو جَوتا بویا اور آباد کیا تھا۔ اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ سخت تھے اور انھوں نے زمین کو پھاڑا اور اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا ہے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔ اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ہے۔
9-1یہ آثار کھنڈرات اور نشانات عبرت پر غور و فکر نہ کرنے پر ملامت کی جا رہی ہے۔ مطلب ہے کہ چل پھر کر وہ مشاہدہ کرچکے ہیں۔ 9-2یعنی ان کافروں کا جن کو اللہ نے ان کے کفر باللہ، حق کے انکار اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا۔ 9-3یعنی قریش اور اہل مکہ سے زیادہ۔ 9-4یعنی اہل مکہ تو کھیتی باڑی سے ناآشنا ہیں لیکن پچھلی قومیں اس وصف میں بھی ان سے بڑھ کر تھیں۔ 9-5اس لئے کہ ان کی عمریں بھی زیادہ تھیں، جسمانی قوت میں بھی زیادہ تھے اسباب معاش بھی ان کو زیادہ حاصل تھے۔ پس انہوں نے عمارتیں بھی زیادہ بنائیں، زراعت و کاشتکاری بھی کی اور وسائل رزق بھی زیادہ مہیا کئے۔ 9-6لیکن وہ ان پر ایمان نہیں لائے۔ لہذا تمام تر قوتوں، ترقیوں اور فراغت و خوش حالی کے باوجود ہلاکت ان کا مقدر بن کر رہی۔ 9-7کہ انھیں بغیر گناہ کے عذاب میں مبتلا کر دیتا 9-8یعنی اللہ کا انکار اور رسولوں کی تکذیب کر کے۔
(آیت 9) ➊ {اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا …:} آخرت کے حق ہونے کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اس کی تکذیب کرنے والی پہلی اقوام کے برے انجام سے ڈرایا ہے۔ کیونکہ ان اقوام کے آثار مکہ مکرمہ کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ عاد و ثمود ہوں یا اصحابِ مدین اور قومِ لوط ہو یا قومِ سبا یا قومِ فرعون، مکہ مکرمہ کے لوگ تجارت کے لیے ان تمام علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ {” الْاَرْضِ “} سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے ہیں، جن کا قرآن میں جا بجا ذکر ہے۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی وحدانیت، اس کے رسولوں کی رسالت اور آخرت کو جھٹلانے والے ہیں، کیا اس زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان جھٹلانے والے لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ مطلب یہ ہے کہ یقینا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے ہیں اور انھوں نے سب کچھ دیکھا ہے، مگر عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ انھیں کچھ نصیحت ہوتی کہ وہ لوگ قوت کے لحاظ سے ان سے بہت زیادہ تھے۔ ان کے قد کاٹھ اور ان کی جسمانی، مالی اور فوجی قوت ان سے کہیں زیادہ تھی اور انھوں نے زمین کو ان سے زیادہ پھاڑا تھا۔ زمین کو پھاڑنے میں زراعت، معدنیات نکالنا اور آب پاشی کا نظام قائم کرنا سبھی کچھ آ جاتا ہے اور انھوں نے زمین کو اس سے کہیں زیادہ آباد کیا جو ان اہلِ مکہ نے آباد کیا ہے۔ انھوں نے بڑی بڑی عمارتیں، کارخانے اور پانی کے بند بنائے۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح معجزے اور دلائل لے کر آئے، مگر انھوں نے انھیں جھٹلا دیا، تو اللہ کے عذاب کا نشانہ بنے اور اب تک ان کی بستیوں کے نشانات ان کی بربادی کی داستان سنا رہے ہیں۔ ➋ { كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ …:} اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ پہلے لوگ ان سے قوت میں زیادہ تھے اور انھوں نے زمین کو پھاڑا اور اسے آباد کیا، اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا ہے، اس میں کفار (اہلِ مکہ) پر چوٹ بھی ہے، کیونکہ اہل مکہ کا اہلِ مصر، اہلِ شام اور اہلِ یمن کے ساتھ زمین کی زراعت اور آباد کاری میں کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ مکہ میں نہ قابل زراعت زمین تھی، نہ انھوں نے زمین کو پھاڑا اور نہ ہی ان کے پاس آب پاشی کا کوئی نظام تھا۔ جبکہ مصر، شام اور یمن زراعت اور دوسرے شعبوں میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ سو اہلِ مکہ کو بھی زراعت اور زمین کی آباد کاری کرنے والے قرار دینے میں اور پہلی قوموں کو ان سے زیادہ ترقی یافتہ قرار دینے میں ان کے ساتھ ایک طرح کا مذاق بھی ہے کہ ترقی کے مقابلے میں اپنی حیثیت کو پیش نظر رکھیں اور دیکھیں کہ جب اتنی زبردست ترقی یافتہ قومیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کی پاداش میں ہلاک کر دی گئیں تو ان بے چاروں کی کیا اوقات ہے۔ ➌ { فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی اقوام کو تباہ کیا ان سب میں قدر مشترک ظلم تھا اور ظلم کی بنیاد آخرت سے انکار ہے، کیونکہ جو قوم آخرت پر یقین رکھتی ہو اور اسے اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس ہو تو وہ ظلم کرہی نہیں سکتی۔ سو اگر آخرت سے انکار کی وجہ سے ان پر عذاب آیا تو اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ یہ ان کے اپنے ظلم کا نتیجہ تھا اور اگر اہلِ مکہ پر اپنے رسول کو اور آخرت کو جھٹلانے کے نتیجے میں عذاب آیا تو ان کے اپنے ظلم کی وجہ ہی سے آئے گا۔
آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے (مسلسل) برائیاں کیں برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان لوگوں کا انجام جنھوں نے برائی کی بہت برا ہی ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔ اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ہے۔
10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔
(آیت 10) {ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى …: ” السُّوْٓاٰۤى “ ”أَسْوَأُ“} کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ {” اَنْ كَذَّبُوْا “} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ {” ثُمَّ “} کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔
اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوباره پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا پھر اس کی طرف پھروگے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے وہی پھر اس کا اعادہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بنائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
11-1یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنے پر بھی قادر ہے، اس لئے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ 11-2یعنی میدان محشر اور موقف حساب میں جہاں وہ عدل و انصاف کا اہتمام فرمائے گا۔
(آیت 11) {اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ …:} پچھلی آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ دوبارہ زندہ کرنے اور آخرت برپا کرنے پر قادر ہے۔ اب یہی بات صراحت کے ساتھ بطور دعویٰ ذکر فرمائی اور اس طرح فرمائی کہ اس کی دلیل بھی ساتھ ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ }» اب تک جو خلق بھی پیدا ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے اور وہ اب بھی ہر لمحے جو چاہتا ہے نئی سے نئی مخلوق پیدا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ بات تم بھی مانتے ہو کہ دوسرے کسی نے نہ خلق کی ابتدا کی، نہ کر رہا ہے، نہ کرے گا اور نہ کسی میں جرأت ہے کہ یہ دعویٰ ہی کرے۔ جب یہ حق ہے تو یہ بھی حق ہے کہ وہ اس خلق کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا، کیونکہ اس کے لیے پہلی دفعہ پیدا کرنا اور دوبارہ پیدا کرنایکساں ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تاکہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى }» [ طٰہٰ: ۱۵ ] ”تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔“
اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زده ره جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اس دن) مجرم مایوس اور بےآس ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم ناامید ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
12-1ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کرسکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مبلس وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے کوئی دلیل نہ سوجھ رہی ہو قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا، یعنی کہ عذاب کے بعد وہ ہر خبر سے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرکین ہیں جیسے کہ اگلی آیت میں واضح ہے
(آیت 12) {وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ: ”أَبْلَسَ الرَّجُلُ“} جب کوئی آدمی لاجواب ہو کر خاموش ہو جائے اور اسے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے، مراد نا امید ہونا ہے۔ یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ نجات سے ناامید ہو جائیں گے، کیونکہ ان کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے گا اور انھیں اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی بات نہیں ملے گی۔ مجرموں سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، گناہ گار مسلمان مراد نہیں ہیں۔
ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے بنائے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ بھی اپنے شریکوں سے انکار کر جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارش کرنے والے نہیں ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
13-1شریکوں سے مراد معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔13-2یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہوجائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ تو کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کردیں گے کہ یہ لوگ انھیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بیخبر ہیں۔
(آیت 13) ➊ { وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىِٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا:} یعنی مشرکین نے جن ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گی، کیونکہ اس دن نہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر سفارش کر سکے گا اور نہ کسی ایسے شخص کے حق میں سفارش ہو سکے گی جس کے لیے شفاعت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن نہ ہو۔ دیکھیے آیت الکرسی اور سورۂ طٰہٰ (۱۰۹)۔ ➋ { وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ كٰفِرِيْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷) اور سورۂ انعام (۲۲، ۲۳)۔
جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (مؤمن و کافر) الگ الگ ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ الگ الگ ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
14-1اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہوجائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہوگا۔ چناچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جارہی ہے۔
(آیت 14) {وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ:} دنیا میں مومن و کافر اور موحد و مشرک اکٹھے رہ رہے ہیں، ان کے درمیان وطن، نسب، کاروبار، پیشے اور دوستی وغیرہ کے تعلقات بھی ہوتے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کے درمیان ایسی جدائی واقع ہو جائے گی کہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے، چنانچہ کہا جائے گا: «{ وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ}» [ یٰس: ۵۹ ] ”اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!“ اور تمام اہل محشر دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، فرمایا: «{ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ }» [الشورٰی: ۷ ] ”ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو ایمان ﻻکر نیک اعمال کرتے رہے وه تو جنت میں خوش وخرم کر دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کئے تھے وہ باغ (بہشت) میں خوش و خرم اور محترم ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ عالی شان باغ میں خوش و خرم رکھے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
15-1یعنی انھیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مذید خوش ہونگے۔
(آیت 15) {فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” رَوْضَةٍ “} میں تنوین تعظیم اور تفخیم کے لیے ہے، عظیم اور عالی شان باغ، مراد جنت ہے۔ {” يُحْبَرُوْنَ “ ”حَبَرَهُ يَحْبُرُهُ“} جب کسی کو ایسا خوش کیا جائے کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھے اور {”تَحْبِيْرٌ“} مزین کرنا، چمکا دینا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ عظیم اور عالی شان باغ یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے، انھیں کھانے پینے، رہنے اور دوستوں، بیویوں اور دل میں آنے والی ہر خواہش پوری ہونے کی خوشی عطا کی جائے گی اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی خوشی نصیب ہو گی، جس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہو گی۔
اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے) جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کی حضوری کو جھٹلایا وہ (ہر وقت) عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہ گئے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
16-1یعنی ہمیشہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں رہیں گے
(آیت 16){ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا …:} عذاب میں حاضر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے، مگر فرشتے انھیں مارتے پیٹتے، باندھتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لا حاضر کریں گے اور پھر وہ ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے، کبھی نکل نہیں سکیں گے۔
پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ کی تسبیح کرو (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔
عبدالسلام بن محمد
پس اللہ کی تسبیح کرو، جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34] ۔ ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ { فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ: ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“} فعل محذوف {”سَبِّحُوْا“} کا مفعول مطلق ہے۔ ”پس تم اللہ کی تسبیح کرو“میں ”پس“ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم جان چکے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کا حال کیا ہوگا اور اللہ کی آیات کا انکار اور ان تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہو گا، تو تم پر لازم ہے کہ جنت کے عالی شان باغوں میں جانے کے لیے اور عذابِ الٰہی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ اسے ہر شریک، ہر عیب اور ہر کمزوری سے پاک مانو۔ مشرکین و کفار اللہ کے شریک بنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو قیامت قائم کرنے سے عاجز قرار دے رہے ہیں، تم ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا اعلان کرو اور اس کی تسبیح کرو۔ ➋ {حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ …:} زبان اور عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے اظہار اور اعلان کی بہترین اور جامع صورت نماز ہے۔ اس لیے مفسرین نے یہاں تسبیح سے مراد نماز لی ہے اور یہاں اس کا واضح قرینہ بھی موجود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح تو دن رات کے ہر لمحے میں ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے، اس کے لیے اوقات مقرر کرنے کا مطلب یہی ہے کہ یہاں تسبیح کی خاص صورت کا حکم دیا جا رہا ہے، جو نماز پنج گانہ ہے۔ چنانچہ {” حِيْنَ تُمْسُوْنَ “} (جب تم شام کرتے ہو) سے مغرب اور عشاء مراد ہیں، {” حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ “} (جب تم صبح کرتے ہو) سے صبح کی نماز مراد ہے، {” عَشِيًّا “} (پچھلے پہر) سے عصر کی نماز اور {” حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ “} (جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو) سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ یاد رہے نمازوں کے یہ اوقات اجمالاً بیان ہوئے ہیں، ان کے اول و آخر کی تعیین اور نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان ہوا ہے، جس کے بغیر قرآن مجید کے حکم پر عمل ممکن ہی نہیں۔ قرآن مجید میں نمازوں کے اوقات کے بیان کے لیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۸)، ہود (۱۱۴) اور طٰہٰ (۱۳۰) کی تفسیر پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں۔
آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں دوپہر ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں میں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرتے ہو ساری حمد و ثنا اسی خدا کے لئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34] ۔ ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔
18-1یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ذات مقدسہ کے لئے تسبیح وتحمید ہے، جس سے مقصد اپنے بندوں کی رہنمائی ہے کہ ان اوقات میں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور جو اس کے کمال قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں، اس کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ شام کا وقت رات کی تاریکی کا پیش خیمہ اور سپیدہ سحر دن کی روشنی کا پیامبر ہوتا ہے۔ عشاء شدت تاریکی کا اور ظہر خوب روشن ہوجانے کا وقت ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جو ان سب کی خالق اور جس نے ان تمام اوقات میں الگ الگ فوائد رکھے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تسبیح سے مراد، نماز ہے اور دونوں آیات میں مذکور اوقات پانچ نمازوں کے اوقت ہیں۔ تمسون میں مغرب و عشاء، تصبحون میں نماز فجر، عشیا (سہ پہر) میں عصر اور تظہرون میں نماز ظہر آجاتی ہے۔ ایک ضعیف حدیث میں ان دونوں آیات کو صبح وشام پڑھنے کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اس سے شب و روز کی کوتاہیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔
(آیت 18) ➊ {وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} اس آیت میں {” وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ “} کا تعلق {” فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ “} کے ساتھ ہے۔ مسلسل عبارت یوں ہے: {” فَسُبْحَانَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ۔“ ” وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کا جملہ درمیان میں معترضہ ہے، یعنی صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جہاں بھی خوبی کی کوئی بات ہے اس خوبی کا مالک اور اس پر حمد کا حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سو تسبیح کے ساتھ تحمید کا فریضہ بھی ادا کرو۔ ➋ نمازوں کے یہ پانچوں اوقات نظام عالم میں روزانہ برپا ہونے والی پانچ تبدیلیوں کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ شام کو آفتاب عالم تاب غروب ہوتا ہے، دن کی حکومت ختم ہوتی ہے، اس وقت نماز مغرب کا حکم ہے، پھر عشاء تک شفق کا راج ہوتا ہے۔ شفق غروب ہونے کے ساتھ سورج کا بقیہ اثر بھی ختم ہو کر رات کا اندھیرا مکمل ہو جاتا ہے، جس پر عشاء کی نماز کا حکم ہے۔ طلوع فجر کے ساتھ رات اپنا دامن سمیٹتی ہے، اس وقت فجر کی نماز کا حکم ہے۔ پھر سورج کی روشنی اور گرمی جب اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو ظہر کا حکم ہے اور آفتاب کی حرارت اور روشنی کمال کے بعد زردی میں بدلنا شروع ہوتی ہے تو عصر کی نماز کا حکم ہے۔ گویا ہر انقلاب عالم پر انقلاب لانے والے کے حضور سجدہ ریز ہونے کا حکم ہے۔
وہ زندہ میں سے مُردے کو نکالتا ہے اور مُردے میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
(وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے اور زمین کو جٕلا تا ہے اس کے مرے پیچھے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ (سرسبز) کر دیتا ہے۔ اسی طرح تم (مرنے کے بعد) نکالے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34] ۔ ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔
19-1جیسے انڈے کو مرغی سے، مرغی کو انڈے سے۔ انسان کو نطفے سے، نطفے کو انسان اور مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا فرماتا ہے۔ 19-2یعنی قبروں سے زندہ کر کے۔
(آیت 19){ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ …:} کائنات میں دن کو رات سے اور رات کو دن سے بدلنے اور صبح و شام اور عشاء اور ظہر و عصر کا تغیر برپا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی قدرت کے کمال، یعنی زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالنے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دینے کا بیان فرمایا۔ (مزید دیکھیے آل عمران: ۲۷) اور ان تبدیلیوں کو بطور دلیل ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح تم بھی قیامت کے دن دوبارہ زمین سے زندہ کر کے نکال کھڑے کیے جاؤ گے۔ یعنی تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ کائنات کا یہ کارخانہ اسی طرح جاری ہے کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکلتا ہے۔ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے، اس میں سبزی اور تروتازگی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، لیکن پانی برستے ہی طرح طرح کی سبزیاں اُگ آتی ہیں اور ہزاروں قسم کے جانور پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے قادر مطلق کے لیے، جس کی قدرت سے یہ سب کچھ ہوا، تمھیں تمھارے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اور دیکھیے سورۂ یٰس (۳۳) اور حج (۵)۔
اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر جبھی تو انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی (قدرت) کی نشانیوں سے (ایک) یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم ایک دم آدمی بن کر پھیلتے جا رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر اچانک تم بشر ہو، جو پھیل رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتدریج نظام حیات ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بے وقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا ‘۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قد آور، زور آور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہرچیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل و صورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کر دیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4693،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لیے کہ تمہیں ان سے سکوں و راحت آرام وآسائش حاصل ہو ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا» ۱؎ [7-الأعراف:189] ’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے ‘۔ حواء رضی اللہ عنہا آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہو سکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھا کر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے اولاد ہو چکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے۔ الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنٰی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔
20-1اذا فجائیہ ہے مقصود اس سے ان اطوار کی طرف اشارہ ہے جن سے گزر کر بچہ پورا انسان بنتا ہے جس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کی گئی ہے تَنْتَشِرُو نَ سے مراد انسان کا کسب معاش اور دیگر حاجات و ضروریات بشریہ کے لئے چلنا پھرنا ہے۔
(آیت 20) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ …:} یہاں سے چھ آیات تک ایسی نشانیوں یعنی عجیب و غریب چیزوں کا بیان ہے جو ایک تو اوپر کے سلسلہ کلام کے مطابق اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا محاسبہ کرے اور انھیں جزا و سزا دے۔ دوسرے وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کائنات نہ خود بنی ہے، نہ خودبخود چل رہی ہے اور نہ ہی ایک سے زیادہ ہستیوں نے اسے بنایا ہے، بلکہ اسے اکیلے اللہ نے پیدا فرمایا ہے، وہی اسے چلا رہا ہے، اس کارخانہ ہستی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ یہ چھ کی چھ آیات {” وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ “} کے الفاظ سے شروع ہو تی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے عجائب قدرت میں سے یہ چند آیات ہیں، تمام آیات کا شمار ہی نہیں، مگر سمجھنے اور ایمان لانے کے لیے یہی نشانیاں کافی ہیں۔ ➋ { اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ …: ” تُرَابٍ “} پر تنوین تقلیل و تحقیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ”حقیر مٹی“ کیا گیا ہے۔ اپنی نشانیوں میں سب سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، کیونکہ انسان دوسری تمام چیزوں سے زیادہ اپنے آپ کو جانتا ہے اور اسے اپنے وجود پر غور کسی بھی دوسری چیز پر غور سے زیادہ آسان ہے۔ {” اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ “} کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کرنے سے مراد یہ ہو کہ تمھارے باپ آدم کو حقیر مٹی سے پیدا کیا۔ {” ثُمَّ “} (پھر) کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ اسے اکیلے ہی کو بنا کر نہیں چھوڑ دیا بلکہ نطفے اور بیضے کے ملاپ کے ساتھ اس کے توالد و تناسل کا ایسا عظیم الشان سلسلہ جاری کیا کہ تم بشر کی صورت میں ساری زمین پر پھیل رہے ہو اور سیکڑوں ہزاروں سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ لفظ {” اِذَاۤ “} (اچانک) عموماً ”فاء“ کے بعد آتا ہے، یہاں {” ثُمَّ “} کے بعد آیا ہے، جس میں تاخیر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس میں اس تاخیر اور ان مراحل کی طرف بھی اشارہ ہے جو آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق اور اس کے بعد کے انسانوں کے وجود میں آنے کے دوران پیش آتے ہیں، مثلاً نطفہ، علقہ اور مضغہ وغیرہ۔ دوسرا مطلب یہ کہ ”تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا“ سے مراد یہ ہو کہ اس نے تم سب کو حقیر مٹی سے پیدا کیا، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا، جو مردہ ہے، جس میں زندگی کا نام و نشان نہیں۔ ”مٹی“ کا مزاج سرد خشک ہے، وہ حرارت سے خالی ہے اور رطوبت سے بھی، جن سے حیات وجود میں آتی ہے۔ تمھارا وجود اور ان تمام اشیاء کا وجود جن سے تمھاری زندگی قائم ہے، اسی بے جان مٹی سے قائم ہے۔ کیونکہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے، جو ظاہر ہے غذا سے بنتا ہے اور غذا نباتات سے بنتی ہے یا حیوانات کے گوشت، دودھ اور گھی سے، ان حیوانات کی زندگی بھی نباتات یا ایسی چیزوں پر موقوف ہے جو زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ غرض تمھارا وجود اس مردہ مٹی سے ہے جس سے پیدا ہونے کے مرحلے گزارنے کے بعد تم اچانک بشر کی صورت میں زمین میں پھیل رہے ہو۔ ”اچانک“ اس لیے فرمایا کہ تخلیق کے تمام مراحل لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہوتے ہیں، تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ماں کے پیٹ سے بچے اور انڈے سے چوزے کا ظہور اچانک ہوتا ہے۔ ان مراحل کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۵) اور سورۂ مومنون (۱۲، ۱۳)۔ ➌ { تَنْتَشِرُوْنَ:} یعنی بے جان مٹی سے پیدا کر کے تمھیں ایسی بھرپور زندگی عطا فرمائی کہ تم پوری زمین میں پھیل گئے۔ تم نے محل، قلعے، آبادیاں اور شہر تعمیر کیے، خشکی، سمندر اور فضا میں سفر کے ذریعے سے زمین کا کونا کونا چھان مارا۔ شہروں میں دیکھو یا صحراؤں میں، جنگلوں میں دیکھو یا پہاڑوں کی چوٹیوں پر یا سمندروں کی وسعتوں میں، ہر جگہ انسان کا وجود نظر آجائے گا۔ یہ سب اس وحدہ لا شریک لہ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت (نرم دلی و ہمدردی) پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف (جاکر) آرام پائو اور اس نے تمھارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتدریج نظام حیات ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بے وقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا ‘۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قد آور، زور آور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہرچیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل و صورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کر دیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4693،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لیے کہ تمہیں ان سے سکوں و راحت آرام وآسائش حاصل ہو ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا» ۱؎ [7-الأعراف:189] ’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے ‘۔ حواء رضی اللہ عنہا آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہو سکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھا کر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے اولاد ہو چکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے۔ الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنٰی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔
21-1یعنی تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ وہ تمہاری بیویاں بنیں اور تم جوڑا جوڑا ہوجاؤ زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرد عورت کے اور عورت مرد کے لیے زوج ہے۔ عورتوں کے جنس بشر ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پہلی عورت۔ حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔ 21-2مطلب یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی، مثلاً عورتیں جنات یا حیوانات میں سے ہوتیں، تو ان سے سکون کبھی حاصل نہ ہوتا جو اس وقت دونوں کے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے سے نفرت وحشت ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کمال رحمت ہے کہ اس نے انسانوں کی بیویاں، انسان ہی بنائیں۔ 21-2مَوَدَّۃ یہ ہے کہ مرد بیوی سے بےپناہ پیار کرتا ہے اور ایسے ہی بیوی شوہر سے۔ جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔ ایسی محبت جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے، دنیا میں کسی بھی دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ اور رحمت یہ ہے کہ مرد بیوی کو ہر طرح کی سہولت اور آسائش بہم پہنچاتا ہے، جس کا مکلف اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور ایسے ہی عورت بھی اپنے قدرت و اختیار کے دائرہ میں۔ تاہم انسان کو یہ سکون اور باہمی پیار انہی جوڑوں سے حاصل ہوتا ہے جو قانون شریعت کے مطابق باہم نکاح سے قائم ہوتے ہیں اور اسلام انہی کو جوڑا قرار دیتا ہے۔ غیر قانونی جوڑوں کو وہ جوڑا ہی تسلیم نہیں کرتا بلکہ انھیں زانی اور بدکار قرار دیتا ہے اور ان کے لئے سزا تجویز کرتا ہے۔ آج کل مغربی تہذیب کے علم بردار شیاطین ان مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کہ مغربی معاشروں کی طرح اسلامی ملکوں میں بھی نکاح کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بدکار مرد و عورت کو جوڑا تسلیم کروایا جائے اور ان کے لیے سزا کے بجائے وہ حقوق منوائے جائیں جو ایک قانونی جوڑے کو حاصل ہوتے ہیں۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۡ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ) 63۔ المنفقون:4)۔
(آیت 21) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی کمال قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھاری خاطر (نہ کہ اپنے کسی فائدے کے لیے) خود تمھی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف جاکر سکون حاصل کرو۔ {”سَكَنَ عِنْدَهُ“} کا معنی ہے جسمانی طور پر کسی کے پاس جا کر رہنا اور {”سَكَنَ إِلَيْهِ“} قلبی اور روحانی طور پر کسی کے پاس راحت و سکون پانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے کہ ہمارے والد ماجد آدم علیہ السلام کو جنت میں رہ کر بھی، جہاں ہر نعمت موجود تھی، سکون اسی وقت حاصل ہوا جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کی ذات سے ان کی بیوی اور ہماری ماں حواعلیھا اسلام کو پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا }» [ الأعراف: ۱۸۹ ] ”وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے۔“ آدم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد کے سکون کے لیے مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے جوڑے بنا دیا۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ مردوں اور عورتوں کی پیدائش ہمیشہ اس اعتدال اور توازن سے رہی ہے کہ ان کی باہمی زوجیت کی ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مرد اتنے زیادہ ہو جائیں کہ انھیں بیوی نہ مل سکے یا عورتیں اتنی بڑھ جائیں کہ انھیں خاوند نہ مل سکیں، اور یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ مرد کو عورت اور عورت کو مرد کے پاس ہی سکون حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود انسانوں میں سے ان کے جوڑے پیدا فرمائے۔ معلوم ہوا وہ تمام کہانیاں یکسر افسانے ہیں جن میں انسانوں اور جنوں کے درمیان زوجیت اور توالد و تناسل کا ذکر ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ راہب اور جوگی جو انسانی فطرت سے جنگ کر کے عورتوں سے قطع تعلق کے ساتھ سکون تلاش کرتے رہے یا کر رہے ہیں، سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ فطرت سے جنگ کا انجام ہمیشہ شکست ہوتا ہے۔ جس طرح بھوک کے وقت کھانا اللہ تعالیٰ سے تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انسان کی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اسی طرح شادی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ انسان کے لیے سکون کا باعث اور اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ اولاد آدم میں سب سے زیادہ متقی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيْبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِيْ فِي الصَّلاَةِ ] [ نسائي، عشرۃ النساء، باب حب النساء: ۳۳۹۱، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”دنیا میں سے میرے لیے عورتیں اور خوشبو محبوب بنا دی گئیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنا دی گئی۔“ یاد رہے! یہ سکون مرد اور عورت کے نکاح کے تعلق ہی سے حاصل ہو سکتا ہے، کیونکہ زوجیت کا جائز طریقہ یہی ہے۔ بدکاروں کو یہ نعمت میسر نہیں آ سکتی۔ کافر اقوام نے اللہ کے احکام سے بغاوت کر کے نکاح کے بغیر مرد عورت کے زندگی گزارنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اس سے انھیں وہ سکون کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جو خاوند اور بیوی کو حاصل ہوتا ہے، اور ان ملعونوں کا تو ذکر ہی کیا جو مردوں کی مردوں سے یا عورتوں کی عورتوں سے ہوس پوری کر کے، یا کتوں بلیوں اور دوسرے جانوروں سے سکون حاصل کرنے کی ناکام و نامراد کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ یہ انسانوں ہی نہیں جانوروں کی فطرت کے بھی خلاف ہے۔ ➋ { وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً …:} یعنی مرد عورت کی زوجیت میں سکون کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوستی اور رحمت رکھ دی ہے۔ دنیا میں عشق کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں اور ہر طرف اسی کا شور اور ہنگامہ ہے، مگر حقیقی دوستی اور محبت جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاوند اور بیوی کے درمیان پیدا ہوتی ہے، ناجائز عشق اور حرام محبت میں گرفتار لوگ اس کی بُو بھی نہیں پا سکتے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی نہیں کہ وہ مرد اور عورت جو ایک دوسرے سے پوری طرح واقف بھی نہیں ہوتے، نکاح کے بعد صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے مودّت اور محبت کے ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں جو زندگی بھر قائم رہتا اور دن بدن مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ ] [ ابن ماجہ، النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح: ۱۸۴۷، عن ابن عباس و صححہ البوصیري و الألباني ] ”ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی چیز نہیں دیکھی۔“ اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں: ”یعنی جب عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے محبت ہوجائے تو ہم نے ان کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی، کیونکہ اس سے محبت میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جب کہ زنا کے نتیجے میں محبت کے بجائے عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے۔“ ➌ { وَ رَحْمَةً:} اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی دوستی اور محبت کے ساتھ ساتھ وہ رحم اور مہربانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان رکھ دی ہے کہ وہ تندرستی اور صحت و جوانی میں بھی اور بڑھاپے اور بیماری میں بھی ایک دوسرے پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔ جب کہ عاشقوں اور بدکاروں کا عشق کتنا ہی شور انگیز ہو، حسن کے ڈھلنے کے ساتھ ہوا میں بکھر جاتا ہے اور اس میں محبوب پر رحم کے بجائے اصل جذبہ اپنی ہوس پوری کرنا اور خالص خود غرضی ہوتا ہے۔ ➍ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ: ” فِيْ ذٰلِكَ “} (اس میں) سے مراد پچھلی آیت اور اس آیت میں مذکور چیزیں ہیں، یعنی تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کرنے میں، تمھارے زمین کے اندر بشر کی صورت میں پھیل جانے میں، تمھارے سکون کے لیے خود تمھی میں سے تمھارے جوڑے پیدا کرنے میں اور تمھارے درمیان دوستی اور رحمت کا جذبہ پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی قدرت اور اس کے آخرت قائم کرنے پر دلالت کرنے والی بہت سی نشانیاں ہیں، مگر صرف ان لوگوں کے لیے جو ان چیزوں میں غور و فکر کریں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا مختلف ہونا بھی ہے۔ بے شک اس میں اہلِ علم کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا اور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا الگ الگ ہونا ہے۔ بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» } میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]
22-1دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کردینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں کوئی کالا، کوئی گورا اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف بولنے کے لہجے جدا جدا اور حتیّٰ کہ آواز بھی ایک دوسرے سے الگ الگ، ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
(آیت 22) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: } یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی جو بہت سی نشانیوں پر مشتمل ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے، جس کے مقابلے میں تمھیں پہلی یا دوسری دفعہ پیدا کرنا بالکل ہی معمولی بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آنے والا زمین اور آسمانوں کا نظام اور ان میں موجود سورج چاند اور بے شمار وسیع و عریض سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کا سلسلہ جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے (دیکھیے ذاریات: ۴۷) رب تعالیٰ کی بے پایاں قدرتوں کی واضح نشانی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ }» [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہے، یا کسی اور کا اس میں کوئی حصہ ہے، یا کم از کم اسے پیدا کرنے کا کوئی دعوے دار ہی ہے تو سامنے لاؤ۔ ➋ { وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی کائنات میں پایا جانے والا تنوع ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ دوسری چیز سے الگ پیدا کی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس تنوع میں سے صرف دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں، ایک انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا، دوسرا ان کے رنگوں کا مختلف ہونا۔ ایک مٹی اور ایک پانی سے پیدا ہونے والے انسانوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، جاپانی، ترکی، حبشی، چینی، روسی، فرانسیسی، جرمنی، سپینی، غرض ہر قوم کی الگ زبان ہے، پھر ہر زبان کی بے شمار ذیلی زبانیں ہیں۔ ان ذیلی زبانوں کے لہجے اور بعض الفاظ ہر چند میل کے فاصلے پر مختلف ہو جاتے ہیں۔ پھر بولتے وقت ایک ہی زبان مثلاً عربی یا انگلش میں بات کرتے ہوئے کسی ایک شخص کا لہجہ، آواز، ادائیگی، تیزی یا آہستگی، نرمی یا سختی، شیرینی یا تلخی دوسرے شخص سے نہیں ملتی، حتیٰ کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان تک ہر شخص جب بولتا ہے تو اس کا تکلم صرف اسی کو عطا ہوا ہے، جس سے وہ پوری بنی نوع انسان میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ اسے جاننے والا شخص پردے کے پیچھے اس کی بات سن کر پہچان لے گا کہ فلاں شخص بول رہا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ عجیب نشانی مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ اسے کسی شخص کا تکلم دے دیا جائے، تو وہ کروڑوں اربوں انسانوں میں سے جدا کر دے گا۔ اسی طرح انسانوں کے رنگوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ ایک ہی اصل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں کوئی سفید ہے، کوئی گندمی، کوئی سیاہ، کوئی سرخ، کوئی زرد اور کوئی ان کے درمیان۔ پھر کمال یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی رنگ، مثلاً سیاہ رنگ والے ایک انسان کا رنگ دوسرے سیاہ فام انسان کے رنگ سے نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے رنگ میں اتنی قسمیں رکھ دی ہیں کہ ہر سیاہ کا رنگ دوسرے سیاہ کے رنگ سے اور ہر سفید کا رنگ دوسرے سفید کے رنگ سے مختلف ہے۔ کسی شخص کی آنکھوں کی پتلی کی رنگت اور ساخت دوسرے شخص کی آنکھ کی رنگت اور ساخت سے نہیں ملتی۔ کسی ایک شخص کے بالوں کا سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ دوسرے کے سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ سے نہیں ملتا۔ کسی شخص کی جسمانی ساخت اور اس کے ہاتھ پاؤں کی لکیریں دوسرے شخص سے نہیں ملتیں، جب کہ دیکھنے میں سب انسان ہیں۔ تخلیق کا یہ باریک ترین اور عظیم ترین سلسلہ کیا اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رب قدیر کی قدرت کا شاہکار ہے؟ جس نے جو چاہا پیدا کر دیا، جو پیدا کیا خوب صورت پیدا کیا اور بے مثال اور لاجواب پیدا کیا۔ عقل سے کتنے خالی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا، یا کہتے ہیں کہ دو خالقوں یا مالکوں کی موجودگی میں یہ نظام چل رہا ہے، یا کہتے ہیں کہ اتنی عظیم قدرتوں کا مالک مٹی ہو جانے کے بعد انسانوں کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا!؟ پھر تنوع کے اس سلسلے کو ذرا پھیلا کر دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ }» [الرعد: ۴ ] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ زمین سے پیدا ہونے والی ہر جنس، حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، ان کی ہر قسم دوسری قسم سے جدا ہے، مثلاً گائے بکری سے جدا ہے، آم کا درخت جامن سے جدا ہے، گندم جو سے الگ ہے، لوہا تانبے سے الگ ہے۔ پھر لامحدود تنوع دیکھیے کہ ہر درخت کا ہر پتا اسی درخت کے دوسرے پتے سے الگ ہے۔ ذرا اس کی لکیروں پر غور کرو، ہر ایک کی لکیریں دوسرے کی لکیروں سے الگ ہیں۔ دیکھنے میں تمام درخت اور تمام پودے سبز ہیں، مگر ہر ایک کو دوسرے سے الگ سبز رنگ عطا ہوا ہے۔ صرف درخت ہی نہیں چرندوں، پرندوں، درندوں اور آبی جانوروں میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ رنگوں کا یہ اختلاف ہی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی قدرت کی کافی دلیل ہے۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ:} یعنی آسمان و زمین کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرتوں کی پہچان ہر ایرے غیرے کا کام نہیں، ان نشانیوں کی پہچان علم والوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ }» [ العنکبوت: ۴۳ ] ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور اس کی خشیت صرف علماء کا حصہ ہونا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِيْبُ سُوْدٌ (47) وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ }» [ فاطر: ۲۷، ۲۸ ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ سب پرغالب، بے حد بخشنے والا ہے۔“
اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غور سے) سُنتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں میں ہے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا ہے اور (دن میں) اس کے فضل (روزی) کا تلاش کرنا بھی بے شک اس میں (غور سے) سننے والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے تمھارا دن اور رات میں سونا اور تمھارا اس کے فضل سے (حصہ) تلاش کرنا ہے۔بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» } میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]
23-1نیند کا باعث سکون و راحت ہونا چاہیے وہ رات کو ہو یا بوقت قیلولہ، اور دن کو تجارت و کاروبار کے ذریعہ سے اللہ کا فضل تلاش کرنا، یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔
(آیت 23) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے کمالِ قدرت اوراس کے تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی تمھارا رات اور دن میں سونا ہے۔ جس کے ساتھ بے اختیار تمھاری ہر سرگرمی ختم اور تمھارے حواس ظاہری کے تمام اعمال بند ہو جاتے ہیں اور تمھیں اپنے گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ اس سے پہلے کام کاج اور حرکت و محنت کی وجہ سے تمھارے جسم میں جو ٹوٹ پھوٹ اور تھکاوٹ ہوئی تھی، نیند عطا کرنے والا مالک نیند کے دوران جسم کی مرمت کر کے اور تھکاوٹ دور کر کے دوبارہ کام کاج کے قابل بنا کر تمھیں پھر بیدار کر دیتا ہے۔ جس طرح نیند اس کی نشانی ہے، بیداری اور رات دن میں اس کے فضل کی تلاش بھی اس کی نشانی ہے۔ دونوں اسی کی تخلیق ہیں، کسی کا ان میں ذرّہ بھر دخل نہیں، بلکہ مخلوق تو ان کی حقیقت ہی سے نا آشنا ہے کہ نیند کیا چیز ہے، کیسے آتی ہے اور کیسے ختم ہو جاتی ہے!؟ پھر دن رات کئی دفعہ سونے اور جاگنے کا یہ عمل باربار موت و حیات کا عملی نمونہ ہے۔ پھر بھی تمھیں اصرار ہے کہ ہر روز کئی بار موت و حیات کے مراحل سے گزارنے والا مالک تمھارے اعمال کے محاسبے اور جزا و سزا کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ نہیں کر سکے گا۔ ➋ نیند کی حقیقت اس سے زیادہ کسی کو معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ }» [ الزمر: ۴۲ ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند موت ہے اور بیداری حیات اور دونوں کی حقیقت روح کے آنے جانے کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ اور روح کیا ہے؟ اس کے متعلق فرمایا: «{ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۸۵ ] ”اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔“ ➌ روس میں کمیونزم کے عروج کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ کی منکر، مادہ پرست اور دنیا کی ظالم ترین جماعت کمیونسٹ پارٹی مزدوروں سے کھیتوں اور کارخانوں میں زیادہ سے زیادہ کام لینے کی نئی سے نئی صورت سوچتی رہتی تھی، اس وقت پارٹی کے راہ نماؤں نے سوچا کہ مزدور بہت سا وقت سو کر ضائع کر دیتے ہیں، چنانچہ انھوں نے سائنس دانوں کے ذمے لگایا کہ وہ تحقیق کریں کہ ان کا نیند میں صرف ہونے والا وقت زیادہ سے زیادہ کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ کئی سالوں کی تحقیق کے بعد اس کانتیجہ جو انھوں نے بیان کیا وہ یہ تھا کہ انسان کے لیے نیند بہت ضروری ہے، کیونکہ اس کے دوران اس کے ٹوٹے پھوٹے خلیات دوبارہ بنتے ہیں اور وہ دوبارہ کام کاج کے قابل ہو جاتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تعمیر و مرمت اور تازگی کا یہ عمل نیند کے دوران صرف ایک لمحے میں پورا ہوجاتا ہے، مگر وہ لمحہ بعض اوقات نیند کی ابتدا میں آتا ہے، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی سے لمبی نیند میں بھی وہ لمحہ نہیں آتا اور انسان بیدار ہوتا ہے تو اسی طرح تھکا ماندہ اور ٹوٹا پھوٹا ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ لمحہ آجانے کی وجہ سے نیند کی ایک جھپکی کے ساتھ ہی اس کی ساری تھکن کافور ہو جاتی ہے۔ ان سائنس دانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انسان اس لمحے کو اپنی گرفت میں لانے سے عاجز ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نشانی کے صرف ایک معمولی سے حصے کا اعتراف ہے، جسے اس نے {” وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ “} کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ ➍ عام طور پر قرآن مجید میں رات کو نیند اور آرام کے لیے اور دن کو تلاش معاش کے لیے قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا }» [ النمل: ۸۶ ] ”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔“ اور فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا (10) وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا }» [ النبا: ۱۰، ۱۱ ] ”اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔ اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔“ (مزید دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۲) یہ عام معمول کا بیان ہے، مگر انسان رات کے علاوہ دن کو بھی سو جاتا ہے اور تلاش معاش دن کے علاوہ رات کو بھی کر لیتا ہے، اس لیے اس آیت میں رات اور دن دونوں میں نیند کو اور اللہ کے فضل کی تلاش کو اپنی نشانیوں میں سے نشانی قرار دیا۔ ➎ {وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:} اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رزق، جو تم تلاش کرتے ہو، وہ تمھاری محنت کانتیجہ نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ورنہ کوئی محنت مشقت کرنے والا فقیر نہ رہے اور محنت مشقت نہ کرنے والا کوئی شخص غنی نہ ہو۔ ➏ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ:} یعنی نیند اور بیداری کی نشانی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور مرنے کے بعد زندگی پر کافی استدلال صرف تجربے سے یا عقل سے یا غور و فکر سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ان چیزوں سے ہے جن کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول انھیں بیان کرے اور سننے والے انھیں سن کر دل میں جگہ دیں۔ اس لیے فرمایا کہ اس ایک نشانی میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کی بات سنتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا، سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔“ (موضح) یہ {” يَسْمَعُوْنَ “} کا لفظ اختیار کرنے کا ایک اور نکتہ ہے۔
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی اور امید دلاتی اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت (خشکی) کے بعد زندہ (شاداب) کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں عقل سے کام لینے والے لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمھیں خوف اور طمع کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، پھر زمین کو اس کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیام ارض و سما ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جا رہی ہے کہ ’ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کر دے ‘ کہیں بجلی گرے وغیرہ ’ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہو گی ترسالی ہو جائے گی ‘ وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بے کار تھی اس بارش سے وہ زندہ کر دیتا ہے لہلانے لگتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیدوار اگادیتی ہے۔ عقل مندوں کے لئے عظمت اللہ کی یہ ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس نشان کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو زندہ کرنے والا ہماری موت کے بعد ہمیں بھی از سر نو زندہ کر دینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ سید ناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے ”اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم رہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:-14-13] ’ صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہو جائے گی اور آیت میں ہے ‘ «اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [36-يس:53] یعنی ’ وہ تو صرف ایک آواز ہو گی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہو جائیں گے ‘۔
24-1یعنی آسمان میں بجلی چمکتی ہے اور بادل کڑکتے ہیں، تو تم ڈرتے بھی ہو کہ کہیں بجلی گرنے یا زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے کھیتاں برباد نہ ہوجائیں اور امیدیں بھی وابستہ کرتے کہ بارشیں ہوں گی تو فصل اچھی ہوگی۔
(آیت 24) ➊ { وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا:} یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے، یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ ➋ { وَ يُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحْيٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا:} اس میں مرنے کے بعد زندگی پر بھی استدلال ہے اور اس بات پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہونے کو مرنے کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور اسے عقل والوں کے لیے نشانی قرار دیا گیا جو بات سمجھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ }» [ الحدید: ۱۷ ] ”جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔“
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا جبھی تم نکل پڑو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تمہیں زمین سے ایک ہی بار پکارے گا تو تم یکبارگی نکل پڑوگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمھیں زمین سے ایک ہی دفعہ پکارے گا تو اچانک تم نکل آؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیام ارض و سما ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جا رہی ہے کہ ’ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کر دے ‘ کہیں بجلی گرے وغیرہ ’ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہو گی ترسالی ہو جائے گی ‘ وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بے کار تھی اس بارش سے وہ زندہ کر دیتا ہے لہلانے لگتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیدوار اگادیتی ہے۔ عقل مندوں کے لئے عظمت اللہ کی یہ ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس نشان کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو زندہ کرنے والا ہماری موت کے بعد ہمیں بھی از سر نو زندہ کر دینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ سید ناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے ”اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم رہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:-14-13] ’ صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہو جائے گی اور آیت میں ہے ‘ «اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [36-يس:53] یعنی ’ وہ تو صرف ایک آواز ہو گی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہو جائیں گے ‘۔
25-1یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو آسمان و زمین کا یہ سارا نظام، جو اس وقت اس کے حکم سے قائم ہے، درہم برہم ہوجائے گا اور تمام انسان قبروں سے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔
(آیت 25) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، اب فرماتے ہیں کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان و زمین اور ان میں موجود سورج، چاند اور ستارے کسی ستون یا تھامنے والی چیز کے بغیر محض اس کے امر کے ساتھ اپنی اپنی جگہ قائم ہیں اور اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ}» [ الأنبیاء: ۳۳ ] ”سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ اس نے ہر ایک میں اپنی کمال حکمت کے ساتھ نہایت باریک اور درست حساب کے ساتھ جذب و دفع کی ایسی قوت رکھ دی ہے کہ کوئی دو جسم آپس میں نہیں ٹکراتے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں کبھی باہمی تصادم نہیں ہوتا۔ اگر اس کا حکم نہ ہو تو نہ آسمان اپنی جگہ قائم رہ سکے اور نہ زمین۔ دیکھیے سورۂ حج (۶۵) اور سورۂ فاطر (۴۱)۔ ➋ { ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً…:} پھر یہ نہ سمجھو کہ یہ نظام دائمی یا ابدی ہے اور جو مر گیا ہمیشہ مردہ ہی رہے گا۔ نہیں، پھر ({ثُمَّ}) ایک وقت آرہا ہے جب وہ تمھارے زمین میں دفن ہونے کی حالت میں تمھیں ایک ہی آواز دے گا تو تم یک لخت زمین سے باہر نکل آؤ گے۔ مراد اس سے دوسرا نفخہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ }» [ الزمر: ۶۸ ] ”پھر اس (صور) میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔“ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۵۲)، یٰس(۵۳) اور نازعات (۱۳، ۱۴)۔
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے (اور) سب اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اسی کا ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ‘ } } ۱؎ [صحیح بخاری:4974] ۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» ۱؎ [42-الشورى:11] ’ اس کی مثال کوئی اور نہیں ‘۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
26-1یعنی اس کے تکوینی حکم کے آگے سب بےبس اور لاچار ہیں۔ جیسے موت وحیات، صحت و مرض، ذلت و عزت وغیرہ میں۔
(آیت 26) {وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یعنی یہ اور اس سے اگلی آیت پچھلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہیں۔ یعنی یہ خیال مت کرو کہ وہ اس کے بلانے پر کیسے نکل آئیں گے، کیونکہ آسمان و زمین میں جو بھی ہے اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ {”كُنْ“} کہے اور کوئی شخص اس کے حکم سے انحراف کر سکے۔
وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے کہ اول بنا تا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیا دہ آسان ہونا چاہیے اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کیلئے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے اعلیٰ ہے۔ وہ غالب ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ‘ } } ۱؎ [صحیح بخاری:4974] ۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» ۱؎ [42-الشورى:11] ’ اس کی مثال کوئی اور نہیں ‘۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
27-1یعنی اتنے کمالات اور عظیم قدرتوں کا مالک ہے، تمام مثالوں سے اعلٰی اور برتر (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ) 42۔ الشوری:11)
(آیت 27) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ:} اللہ تعالیٰ نے یہ بات بندوں کے کہنے اور کرنے کے لحاظ سے فرمائی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو پہلی دفعہ اور دوسری دفعہ پیدا کرنا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم یہ تو مانتے ہو کہ تمام مخلوقات کو پہلی بار اسی نے پیدا کیا ہے اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ جس نے ایک دفعہ کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے اس چیز کو دوبارہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے تمھارے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے لیے، جس نے پہلی بار تمام مخلوقات بنائی ہے، دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللَّهُ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ ذٰلِكَ، أَمَّا تَكْذِيْبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَّقُوْلَ إِنِّيْ لَنْ أُعِيْدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَّقُوْلَ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِّيْ كُفُوًا أَحَدٌ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «اللہ الصمد» ۴۹۷۵، ۴۹۷۴ ] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ابن آدم نے مجھے جھٹلا دیا، حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ (اللہ) مجھے دوبارہ نہیں بنائے گا جس طرح اس نے مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، حالانکہ میں اکیلا ہی ہوں، بے نیاز ہوں، جس نے نہ کسی کو جنا نہ کسی نے اسے جنا اور کوئی بھی اس کا کبھی شریک نہیں۔“ ➋ { وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:” الْمَثَلُ “} سے مراد یہاں صفت اور شان ہے، یعنی زمین ہو یا آسمان، پوری کائنات میں سب سے اعلیٰ صفت اور سب سے اونچی شان صرف اس کی ہے۔ {” لَهُ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے۔“ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے: [ قَوْلُهُ: «وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ» يَقُوْلُ: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» ] یعنی یہ زیر تفسیر آیت اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ }» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن و خوبی میں اللہ تعالیٰ کی شان اور صفات کے برابر تو کیا اس سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، کیونکہ کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو اس کی عطا کردہ ہے۔ ➌ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} خبر کے معرف باللاّم آنے کے ساتھ حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جو سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے کرے، نہ اس کے لیے کچھ مشکل ہے نہ کوئی اس کے ارادے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، مگر غالب ہونے کے ساتھ وہ کمال حکمت والا بھی ہے۔ اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ کمال حکمت پر مشتمل ہے۔
وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم اُن سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اس طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وه اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطره رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے لیے ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی تو تم سب اس میں برابر ہو تم ان سے ڈرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) تمہارے لئے تمہاری اپنی ذات (اور تمہارے حالات) سے ایک مثل بیان کرتا ہے کہ تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس طرح شریک ہے ان چیزوں میں جو ہم نے تمہیں عطا کر رکھی ہیں کہ تم اور وہ برابر کے حصہ دار بن جاؤ کہ تم ان سے اس طرح ڈرنے لگو۔ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے (برابر والے) سے ڈرتے ہو؟ ہم عقل سے کام لینے والوں کیلئے اسی طرح آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے تمھارے لیے خودتمھی میں سے ایک مثال بیان کی ہے، کیا تمھارے لیے ان (غلاموں) میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں، کوئی بھی اس رزق میں شریک ہیں جو ہم نے تمھیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ، ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ( [ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ] ) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔ فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔ یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔ یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
28-1یعنی جب تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے غلام اور نوکر چاکر جو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں وہ تمہارے مال و دولت میں شریک اور تمہارے برابر ہوجائیں تو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کے بندے چاہے وہ فرشتے ہوں پیغمبر ہوں اولیا وصلحا ہوں یا شجر وحجر کے بنائے ہوئے معبود، وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوجائیں جب کہ وہ بھی اللہ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں؟ یعنی جس طرح پہلی بات نہیں ہوسکتی، دوسری بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرنا اور انھیں بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا یکسر غلط ہے۔ 28-2یعنی کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم (آزاد لوگ) آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ یعنی جس طرح مشترکہ کاروبار یا جائیداد میں خرچ کرتے ہوئے ڈر محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے شریک باز پرس کریں گے۔ کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو؟ یعنی نہیں ڈرتے۔ کیونکہ تم انھیں مال و دولت میں شریک قرار دے کر اپنا ہم رتبہ بنا ہی نہیں سکتے تو اس سے ڈر بھی کیسا۔28-3کیونکہ وہ اپنی عقلوں کو استعمال میں لا کر اور غور و فکر کا اہتمام کر کے آیات تنزیلیہ اور تکوینیہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کی سمجھ میں توحید کا مسئلہ بھی نہیں آتا جو بالکل صاف اور نہایت واضح ہے۔
(آیت 28) ➊ { ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ …:} یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا آ رہا تھا، اب خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرک کے باطل ہونے کی مثال خود تمھاری ذات سے بیان فرمائی، تاکہ تمھیں کہیں دور نہ جانا پڑے۔ اپنے بارے میں یہی غور کر لو کہ تمھارے غلام جو تمھاری ملکیت میں ہیں، کیا ان میں سے کوئی بھی اس رزق میں تمھارا شریک ہے جو ہم نے تمھیں عطا کیا ہے کہ وہ اور تم اس کے مالک ہونے میں برابر ہو جاؤ اور اپنے اس غلام سے اسی طرح ڈرو جیسے تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟ جواب ظاہر ہے کہ ہر گز نہیں، غلام آقاکے اور مملوک مالک کے برابر کبھی نہیں ہو سکتا۔ تو پھر جب تم مانتے ہو کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر مخلوق، فرشتے، انسان، جنّ، انبیاء، اولیاء اور صلحاء، حجر، شجر اور بت وغیرہ سب کا مالک اللہ ہے اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں اور تم خود اپنے غلاموں کو (جو انسان ہونے میں تمھارے برابر ہیں) اپنے اختیارات دے کر اپنے شریک اور اپنے برابر بنانے کے لیے تیار نہیں تو تم نے مخلوق کو خالق کا اور مملوک کو مالک کا شریک کیسے بنا لیا جو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی طرح برابر نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لیے یہ مثال اس لیے بیان فرمائی کہ وہ اپنے بنائے ہوئے معبودوں کو بھی اللہ ہی کی ملکیت مانتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے: [ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ ] ”حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: [ وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ ] ”تم پر افسوس! بس کرو، بس کرو۔“ مگر وہ کہتے: [ إِلاَّ شَرِيْكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَ مَا مَلَكَ ] [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ و صفتھا …: ۱۱۸۵ ] ”مگر تیرا ایک شریک ہے جس کا مالک تو ہے اور ان چیزوں کا بھی جن کا وہ مالک ہے۔“ ➋ {كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} یعنی ہم ایسے ہی مثالوں کے ساتھ اور خوب کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔
مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ایسے لوگوں کا تو کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے، ان کا ایک بھی مددگار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ظالم اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بے جانے تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا اور ان کا کوئی مددگار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ظالم لوگ سمجھے بوجھے بھی اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ جسے اللہ (اس کی نافرمانی کی وجہ سے) گمراہی میں چھوڑ دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی ناصر و مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ( [ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ] ) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔ فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔ یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔ یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
29-1یعنی اس حقیقت کا انھیں خیال ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بےبہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بےعلمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیروکار ہیں۔ 29-2کیونکہ اللہ کی طرف سے ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب اور آرزو ہوتی ہے، جو اس طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں، انھیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 29-3یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب پھیر دے۔
(آیت 29) ➊ { بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ:} یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنھوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ جن کا نہ انھیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۲ تا ۱۲۰) اور سورۂ نجم (۲۳ تا ۲۵)۔ ➋ { فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ:} اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے، ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۶ ] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“ ➌ {وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جب {”وَمَا لَهُمْ مِّنْ نَّاصِرٍ“} کہنے سے ہر قسم کے مددگار کی زیادہ تاکید کے ساتھ نفی ہو جاتی ہے، تو {” نٰصِرِيْنَ “} کا لفظ لانے میں کیا حکمت ہے؟ مفسر ابو السعود نے اس کا جواب یہ دیا ہے: {”عَلٰي مَعْنَي لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمْ نَاصِرٌ وَاحِدٌ عَلٰي مَا هُوَ قَاعِدَةُ مُقَابَلَةِ الْجَمْعِ بِالْجَمْعِ“} ”یعنی ان میں سے کسی ایک کا کوئی ایک مدد کرنے والا نہیں ہو گا، جیسا کہ جمع کے مقابلے میں جمع کا قاعدہ ہے۔“ قرآن مجید میں ایک ہی بات مختلف اسالیب کے ساتھ بیان ہوتی ہے، کیونکہ تنوّع میں حسن ہوتا ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے، دوسرا اسلوب واحد کے لفظ کے ساتھ نفی کا ہے، وہ بھی متعدد مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا }» [ البقرۃ: ۱۲۳ ] ”جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ }» [ محمد: ۱۱ ] ”اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔“ اور فرمایا: «{ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ }» [ الطارق: ۱۰ ] ”تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔“
پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) آپ باطل سے کنارہ کش ہوکر اپنا رخ دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اس (دینِ) فطرت کی پیروی کریں جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ اس دین کے لیے سیدھا رکھ، اللہ کی اس فطرت کے مطابق، جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدائش کو کسی طرح بدلنا (جائز) نہیں، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچہ اور ماں باپ ٭٭
’ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے ‘۔ رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ’ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ‘۔ ۱؎ [7-الأعراف:172] وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ’ لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ ‘۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ ۱؎ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ۔
بخاری شریف میں { بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» } } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے { یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے }۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ۔ مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383] ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے }۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا } ۱؎ [مسند احمد:73/5:صحیح] ۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ { مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں }۔ فرمایا کہ ’ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ‘ }۔
{ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا ‘۔ { پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ’ سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے ‘ }۔ { اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے { بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2765]
یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103] ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ’ اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے ‘۔ ’ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ’ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے ‘۔ ’ تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی ‘۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641] (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)
30-1یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور جھوٹے مذاہب کی طرف دھیان ہی نہ کریں 30-2فطرت کے اصل معنی خلقت پیدائش کے ہیں یہاں مراد ملت اسلام ہے مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدائش بغیر مسلم و کافر کی تفریق کے اسلام اور توحید پر ہوتی ہے اس لیے توحید ان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہد الست سے واضح ہے بعد میں بہت سوں کو ماحول یا دیگر عوارض فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے، جس کی وجہ سے وہ کفر پر ہی باقی رہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ 30-3یعنی اللہ کی خلقت کو تبدیل نہ کرو بلکہ صحیح تربیت کے ذریعے سے اس کی نشوونما کرو تاکہ ایمان و توحید بچوں کے دل ودماغ میں راسخ ہوجائے یہ خبر بمعنی انشا ہے یعنی نفی نہی کے معنی میں ہے۔ 30-4یعنی وہ دین جس کی طرف یکسو اور متوجہ ہونے کا حکم ہے یا جو فطرت کا تقاضا ہے وہ یہ دین قیم ہے۔ 30-5اسی لیے وہ اسلام اور توحید سے ناآشنا رہتے ہیں۔
(آیت 30) ➊ {فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا: ” لِلدِّيْنِ “} میں ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی یہ دین جس میں خالق و مالک اور معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کو مانا گیا ہے، جس میں اس کی ذات یا صفات یا افعال میں کسی کو شریک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ {” حَنِيْفًا “ ”حَنَفَ“} (حاء کے ساتھ) کا لفظی معنی مائل ہونا ہے، اکثر استعمال تمام راستوں سے ہٹ کر ایک سیدھے راستے کی طرف آنے کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ {”جَنَفَ“} (جیم کے ساتھ) کا مطلب سیدھے راستے سے ہٹ کر اِدھر یا اُدھر ہوجانا ہوتا ہے۔ {” فَاَقِمْ “} میں ”فاء“ (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب اتنے سارے دلائل سے ثابت ہو گیا کہ اس کائنات کا خالق و مالک اور عبادت و اطاعت کا مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، تو لازم ہے کہ تم اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا رکھو، نہ ذرہ برابر ادھر ادھر دیکھو اور نہ اس ایک سیدھی راہ سے اِدھر اُدھر ہٹو۔ ➋ { فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا: ” فِطْرَتَ “} کا معنی پیدائش ہے، ”اللہ تعالیٰ کی فطرت“ سے مراد وہ حالت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی توحید اور دین اسلام ہے، جو ہر آدمی کے دل میں پیدائش کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے کہ تیرا خالق و مالک اللہ ہے اور تو اس کا بندہ اور غلام ہے، لہٰذا تیرے لیے اس پر قائم رہنا لازم ہے۔ اگر انسان کو اس کی طبعی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور بیرونی اثرات سے اس کے دل و دماغ کو محفوظ رکھا جائے تو وہ توحید اور دین فطرت ہی اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} کے ساتھ آدم علیہ السلام کی اولاد کے ہر فرد سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا ہے اور اسی عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلاَّ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُوْلُ: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» ] [ بخاري، التفسیر، باب: «لا تبدیل لخلق اللہ» : ۴۷۷۵ ] ”کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہو مگر وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے جانور پیدا ہوتا ہے تو صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے ان میں سے کوئی کان یا ناک کٹا ہوا دیکھا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» [ الروم: ۳۰ ] “ اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِيْنَ، فَأَمْضٰی بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاؤُوْا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟ فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّمَا كَانُوْا أَوْلاَدَ الْمُشْرِكِيْنَ، قَالَ وَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُوْلَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَةِ، حَتّٰی يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا ] [مستدرک حاکم: 123/2، ح ۲۵۶۶، وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبي و صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۰۲ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ایک دستہ بھیجا، انھوں نے مشرکین سے جنگ کی، یہاں تک کہ قتل کرتے کرتے وہ بچوں تک جا پہنچے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں بچے قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کر دیا؟“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد ہی تو ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کوئی جان پیدا نہیں ہوتی مگر فطرت پر، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے مطالب کا اظہار کرنے لگتی ہے۔“ مشرکین کے فوت شدہ بچوں کے حکم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵) اور اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: [ أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَ إِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَ أَمَرَتْهُمْ أَنْ يُّشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعمیہا، باب الصفات التي یعرف بھا…: ۲۸۶۵ ] ”سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے تمھیں اس میں سے چند وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ”حنفاء“ (ایک اللہ کے ہو جانے والے) پیدا کیا ہے اور ہوا یہ کہ ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔“ ➌ { لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ:} یعنی اللہ کا دین (اسلام) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا، توحید کے بجائے شرک کرنا یا اس کے حلال و حرام کے احکام کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ الفاظ کے عموم میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شکل پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا اور اس کے کان یا ناک وغیرہ کو کاٹنا جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۱۱۹) کی تفسیر۔ ➍ { ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ:} یعنی شریعتِ اسلام اور فطرتِ سلیمہ پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی بالکل سیدھا اور مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، بلکہ باپ دادا کے رسم و رواج اور شیطان کے پیچھے چل کر فطرت کے خلاف کفر و شرک کو اختیار کیے جاتے ہیں۔
(قائم ہو جاؤ اِس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اور ڈرو اُس سے، اور نماز قائم کرو، اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے
مولانا محمد جوناگڑھی
(لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(تم اپنا رخ اسلام کی طرف رکھو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور (ان) مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں سے نہ ہو جائو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچہ اور ماں باپ ٭٭
’ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے ‘۔ رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ’ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ‘۔ ۱؎ [7-الأعراف:172] وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ’ لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ ‘۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ ۱؎ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ۔
بخاری شریف میں { بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» } } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے { یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے }۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ۔ مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383] ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے }۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا } ۱؎ [مسند احمد:73/5:صحیح] ۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ { مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں }۔ فرمایا کہ ’ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ‘ }۔
{ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا ‘۔ { پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ’ سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے ‘ }۔ { اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے { بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2765]
یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103] ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ’ اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے ‘۔ ’ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ’ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے ‘۔ ’ تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی ‘۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641] (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)
31-1یعنی ایمان تقوٰی اور اقامت صلاۃ سے گریز کر کے، مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ۔
(آیت 31) ➊ { مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ …:} یعنی آپ اور آپ کی امت اپنا چہرہ اس دین کے لیے سیدھا رکھیں، اس طرح کہ تم میں سے جس جس نے بھی اپنے مالک حقیقی سے کسی طرح کا انحراف کیا ہو، پھر اسی کی طرف پلٹ آنے والا ہو۔ {” وَ اتَّقُوْهُ “} اور دل میں اس سے ڈرتے رہو۔ ➋ {وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ:} اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کا تقویٰ اور خوف دل کے اعمال ہیں۔ سب کے سامنے اس کے اظہار کے لیے لازم ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ وہ دین کا عمود ہے اور اسلام کا ایسا شعار ہے جس سے کسی شخص کے مومن یا مشرک ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَيْنَ الرَّجُلِ وَ بَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم الکفر…: ۸۲ ] ”آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان ترکِ صلوٰۃ (کا فرق) ہے۔“ ➌ {وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ:} اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے تمھارا شمار مشرکین میں ہو جائے۔ نہ شرک جلی کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بناؤ اور اس کی عبادت کرنے لگو، خواہ کسی زندہ کی عبادت ہو یا مردہ کی، بت کی عبادت ہو یا قبر کی یا آگ وغیرہ کی۔ نہ شرک خفی کرو جو ریا ہے اور نہ مشرکین کو دلی دوست بناؤ، کیونکہ اس سے تمھارا شمار انھی میں ہو گا، فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ }» [ المائدۃ: ۵۱ ] ”اور جو ان (یہود و نصاریٰ) کو دوست بنائے تو بلاشبہ وہ انھی میں سے ہے۔“ اور نہ مشرکین کی مشابہت اختیار کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ] [ أبوداوٗد، اللباس، باب في لبس الشھرۃ: ۴۰۳۱، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما و قال الألباني حسن صحیح ] ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے تو وہ انھی میں سے ہے۔“ نہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلے میں کسی بھی شخص کے قول کو اپنا دین بناؤ، خواہ وہ امام ہوں یا پیر یا درویش، کیونکہ اسی وجہ سے یہود و نصاریٰ کا شمار مشرکین میں ہوا، فرمایا: «{ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ }» [ التوبۃ: ۳۱ ] ”انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔“
جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود گروہ گروہ ہو گئے۔ (پھر) ہر گروہ اس پر خوش ہے جو کچھ اس کے پاس ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی گروہ ہوگئے، ہر گروہ اسی پر جو ان کے پاس ہے، خوش ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچہ اور ماں باپ ٭٭
’ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے ‘۔ رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ’ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ‘۔ ۱؎ [7-الأعراف:172] وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ’ لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ ‘۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ ۱؎ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ۔
بخاری شریف میں { بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» } } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے { یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے }۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ۔ مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383] ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے }۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا } ۱؎ [مسند احمد:73/5:صحیح] ۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ { مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں }۔ فرمایا کہ ’ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ‘ }۔
{ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا ‘۔ { پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ’ سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے ‘ }۔ { اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے { بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2765]
یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103] ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ’ اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے ‘۔ ’ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ’ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے ‘۔ ’ تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی ‘۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641] (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)
32-1یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکے الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ 32-2یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔
(آیت 32) ➊ {مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا:} یعنی ان لوگوں سے نہ ہو جاؤ جنھوں نے اصل اور فطری دین (توحید) کو چھوڑ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کئی گروہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی کسی کی عبادت کرنے لگا اور کوئی کسی دوسرے کی۔ ان کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا ہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ حق ایک ہے اور باطل گروہوں کا شمار نہیں۔ {” مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۵۹) معلوم ہوا دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرت (توحید) میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳) اور سورۂ یونس (۱۹)۔ ➋ { كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ:} یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انھوں نے تلاش کر رکھے ہیں انھیں دلائل سے تعبیر کرتے ہیں اور ان پر خوش ہیں۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 33) ➊ {وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ:} اس آیت میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت توحید ہے کہ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، جو ڈر کے وقت کھل جاتی ہے (یعنی مصیبت پیش آنے پر ظاہر ہو جاتی ہے)۔“ ➋ { ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً …:} ”پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے“ مثلاً بیماری سے شفا یا طوفان سے نجات یا بدحالی کے بعد خوش حالی اور دولت مندی وغیرہ، جو خالص اس کی طرف سے ہوتی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل یا اختیار نہیں ہوتا، تو اچانک وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا رہے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دوسرے معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانے کے صدقے سے ٹلی ہے۔ ”اچانک“ کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف دور ہوتے ہی فوراً ناشکری اور شرک کرنے لگتے ہیں۔
تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ وه اس چیز کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہے اچھا تم فائده اٹھا لو! ابھی ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہمارے دیے کی ناشکری کریں، تو برت لو اب قریب جاننا چاہتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اس (نعمت) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے۔ اچھا کچھ دن مزہ حاصل کر لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس کی ناشکری کریں، سو فائدہ اٹھا لو کہ جلد ہی جان لوگے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
34-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة عنکبوت کے آخر میں گزرا۔
(آیت 34){ لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۶)۔
کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری کہ ہو انہیں ہمارے شریک بتارہی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے ان پر کوئی سند (دلیل) نازل کی ہے جو انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے کہ وہ بول کر وہ چیزیں بتاتی ہے جنھیں وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
35-1یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ جن کو اللہ کا شریک گردانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، یہ بلا دلیل ہے، اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ بھلا اللہ تعالیٰ شرک کے اثبات و جواز کے لئے کس طرح کوئی دلیل اتار سکتا تھا۔ جب کہ اس نے سارے پیغمبر بھیجے ہی اس لئے تھے کہ وہ شرک کی تردید اور توحید کا اثبات کریں۔ چناچہ ہر پیغمبر نے آکر سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید ہی کا وعظ کیا۔ اور آج اہل توحید مسلمانوں کو بھی نام نہاد مسلمانوں میں توحید و سنت کا وعظ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مسلمان عوام کی اکثریت شرک و بدعت میں مبتلا ہے۔
(آیت 35) {اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا …: ” اَمْ “} کلام کے درمیان آتا ہے، اس سے پہلے ہمزہ استفہام والا جملہ ہوتا ہے، یہاں وہ جملہ کیا ہے؟ رازی نے فرمایا: ”تو کیا وہ بلا دلیل محض خواہش نفس کی پیروی میں شریک کر رہے ہیں، یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے…؟“ ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے؟ کیا ان کی عقل یہ کہتی ہے یا (ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے اور) ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمھارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کر لیا ہے، لہٰذا تم انھیں بھی اپنی حاجت روائی کے لیے پکار سکتے ہو؟“ مزید دیکھیے سورۂ احقاف (۴)۔
جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں، اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں اس پر خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم لوگوں کو (اپنی) زحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جب ان پر ان کے اعمال کی پاداش میں جو وہ پہلے اپنے ہاتھوں کر چکے ہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو ایک دم مایوس ہو جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
36-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة ہود میں گزرا اور جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے کہ راحت میں وہ خوش ہوتے ہیں اور مصیبت میں ناامید ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان اس سے مستشنٰی ہیں۔ وہ تکلیف میں صبر اور راحت میں اللہ کا شکر یعنی عمل صالح کرتے ہیں۔ یوں دونوں حالتیں ان کے لئے خیر اور اجر وثواب کا باعث بنتی ہیں۔
(آیت 36) ➊ {وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا …:} اس آیت میں لوگوں کو رحمت چکھانے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، یعنی ”جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں“ اور برائی پہنچنے کا سبب ان کے ہاتھوں کی کمائی یعنی ان کے اعمال کو قرار دیا ہے۔ اس کی تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیت (۷۹): «{ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ}» کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ اسی طرح رحمت چکھانے کے لیے {” اِذَاۤ “} (جب) کا لفظ فرمایا اور برائی پہنچنے کے لیے {” اِنْ “} (اگر) کا لفظ فرمایا جو شک کے لیے آتا ہے۔ اس میں رحمت کے مقابلے میں تکلیف کے بہت ہی کم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (رازی) ➋ آیت میں انسان کی ناشکری، تنگ ظرفی اور تھڑدلی کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تھوڑی سی نعمت بھی ({” رَحْمَةً “} کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) عطا ہوتی ہے تو وہ اس پر پھول جاتا ہے۔ اس کی چال ڈھال اور ہر حرکت سے اس کی نخوت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس وقت نہ وہ خالق کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس کی مخلوق کو اور نہ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ یہ نعمت دائمی نہیں بلکہ ہر حال میں چھننے والی ہے اور اگر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے کوئی برائی آ پہنچے تو اچانک (فوراً ہی) ناامید ہو جاتا ہے اور ہمت ہار بیٹھتا ہے کہ اب کوئی نہیں جو میری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہو جاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے۔ بہت سے کمزور ایمان والوں کا بھی یہی حال ہے۔ مگر صحیح مومن کا حال اس کے برعکس ہے، اسے عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچتی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۹تا ۱۱) صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ ] [ مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] ”مومن کے ہر حال پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے توصبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔“
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے) یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
37-1یعنی اپنی حکمت و مصلحت سے وہ کسی کو مال و دولت زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ عقل و شعور میں اور ظاہری اسباب و وسائل میں دو انسان ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں ایک جیسا ہی کاروبار بھی شروع کرتے ہیں لیکن ایک کے کاروبار کو خوب فروغ ملتا ہے اور اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں، جب کہ دوسرے شخص کا کاروبار محدود ہی رہتا ہے اور اسے وسعت نصیب نہیں ہوتی۔ آخر یہ کون ہستی ہے جس کے پاس تمام اختیارات ہیں اور وہ اس قسم کے تصرفات فرماتا ہے علاوہ ازیں وہ کبھی دولت فراواں کے مالک کو محتاج کردیتا ہے اور محتاج کو مال ودولت سے نواز دیتا ہے اور یہ سب اسی ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
(آیت 37) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} یعنی خوش حالی پر پھول جانے یا مصیبت پر ناامید ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خوش حالی یا مصیبت کے معاملے کو دائمی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہر روز پیش آنے والے مشاہدے کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ ایک ہی شخص کا رزق کبھی فراخ ہے کبھی تنگ اور ایک ہی وقت میں کسی کا رزق فراخ ہے اور کسی کا تنگ۔ رزق کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور عالم غربت کا شکار ہوتے ہیں اور اَن پڑھوں اور بے وقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت ہے جسے وہی جانتا ہے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مومن نہ خوش حالی کو دائمی یا اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے کہ پھول جائے اور نہ ہی مصیبت کو دائمی سمجھتا ہے کہ نا امید ہو جائے، بلکہ وہ ہر وقت خوف و رجا اور امید و بیم کے درمیان کی حالت میں رہتا ہے۔ جو اسے فخرو غرور سے بھی باز رکھتی ہے اور یاس و نا امیدی سے بھی۔ ➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} یعنی ایک ہی شخص کو کسی وقت غنی اور کسی وقت فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں اور ایک ہی وقت میں کسی کو غنی اور کسی کو فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اس بات میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ کافر ہر لمحے دنیا کے قانون تغیر کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا، نہ سب لوگ ایک حال پر ہیں، رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق پھیلتا اور سکڑتا رہتا ہے، اس کے باوجود وہ اس طرح خوشی پر مغرور اور مصیبت میں ناامید ہوتے ہیں جیسے یہ حالت ہمیشہ ہی رہے گی۔ ان تمام چیزوں میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں۔ کفار نہ ان پر غور کرتے ہیں، نہ انھیں ان سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
پس (اے مومن) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اُس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور انہیں کا کام بنا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) آپ (اپنے) قرابتدار مسکین اور مسافر کو ان کا حق دے دیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو رضائے خدا کے طلبگار ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس قرابت والے کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا چہرہ چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔ مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» ۱؎ [74-المدثر:6] ہے یعنی ’ زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔“ صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ { ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔
38-1جب وسائل رزق تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور وہ جس پر چاہے اس کے دروازے کھول دیتا ہے تو اصحاب ثروت کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے ان کا حق ادا کرتے رہیں جو ان کے مال میں مستحق رشتے داروں، مسکین اور مسافروں کا رکھا گیا ہے۔ رشتہ دار کا حق اس لئے مقدم کیا کہ اس کی فضیلت زیادہ ہے حدیث میں آتا ہے کہ غریب رشتہ دار کے ساتھ احسان کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ علاوہ ازیں اسے حق سے تعبیر کر کے اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ امداد کر کے ان پر احسان نہیں کرو گے بلکہ ایک حق کی ہی ادائیگی کرو گے۔ 38-2یعنی جنت میں اس کے دیدار سے مشرف ہونا۔
(آیت 38) ➊ { فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ:} فاء (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب ثابت ہوگیا کہ رزق کا فراخ ہونا یا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو آدمی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اگر اس کا رزق فراخ ہے تو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوگا اور اگر تنگ ہے تو روک کر رکھنے سے زیادہ نہیں ہو گا، بلکہ صدقے کی برکت سے اس میں اضافہ ہی ہو گا۔ {” حَقَّهٗ “} (اس کا حق) کا مطلب یہ ہے کہ تم قرابت دار، مسکین اور مسافر کو کچھ دے رہے ہو تو یہ اس کا حق ہے، جو تم ادا کر رہے ہو، جس کے ادا نہ کرنے پر اسی طرح باز پرس ہوگی جس طرح کسی قرض خواہ کا قرض ادا نہ کرنے پر باز پرس ہوگی۔ سورۂ توبہ (۶۰) میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں، یہاں ان میں سے صرف تین ذکر فرمائے۔ رازی نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ ان تینوں پر زکوٰۃ کے علاوہ خرچ کرنا بھی حق ہے، مثلاً والدین اور اولاد کا نفقہ ہے، اسی طرح درجہ بدرجہ قرابت داروں کی ضروریات پر خرچ ہے، یہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی واجب رہتا ہے۔ اسی طرح مسکین اور مسافر پر بھی خرچ واجب ہے۔ آدمی زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ ان کے حقوق سے سبک دوش نہیں ہو جاتا۔ مثلاً ایک شخص زکوٰۃ ادا کرچکا ہے، اس کے پاس کوئی مہمان آجاتا ہے یا ایسا مسافر جس کا زاد راہ ختم ہو چکا ہے، یا مسکین آجاتا ہے جس نے کھانا نہیں کھایا یا وہ اپنی مسکینی کی وجہ سے پاؤں سے ننگا ہے تو ان کا حق ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ فقیر کی حالت مسکین سے بھی پتلی ہوتی ہے، اس لیے اس کا الگ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ اس پر خرچ کرنا بالاولیٰ واجب ہے۔ رہے زکوٰۃ کے باقی چار مصارف، یعنی عاملین، مؤلفۃ القلوب، غارمین اور فی سبیل اللہ، تو وہ ایسے مصارف ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد ان پر خرچ اس طرح واجب نہیں جس طرح آیت میں مذکور دیگر لوگوں پر واجب ہے۔ (واللہ اعلم) ➋ { ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ:} عام طور پر اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ اگرچہ {” وَجْهٌ“} کا مطلب رضا ہو سکتا ہے، مگر {” وَجْهٌ“} کا اصل معنی توچہرہ ہے۔ دوسرا معنی اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد نہ لیا جا سکتا ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی مشکل نہیں، بلکہ جو لطف حقیقی معنی مراد لینے میں ہے وہ مجازی معنی مراد لینے میں نہیں، یعنی یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے چہرے کے دیدار کے طلب گار ہیں، کیونکہ اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ اس آیت سے خرچ کرتے وقت نیت اللہ کے لیے خالص ہونے کی اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔ ➌ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ:} معلوم ہوا جو لوگ قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا نہیں کرتے وہ کامل فلاح پانے والے نہیں ہو سکتے۔
جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو انہیں کے دُونے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو چیز (روپیہ) تم اس لئے سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم خوشنودئ خدا کیلئے دیتے ہو ایسے ہی لوگ اپنا مال (کئی گنا) بڑھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰۃ سے دیتے ہو، اللہ کے چہرے کا ارادہ کرتے ہو، تو وہی لوگ کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔ مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» ۱؎ [74-المدثر:6] ہے یعنی ’ زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔“ صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ { ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔
39-1یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت میں ربا سے مراد سود نہیں بلکہ وہ تحفہ اور ہدیہ لیا جو کوئی غریب آدمی کسی مال دار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ربا سے اسی لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا۔ (فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ) 30۔ الروم:39) سے اسی اخروی اجر کی نفی ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا (جو تم عطیہ دو) اس نیت سے کہ واپسی کی صورت میں زیادہ ملے، پس اللہ کے ہاں اس کا ثواب نہیں۔ 39-2زکوٰۃ صدقات سے ایک تو روحانی و معنوی اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی بقیہ مال میں اللہ کی طرف سے برکت ڈال دی جاتی ہے۔ دوسرے قیامت والے دن اس کا اجر وثواب کئی کئی گنا ملے گا، جس طرح حدیث میں ہے کہ حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بڑھ بڑھ کر احد پہاڑ کے برابر ہوجائے گا (صحیح مسلم)
(آیت 39) ➊ { وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَاۡ فِيْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ …:} یعنی سود سے بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جب کہ زکوٰۃ دینے کے ساتھ دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ }» [ البقرۃ: ۲۷۶ ] ”اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلرِّبَا وَ إِنْ كَثُرَ، فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيْرُ إِلٰی قُلٍّ ] [ مسند أحمد: 395/1، ح: ۳۷۵۳، قال المحقق صحیح ] ”سود خواہ بہت ہو انجام اس کا یقینا قلت ہی ہو گا۔“ یہ سورت مکی ہے، مکہ میں ابھی سود حرام نہیں ہوا تھا، مگر کفارِ مکہ بری طرح سودی کاروبار میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کی طرح سود کو بھی تدریجاً حرام کیا۔ اس آیت میں صرف اس کی مذمت بیان فرمائی، اس کے بعد مدینہ میں سورۂ آل عمران (۱۳۰) میں سود در سود کو اور سورۂ بقرہ (۲۷۵ تا ۲۸۱) میں ہر طرح کے سود کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ ➋ بعض اہلِ علم نے اس آیت میں مذکور حقیقت کی مثال بیان فرمائی: ”یعنی سود (بیاج) سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے۔ جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے، وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہو گا، فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے۔ جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تَنقِیَہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو، سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔“ ➌ { وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ …:} جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً }» [ البقرۃ: ۲۴۵ ] ”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے۔“ (مزید دیکھیے بقرہ: ۲۶۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلَّا أَخَذَهَا اللّٰهُ بِيَمِيْنِهِ فَيُرَبِّيْهَا كَمَا يُرَبِّيْ أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوْصَهُ حَتّٰی تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ ] [مسلم، الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتھا: ۶۴ /۱۰۱۴ ] ”کوئی شخص پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی کرتا ہے تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے مالک کے لیے اس کو پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچے کو یا اونٹنی کے بچے کو پالتا بڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے یا اس سے بھی بڑی۔“ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۶)۔ ➍ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی گئی ہے، ابن کثیر فرماتے ہیں: ”یعنی جو شخص کوئی ہدیہ دے جس سے اس کا ارادہ یہ ہو کہ لوگ اسے اس کے ہدیے سے زیادہ دیں گے تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی ثواب نہیں۔“ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ کام مباح (جائز) ہے، اگرچہ اس میں ثواب نہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے اور انھوں نے اللہ کے اس فرمان سے دلیل پکڑی ہے: «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ }» [ المدثر: ۶ ] ”اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ لے۔“ یعنی کوئی عطیہ نہ دے جس سے تو زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول کے متعلق ابن کثیر کے محقق نے فرمایا: ”اسے طبری نے بیان کیا ہے، سند اس کی ضعیف ہے۔“ حافظ ابن کثیر نے اسی مفہوم کا ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک اور قول نقل فرمایا ہے کہ ”ربا“ دو طرح کا ہے، ایک ربا جو صحیح نہیں، یعنی بیع میں ربا اور ایک ربا جس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ہدیہ دے، جس سے زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو، پھر یہ آیت پڑھی۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”سیوطی نے ”در منثور“ میں اسے ابن ابی حاتم کی طرف منسوب کیا ہے، جس میں آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔“ لیکن میں نے ابن ابی حاتم میں اسے تلاش کیا تو اس میں ہے کہ مخطوطہ سے سورۂ روم کا حصہ ساقط ہے۔ [ وَ اللّٰہُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ ] جمال الدین قاسمی فرماتے ہیں: ”اس تفسیر میں کئی لحاظ سے نظر ہے، پہلی یہ کہ یہ آیت سورۂ بقرہ کی آیت (۲۷۶): «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ }» کے مشابہ ہے، جو بیع میں سود کے بارے میں ہے، جو اہلِ مکہ میں اس بری طرح پھیلا ہوا تھا کہ ان کا مزاج بن چکا تھا، جس کے ساتھ وہ تنگ دستوں کا مال اس برے طریقے سے چوس رہے تھے جس کا رحم، نرم دلی اور انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حال کی مذمت فرمائی، تاکہ وہ توبہ کر کے پاک ہوجائیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ربا کا حقیقی معنی سود ہی ہے، جسے سب لوگ جانتے ہیں۔ اس حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لینے کے لیے شرع یا عقل کی کوئی دلیل ہونی چاہیے جو یہاں موجود نہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ آیت سے ہبہ و الا معنی مراد لے کر پھر ایسے ہبہ کو مباح قرار دینا محل نظر ہے، کیونکہ آیت کا اسلوب تو اس سے ڈرانے کا اور اس سے بچنے کی ترغیب کا ہے، جو اسے ناجائز چیزوں میں شامل کر رہا ہے اور انداز بیان کی دلالت بہت قوی دلالت ہوتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ کہ سورۂ مدثر کی آیت (۶): «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ }» (اور اس نیت سے احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے) کی رو سے یہ دعویٰ کہ ایسا ہبہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام تھا، محلِ نظر ہے۔ کیونکہ اگرچہ لفظوں میں خطاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر حکم عام ہے۔ سورۂ مدثر کے شروع سے دیکھ لیجیے: «{ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ (2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ }» یہ تمام احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ اس آیت کی پہلی تفسیر ہی قابل اعتماد ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زنده کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اللہ ہی ہے جس نے (پہلے) تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہیں رزق دیا۔ پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ اللہ پاک ہے اور بلند و بالا ہے ان کے شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تمھیں رزق دیا، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔ مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» ۱؎ [74-المدثر:6] ہے یعنی ’ زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔“ صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ { ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ …:} یہاں سے کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے پھر سلسلۂ کلام توحید اور آخرت کی طرف پھر گیا ہے۔ ➋ { هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ:} کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو اس میں سے کچھ بھی کر سکے؟ ظاہر ہے کہ نہیں کر سکتے تو پھر انھیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ؟
خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں۔
احمد رضا خان بریلوی
چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
لوگوں کے ہاتھوں کی کارستانیوں کی وجہ سے خشکی و تری (ساری دنیا) میں فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں۔
عبدالسلام بن محمد
خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہو جاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ «بَحْرِ» سے مراد جزیرے اور «بَرِّ» سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کر دیا }۔ ۱؎ [طبقات ابن سعد:220/1:] پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ { زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن] ۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کی شکست، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف مطابق شرع بڑھے گا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ { اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:6512]
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ ”زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کھجور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔“ ۱؎ [مسند احمد:296/2:ضعیف] سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”فساد سے شرک ہے“ لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168] ’ ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں ‘۔ ’ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو ‘۔
41-1خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ وبالا ہوجاتا ہے اور ان کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو۔ اس لیے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل و خونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی و سماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنالیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال و کردار کا رخ برائیوں کی جانب پھرجاتا ہے اور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن و سکون ختم اور اس کی جگہ خوف و دہشت، سلب و نہب اور قتل و غارت گری عام ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی و سماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں توبہ کرلیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے خیر برکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ زمین میں اللہ کی ایک حد کو قائم کرنا وہاں کے انسانوں کے لیے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار آدمی فوت ہوجاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔
(آیت 41) ➊ { ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …:} خشکی سے مراد زمین کے میدان، پہاڑ اور صحرا وغیرہ ہیں اور سمندر سے مراد سمندری جزیرے، ساحلوں پر آباد شہر اور بستیاں اور سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز اور کشتیاں ہیں۔ فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور مصیبت ہے، چاہے وہ جنگ و جدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط، بیماری، فصلوں کی تباہی، بدحالی، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی صورت میں ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بحر و بر میں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں۔ جب سے لوگوں نے توحید اور دین فطرت کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس وقت سے یہ ظلم و فساد بھی بڑھ گیا ہے۔ شرک جیسے قولی اور اعتقادی ہوتا ہے اسی طرح شرک عملی بھی ہے، جو فسق و فجور اور معاصی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس بات کی تعیین کہ آیت میں {” بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ “} (جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا) سے مراد شرک ہے، اگلی آیت کے ساتھ ہوتی ہے، فرمایا: «{ قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِيْنَ }» [ الروم: ۴۲ ] ”کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔“ ان اقوام کی دوسری خرابیاں، جن کا قرآن نے ذکر فرمایا ہے اور جن کی وجہ سے ان پر عذاب آیا، ان کا اصل بھی شرک تھا، اگر وہ ایک اللہ پر ایمان لاتے تو ہر گز ایسے گناہوں کے اجتماعی طور پر مرتکب نہ ہوتے۔ ➋ اس کے برعکس جس معاشرے کی بنیاد اللہ کی توحید اور اس کے احکام و حدود کی اقامت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۵، ۶۶) اور اعراف (۹۶)۔ ➌ { لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا …:} پوری سزا تو آخرت میں ملے گی، مگر یہ تھوڑے سے عذاب کا نمونہ ہے، تاکہ لوگ شرک اور نافرمانی چھوڑ کر توحید اور فرماں برداری کی راہ اختیار کر لیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۲۱) اور توبہ (۱۲۶)۔
(اے نبیؐ) اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! کہ زمین میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو کہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہو جاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ «بَحْرِ» سے مراد جزیرے اور «بَرِّ» سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کر دیا }۔ ۱؎ [طبقات ابن سعد:220/1:] پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ { زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن] ۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کی شکست، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف مطابق شرع بڑھے گا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ { اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:6512]
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ ”زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کھجور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔“ ۱؎ [مسند احمد:296/2:ضعیف] سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”فساد سے شرک ہے“ لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168] ’ ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں ‘۔ ’ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو ‘۔
42-1شرک کا خاص طور پر ذکر کیا، کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ علاوہ ازیں اس میں دیگر برائیوں سیأت و معاصی بھی آجاتی ہے کیونکہ ان کا ارتکاب بھی انسان اپنے نفس کی بندگی ہی اختیار کر کے کرتا ہے اسی لئے اسے بعض لوگ عملی شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔
(آیت 42) {قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یعنی قومِ نوح، عاد و ثمود، قومِ شعیب و قومِ لوط، فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ۔ پچھلی جن قوموں پر تباہی آئی اسی شرک کی بدولت آئی، جس سے بچنے کی تمھیں تلقین کی جا رہی ہے۔
پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں اس دن الگ پھٹ جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) آپ اپنا رخ دینِ مستقیم کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس کیلئے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہ ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو اپنا چہرہ سیدھے دین کی طرف سیدھا کر لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن وہ جدا جدا ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
43-1یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرلیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔ 43-2یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔
(آیت 43) ➊ {فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ:} یعنی جب بر و بحر میں شرک کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تو اے مخاطب! تو اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا کر لے جو بالکل سیدھا اور فطرتِ توحید پر قائم ہے۔ ➋ {مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ: ” مَرَدَّ “ ”رَدَّ يَرُدُّ“} سے مصدر میمی ہے، ہٹانا، پھیر دینا۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے دین قیم کی طرف اپنا رخ سیدھا کر لے جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ نے طے کر دیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں، پھر کوئی اور اسے کس طرح ٹال سکتا ہے؟ ➌ {يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ: ” يَصَّدَّعُوْنَ “} اصل میں {”يَتَصَدَّعُوْنَ“} ہے ”پھٹ جائیں گے“ یعنی قیامت کے دن مسلم و کافر اس طرح یک لخت جدا جدا ہو جائیں گے جیسے کوئی چیز پھٹ کر الگ الگ ہو جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی کافر مسلمانوں میں یا کوئی مسلمان کافروں میں شامل رہ جائے، فرمایا: «{ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ }» [ الشورٰی: ۷ ] ”ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے وہ اپنے ہی لیے فلاح کا راستہ صاف کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہوگا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاه سنوار رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو کفر کرے اس کے کفر کا وبال اسی پر اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی لیے تیاری کررہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے کفر کیا۔ پس اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ اپنے ہی لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو کفر کرے سو اس کا کفر اسی پر ہے اور جو کوئی نیک عمل کرے سو وہ اپنے ہی لیے سامان تیار کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
44-1مَھْد کے معنی راستہ ہموار کرنا، فرش بچھانا، یعنی یہ عمل صالح کے ذریعے سے جنت میں جانے اور وہاں اعلٰی منازل حاصل کرنے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
(آیت 44) {مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ …:} اس میں جدا جدا ہونے والے دونوں فریقوں کا حال بیان فرمایا کہ جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہو گا اور جو نیک عمل کریں گے وہ اپنے ہی لیے آرام کی جگہ تیار کر رہے ہیں، یا سامان تیار کر رہے ہیں قبر میں، جنت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ {” كَفَرَ “} کے ساتھ دوسرے برے اعمال کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ کفر کے بعد کسی عمل کا اعتبار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا }» [ الفرقان: ۲۳ ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔“ اور کفر کے مقابلے میں ایمان کے بجائے عمل صالح فرمایا، کیونکہ ایمان بھی عمل صالح میں شامل ہے اور اس لیے کہ عمل صالح کی اہمیت واضح ہو جائے۔
تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کیے وه کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو جزاء (خیر) دے۔ بے شک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اپنے فضل سے جزا دے۔ بے شک وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
45-1یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لئے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔
(آیت 45) ➊ { لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} اس میں قیامت کے دن لوگوں کے جدا جدا ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ بقاعی نے فرمایا: ”یہاں دو جملوں میں سے ہر ایک کا ایک حصہ حذف کر دیا اور ایک بیان کر دیا ہے، جس سے حذف شدہ حصہ خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔“ گویا مفصل کلام یوں ہو گا: {”لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ بِعَدْلِهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِيْنَ“} ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے فضل سے جزا دے، کیونکہ وہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے اور تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اور برے اعمال کیے اپنے عدل کے ساتھ بدلا دے، کیونکہ وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔“ پہلے جملے میں سے {”إِنَّهُ يُحِبُّ الْمُؤْمِنِيْنَ“} حذف کر دیا اور دوسرے میں سے {”لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ بِعَدْلِهِ“} حذف کر دیا۔ اسے احتباک کہتے ہیں اور لمبی بات کو اس طرح مختصر کرنا قرآن کے بیان کا ایک حسن ہے۔ ➋ { مِنْ فَضْلِهٖ:} یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض فضل یعنی اصل بدلے سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اگر انسان نے اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرماں بردار بن کر رہا تو اس سے تو اس کے پہلے احسانات کا بدلا ہی پورا نہیں ہوتا، اس توفیق کا بدلا کس طرح ہوگا جس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا!؟ اس لیے بندوں کو جو اجر بھی ملے گا وہ ان کے اعمال سے زائد انعام ہی ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ] ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: [ وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ ] ”اور کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳ ] ”نہیں، مجھے بھی نہیں، اِلاّ یہ کہ اللہ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے اور اس غرض کے لیے کہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے، اور اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں، اور اس لئے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو، اور اس لئے کہ تم شکر گزاری کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو اور اس لیے کہ تم حق مانو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو (بارش کی) بشارت دینے کیلئے بھیجتا ہے اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے (تمہاری) کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہوائوں کو خوش خبری دینے والیاں بنا کر بھیجتا ہے اور تاکہ تمھیں اپنی کچھ رحمت چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ ٭٭
بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد رہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ ’ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو ‘۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی ‘۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54] ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» } ۱؎ [30-الروم:47] ۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،]
46-1یعنی یہ ہوائیں بارش کی پیامبر ہوتی ہیں۔ 46-2یعنی بارش سے انسان بھی لذت و سرور محسوس کرتا ہے اور فصلیں بھی لہلا اٹھتی ہیں۔ 46-3یعنی ان ہواؤں کے ذریعے سے کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ مراد بادبانی کشتیاں ہیں اب انسان نے اللہ کی دی ہوئی دماغی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے دوسری کشتیاں اور جہاز ایجاد کرلیے ہیں جو مشینوں کے ذریعے سے چلتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے بھی موافق اور مناسب ہوائیں ضروری ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ انھیں بھی طوفانی موجوں کے ذریعے سے غرق آب کردینے پر قادر ہے۔ 46-4یعنی ان کے ذریعے سے مختلف ممالک میں جاکر تجارت و کاروبار کرکے۔ 46-5یعنی ظاہری و باطنی نعمتوں پر جن کا کوئی شمار ہی نہیں۔ یعنی یہ ساری سہولتیں اللہ تعالیٰ تمہیں اس لئے بہم پہنچاتا ہے کہ تم اپنی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کی بندگی و اطاعت بھی کرو!
(آیت 46) {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ …:} بروبحر میں فساد کا باعث شرک بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے طور پر چند چیزیں ذکر فرمائیں جن کا سب لوگ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں بھی {”إِرْسَالُ الرِّيَاحِ“} کے الفاظ مذکور ہوں ({رِيْحٌ} کی جمع کے صیغے کے ساتھ) ان سے مراد خوش گوار ہوائیں ہوتی ہیں۔ اس آیت میں دو قسم کی خوش گوار ہواؤں کا اور ان کے فوائد کا ذکر فرمایا، ایک رحمت کی بارش کی خوش خبری دینے والی، جس سے گردوغبار اور فضا میں پھیلی ہوئی زہر ناکی ختم ہوتی ہے، مردہ زمین سیراب ہوتی ہے، طرح طرح کی فصلیں، پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں اور تمام جان داروں کی بنیادی ضرورت پانی مہیا ہوتا ہے۔ غرض بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری وہ موافق ہوائیں جو کشتیوں اور جہازوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پہلے زمانے میں تو رواج ہی بادبانی کشتیوں کا تھا، جن کے چلنے کا زیادہ تر انحصار موافق ہواؤں پر ہوتا تھا۔ آج کل انجن سے چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کا دور ہے، پھر بھی موافق اور مخالف ہواؤں کا ان کشتیوں اور جہازوں پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ فرمایا، یہ کشتیاں جو موافق ہواؤں کے سہارے چلتی ہیں ان کے ذریعے سے تم اللہ کا فضل تلاش کرتے ہو کہ وہ طلبِ علم، تجارت اور دوسری ضروریات کے لیے سفر کا آسان اور سستا ذریعہ بنتی ہیں۔ پھر تم انھی کشتیوں پر اپنا ہزاروں لاکھوں من تجارتی سامان لے جا کر خوب نفع کماتے ہو اور انھی جہازوں پر ملکوں کو فتح کرتے ہو۔ ایک علاقے میں پیدا ہونے والی چیزیں صرف وہاں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہواؤں کے بھیجنے میں یہ تمام فوائد بھی ہیں اور یہ بھی کہ تم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی وحدانیت مان کر اس اکیلے کی عبادت کرو۔
اور ہم نے تم سے پہلے رسُولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، پھر جنہوں نے جرم کیا اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان کے پاس دلیلیں ﻻئے۔ پھر ہم نے گناه گاروں سے انتقام لیا۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا ﻻزم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے جو ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں (معجزات) لے کر آئے۔ پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا اور ہم پر اہلِ ایمان کی مدد کرنا لازم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے، پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ ٭٭
بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد رہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ ’ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو ‘۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی ‘۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54] ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» } ۱؎ [30-الروم:47] ۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،]
47-1یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر آپ کی قوم کی طرف بھیجا اسی طرح آپ سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے، ان کے ساتھ دلائل اور معجزات بھی تھے، لیکن قوموں نے ان کی تکذیب کی، ان پر ایمان نہیں لائے بالآخر ان کے اس جرم تکذیب اور ارتکاب معصیت پر ہم نے انھیں اپنی سزا کا نشانہ بنایا اور اہل ایمان کی تائید و نصرت کی جو ہم پر لازم ہے یہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار و مشرکین کی روش تکذیب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ نیز کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو گذشتہ قوموں کا ہوچکا ہے۔ کیونکہ اللہ کی مدد تو بالآخر مومنوں ہی کو حاصل ہوگی، جس میں پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے سب شامل ہیں۔ حقا کان کی خبر ہے جو مقدم ہے نصر المومنین اس کا اسم ہے۔
(آیت 47) {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا …:} اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت برپا ہونے کے دلائل سن کر بھی کفار ایمان نہ لائے اور اپنی ضد ہی پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ پہلے شخص نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے جو اپنی اقوام کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، جو وحی الٰہی کی آیات بھی تھیں اور پیغمبر کو ملنے والے معجزے بھی، مگر کفار اپنے جرائم پر اڑے رہے تو ہم نے ان مجرموں سے انتقام لیا اور مومنوں کی نصرت فرمائی اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ سے لازم رہا ہے۔ (كَانَ استمرار کے لیے ہے) {” الْمُؤْمِنِيْنَ “} میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور تمام مومنین شامل ہیں۔
اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اِن بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل سے ٹپکے چلے آتے ہیں یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں، اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وه خوش خوش ہو جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے تو تُو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں۔ پھر اللہ جس طرح چاہتا ہے اسے آسمان پر پھیلا دیتا ہے اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلنے لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے بندوں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ تو بس وہ خوش ہو جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں، پھر وہ اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے اور وہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ پس تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے، پھر جب وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برسا دیتا ہے تو اچانک وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے ‘۔ تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» ۱؎ [7-الاعراف:57] ، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ‘۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔
پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:63] سے «بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:67] تک۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ’ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ‘۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا } }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ۱؎ ( [ضعیف] :اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)
48-1یعنی بادل جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں سے ہوائیں ان کو اٹھا کرلے جاتی ہیں۔ 48-2کبھی چلا کر کبھی ٹھہرا کر، کبھی تہ بہ تہ کرکے، کبھی دور دراز تک۔ یہ آسمانوں پر بادلوں کی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔ 48-3یعنی ان کو آسمان پر پھیلانے کے بعد کبھی ان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ 48-4یعنی ان بادلوں سے اللہ اگر چاہتا ہے تو بارش ہوجاتی ہے جس سے بارش کے ضرورت مند خوش ہوجاتے ہیں
(آیت 48) {اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا …:} عبدالرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں ذکر فرما دیں، مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر سکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے، مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتی ہے۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا (کہ لازماً فلاں جانب ہی چلیں گی) بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرف خود چاہے اسی طرف ہی موڑ دیتا ہے۔ اس لیے جہاں چاہتا ہے وہیں بارش ہوتی ہے، دوسرے علاقے میں نہیں ہوتی (اور جتنی چاہتا ہے ہوتی ہے، زیادہ نہیں ہوتی)۔ تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے میں پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کر سکیں تو وہاں بھی بادلوں کا سارا پانی یک لخت پانی بن کر زمین پر نہیں گرپڑتا بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گرتا ہے، حتیٰ کہ اگر ٹھنڈک زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اولے بن کر گرتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ سردی کی وجہ سے سارا پانی برف بن کر یک لخت گر پڑے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ بارش سے پہلے زمین کا یہ حال تھا کہ دھول اڑتی پھرتی تھی، درختوں کے پتوں پر گرد و غبار پڑا تھا۔ بارش ہوتی ہے تو درخت دھل جاتے ہیں اور زمین لہلہانے لگتی ہے، گویا اسے نئی زندگی مل گئی، پھر کئی قسم کے جان دار بھی بارش میں پیدا ہو کر بولنے اور چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ ایک بہار آ جاتی ہے جس سے دل مسرور ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی تمام مخلوق کی روزی کا سامان بھی میسر آنے لگتا ہے اور انسان جو برسات سے بیشتر مایوسی کا شکار ہو رہا تھا پھر سے خوش ہوکر پھولنے اور اِترانے لگتا ہے۔“
تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین ماننا کہ بارش ان پر برسنے سے پہلے پہلے تو وه ناامید ہو رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اگرچہ اس کے اتارنے سے پہلے آس توڑے ہوئے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگرچہ وہ اس کے برسنے سے پہلے بالکل مایوس ہو رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ بے شک وہ اس سے پہلے کہ ان پر برسائی جائے، اس سے پہلے یقینا ناامید تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے ‘۔ تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» ۱؎ [7-الاعراف:57] ، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ‘۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔
پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:63] سے «بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:67] تک۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ’ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ‘۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا } }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ۱؎ ( [ضعیف] :اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) {وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ …:} واؤ حالیہ ہے اور {” وَ اِنْ كَانُوْا “} اصل میں {”إِنَّهُمْ كَانُوْا“} ہے۔{” لَمُبْلِسِيْنَ “} پر آنے والے لام کی وجہ سے {”إِنَّ“} کو {” اِنْ “} سے بدل دیا اور{”هُمْ“} کو حذف کر دیا۔{” مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ “} کے بعد {” مِنْ قَبْلِهٖ “} دوبارہ لانے کا مطلب تاکید ہے، یعنی وہ بارش اترنے سے پہلے، اس کے عین پہلے تک بالکل ناامید تھے۔ اس میں لمبی ناامیدی کا نہایت تیزی کے ساتھ فوری خوشی میں بدلنے کا بیان ہے، یعنی وہ بالکل ناامید تھے، بارش اترتے ہی خوشیاں منانے لگے۔ اس سے اللہ کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں دنیا کی حالت بدل جاتی ہے، کچھ دیر پہلے سب کے چہرے اُترے ہوئے تھے اور اب بارش کے بعد ہر طرف خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اٹھاتا ہے، یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ رحمت الٰہی کے آﺛار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زنده کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زنده کرنے واﻻ ہے، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ (بنجر) ہو جانے کے بعد کس طرح زندہ (سرسبز و شاداب) کرتا ہے۔ بے شک وہی مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سو اللہ کی رحمت کے نشانات کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بے شک وہی یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے ‘۔ تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» ۱؎ [7-الاعراف:57] ، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ‘۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔
پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:63] سے «بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» ۱؎ [56-الواقعة:67] تک۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ’ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ‘۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا } }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ۱؎ ( [ضعیف] :اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)
50-1آثار رحمت سے مراد غلہ جات اور میوے ہیں جو بارش سے پیدا ہوتے اور خوش حالی و فراغت کا باعث ہوتے ہیں۔ دیکھنے سے مراد نظر عبرت سے دیکھنا ہے تاکہ انسان اللہ کی قدرت کا اور اس بات کا قائل جائے کہ قیامت والے دن اسی طرح مردوں کو زندہ فرما دے گا۔
(آیت 50) ➊ {فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کر دینے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ ➋ { وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} یعنی وہ صرف مُردوں ہی کو زندہ کرنے والا نہیں بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ مُردوں کو زندہ کرنا تو اس کی قدرت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے، جس کا نمونہ تم بارش کے بعد زمین کے زندہ ہونے کی صورت میں دیکھتے ہو۔