بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 23
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غور سے) سُنتے ہیں
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
اور اس کی نشانیوں میں ہے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا ہے اور (دن میں) اس کے فضل (روزی) کا تلاش کرنا بھی بے شک اس میں (غور سے) سننے والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے تمھارا دن اور رات میں سونا اور تمھارا اس کے فضل سے (حصہ) تلاش کرنا ہے۔بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭

رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» } میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

23-1نیند کا باعث سکون و راحت ہونا چاہیے وہ رات کو ہو یا بوقت قیلولہ، اور دن کو تجارت و کاروبار کے ذریعہ سے اللہ کا فضل تلاش کرنا، یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے کمالِ قدرت اوراس کے تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی تمھارا رات اور دن میں سونا ہے۔ جس کے ساتھ بے اختیار تمھاری ہر سرگرمی ختم اور تمھارے حواس ظاہری کے تمام اعمال بند ہو جاتے ہیں اور تمھیں اپنے گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ اس سے پہلے کام کاج اور حرکت و محنت کی وجہ سے تمھارے جسم میں جو ٹوٹ پھوٹ اور تھکاوٹ ہوئی تھی، نیند عطا کرنے والا مالک نیند کے دوران جسم کی مرمت کر کے اور تھکاوٹ دور کر کے دوبارہ کام کاج کے قابل بنا کر تمھیں پھر بیدار کر دیتا ہے۔ جس طرح نیند اس کی نشانی ہے، بیداری اور رات دن میں اس کے فضل کی تلاش بھی اس کی نشانی ہے۔ دونوں اسی کی تخلیق ہیں، کسی کا ان میں ذرّہ بھر دخل نہیں، بلکہ مخلوق تو ان کی حقیقت ہی سے نا آشنا ہے کہ نیند کیا چیز ہے، کیسے آتی ہے اور کیسے ختم ہو جاتی ہے!؟ پھر دن رات کئی دفعہ سونے اور جاگنے کا یہ عمل باربار موت و حیات کا عملی نمونہ ہے۔ پھر بھی تمھیں اصرار ہے کہ ہر روز کئی بار موت و حیات کے مراحل سے گزارنے والا مالک تمھارے اعمال کے محاسبے اور جزا و سزا کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ نہیں کر سکے گا۔ ➋ نیند کی حقیقت اس سے زیادہ کسی کو معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ }» [ الزمر: ۴۲ ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند موت ہے اور بیداری حیات اور دونوں کی حقیقت روح کے آنے جانے کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ اور روح کیا ہے؟ اس کے متعلق فرمایا: «{ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۸۵ ] ”اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔“ ➌ روس میں کمیونزم کے عروج کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ کی منکر، مادہ پرست اور دنیا کی ظالم ترین جماعت کمیونسٹ پارٹی مزدوروں سے کھیتوں اور کارخانوں میں زیادہ سے زیادہ کام لینے کی نئی سے نئی صورت سوچتی رہتی تھی، اس وقت پارٹی کے راہ نماؤں نے سوچا کہ مزدور بہت سا وقت سو کر ضائع کر دیتے ہیں، چنانچہ انھوں نے سائنس دانوں کے ذمے لگایا کہ وہ تحقیق کریں کہ ان کا نیند میں صرف ہونے والا وقت زیادہ سے زیادہ کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ کئی سالوں کی تحقیق کے بعد اس کانتیجہ جو انھوں نے بیان کیا وہ یہ تھا کہ انسان کے لیے نیند بہت ضروری ہے، کیونکہ اس کے دوران اس کے ٹوٹے پھوٹے خلیات دوبارہ بنتے ہیں اور وہ دوبارہ کام کاج کے قابل ہو جاتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تعمیر و مرمت اور تازگی کا یہ عمل نیند کے دوران صرف ایک لمحے میں پورا ہوجاتا ہے، مگر وہ لمحہ بعض اوقات نیند کی ابتدا میں آتا ہے، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی سے لمبی نیند میں بھی وہ لمحہ نہیں آتا اور انسان بیدار ہوتا ہے تو اسی طرح تھکا ماندہ اور ٹوٹا پھوٹا ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ لمحہ آجانے کی وجہ سے نیند کی ایک جھپکی کے ساتھ ہی اس کی ساری تھکن کافور ہو جاتی ہے۔ ان سائنس دانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انسان اس لمحے کو اپنی گرفت میں لانے سے عاجز ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نشانی کے صرف ایک معمولی سے حصے کا اعتراف ہے، جسے اس نے {” وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ “} کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ ➍ عام طور پر قرآن مجید میں رات کو نیند اور آرام کے لیے اور دن کو تلاش معاش کے لیے قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا }» [ النمل: ۸۶ ] ”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔“ اور فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا (10) وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا }» [ النبا: ۱۰، ۱۱ ] ”اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔ اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔“ (مزید دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۲) یہ عام معمول کا بیان ہے، مگر انسان رات کے علاوہ دن کو بھی سو جاتا ہے اور تلاش معاش دن کے علاوہ رات کو بھی کر لیتا ہے، اس لیے اس آیت میں رات اور دن دونوں میں نیند کو اور اللہ کے فضل کی تلاش کو اپنی نشانیوں میں سے نشانی قرار دیا۔ ➎ {وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:} اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رزق، جو تم تلاش کرتے ہو، وہ تمھاری محنت کانتیجہ نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ورنہ کوئی محنت مشقت کرنے والا فقیر نہ رہے اور محنت مشقت نہ کرنے والا کوئی شخص غنی نہ ہو۔ ➏ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ:} یعنی نیند اور بیداری کی نشانی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور مرنے کے بعد زندگی پر کافی استدلال صرف تجربے سے یا عقل سے یا غور و فکر سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ان چیزوں سے ہے جن کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول انھیں بیان کرے اور سننے والے انھیں سن کر دل میں جگہ دیں۔ اس لیے فرمایا کہ اس ایک نشانی میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کی بات سنتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا، سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔“ (موضح) یہ {” يَسْمَعُوْنَ “} کا لفظ اختیار کرنے کا ایک اور نکتہ ہے۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →