بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 33
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّہُمۡ مُّنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَہُمۡ مِّنۡہُ رَحۡمَۃً اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) ➊ {وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ:} اس آیت میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت توحید ہے کہ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، جو ڈر کے وقت کھل جاتی ہے (یعنی مصیبت پیش آنے پر ظاہر ہو جاتی ہے)۔“ ➋ { ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً …:} ”پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے“ مثلاً بیماری سے شفا یا طوفان سے نجات یا بدحالی کے بعد خوش حالی اور دولت مندی وغیرہ، جو خالص اس کی طرف سے ہوتی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل یا اختیار نہیں ہوتا، تو اچانک وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا رہے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دوسرے معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانے کے صدقے سے ٹلی ہے۔ ”اچانک“ کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف دور ہوتے ہی فوراً ناشکری اور شرک کرنے لگتے ہیں۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →