بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 15
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمۡ فِیۡ رَوۡضَۃٍ یُّحۡبَرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے
جو ایمان ﻻکر نیک اعمال کرتے رہے وه تو جنت میں خوش وخرم کر دیئے جائیں گے
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی
پس وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کئے تھے وہ باغ (بہشت) میں خوش و خرم اور محترم ہوں گے۔
پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ عالی شان باغ میں خوش و خرم رکھے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔

📖 احسن البیان

15-1یعنی انھیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مذید خوش ہونگے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) {فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” رَوْضَةٍ “} میں تنوین تعظیم اور تفخیم کے لیے ہے، عظیم اور عالی شان باغ، مراد جنت ہے۔ {” يُحْبَرُوْنَ”حَبَرَهُ يَحْبُرُهُ“} جب کسی کو ایسا خوش کیا جائے کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھے اور {”تَحْبِيْرٌ“} مزین کرنا، چمکا دینا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ عظیم اور عالی شان باغ یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے، انھیں کھانے پینے، رہنے اور دوستوں، بیویوں اور دل میں آنے والی ہر خواہش پوری ہونے کی خوشی عطا کی جائے گی اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی خوشی نصیب ہو گی، جس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہو گی۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →