بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 14
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوۡنَ ﴿۱۴﴾
جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (مؤمن و کافر) الگ الگ ہو جائیں گے۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ الگ الگ ہو جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔

📖 احسن البیان

14-1اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہوجائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہوگا۔ چناچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جارہی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) {وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ:} دنیا میں مومن و کافر اور موحد و مشرک اکٹھے رہ رہے ہیں، ان کے درمیان وطن، نسب، کاروبار، پیشے اور دوستی وغیرہ کے تعلقات بھی ہوتے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کے درمیان ایسی جدائی واقع ہو جائے گی کہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے، چنانچہ کہا جائے گا: «{ وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ}» [ یٰس: ۵۹ ] ”اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!“ اور تمام اہل محشر دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، فرمایا: «{ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ }» [الشورٰی: ۷ ] ”ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →