بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 13
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ مِّنۡ شُرَکَآئِہِمۡ شُفَعٰٓؤُا وَ کَانُوۡا بِشُرَکَآئِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾
ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے
اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے
اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،
اور ان کے بنائے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ بھی اپنے شریکوں سے انکار کر جائیں گے۔
اور ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارش کرنے والے نہیں ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہو جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔

📖 احسن البیان

13-1شریکوں سے مراد معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔13-2یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہوجائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ تو کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کردیں گے کہ یہ لوگ انھیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بیخبر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) ➊ { وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىِٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا:} یعنی مشرکین نے جن ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گی، کیونکہ اس دن نہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر سفارش کر سکے گا اور نہ کسی ایسے شخص کے حق میں سفارش ہو سکے گی جس کے لیے شفاعت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن نہ ہو۔ دیکھیے آیت الکرسی اور سورۂ طٰہٰ (۱۰۹)۔ ➋ { وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ كٰفِرِيْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷) اور سورۂ انعام (۲۲، ۲۳)۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →