بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 12
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زده ره جائیں گے
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی
اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اس دن) مجرم مایوس اور بےآس ہو جائیں گے۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم ناامید ہو جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔

📖 احسن البیان

12-1ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کرسکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مبلس وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے کوئی دلیل نہ سوجھ رہی ہو قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا، یعنی کہ عذاب کے بعد وہ ہر خبر سے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرکین ہیں جیسے کہ اگلی آیت میں واضح ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 12) {وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ: ”أَبْلَسَ الرَّجُلُ“} جب کوئی آدمی لاجواب ہو کر خاموش ہو جائے اور اسے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے، مراد نا امید ہونا ہے۔ یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ نجات سے ناامید ہو جائیں گے، کیونکہ ان کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے گا اور انھیں اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی بات نہیں ملے گی۔ مجرموں سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، گناہ گار مسلمان مراد نہیں ہیں۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →