بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 16
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآیِٔ الۡاٰخِرَۃِ فَاُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے
اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے) جائیں گے
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کی حضوری کو جھٹلایا وہ (ہر وقت) عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔
اور رہ گئے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔ وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔ پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔

📖 احسن البیان

16-1یعنی ہمیشہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں رہیں گے

📖 القرآن الکریم

(آیت 16){ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا …:} عذاب میں حاضر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے، مگر فرشتے انھیں مارتے پیٹتے، باندھتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لا حاضر کریں گے اور پھر وہ ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے، کبھی نکل نہیں سکیں گے۔
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →