بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 17
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ حِیۡنَ تُمۡسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو
پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو
تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو
پس تم جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ کی تسبیح کرو (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔
پس اللہ کی تسبیح کرو، جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭

اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] ‏‏‏‏ اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ‏‏‏‏ ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] ‏‏‏‏ وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (‏‏‏‏وفادار)‏‏‏‏‏‏‏‏ کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] ‏‏‏‏ سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:18] ‏‏‏‏ تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْ‌ضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَ‌جْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْ‌نَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34] ‏‏‏‏۔ ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ‏‏‏‏ ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) ➊ { فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ: ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“} فعل محذوف {”سَبِّحُوْا“} کا مفعول مطلق ہے۔ ”پس تم اللہ کی تسبیح کرو“میں ”پس“ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم جان چکے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کا حال کیا ہوگا اور اللہ کی آیات کا انکار اور ان تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہو گا، تو تم پر لازم ہے کہ جنت کے عالی شان باغوں میں جانے کے لیے اور عذابِ الٰہی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ اسے ہر شریک، ہر عیب اور ہر کمزوری سے پاک مانو۔ مشرکین و کفار اللہ کے شریک بنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو قیامت قائم کرنے سے عاجز قرار دے رہے ہیں، تم ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا اعلان کرو اور اس کی تسبیح کرو۔ ➋ {حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ …:} زبان اور عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے اظہار اور اعلان کی بہترین اور جامع صورت نماز ہے۔ اس لیے مفسرین نے یہاں تسبیح سے مراد نماز لی ہے اور یہاں اس کا واضح قرینہ بھی موجود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح تو دن رات کے ہر لمحے میں ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے، اس کے لیے اوقات مقرر کرنے کا مطلب یہی ہے کہ یہاں تسبیح کی خاص صورت کا حکم دیا جا رہا ہے، جو نماز پنج گانہ ہے۔ چنانچہ {” حِيْنَ تُمْسُوْنَ “} (جب تم شام کرتے ہو) سے مغرب اور عشاء مراد ہیں، {” حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ “} (جب تم صبح کرتے ہو) سے صبح کی نماز مراد ہے، {” عَشِيًّا “} (پچھلے پہر) سے عصر کی نماز اور {” حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ “} (جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو) سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ یاد رہے نمازوں کے یہ اوقات اجمالاً بیان ہوئے ہیں، ان کے اول و آخر کی تعیین اور نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان ہوا ہے، جس کے بغیر قرآن مجید کے حکم پر عمل ممکن ہی نہیں۔ قرآن مجید میں نمازوں کے اوقات کے بیان کے لیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۸)، ہود (۱۱۴) اور طٰہٰ (۱۳۰) کی تفسیر پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →