بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 45
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۵﴾
تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا
تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کیے وه کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے
تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،
تاکہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو جزاء (خیر) دے۔ بے شک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اپنے فضل سے جزا دے۔ بے شک وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

📖 احسن البیان

45-1یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لئے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ { لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} اس میں قیامت کے دن لوگوں کے جدا جدا ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ بقاعی نے فرمایا: ”یہاں دو جملوں میں سے ہر ایک کا ایک حصہ حذف کر دیا اور ایک بیان کر دیا ہے، جس سے حذف شدہ حصہ خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔“ گویا مفصل کلام یوں ہو گا: {”لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ بِعَدْلِهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِيْنَ“} ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے فضل سے جزا دے، کیونکہ وہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے اور تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اور برے اعمال کیے اپنے عدل کے ساتھ بدلا دے، کیونکہ وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔“ پہلے جملے میں سے {”إِنَّهُ يُحِبُّ الْمُؤْمِنِيْنَ“} حذف کر دیا اور دوسرے میں سے {”لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ بِعَدْلِهِ“} حذف کر دیا۔ اسے احتباک کہتے ہیں اور لمبی بات کو اس طرح مختصر کرنا قرآن کے بیان کا ایک حسن ہے۔ ➋ { مِنْ فَضْلِهٖ:} یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض فضل یعنی اصل بدلے سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اگر انسان نے اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرماں بردار بن کر رہا تو اس سے تو اس کے پہلے احسانات کا بدلا ہی پورا نہیں ہوتا، اس توفیق کا بدلا کس طرح ہوگا جس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا!؟ اس لیے بندوں کو جو اجر بھی ملے گا وہ ان کے اعمال سے زائد انعام ہی ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ] ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: [ وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ ] ”اور کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳ ] ”نہیں، مجھے بھی نہیں، اِلاّ یہ کہ اللہ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →