بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 26
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں
اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے
اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،
جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے (اور) سب اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اسی کا ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ‘ } } ۱؎ [صحیح بخاری:4974] ‏‏‏‏۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» ۱؎ [42-الشورى:11] ‏‏‏‏ ’ اس کی مثال کوئی اور نہیں ‘۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔

📖 احسن البیان

26-1یعنی اس کے تکوینی حکم کے آگے سب بےبس اور لاچار ہیں۔ جیسے موت وحیات، صحت و مرض، ذلت و عزت وغیرہ میں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) {وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یعنی یہ اور اس سے اگلی آیت پچھلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہیں۔ یعنی یہ خیال مت کرو کہ وہ اس کے بلانے پر کیسے نکل آئیں گے، کیونکہ آسمان و زمین میں جو بھی ہے اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ {”كُنْ“} کہے اور کوئی شخص اس کے حکم سے انحراف کر سکے۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →