بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 43
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ الۡقَیِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوۡمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوۡنَ ﴿۴۳﴾
پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے
تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں اس دن الگ پھٹ جائیں گے
پس (اے رسول(ص)) آپ اپنا رخ دینِ مستقیم کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس کیلئے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہ ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔
پس تو اپنا چہرہ سیدھے دین کی طرف سیدھا کر لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن وہ جدا جدا ہو جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

📖 احسن البیان

43-1یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرلیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔ 43-2یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ {فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ:} یعنی جب بر و بحر میں شرک کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تو اے مخاطب! تو اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا کر لے جو بالکل سیدھا اور فطرتِ توحید پر قائم ہے۔ ➋ {مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ:مَرَدَّ”رَدَّ يَرُدُّ“} سے مصدر میمی ہے، ہٹانا، پھیر دینا۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے دین قیم کی طرف اپنا رخ سیدھا کر لے جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ نے طے کر دیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں، پھر کوئی اور اسے کس طرح ٹال سکتا ہے؟ ➌ {يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ:يَصَّدَّعُوْنَ “} اصل میں {”يَتَصَدَّعُوْنَ“} ہے ”پھٹ جائیں گے“ یعنی قیامت کے دن مسلم و کافر اس طرح یک لخت جدا جدا ہو جائیں گے جیسے کوئی چیز پھٹ کر الگ الگ ہو جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی کافر مسلمانوں میں یا کوئی مسلمان کافروں میں شامل رہ جائے، فرمایا: «{ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ }» [ الشورٰی: ۷ ] ”ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →