بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 10
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے
پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے،
پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے (مسلسل) برائیاں کیں برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
پھر ان لوگوں کا انجام جنھوں نے برائی کی بہت برا ہی ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭

چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔

یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَ‌هُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَنَذَرُ‌هُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ‏‏‏‏ ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ‏‏‏‏ ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔ اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ‏‏‏‏ ہے۔

📖 احسن البیان

10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) {ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى …: ” السُّوْٓاٰۤى”أَسْوَأُ“} کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ {” اَنْ كَذَّبُوْا “} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ {” ثُمَّ “} کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →