بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 19
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ وَ کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿٪۱۹﴾
وہ زندہ میں سے مُردے کو نکالتا ہے اور مُردے میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے
(وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے
وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے اور زمین کو جٕلا تا ہے اس کے مرے پیچھے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے
وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ (سرسبز) کر دیتا ہے۔ اسی طرح تم (مرنے کے بعد) نکالے جاؤگے۔
وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭

اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] ‏‏‏‏ اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ‏‏‏‏ ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] ‏‏‏‏ وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (‏‏‏‏وفادار)‏‏‏‏‏‏‏‏ کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] ‏‏‏‏ سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:18] ‏‏‏‏ تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْ‌ضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَ‌جْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْ‌نَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34] ‏‏‏‏۔ ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ‏‏‏‏ ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔

📖 احسن البیان

19-1جیسے انڈے کو مرغی سے، مرغی کو انڈے سے۔ انسان کو نطفے سے، نطفے کو انسان اور مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا فرماتا ہے۔ 19-2یعنی قبروں سے زندہ کر کے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19){ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ …:} کائنات میں دن کو رات سے اور رات کو دن سے بدلنے اور صبح و شام اور عشاء اور ظہر و عصر کا تغیر برپا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی قدرت کے کمال، یعنی زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالنے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دینے کا بیان فرمایا۔ (مزید دیکھیے آل عمران: ۲۷) اور ان تبدیلیوں کو بطور دلیل ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح تم بھی قیامت کے دن دوبارہ زمین سے زندہ کر کے نکال کھڑے کیے جاؤ گے۔ یعنی تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ کائنات کا یہ کارخانہ اسی طرح جاری ہے کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکلتا ہے۔ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے، اس میں سبزی اور تروتازگی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، لیکن پانی برستے ہی طرح طرح کی سبزیاں اُگ آتی ہیں اور ہزاروں قسم کے جانور پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے قادر مطلق کے لیے، جس کی قدرت سے یہ سب کچھ ہوا، تمھیں تمھارے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اور دیکھیے سورۂ یٰس (۳۳) اور حج (۵)۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →