بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 37
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے) یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

📖 احسن البیان

37-1یعنی اپنی حکمت و مصلحت سے وہ کسی کو مال و دولت زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ عقل و شعور میں اور ظاہری اسباب و وسائل میں دو انسان ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں ایک جیسا ہی کاروبار بھی شروع کرتے ہیں لیکن ایک کے کاروبار کو خوب فروغ ملتا ہے اور اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں، جب کہ دوسرے شخص کا کاروبار محدود ہی رہتا ہے اور اسے وسعت نصیب نہیں ہوتی۔ آخر یہ کون ہستی ہے جس کے پاس تمام اختیارات ہیں اور وہ اس قسم کے تصرفات فرماتا ہے علاوہ ازیں وہ کبھی دولت فراواں کے مالک کو محتاج کردیتا ہے اور محتاج کو مال ودولت سے نواز دیتا ہے اور یہ سب اسی ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} یعنی خوش حالی پر پھول جانے یا مصیبت پر ناامید ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خوش حالی یا مصیبت کے معاملے کو دائمی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہر روز پیش آنے والے مشاہدے کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ ایک ہی شخص کا رزق کبھی فراخ ہے کبھی تنگ اور ایک ہی وقت میں کسی کا رزق فراخ ہے اور کسی کا تنگ۔ رزق کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور عالم غربت کا شکار ہوتے ہیں اور اَن پڑھوں اور بے وقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت ہے جسے وہی جانتا ہے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مومن نہ خوش حالی کو دائمی یا اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے کہ پھول جائے اور نہ ہی مصیبت کو دائمی سمجھتا ہے کہ نا امید ہو جائے، بلکہ وہ ہر وقت خوف و رجا اور امید و بیم کے درمیان کی حالت میں رہتا ہے۔ جو اسے فخرو غرور سے بھی باز رکھتی ہے اور یاس و نا امیدی سے بھی۔ ➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} یعنی ایک ہی شخص کو کسی وقت غنی اور کسی وقت فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں اور ایک ہی وقت میں کسی کو غنی اور کسی کو فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اس بات میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ کافر ہر لمحے دنیا کے قانون تغیر کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا، نہ سب لوگ ایک حال پر ہیں، رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق پھیلتا اور سکڑتا رہتا ہے، اس کے باوجود وہ اس طرح خوشی پر مغرور اور مصیبت میں ناامید ہوتے ہیں جیسے یہ حالت ہمیشہ ہی رہے گی۔ ان تمام چیزوں میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں۔ کفار نہ ان پر غور کرتے ہیں، نہ انھیں ان سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →