بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الروم — Surah Rum
آیت نمبر 8
کل آیات: 60
قرآن کریم الروم آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الروم islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۟ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ لَکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں
کیا انہوں نے اپنے آپ میں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو (حق اور حکمت کے) ساتھ ایک مقررہ مدت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حضوری کے منکر ہیں۔
اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اوران کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بے شک بہت سے لوگ یقینا اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭

چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔

یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَ‌هُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَنَذَرُ‌هُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ‏‏‏‏ ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ‏‏‏‏ ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔ اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ‏‏‏‏ ہے۔

📖 احسن البیان

8-1یا ایک مقصد اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے بےمقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انھیں نیست سے ہست کیا اور پانی کے ایک حقیر قطرے سے ان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان و زمین کا ایک خاص مقصد کے لیے وسیع و عریض سلسلہ قائم کیا نیز ان سب کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہوجائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقینا اللہ کے وجود اس کی ربوبیت و الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انھیں ادراک و احساس ہوجاتا اور اس پر ایمان لے آتے۔ 8-2اور اس کی وجہ وہی کائنات میں غور و فکر کا فقدان ہے ورنہ قیامت کے انکار کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 8) ➊ { اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ …:} اس میں دو احتمال ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ{” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “} ایک مستقل جملہ ہے اور{” مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} دوسرا جملہ ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے جو اللہ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلاتے ہیں اپنی جانوں میں غور نہیں کیا، کیونکہ ان کی جانوں میں کئی نشانیاں ہیں، جن کے ساتھ وہ جان سکتے ہیں کہ جس ذات نے انھیں عدم سے وجود بخشا ہے وہ اس کے بعد انھیں دوبارہ بھی زندہ کر ے گا اور یہ کہ وہ ذات جس نے انھیں ایک سے دوسری کئی حالتوں میں منتقل کیا، چنانچہ نطفے سے علقہ میں، پھر مضغہ میں، پھر ذی روح انسان میں، پھر بچے کی صورت میں، پھر جوان، پھر بوڑھے، پھر کھوسٹ بوڑھے کی شکل میں منتقل کیا۔ آیا اس ذات کے لائق ہے کہ انھیں شتربے مہار چھوڑ دے، نہ انھیں کوئی حکم دے، نہ کسی چیز سے منع کرے، نہ انھیں کوئی ثواب ہو نہ عقاب ہو۔ نہیں، بلکہ ہر حال میں وہ مختلف حالتوں سے منتقل ہوتے ہوئے اپنے اعمال کے محاسبے کے لیے اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ انشقاق: ۶ اور ۱۶ تا ۱۹) (عبد الرحمن سعدی) دوسرا احتمال یہ ہے کہ{” فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “ ” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا “} کا ظرف ہے اور جملہ{” بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} پر مکمل ہو رہا ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے دلوں میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کی تمام اشیاء کو نہ عبث اور بے مقصد پیدا فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیشہ رہنے کے لیے بنایا ہے، بلکہ انھیں اپنی کمال حکمت کے مطابق حق کے ساتھ یعنی حقیقی مقصد (آزمائش) کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا }» [ھود: ۷ ] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔“ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، جہاں پہنچ کر ہر حال میں اس سلسلے کو ختم ہونا ہے اور وہ مقررہ مدت قیام قیامت، حساب اور ثواب و عتاب کا وقت ہے۔ یہی بات اس آیت میں فرمائی ہے: «{ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ }» [ المؤمنون: ۱۱۵ ] ”تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟“ دیکھیے یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے واضح فرمایا کہ اگر وہ مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی چھوڑ دے اور انھیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے پاس لے جا کر حساب نہ کرے تو اس کا انسانوں کو پیدا کرنا عبث ہو گا۔ (شنقیطی) آیت کی تفسیر کا پہلا احتمال بھی صحیح ہے مگر یہ دوسرا زیادہ واضح ہے، اس لیے ترجمہ اسی احتمال کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ دونوں باتیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں بلکہ حق ہی کے ساتھ ہے اور یہ کہ قیامت ہر حال میں قائم ہو گی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اکٹھی بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ دخان (۳۸ تا ۴۰) اور سورۂ حجر (۸۵)۔ ➋ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ:} اور بہت سے لوگ آخرت کے اور دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کی ملاقات کے اور حساب کتاب کے منکر ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے دلوں میں غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ اپنے دلوں میں زمین و آسمان پر اور ان کے درمیان کی بے شمار عجیب و غریب اشیاء (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) پر غور کرتے تو انھیں اپنے رب کی ملاقات کا یقین ہو جاتا۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →