بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
النحل
سورۃ النحل — 128 آیات — صفحہ 2 از 3
قرآن کریم Surah 16
وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کا فرمان ہے کہ "دو خدا نہ بنا لو، خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے، پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے فرمادیا دو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھ ہی سے ڈرو، ف۱۰۶)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو اِلٰہ (خدا) نہ بناؤ۔ الٰہ (خدا) تو صرف ایک ہی ہے سو تم صرف مجھ ہی سے ڈرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے فرمایا تم دو معبود مت بنائو، وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، سو مجھی سے پس تم ڈرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
51۔ 1 کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہوچکا ہوتا۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔
(آیت51) ➊ {وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَيْنِ اثْنَيْنِ …:} اوپر بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی مطیع و فرماں بردار ہیں، اس مناسبت کے ساتھ اب انسانوں کو اس مالک الملک کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانے سے منع فرمایا ہے۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {” اِلٰهَيْنِ “} کا معنی ہی دو معبود ہے، پھر {” اثْنَيْنِ “} کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی قباحت میں زور پیدا کرنے کے لیے بات تاکید کے ساتھ کی جاتی ہے، یہاں {” اثْنَيْنِ “} کا مقصد یہی ہے۔ تو جب دو معبود نہیں بن سکتے تو زیادہ کس طرح بن سکتے ہیں؟ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ قرآن میں یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا: «{ لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا }» [ الأنبیاء: ۲۲ ] ”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔“ اور دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۳۹)۔ ➌ {فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ:رَهْبَةٌ “} اس خوف کو کہتے ہیں جس میں ساتھ بچا بھی جائے، باب{ ”عَلِمَ“ } سے ہے۔ {” فَاِيَّايَ “} پہلے لانے میں اور پھر {” فَارْهَبُوْنِ “ } (جو اصل میں {فَارْهَبُوْنِيْ} تھا) میں دوبارہ یاء لانے میں تاکید پر تاکید ہے کہ صرف میری عبادت کرو۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر غائب کے ساتھ تھا، اب متکلم کے ساتھ ہو گیا، اس التفات کے لیے پہلی فاء آئی ہے۔ اور {”فَاِيَّايَ“} اور {” فَارْهَبُوْنِ “} دونوں پر فاء آئی ہے، پہلی عطف کے لیے ہے اور دوسری محذوف شرط کی جزا کے لیے ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے (اور وہ میں ہوں) پس صرف مجھ سے (اگر کسی سے ڈرنا ہے) تو مجھ سے ڈرو، کسی دوسرے سے نہیں۔
وَ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الدِّیۡنُ وَاصِبًا ؕ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَتَّقُوۡنَ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصاً اُسی کا دین (ساری کائنات میں) چل رہا ہے پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرمانبرداری لازم ہے، تو اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اسی کا دین دائمی اور واجب الاطاعت ہے تو کیا تم اللہ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور عبادت بھی ہمیشہ اسی کی ہے، پھر کیا اللہ کے غیر سے ڈرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
52۔ 1 اسی کی عبادت و اطاعت دائمی اور لازم ہے واصب کے معنی ہمیشگی کے ہیں ' ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ کا ' اور اس کا وہی مطلب ہے جو دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ' پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار! اسی کے لئے خالص بندگی ہے '۔
(آیت52){وَ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:” الدِّيْنُ “} کا معنی یہاں فرماں برداری، مطیع ہونا اور عبادت ہے۔ {” وَاصِبًا “} (ہمیشہ) {”وَصَبَ يَصِبُ {”وَعَدَ يَعِدُ“} وُصُوْبًا“} جیسے فرمایا: «{ دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ }» [ الصافات: ۹ ] ”بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔“ یعنی آسمان و زمین صرف اللہ کے پیدا کردہ اور اس کی ملکیت ہیں اور اطاعت وعبادت بھی اسی کا دائمی حق ہے تو پھر ہر چیز کے مالک اللہ کے بجائے اس کے غیر سے ڈرتے ہو؟ کس قدر نادانی اور حماقت کی بات ہے۔
وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو، ف۱۰۹)
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی جناب میں داد و فریاد کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔
(آیت53تا55){ وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ …:” نِعْمَةٍ “} (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، {” مِنْ “} کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہو گئی کہ جو بھی نعمت تمھارے پاس ہے، یعنی تمھارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ {” تَجْـَٔرُوْنَ”جَأَرَ يَجْأَرُ جُؤَارًا“} (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے {” خُوَارٌ “}، بکری کے لیے {” ثُغَاءٌ“ } اونٹ کے لیے {” رُغَاءٌ“} اور بھیڑیے اور کتے کے لیے {”عُوَاءٌ“} آتا ہے۔ {” فَتَمَتَّعُوْا “} سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۱ تا ۲۳)۔
ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکا یک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو (اس مہربانی کے شکریے میں) شریک کرنے لگتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جہاں اس نے وه مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے، ف۱۱۰)
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب وہ تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو ایک دم تم میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو اچانک تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔ اچھا کچھ فائده اٹھالو آخر کار تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، تو کچھ برت لو (۱۱۱) کہ عنقریب جان جاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس کا کفران کریں سو (اے ناشکرو) چند روزہ فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تمہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ اس کی ناشکری کریں جو ہم نے انھیں دیا ہے۔ سو تم فائدہ اٹھالو، پس عنقریب تم جان لو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
55۔ 1 لیکن انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کہ تکلیف (بیماری، تنگ دستی اور نقصان وغیرہ) کے دور ہوتے ہی وہ پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ 55۔ 2 یہ اس طرح ہی ہے جیسے اس سے قبل فرمایا تھا، (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ) 14۔ ابراہیم:30) چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعۡلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا مِّمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ ؕ تَاللّٰہِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم، ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جسے جانتے بوجھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں، واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور ہی کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور انجانی چیزوں کے لیے ہماری دی ہوئی روزی میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے ان (بتوں وغیرہ) کے لئے حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو یہ جانتے بھی نہیں ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تم کیسی افترا پردازیاں کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ ان (معبودوں) کے لیے جن کے بارے میں وہ نہیں جانتے، ایک حصہ اس میں سے مقرر کرتے ہیں جو ہم نے انھیں دیا ہے۔ اللہ کی قسم! تم اس کے بارے میں ضرور ہی پوچھے جاؤ گے جو تم جھوٹ باندھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
56۔ 1 یعنی جن کو یہ حاجت روا، مشکل کشا اور معبود سمجھتے ہیں، وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات و شیاطین ہیں، جن کی حقیقت کا ان کو علم ہی نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہو رہا ہے؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد میں ہیں یا کسی دوسری فہرست میں؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن ان ظالم لوگوں نے ان کی حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باوجود، انھیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کے لیے بھی نذر ونیاز کے طور پر حصہ مقرر کرتے ہیں بلکہ اللہ کا حصہ رہ جائے تو بیشک رہ جائے ان کے حصے میں کمی نہیں کرتے جیسا کہ سورة الانعام میں بیان کیا گیا ہے۔ 56۔ 2 تم جو اللہ پر افترا کرتے ہو کہ اس کا شریک یا شرکا ہیں، اس کی بابت قیامت والے دن تم سے پوچھا جائے گا۔
(آیت56) {وَ يَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ …:” لَا يَعْلَمُوْنَ “ } کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ مشرک لوگ ہمارے دیے ہوئے رزق کا حصہ ان خداؤں کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے، کیونکہ عالم الغیب والشہادہ تو صرف اللہ ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جن کے متعلق یہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ انھیں ان کی حقیقت معلوم ہے نہ ان کا بے اختیار ہونا، محض گمان اور سنی سنائی باتوں پر بنیاد رکھ کر ہمارا دیا ہوا ان کے نام کر دیتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۳۶ تا ۳۸) اور سورۂ یونس (۶۶) شروع آیت میں ان مشرکین کا ذکر سارے کا سارا غائب کے صیغوں کے ساتھ کرنے کے بعد آخر میں (بطورِ التفات) انھیں براہِ راست ڈانٹنے کے لیے مخاطب کر لیا اور قسم کھا کر فرمایا کہ مجھے اپنی قسم کہ تم جو کچھ طوفان باندھتے رہے ہو ہر صورت اس کے متعلق پوچھے جاؤ گے۔
وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَ لَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ خدا کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں سبحان اللہ! اور اِن کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لیے وه جو اپنی خواہش کے مطابق ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں پاکی ہے اس کو اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ اللہ کے لئے لڑکیاں قرار دیتے ہیں پاک ہے اس کی ذات اور خود ان کے لئے وہ ہے جس کے یہ خواہشمند ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، وہ پاک ہے اور اپنے لیے وہ جو وہ چاہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
57۔ 1 عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔
(آیت57){وَ يَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ …:} یہ ان کے اللہ تعالیٰ پر دو عیب لگانے کا بیان ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دی، حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ دوسرا عیب یہ کہ فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اولاد قرار دیا اور اولاد بھی مؤنث، جبکہ وہ اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں، لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ذلت قرار دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی بے انصافی ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے {” سُبْحٰنَهٗ “} (وہ پاک ہے) کہہ کر اپنی ذات سے ہر قسم کی اولاد کی نفی فرمائی، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، کیونکہ پھر اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی، جب کہ خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد باپ کی شریک اور جانشین ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ محتاجی، شرکت اور زوال تینوں سے پاک ہے، کیونکہ یہ تینوں اس کے لیے عیب ہیں، وہ {” لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ“} ہے اور وہ اکیلا ہی غنی ہے، باقی سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ }» [ فاطر: ۱۵ ] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ صرف اسی کے لیے بقا ہے، باقی سب کچھ فانی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۱)، سورۂ بنی اسرائیل (۴۰)، سورۂ صافات (۱۵۱ تا ۱۵۴)، سورۂ زخرف (۱۱) اور سورۂ نجم (۲۱، ۲۲)۔
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب اِن میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہره سیاه ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھا تا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ رنج و غم سے بھر جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کا منہ دن بھر کالا رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت59،58){وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى …:} بشارت اچھی خبر جس سے بشرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوں، یہاں بطور استہزا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ[آل عمران: ۲۱ ] ”سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔“ {”ظَلَّ كَذَا“} وہ سارا دن اس طرح رہا۔ یہ {”صَارَ“} کے معنی میں بھی آتا ہے کہ وہ اس طرح ہو گیا۔{ ” كَظِيْمٌ “ } کا معنی {” كَتْمٌ “} (چھپانا) ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ }» [ آل عمران: ۱۳۴ ] ”اور غصے کو پی جانے والے۔“ یہ{ ” كَظَمَ الْقِرْبَةَ “ } سے لیا گیا ہے۔ جب مشکیزہ پانی سے بھر جائے، پھر اس کا منہ باندھ دیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی پھٹ جائے گا، مراد غم سے بھرا ہوا ہے، یعنی لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر سارا دن غم کی وجہ سے اس کا منہ کالا رہتا ہے، مگر وہ غم سے بھرا ہونے کے باوجود اظہار نہیں کرتا۔ اپنے خیال میں اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس خوش خبری کو وہ اتنا برا سمجھتا ہے کہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے، آیا اسے اپنے پاس رکھے اور جاہل معاشرے کی نظر میں ذلیل ہو کر رہنا برداشت کرے یا اسے مٹی میں چھپا دے، یعنی زندہ دفن کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصاً متوجہ کرنے کے لیے فرمایا {” اَلَا “} سن لو، خبردار ہو جاؤ، یہ دونوں فیصلے ہی بہت برے ہیں۔ لڑکی کو حقیر اور ذلیل کر کے رکھنا بھی اور اسے زندہ درگور کرنا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد دینے یا نہ دینے کے متعلق چار قسمیں بنائیں، سب سے پہلے لڑکیوں کو اپنا ہبہ اور عطیہ قرار دیا، فرمایا: «{ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْرَ (49) اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا وَ يَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ }» [ الشورٰی: ۴۹، ۵۰ ] ”وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ اسلام میں بیٹیوں کی پرورش کا اجر بہت بیان کیا گیا، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۵۰) کی تفسیر۔
یَتَوَارٰی مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اِس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے؟ دیکھو کیسے برے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس بری خبر سے جو اسے دی گئی ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ ذلت کے ساتھ اسے لئے رہے یا اسے مٹی کے تلے گاڑ دے؟ کیا ہی بُرا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، اس خوش خبری کی برائی کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔ آیا اسے ذلت کے باوجود رکھ لے، یا اسے مٹی میں دبا دے۔ سن لو! برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
59۔ 1 یعنی لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کا تو یہ حال ہوتا ہے جو مذکور ہوا، اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ کیسا برا یہ فیصلہ کرتے ہیں، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ بھی لڑکوں کے مقابلے میں لڑکی کو حقیر اور کم تر سمجھتا ہے، نہیں اللہ کے نزدیک لڑکے اور لڑکی میں کوئی تمیز نہیں ہے نہ جنس کی بنیاد پر حقارت اور برتری کا تصور اس کے ہاں ہے یہاں تو صرف عربوں کی اس ناانصافی اور سراسر غیر معقول رویے کی وضاحت مقصود ہے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ اختیار کیا تھا درآں حالیکہ اللہ کی برتری اور فوقیت کے وہ بھی قائل تھے جس کا منطقی نتیجہ تو یہ تھا کہ جو چیز یہ اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے لیے بھی اسے تجویز نہ کرتے لیکن انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ یہاں صرف اسی ناانصافی کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بری صفات سے متصف کیے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے رہا اللہ، تو اُس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں کا بر ا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی حالت بری ہے اور اللہ کے لئے اعلیٰ صفت ہے وہ زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بہت برا حال ہے اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
60۔ 1 یعنی کافروں کے برے اعمال بیان کئے گئے ہیں انھیں کے لئے بری مثال یا صفت ہے یعنی جہل اور کفر کی صفت۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی جو بیوی اور اولاد یہ ٹھہراتے ہیں، یہ بری مثال ہے جو یہ منکرین آخرت اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں۔ 60۔ 2 یعنی اس کی ہر صفت، مخلوق کے مقابلے میں اعلٰی و برتر ہے، مثلاً اس کا علم و سیع ہے، اس کی قدرت لا متناہی ہے، اس کی جود و عطا بےنظیر ہے۔ و علٰی ہذا القیاس یا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر ہے، خالق ہے۔ رازق ہے اور سمیع وبصیر ہے وغیرہ (فتح القدیر) یا بری مثال کا مطلب نقص کوتاہی ہے اور مثل اعلی کا مطلب کمال مطلق ہر لحاظ سے اللہ کے لیے ہے۔
(آیت60){لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ …: ” مَثَلُ “} کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل، یعنی کہاوت بھی اور صفت اور حال بھی۔ یہاں اکثر مفسرین نے صفت معنی کیا ہے، یعنی وہ مشرکین جن کا اوپر ذکر ہوا، آخرت، حساب کتاب اور جزا و سزا پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بہت برا حال ہے جو قباحت کی انتہائی مثال ہے، اسی وجہ سے وہ اتنے بے وقوف اور سنگ دل ہو گئے ہیں کہ فرضی خداؤں کے لیے اپنی آمدنی کا ایک حصہ مقرر کرتے ہیں، بیٹیوں کو نہایت حقارت سے دیکھتے ہیں، انھیں زندہ درگور کر دیتے ہیں، حالانکہ بڑھاپے اور کمزوری میں انھی کے محتاج ہوتے ہیں، اپنے لیے بیٹوں کی پیدائش پر فخر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں بتاتے ہیں۔ فرشتوں کی عبادت کرتے اور انھیں اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔ یہ چند روزہ زندگی سے دھوکا کھانے اور آخرت پر ایمان نہ ہونے کا نتیجہ ہے، اگر انھیں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا اور آخرت کی کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی کا یقین ہوتا تو ظلم کی ان صورتوں میں سے ایک کی بھی جرأت نہ کرتے۔ اور اللہ کی صفت تو سب سے اونچی ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، اولاد اور والدین سے پاک ہے۔ صرف وہی تمام صفاتِ کمال، جمال اور جلال کا مستحق ہے اور وہی سب پر غالب ہے، زبردست ہے، مگر کمال درجے کا حکیم بھی ہے، وہ اپنے غلبے کو اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں بلکہ نہایت حکمت سے عمل میں لاتا ہے۔
وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر کہیں اللہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کر تا تو روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر لوگوں کے گناه پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا، لیکن وه تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے، جب ان کا وه وقت آجاتا ہے تو وه ایک ساعت نہ پیچھے ره سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا لیکن انہیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ لوگوں کو ان کی زیادتی پر (فوراً) پکڑ لیا کرتا تو پھر روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے پھر جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو اس سے وہ ایک گھڑی پیچھے آگے نہیں ہو سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ لوگوںکو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے ‘۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، درگزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں، ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“

ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے } }۔ ۱؎ [المعجم الأوسط للطبراني:3373:ضعیف] ‏‏‏‏ اپنے لیے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لیے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لیے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لیے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورۃ الکہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا» ۱؎ [18-الكهف:35-36] ‏‏‏‏ ’ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دوبارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا ‘۔ کام برے کریں آرزو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لیے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس ان کی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے ’ دراصل ان کے لیے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں ‘۔
61۔ 1 یہ اس کی نرم دلی ہے اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانیاں دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی نعمتیں سلب کرتا ہے نہ فوری مواخذہ ہی کرتا ہے حالانکہ اگر ارتکاب معصیت کے ساتھ ہی وہ مواخذہ کرنا شروع کر دے تو ظلم اور معصیت اور کفر اور شرک اتنا عام ہے کہ روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے کیونکہ جب برائی عام ہوجائے تو پھر عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کردیئے جاتے ہیں تاہم آخرت میں وہ عند اللہ سرخرو رہیں گے جیسا کہ حدیث میں وضاحت آتی ہے (ملاحظۃ ہو صحیح بخاری۔ نمبر 2118۔ 61۔ 2 یہ اس کی حکمت کا بیان ہے جس کے تحت وہ ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ ایک تو ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دوسرے، ان کی اولاد میں سے کچھ ایماندار نکل آئیں۔
(آیت61) ➊ {وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ …: ” يُؤَاخِذُ “} یہاں {” يَأْخُذُ “} کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورۂ فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔ ➋ {” النَّاسَ “} سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کر سکا ہے نہ کر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ }» [ عبس: ۲۳] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔“ یہ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا میں نیک و بد سب کو ایک وقت تک مہلت ملی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کبھی دنیا میں اللہ کی گرفت آ جائے تو سب نیک و بد، حتیٰ کہ چرند پرند وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے، پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اپنے ایمان اور نیت و عمل کے مطابق معاملہ ہو گا۔ اس مفہوم کی حدیث کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی {” كِتَابُ الْبُيُوْعِ، بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الْأَسْوَاقِ (۲۱۱۸) “} میں اس لشکر کا ذکر جو کعبہ پر حملہ کے لیے آئے گا۔
وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ مَا یَکۡرَہُوۡنَ وَ تَصِفُ اَلۡسِنَتُہُمُ الۡکَذِبَ اَنَّ لَہُمُ الۡحُسۡنٰی ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَ اَنَّہُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں جو خود اپنے لیے اِنہیں ناپسند ہیں، اور جھوٹ کہتی ہیں اِن کی زبانیں کہ اِن کے لیے بھلا ہی بھلا ہے اِن کے لیے تو ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے دوزخ کی آگ ضرور یہ سب سے پہلے اُس میں پہنچائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اپنے لیے جو ناپسند رکھتے ہیں اللہ کے لیے ﺛابت کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹی باتیں بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے خوبی ہے۔ نہیں نہیں، دراصل ان کے لیے آگ ہے اور یہ دوزخیوں کے پیش رو ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے اور ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اللہ کے لئے وہ چیزیں (بیٹیاں) قرار دیتے ہیں جن کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں غلط بیانی کرتی ہیں کہ ان کے لئے (بہرحال) بھلائی ہی بھلائی ہے (نہیں) ہاں البتہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے اور بے شک یہ سب سے پہلے اس میں پہنچائے (جھونکے) جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے وہ (خود) ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ بے شک انھی کے لیے بھلائی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ انھی کے لیے آگ ہے اور یہ کہ وہ سب سے پہلے (اس میں) پہنچائے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے ‘۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، درگزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں، ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“

ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے } }۔ ۱؎ [المعجم الأوسط للطبراني:3373:ضعیف] ‏‏‏‏ اپنے لیے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لیے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لیے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لیے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورۃ الکہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا» ۱؎ [18-الكهف:35-36] ‏‏‏‏ ’ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دوبارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا ‘۔ کام برے کریں آرزو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لیے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس ان کی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے ’ دراصل ان کے لیے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں ‘۔
62۔ 1 یعنی بیٹیاں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 62۔ 2 یہ ان کی دوسری خرابی کا بیان ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ کرتے ہیں ان کی زبانیں یہ جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کا انجام اچھا ہے، ان کے لئے بھلائیاں ہیں اور دنیا کی طرح ان کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔ 62۔ 3 یعنی یقیناً ان کا انجام ' اچھا ' ہے اور وہ ہے جہنم کی آگ، جس میں وہ دوزخیوں کے پیش رو پہلے جانے والے ہوں گے۔ فَرَط کے یہی معنی حدیث سے بھی ثابت ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اَ نَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ' (صحیح بخاری) ' میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا ' ایک دوسرے معنی مفرَطُوْنَ کے یہ کئے گئے ہیں کہ انھیں جہنم میں ڈال کر فراموش کردیا جائے گا۔
(آیت62) ➊ {وَ يَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ:} مثلاً یہ مشرک اپنے لیے پسند نہیں کرتے کہ ان کی ملکیت کا کوئی دوسرا بھی مالک بنے، مگر اللہ کی ملکیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ (دیکھیے روم: ۲۸) اپنے قاصد کی تکریم چاہتے ہیں مگر اللہ کا پیغام لانے والوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں، اپنے لیے گالی برداشت نہیں کرتے مگر اللہ کو گالی دیتے ہیں، مثلاً یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے، اس کے لیے گالی ہے اور کئی بدبخت ایسے ہیں کہ اللہ نے انھیں سب کچھ دیا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کو صاف گالیاں دیتے ہیں، پھر اپنے لیے بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ غرض جو کچھ وہ اپنے غلاموں کی طرف سے اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے غلام بلکہ مخلوق ہو کر وہ ساری بدتمیزیاں اس کے ساتھ کرتے ہیں، وہ پھر بھی صبر کرتا ہے اور مہلت دیتا ہے۔ (سبحان اللہ) ➋ {وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ:} کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں چین اور خوش حالی ملی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کا ہم پر خوش ہونا ثابت ہوتا ہے، اس لیے اگر آخرت واقعی ہوئی تو وہاں ہمیں یہ سب کچھ ملے گا۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷ تا ۸۰)، سورۂ حٰمٓ السجدہ (۵۰) اور سورۂ کہف (۳۶)۔ ➌ { وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ:” مُفْرَطُوْنَ “} باب افعال سے اسم مفعول ہے۔ {”فَرَطٌ“ } اسے کہتے ہیں جسے کوئی قوم اپنے سے پہلے بھیج دے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَی الْحَوْضِ ] [ بخاری، الرقاق، باب في الحوض: ۶۵۷۵، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ] ”میں حوض پر تم سے پہلے جا کر تمھارے لیے ضروریات کا بندوبست کرنے والا ہوں۔“ یعنی کوئی شک نہیں کہ انھی کے لیے آگ ہے اور یہ مشرک دوسرے گناہ گاروں سے پہلے وہاں پہنچائے جانے والے ہیں۔ {” مُفْرَطُوْنَ “} کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ وہ دوزخ میں جھونک دیے جانے کے بعد وہیں چھوڑ دیے جائیں گے اور انھیں قطعی فراموش کر دیا جائے گا، وہیں پڑے سڑتے رہیں گے، فرمایا: «{ وَ قِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا }» [ الجاثیۃ: ۳۴ ] ”اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمھیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلا دیا۔“ عرب کہتے ہیں: {” مَا أَفْرَطْتُ وَرَائِيْ أَحَدًا“} ”میں نے اپنے پیچھے کسی کو نہیں چھوڑا۔“ مفسرین نے دونوں معانی بیان کیے ہیں اور دونوں باتیں ایک ہی وقت میں ہو سکتی ہیں۔
تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خدا کی قسم، اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ) شیطان نے اُن کے برے کرتوت اُنہیں خوشنما بنا کر دکھائے (اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی) وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہوا ہے اور یہ دردناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے، وه شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے تو آج وہی ان کا رفیق ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
خدا کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے ہیں پس شیطان نے ان کے (برے) اعمال خوشنما کرکے انہیں دکھائے سو وہی آج ان کا سرپرست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے۔ سو وہی آج ان کا دوست ہے اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کے دوست ٭٭

’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا ‘۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔
63۔ 1 جس کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی جس طرح پیغمبر قریش مکہ تیری تکذیب کر رہے ہیں۔ 63۔ 2 اَلْیَوْمَ سے یا تو زمانہ دنیا مراد ہے، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، یا اس سے مراد آخرت ہے کہ وہاں بھی یہ ان کا ساتھی ہوگا۔ یعنی یہی شیطان جس نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا، آج وہ ان کفار مکہ کا دوست ہے اور انھیں تکذیب رسالت پر مجبور کر رہا ہے۔
(آیت63) ➊ { تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ …: } اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا کہ ”ہم“ نے رسول بھیجے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو ایک ہے۔ ➋ { فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ:} تو شیطان جو ازلی دشمن تھا، اس نے ان کے وہی برے اعمال جو وہ کرتے تھے، مثلاً کفر و شرک اور دوسری کمینگیاں، وہ ان کے لیے ایسے خوش نما اور خوبصورت بنا دیے کہ انھوں نے سمجھا ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں، چنانچہ اسی دھوکے میں انھوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ➌ { فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ …:} تو وہی جو ہمیشہ کا دشمن تھا آج ان کا دوست بن گیا اور ظاہر ہے کہ جہاں ان کا دوست جائے گا اس کے ساتھ ہی وہ بھی عذابِ الیم میں جائیں گے۔ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ شیطان جو پہلی کافر قوموں کا دوست بنا تھا آج ان کفار عرب کا بھی وہی دوست ہے اور ان کا نتیجہ بھی وہی ہے جو ان کا ہوا۔ مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں، پہلے بھی ایسے ہوتا رہا ہے۔
وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم اُن اختلافات کی حقیقت اِن پر کھول دو جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اتری ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے مان لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان باتوں کو کھول کر بیان کر دیں جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ (کتاب) ایمان لانے والوں کے لئے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ پر کتاب نازل نہیں کی، مگر اس لیے کہ تو ان کے لیے وہ بات واضح کر دے جس میں انھوں نے اختلاف کیا ہے اور ان لوگوں کی ہدایت اور رحمت کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کے دوست ٭٭

’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا ‘۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔
64۔ 1 اس میں نبی کا یہ منصب بیان کیا گیا کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلے میں یہود و انصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکین کے درمیان اور دیگر اہل مذاہب کے درمیان جو باہم اختلاف ہے، اس کی اس طرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہوجائے تاکہ لوگ حق کو اختیار اور باطل سے پرہیز کریں۔
(آیت64) {وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ …:} پہلی امتوں کی طرح اس وقت بھی جو لوگ شیطان کے خوش نما پھندوں میں گرفتار ہیں، ان کے لیے ہر اختلاف کا فیصلہ کرکے اصل حقیقت کھول کر بیان کرنے ہی کے لیے ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ان تمام چیزوں کی تبیین و وضاحت بھی ہے جس میں لوگ خود فیصلہ نہیں کر سکتے، اس لیے قرآن کی ہر بات کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل اور تقریر سے فرمائی، ورنہ اللہ کی عبادت نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ غرض سب کچھ اختلاف کی نذر ہو جاتا، لوگ ایک طریقے پر متفق ہی نہ ہو سکتے، نہ کتاب اللہ پر عمل ہو سکتا۔ منکرینِ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس ہدایت اور رحمت سے بھی محروم ہیں جو اس کتاب سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تبیین و وضاحت سے اہل ایمان {” لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ “} کو حاصل ہوتی ہے اور درحقیقت وہ قرآن کو بھی نہیں مانتے، ورنہ قرآن کی متعدد آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھگڑے اور اختلاف میں فیصل ماننے، ان کا اتباع کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم موجود ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (۸۹)۔
وَ اللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿٪۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکا یک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اُس کی بدولت جان ڈال دی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا ہے اور اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مردہ (بنجر) ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں آوازِ حق سننے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے آسمان سے کچھ پانی نازل کیا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیا۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو سنتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کے دوست ٭٭

’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا ‘۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت65) ➊ {وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …: ” السَّمَآءِ”سُمُوٌ“} سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے ہر اونچی چیز کو {”سَمَاءٌ“ } کہہ لیتے ہیں۔ یہاں مراد بلندی سے اتارنا بھی ہو سکتا ہے اور بادل سے بھی۔ یہاں پانی کی نعمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو زندگی کا اصل ہے، فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ}» [ الأنبیاء: ۳۰ ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ یعنی زمین مردے کی طرح خشک پڑی تھی، نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے، نہ گھاس پھونس، نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے، اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور تروتازہ ہو گئی اور اس میں ہر قسم کی سر سبزی اور شادابی آگئی اور جگہ جگہ پانی کے چشمے پھوٹنے لگے، گویا مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ یہ مضمون سورۂ حج کی آیت (۵، ۶) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، وہاں اس کی تین حکمتیں بیان ہوئی ہیں اور دیکھیے سورۂ روم (۵۰) اور سورۂ یٰسٓ (۳۳، ۳۴)۔ ➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ:} اس سے وہ بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو مالک زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندگی عطا فرما سکتا ہے، وہ انسانوں کو بھی ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں۔ سننے سے مراد انصاف اور غور سے سننا ہے، کیونکہ جو دل سے نہ سنے سمجھو بہرا ہے، جسے سنائی نہیں دیتا، فرمایا: «{ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ }» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“
وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خو ش گوار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں عبرت کا سامان موجود ہے ہم ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان سے نکال کر تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپائوں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم ان چیزوں میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہیں، گوبر اور خون کے درمیان سے تمھیں خالص دودھ پلانے کے لیے دیتے ہیں، جو پینے والوں کے لیے حلق سے آسانی سے اتر جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خوشگوار دودھ اللہ تعالٰی کی عظمت کا گواہ ہے ٭٭

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ «بُطُونِهِ» میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں «مِّمَّا فِي بُطُونِهَا» ۱؎ [23-المؤمنون:21] ‏‏‏‏ ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت «كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ» ۱؎ [74-المدثر:54-55] ‏‏‏‏ میں ہے اور جیسے آیت «وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ» ۱؎ [27-النمل:35-36] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پس «جَاءَ» میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دوسرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نبیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔‏‏‏‏“ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے، اسی کی نگہبانی کے لیے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کر دیں۔ اسی نعمت کا بیان سورۃ یٰسین کی آیت «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-يس:34-36] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اس کا پھل کھائیں، یہ ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کر دی ہیں ‘۔
66۔ 1 اَنْعَام (چوپائے) سے اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ، دنبہ) مراد ہوتے ہیں۔ 66۔ 2 یہ چوپائے جو کچھ کھاتے ہیں، معدے میں جاتا ہے، اسی خوراک سے دودھ، خون، گوبر اور پیشاب بنتا ہے، خون رگوں میں اور دودھ تھنوں میں اسی طرح گوبر اور پیشاب اپنے اپنے مخرج میں منتقل ہوجاتا ہے اور دودھ میں نہ خون کی رنگت شامل ہوتی ہے اور نہ گوبر پیشاب کی بدبو۔ سفید اور شفاف دودھ باہر آتا ہے جو نہایت آسانی سے حلق سے نیچے اتر جاتا ہے۔
(آیت66) ➊ {وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً …:” الْاَنْعَامِ “} لفظاً مفرد ہے، افعال کا وزن یہاں جمع کے لیے نہیں بلکہ یہ اسم جمع ہے، جیسے {”رَهْطٌ“، ”قَوْمٌ“} اور {”بَقْرٌ“} وغیرہ۔ یہاں لفظ کی رعایت سے اس کے لیے واحد مذکر کی ضمیر {” بُطُوْنِهٖ “} لائی گئی ہے، سورۂ مومنون(۲۱) میں {” نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا “} جمع کے معنی کی رعایت سے مؤنث کی ضمیر لائی گئی ہے۔{ ”الْاَنْعَامِ“} اصل میں اونٹوں کو کہتے ہیں، کیوں کہ وہ بہت بڑی نعمت ہیں، اس کے ساتھ گائے اور بھیڑ بکری کو بھی {” الْاَنْعَامِ “} کہہ لیتے ہیں۔ سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) میں ان کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔{ ” لَعِبْرَةً “ } میں تنوین تعظیم کی ہے، بہت بڑی عبرت، معنی ہے عبور کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا، ایک چیز سے ایسی نصیحت حاصل کرنا جو دوسری جگہ کام دے۔ {”نُسْقِيْكُمْ “} قرآن میں {”سَقٰي“} اور {”أَسْقٰي“ } دونوں لفظ آئے ہیں، اکثر لوگ ان کا ایک ہی معنی کر دیتے ہیں، جبکہ ان میں فرق ہے، {”سَقٰي يَسْقِيْ“} پلانا اور {”أَسْقٰي يُسْقِيْ“} پلانے کے لیے دینا، یعنی ہم تمھیں پلانے کے لیے دیتے ہیں، خود پی لو یا کسی کو پلا دو۔ {”فَرْثٍ “} چوپاؤں کی ہضم شدہ خوراک جب تک اوجھڑی میں رہے، جب باہر نکلے تو اسے {”رَوْثٌ“} کہتے ہیں۔ {” لَبَنًا خَالِصًا “} گوبر کی بو اور رنگ اور خون کی سرخی دونوں سے خالص، سفید اور لذیذ دودھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کتنی عظیم نشانی ہے، کوئی ہے جو گوبر اور خون میں سے خالص دودھ کشید کر سکے؟ {” سَآىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ”سَاغَ يَسُوْغُ“} جو آسانی سے حلق میں اتر جائے۔ دودھ ایک مکمل غذا ہے، اس لیے بچے کی مکمل پرورش کے لیے دودھ ہی کافی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا تو میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا، یہ فطرت ہے، آپ بھی اس پر ہیں اور آپ کی امت بھی۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب شرب اللبن…: ۵۶۱۰، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ ] [ ترمذی الأدب، باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب: ۲۷۹۰، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲ /۱۱۸، ح: ۶۱۹ ] ”تین چیزیں رد نہیں کی جاتیں، گاؤ تکیے، تیل (خوشبو) اور دودھ۔“ ➋ اللہ تعالیٰ نے اپنے اکیلے معبود ہونے اور مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے لیے چوپاؤں میں سے ایک چیز کا ذکر فرمایا کہ دیکھیے وہ گھاس اور چارا جو حیوان کھاتے ہیں وہ پانی اور مٹی سے پیدا ہوتا ہے۔ مٹی اور پانی کو گھاس اور چارے میں بدلنا، پھر جانور کے پیٹ میں اسے خون سے بدلنا، پھر اسے دودھ میں بدلنا کس قدر باعث عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری طرح قادر ہے کہ تمام چیزوں کو ایک حالت سے دوسری جس حالت میں چاہے بدل دے۔
وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو اور عمده روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم کھجور اور انگور کے پھلوں سے بھی (تمہیں اس حالت میں) جن سے تم نشہ آور عرق بھی بنا لیتے ہو اور بہترین رزق بھی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، جس سے تم نشہ آور چیز اور اچھا رزق بناتے ہو۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خوشگوار دودھ اللہ تعالٰی کی عظمت کا گواہ ہے ٭٭

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ «بُطُونِهِ» میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں «مِّمَّا فِي بُطُونِهَا» ۱؎ [23-المؤمنون:21] ‏‏‏‏ ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت «كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ» ۱؎ [74-المدثر:54-55] ‏‏‏‏ میں ہے اور جیسے آیت «وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ» ۱؎ [27-النمل:35-36] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پس «جَاءَ» میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دوسرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نبیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔‏‏‏‏“ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے، اسی کی نگہبانی کے لیے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کر دیں۔ اسی نعمت کا بیان سورۃ یٰسین کی آیت «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-يس:34-36] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اس کا پھل کھائیں، یہ ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کر دی ہیں ‘۔
67۔ 1 یہ آیت اس وقت اتری تھی جب شراب حرام نہیں تھی، اس لئے حلال چیزوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس میں سَکَرً ا کے بعد رِزْقًا حَسَنًا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ نیز یہ سورت مکی ہے۔ جس میں شراب کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ پھر مدنی سورتوں میں بتدریج اس کی حرمت نازل ہوگئی۔
(آیت67) ➊ {وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَ الْاَعْنَابِ …: ” النَّخِيْلِ “} اور {”اَلنَّخْلُ“} اسم جنس ہیں، کھجور کا درخت۔ اگر ایک درخت واضح کرنا ہو تو ”تاء“ لگا دیتے ہیں، {”نَخِيْلَةٌ“} اور {”نَخْلَةٌ “}۔ {”نَخَلَ يَنْخُلُ“} کا معنی ہے چھان کر عمدہ حصہ الگ کرنا، چھاننا۔ اس لیے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ چونکہ کھجور پھلوں میں منتخب ترین پھل ہے، اس لیے اسے {”نَخِيْلٌ“} کہتے ہیں۔ اس کے پھل کے مختلف وقتوں کے لحاظ سے الگ الگ نام ہیں، {”اَلْبَلَحُ“} پھر {”اَلْبُسْرُ“} پھر {”اَلرُّطَبُ“} پھر {”اَلتَّمْرُ“}۔ اس لیے اس کے درخت کا نام لیا اور انگور کے پھل کا نام جمع کے ساتھ {” الْاَعْنَابِ “} لیا، کیونکہ انگور کی بے شمار قسمیں ہیں، البتہ اس کی بیل کو عربی میں{”اَلْكَرْمُ“} کہتے ہیں۔ {” سَكَرًا “} نشہ آور چیز، یہ {”سَكَرٌ“} اور {”سُكْرٌ“} دونوں طرح پڑھا جاتا ہے، جیسے {”رَشَدٌ“} اور {”رُشْدٌ“}۔ ➋ دودھ والے جانوروں کے بعد پھلوں کی نعمت ذکر فرمائی۔ عرب میں یہ دو پھل زیادہ تھے، پھر یہ تازہ بھی کھائے جاتے ہیں اور ذخیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ان سے بے شمار مصنوعات بھی بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بنائی ہوئی چیزوں کو دو قسمیں قرار دیا، ایک نشہ آور اور ایک رزق حسن۔ اس سے اشارہ فرمایا کہ نشہ بھی اگرچہ فائدے سے خالی نہیں مگر وہ اچھا رزق نہیں۔ یہ آئندہ شراب کی حرمت کی تمہید ہے اور بطور نعمت اس لیے ذکر کیا کہ مکہ میں شراب حلال تھی اور یہ سورت مکی ہے۔ ➌ {لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} رزق حسن میں لذت و قوت تو ہے، مگر سکر کی طرح عقل سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا نقصان نہیں، یہ بات عقل والے ہی سمجھتے ہیں۔
وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دیکھو، تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور ان چھپروں میں جن پر لوگ بیلیں چڑھاتے ہیں گھر (چھتے) بنایا کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ کچھ پہاڑوں میں سے گھر بنا اور کچھ درختوں میں سے اور کچھ اس میں سے جو لوگ چھپر بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔ «ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] ‏‏‏‏ میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:] ‏‏‏‏ شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔

مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔‏‏‏‏“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔ ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] ‏‏‏‏ میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔ چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684] ‏‏‏‏ بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔

بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5431] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681] ‏‏‏‏ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔

اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» ۱؎ [50-ق:9] ‏‏‏‏ ’ ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔ ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ «سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔
68۔ 1 وَحَیً سے مراد الہام اور وہ سمجھ بوجھ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طبعی ضروریات کی تکمیل کے لئے حیوانات کو بھی عطا کی ہے۔
(آیت69،68) ➊ {وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ:} وحی کا اصل معنی تو اشارۂ سریعہ ہے، یعنی خفیہ طریقے سے بات سمجھا دینا، جو دوسرا نہ سمجھے۔ یہاں مراد الہام ہے، یعنی دل میں ڈال دینا۔ شہد کی مکھی اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے، اس لیے عرب زبان میں اس کا نام ہی {” النَّحْلِ “ } رکھا گیا، جو {”نَحَلَ يَنْحَلُ“} (ف) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، اس کا معنی عطیہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً }» [ النساء: ۴ ] ”اور عورتوں کو ان کے مہر بطور عطیہ (خوش دلی سے) دو۔“ اللہ تعالیٰ نے انسان بلکہ ہر مخلوق کی طبیعت اور فطرت میں اس کے فائدے اور نقصان کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہی وہ فطری رہنمائی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ شمس میں فرمایا: «{ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا (7) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا }» [الشمس: ۷، ۸ ] ”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ٹھیک بنایا! پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیز گاری (کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔“ البتہ انسان اور دوسری مخلوق کا فرق یہ ہے کہ دوسرے سب فطری ہدایت کے پابند رہتے ہیں، مثلاً جانوروں کو دیکھ لیں، جب ان کا پیٹ بھر جائے تو مجال نہیں کہ ایک لقمہ بھی کھائیں۔ گدھا جسے سب سے کند ذہن سمجھا جاتا ہے، اللہ کی فطری ہدایت کے تحت بچے کو بھی سوار کر لیتا ہے اور پانی کا نالہ آنے پر ٹھہر کر اندازہ کرتا ہے، اگر پار کر سکتا ہو تو چھلانگ لگائے گا ورنہ نہیں۔ یہ انسان ہی ہے جو فطرت کی ہدایت کو جب چاہتا ہے عمل میں لاتا ہے، نہیں چاہتا تو عمل میں نہیں لاتا، کئی دفعہ اتنا کھا جاتا ہے کہ بدہضمی یا ہیضے کا شکار ہو جاتا ہے۔ ➋ {اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا …: ” يَعْرِشُوْنَ “} چھپر بنانے سے مراد گھروں کے باہر یا کھیتوں میں بیٹھنے کے لیے سائے والے چھپر بھی ہیں اور بانسوں اور سرکنڈوں وغیرہ کے وہ کھلے چھپر بھی جو انگوروں کی بیلیں چڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ {” مِنْ “} تینوں جگہ تبعیض کے لیے ہے، یعنی ہر پہاڑ، درخت اور چھپر گھر بنانے کے قابل نہیں، ان میں سے مناسب جگہوں کا انتخاب کرو۔ اس کے بعد کھانے پر کوئی پابندی نہیں، ہر پھل میں سے کھاؤ، یعنی {” ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ “} یہ امر اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں کہ ضرور ہی ہر پھل میں سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چاہو کھاؤ، جیسے کہتے ہیں حرام چھوڑ کر ہر چیز کھاؤ، یعنی تمھیں اجازت ہے۔ اس حکم کی تعمیل مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ مکھیاں پہلے اپنا چھتا بناتی ہیں، پھر خوراک کے لیے نکلتی ہیں۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت میں اس کے نفع نقصان کی سمجھ رکھ دی ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى }» [ طٰہٰ: ۵۰ ] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ مگر شہد کی مکھی کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا: «{ وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ }» ”اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔“ اس لیے اہل علم نے اس کے گھر بنانے، اس کے نظام زندگی اور شہد بنانے کے عمل پر بہت تحقیق کرکے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ یہ چھوٹا سا جانور باقاعدہ ایک منظم حکومت کے تحت رہتا ہے۔ پورے چھتے کی ایک ہی ملکہ ہوتی ہے، جس کے حکم اور تقسیم کار کے مطابق تمام مکھیاں عمل کرتی ہیں۔ یہ ملکہ دوسری مکھیوں سے قدو قامت اور وضع قطع میں ممتاز ہوتی ہے۔ مکھیاں اس کے لیے خاص غذا مہیا کرتی ہیں، جسے ”غذاء الملکہ“ کہتے ہیں، جو نہایت مقوی ہوتی ہے۔ یہ ملکہ تین ہفتوں میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس کے حکم اور فرائض کی تقسیم کے مطابق تمام مکھیاں الگ الگ کام سرانجام دیتی ہیں۔ کچھ دربان ہوتی ہیں جو کسی اجنبی کو اندر نہیں آنے دیتیں، کچھ انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ نئے نکلنے والے بچوں کی تربیت کرتی ہیں، کچھ موم کے ساتھ چھتا بنانے کے لیے معماری کا کام کرتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو انھیں موم پہنچاتی ہیں۔ بعض سپاہی ہوتی ہیں، جن کا کام چھتے کی حفاظت اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے، کچھ پھولوں اور پھلوں سے رس چوستی ہیں جو ان کے پیٹوں کے کارخانے میں شہد بنتا ہے، وہ مکھیوں اور ان کے بچوں کے لیے خوراک اور انسان کے لیے غذا و دوا بنتا ہے، جب کہ موم انسان کی متعدد ضروریات، مثلاً روشنی، علاج وغیرہ کے کام آتا ہے۔ ان کا چھتا بھی قدرت کی کاریگری کا عجیب نمونہ ہے، ہر خانہ مسدس (چھ ضلعوں والا) ہوتا ہے جو مکھی کے جسم کے عین مطابق (گول اور لمبا) ہوتا ہے اور ہر ضلع ایسا برابر کہ پرکار اور مسطر سے بھی کوئی فرق نہیں نکلے گا۔ مسدس بنانے میں یہ حکمت ہے کہ گول یا مربع یا کسی بھی اور شکل کا ہوتا تو یا گھر کے اندر مکھی کے جسم سے زائد جگہ بچ جاتی یا گھروں کے باہر درمیان میں جگہ بچ جاتی۔ یہ مکھیاں صفائی کا نہایت اہتمام رکھتی ہیں، اپنے فضلے کے لیے الگ جگہ مقرر رکھتی ہیں۔ چھتے سے فضلہ ساتھ ہی ساتھ باہر نکالتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ صاف پانی پیتی ہیں۔ کوئی گندگی سے آلودہ مکھی آ جائے تو دربان اندر نہیں جانے دیتے، بلکہ انھیں مار دیا جاتا ہے۔ بے کار مکھیوں کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے، اگر کوئی مکھی مر جائے تو فوراً اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ گرمی کی شدت سے شہد گرنے کاخطرہ ہو تو پروں سے ہوا دے کر اسے ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ ملکہ مکھی کے علاوہ کوئی اور ملکہ ظاہر ہو تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے، تاکہ نظام میں خرابی پیدا نہ ہو۔ جیسا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے دعوے دار کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الأمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین…: ۶۰ /۱۸۵۲ ] غرض ایک عجیب منظم سلطنت ہے جو انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہے۔ ➍ { فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا:ذُلُلًا”ذَلُوْلٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی مطیع اور مسخر ہے اور یہ {” سُبُلَ “} سے حال ہے، یعنی گھر بنانے کے بعد شہد بنانے والی مکھیاں دن کو نکلتی ہیں اور بعض اوقات پھولوں اور پھلوں کی تلاش میں بہت دور نکل جاتی ہیں، پھر پیٹ میں پھلوں کا رس اور پاؤں میں موم کا مادہ لے کر دن بھر میں کئی چکر اپنے گھر کی طرف لگاتی ہیں۔ رات کو دوبارہ اپنے چھتے میں واپس آ جاتی ہیں۔ اتنی دور سے ٹھیک اسی جگہ واپس آنا ممکن نہ تھا، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے کھیتوں، شہروں، صحراؤں اور پہاڑوں کے دور دراز اور بے نشان راستے اس کے لیے ایسے آسان اور مسخر کر دیے ہیں کہ وہ انھی پر واپس پلٹ کر عین اپنے چھتے میں پہنچ جاتی ہے، کبھی دوسرے چھتے میں نہیں جاتی۔ {” فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تیرے رب نے شہد بنانے کے لیے جو جو مرحلے اور طریقے رکھے ہیں، وہ سب تیری دسترس میں کر دیے ہیں، سو تو ان پر چلتے ہوئے شہد تیار کر۔ ➎ {يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ:شَرَابٌ “} یعنی مشروب، اس سے معلوم ہوا کہ شہد اصل میں پینے کی چیزہے، خالص پی لو یا دودھ یا پانی وغیرہ ملا کر۔ پھلوں، پھولوں، موسم اور علاقے کے لحاظ سے شہد مختلف رنگوں، ذائقوں اور خاصیتوں کا حامل ہوتا ہے، جبکہ دودھ سفید ہی ہوتا ہے، یہ بھی پروردگار کی کاریگری ہے۔ ➏ { فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ:} اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ ایک زہریلے کیڑے کے پیٹ میں تیار ہونے والے مشروب میں لوگوں کے لیے شفا رکھ دی ہے۔ یہاں {” شِفَآءٌ “} نکرہ ہے جو اثبات کے تحت آیا ہے، اس لیے اس کا ہر مرض کے لیے شفا ہونا تو واضح نہیں ہوتا۔ اسی طرح {” لِلنَّاسِ “} کا الف لام بھی جنس یا استغراق کے لیے مانیں تو سب لوگوں کے لیے شفا مراد ہو گی، عہد کے لیے مانیں تو پھر انھی کے لیے شفا ہو گی جن کا علاج شہد سے ہو سکتا ہے۔{ ” شِفَآءٌ “} میں تنوین کا ترجمہ بڑی شفا بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال شہد چونکہ بے شمار پھولوں اور پھلوں کا خلاصہ ہے، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی بیماری کا علاج ہے، اس لیے شہد میں ہر بیماری کا علاج ہونا کچھ بعید نہیں۔ جس طرح اب کئی ہو میو اور دوسرے ڈاکٹر ایک ہی وقت میں بہت سی دواؤں کا مجموعہ دے دیتے ہیں کہ کوئی دوا تو بیماری کے مطابق ہو گی۔ غرض شہد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس میں لذت بھی ہے اور شفا بھی۔ شہد میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ نمی کو جذب کرتا ہے اور اس میں جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے، اس لیے زخم اور پھوڑے پر لگانے سے وہ درست ہو جاتا ہے۔ آنکھوں اور پیٹ کی بیماریوں کا علاج ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسہال (دستوں) کے مریض کو بار بار شہد پلانے اور آخر کار اس کے تندرست ہونے کی حدیث صحیح بخاری (۵۷۱۶) میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت اوراحادیث سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ شہد ہر بیماری کا علاج ہے، مگر ہر بیماری کے لیے اس کی مقدارِ خوراک اور طریقِ استعمال تجربے اور تحقیق ہی سے طے ہو سکتے ہیں جو اطباء کا کام اور ان کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ اس پر مسلمان اطباء نے اتنی محنت نہیں کی کہ اس خزانے سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے، البتہ اس کی ایک خاصیت سے تمام مسلم اطباء شروع سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں، وہ یہ کہ اس میں رکھی ہوئی چیز محفوظ ہو جاتی ہے، خراب نہیں ہوتی، اس لیے وہ تمام معجونیں، خمیرے اور جوارشیں محفوظ رکھنے کے لیے سیکڑوں برس سے شہد میں بناتے آ رہے ہیں، جس سے وہ دواؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے الکحل جیسی حرام چیز کے محتاج نہیں ہوئے۔ (والحمد للہ) ➐ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ …:} شہد کی مکھی کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کا علم غورو فکر کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”تین پتے بتائے برے میں سے بھلا نکلنے کے: (1) جانور کے پیٹ سے دودھ۔ (2) نشے کے انگور اور کھجور سے روزی پاک۔ (3) اور مکھی کے پیٹ سے شہد۔ یعنی اس قرآن سے جاہلوں کی اولاد عالم نکلے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یوں ہی ہوا، کافروں کی اولاد کامل ہوئی۔“ (موضح)
ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ اِس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی ره، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہر قسم کے پھلوں (اور پھولوں) کا رس چوسا کر پس اپنے پروردگار کی ہموار کردہ راہوں پر چلتی رہ۔ شہد کی ان مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا وہ مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا، پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو مسخر کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لیے ایک قسم کی شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔ «ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] ‏‏‏‏ میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:] ‏‏‏‏ شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔

مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔‏‏‏‏“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔ ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] ‏‏‏‏ میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔ چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684] ‏‏‏‏ بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔

بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5431] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681] ‏‏‏‏ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔

اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» ۱؎ [50-ق:9] ‏‏‏‏ ’ ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔ ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ «سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔
69۔ 1 شہد کی مکھی پہلے پہاڑوں میں، درختوں میں انسانی عمارتوں کی بلندیوں پر اپنا مسدس خانہ اور چھتہ اس طرح بناتی ہے کہ درمیان میں کوئی شگاف نہیں رہتا۔ پھر وہ باغوں، جنگلوں، وادیوں اور پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں کا جوس اپنے پیٹ میں جمع کرتی ہے اور پھر انھیں راہوں سے، جہاں جہاں سے وہ گزرتی ہے، واپس لوٹتی ہے اور اپنے چھتے میں آ کر بیٹھ جاتی ہے، جہاں اس کے منہ یا دبر سے وہ شہد نکلتا ہے جسے قرآن نے ' شراب ' سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی مشروب روح افزا۔ 69۔ 2 کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی نیلا اور کوئی زرد رنگ کا، جس قسم کے پھلوں اور کھیتوں سے وہ خوراک حاصل کرتی ہے، اسی حساب سے اس کا رنگ اور ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ 69۔ 3 شِفَاء میں تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی بہت سے امراض کے لئے شہد میں شفا ہے۔ یہ نہیں کہ مطلقًا ہر بیماری کا علاج ہے۔ علمائے طب نے تشریح کی ہے کہ شہد یقیناً ایک شفا بخش قدرتی مشروب ہے۔ لیکن مخصوص بیماریوں کے لئے نہ کہ ہر بیماری کے لئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حلوا میٹھی چیز اور شہد پسند تھا (صحیح البخاری، کتاب الاشربہ۔ باب شراب الحلواء والعسل) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تین چیزوں میں شفا ہے۔ فصد کھلوانے (پچھنے لگانے) میں شہد کے پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغ لگونے سے منع کرتا ہوں۔ حدیث میں ایک واقعہ بھی آتا ہے اسہال (دست) کے مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد پلانے کا مشورہ دیا جس سے مزید فضلات خارج ہوئے اور گھر والے سمجھے کہ شاید مرض میں اضافہ ہوگیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جا اور اسے شہد پلا چناچہ تیسری مرتبہ میں اسے شفائے کاملہ حاصل ہوگئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دیکھو، اللہ نے تم کو پیدا کیا، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی بد ترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ بیشک اللہ دانا اور توانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری جان قبض کرے گا اور تم میں کوئی سب سے ناقض عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے بیشک اللہ کچھ جانتا ہے سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہی تمہیں وفات دے گا اور تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کو (بڑھاپے کی) بدترین عمر تک لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ (بہت کچھ) جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانیں بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا قدرت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھیں پیدا کیا، پھر وہ تمھیں فوت کرتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جان لینے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین دعا ٭٭

تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پچھتر سال کی عمر میں عموماً انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے طاقت ختم ہو جاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہو جاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہو جاتا ہے۔‏‏‏‏“ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَأَعُوذ بِك مِنْ الْبُخْل وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَأَرْذَل الْعُمُر وَعَذَاب الْقَبْر وَفِتْنَة الدَّجَّال وَفِتْنَة الْمَحْيَا وَالْمَمَات» یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4707] ‏‏‏‏ زہیر بن ابوسلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔
70۔ 1 جب انسان طبعی عمر سے تجاوز کرجاتا ہے تو پھر اس کا حافظہ بھی کمزور ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف، اور وہ نادان بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہی طویل عمر ہے جس سے نبی نے بھی پناہ مانگی ہے۔
(آیت70) ➊ {وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ…:} بارش اور اس کے اثرات، چوپاؤں اور ان سے حاصل ہونے والے دودھ، کھجور اور انگور اور ان سے حاصل ہونے والی اشیاء اور شہد کی مکھی کی عجیب و غریب کارکردگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب خود انسان کے اندر پائے جانے والے دلائل میں سے چند کا بیان فرمایا۔ اس آیت میں انسان کی زندگی کے چار پانچ دور مذکور ہیں۔ سب سے پہلے پیدائش، اس کے ساتھ فوت کرنے کا ذکر فرمایا، باقی ادوار کا بعد میں ذکر فرمایا، کیونکہ پیدائش کے بعد ہر شخص پر ان تمام ادوار کا گزرنا ضروری نہیں۔ وفات کبھی پیٹ ہی میں ہو جاتی ہے، کبھی زندگی کے کسی اور مرحلے میں۔ کچھ لوگ سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، جس میں انسان پھر بالکل بچپن والی حالت کی طرح کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کی بے بسی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس کے ہوش و حواس سلب ہو جاتے ہیں اور جو کچھ سیکھا پڑھا تھا، یا زندگی میں گزرا تھا سب بھول جاتا ہے۔ ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ بچپن اور ارذل العمر کے درمیان کے مرحلے ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ بچپن، لڑکپن جوانی، کمال قوت کو پہنچنا، ادھیڑ عمر، بڑھاپا اور آخر میں ارذل العمر۔ اگر اللہ چاہے تو ان میں سے کسی مرحلے کو بھی ارذل العمر میں بدل دے۔ اس آیت کی مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۵۴) اور سورۂ یٰس (۶۸)۔ ➋ { ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ:} یہاں پیدائش کے بعد وفات کو بھی بطور آیت و نعمت ذکر فرمایا۔ آیت (نشانی) تو مومن و کافر ہر ایک کے لیے ہے، البتہ نعمت صرف مومن کے لیے ہے، خواہ وہ زندگی کے کسی مرحلے میں فوت ہو، کیونکہ نکمی عمر سے اس کے بغیر نجات کی کوئی صورت نہیں اور زندگی کے جس دور میں بھی فوت ہو قید خانے سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ ] [ مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر: ۲۹۵۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔“ پھر موت کے نعمت ہونے میں کیا شک ہے۔ ➌ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرو جن کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ] [ بخاری، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر…: ۶۳۷۴ ] ”اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے ارذل العمر (سب سے نکمّی عمر) کی طرف لوٹایا جائے اور میں دنیا کی آزمائشوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ ➍ {اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ:} زندگی کے یہ تمام ادوار اور موت کمال علم و قدرت کے بغیر کوئی پیدا نہیں کر سکتا اور وہ ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ ➎ بعض اہل علم نے فرمایا کہ باعمل علماء ارذل العمر سے محفوظ رہتے ہیں، اگر ان کی عمر زیادہ ہو تب بھی ان کی عقل اور حافظہ قائم رہتے ہیں۔ اس کا اشارہ اس آیت کی بعض تفسیروں سے نکلتا ہے: «{ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ (5) اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ }» [ التین: ۵، ۶ ] ”پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں میں سے سب سے نیچا کر دیا، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔“ شنقیطی رحمہ اللہ اور بہت سے محدثین کا سو سے زیادہ عمر کے باوجود عقل و حافظہ محفوظ رہا۔
وَ اللّٰہُ فَضَّلَ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ فِی الرِّزۡقِ ۚ فَمَا الَّذِیۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّیۡ رِزۡقِہِمۡ عَلٰی مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ ؕ اَفَبِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے اِن لوگوں کو انکار ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وه اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وه اور یہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر رزق میں بڑائی دی تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں تو کیا اللہ کی نعمت سے مکرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق کے معاملہ میں فضیلت (برتری) دی ہے پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں (اور زیر دستوں) کو لوٹا دینے والے نہیں ہیں تاکہ وہ سب اس میں برابر ہو جائیں تو کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فوقیت بخشی ہے، پس وہ لوگ جنھیں فوقیت دی گئی ہے کسی صورت اپنا رزق ان (غلاموں) پر لوٹانے والے نہیں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں کہ وہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی جہالت کا ایک انداز ٭٭

مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے «(‏‏‏‏لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ)‏‏‏‏‏‏‏‏» یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏ پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھہرا رہے ہو؟ ‘ یہی مضمون آیت «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» [30-الروم:28] ‏‏‏‏، میں بیان ہوا ہے، کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو؟ ‘ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لیے وہ پسند کرنا، جو اپنے لیے بھی پسند نہ ہو۔ یہ ہے مثال معبودان باطل کی۔ جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہوگا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الٰہی ادا کرتے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں۔
71۔ 1 یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اتنا مال اسباب دنیا نہیں دیتے کہ تمہارے برابر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کب یہ پسند کرے گا کہ تم کچھ لوگوں کو، جو اللہ ہی کے بندے اور غلام ہیں اللہ کا شریک اور اس کے برابر قرار دے دو، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معاشی لحاظ سے انسانوں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے فطری نظام کے مطابق ہے۔ جسے جبری قوانین کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا کہ اشتراکی نظام میں ہے یعنی معاشی مساوات کی غیر فطری کوشش کی بجائے ہر کسی کو معاشی میدان میں کسب معاش کے لئے مساوی طور پر دوڑ دھوپ کے مواقع میسر ہونے چاہیں۔ 71۔ 2 کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غیر اللہ کے لیے نذر نیاز نکالتے ہیں اور یوں کفران نعمت کرتے ہیں۔
(آیت71) ➊ {وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ …:} یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اپنے رزق اور اختیار کا کوئی حصہ دے کر اپنے برابر کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ انسان ہونے میں وہ بالکل تمھاری طرح ہیں، پھر اللہ کے عبید (غلاموں) کو اس کے شریک کیوں بناتے ہو؟ مکہ کے مشرکوں کی عقل کا ماتم کیجیے جو حج و عمرہ پر لبیک کہتے ہوئے یہ اقرار کرنے کے بعد کہ تیرا کوئی شریک نہیں، پھر کہتے سوائے ایک شریک کے، جس کا مالک بھی تو ہے، وہ مالک نہیں۔ [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ و صفتہا…: ۱۱۸۵ ] جب وہ مملوک ہے تو شریک کیسے بن گیا؟ تم اپنے لیے جو بات پسند نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں تسلیم کرتے ہو۔ ➋ اس آیت سے کمیونسٹوں (اشتراکیوں) کے قول کی بھی واضح تردید ہوتی ہے کہ تمام لوگوں کے پاس ایک جیسا رزق ہونا چاہیے، جس کے پاس زائد ہو وہ چھین لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ ممکن ہی نہیں، نہ کائنات کا نظام اس سے چل سکتا ہے نہ کبھی ایسا ہوا ہے، حتیٰ کہ کمیونسٹ حکام اور عوام کے معیار زندگی میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ مزید کئی آیات سے اس کی تائید ہوتی ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۸) اور سورۂ زخرف (۳۲)۔
وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روز ی دی تو کیا جھوٹی بات پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے منکر ہوتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے ہی تمہاری جنس سے تمہارے لئے بیویاں بنائیں اور پھر ان بیویوں سے بیٹے اور پوتے عنایت فرمائے اور تمہاری روزی کیلئے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں تو کیا (پھر بھی) یہ لوگ باطل کو مانتے رہیں گے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے رہیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھارے لیے خود تمہی میں سے بیویاں بنائیں اور تمھارے لیے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا تو کیا وہ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بندوں پر اللہ تعالٰی کا احسان ٭٭

اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ ’ انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لیے پیدا کیں ‘۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی، اولاد پھیلائی، لڑکے ہوئے، لڑکوں کے لڑکے ہوئے۔ «حَفَدَةً» کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ”انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“ «حَفَدَةً» اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے لیے کام کاج کرے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس سے مراد دامادی رشتہ ہے اس کے معنی کے تحت میں یہ سب داخل ہیں۔ چنانچہ قنوت میں جملہ آتا ہے «وَإِلَيْك نَسْعَى وَنَحْفِدُ» ہماری سعی کوشش اور خدمت تیرے لیے ہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اولاد سے، غلام سے، سسرال والوں سے، خدمت حاصل ہوتی ہے ان سب کے پاس سے نعمت الٰہی ہمیں ملتی ہے۔ ہاں جن کے نزدیک «حَفَدَةً» کا تعلق «أَزْوَاجًا» سے ہے ان کے نزدیک تو مراد اولاد اور اولاد کی اولاد اور داماد اور بیوی کی اولاد ہیں۔ پس یہ سب بسا اوقات اسی شخص کی حفاظت میں، اس کی گود میں اور اس کی خدمت میں ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی مطلب سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ { اولاد تیری غلام ہے }۔ جیسے کہ ابوداؤد میں ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور جنہوں نے «حَفَدَةً» سے مراد خادم لیا ہے، ان کے نزدیک یہ معطوف ہے اللہ کے فرمان آیت «وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [16-النحل:72] ‏‏‏‏ پر یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں اور اولاد کو خادم بنا دیا ہے اور تمہیں کھانے پینے کی بہترین ذائقے دار چیزیں عنایت فرمائی ہیں ‘۔ پس باطل پر یقین رکھ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرنی چاہیئے۔ رب کی نعمتوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کی دوسروں کی طرف نسبت کر دی۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے احسان جتاتے ہوئے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ میں نے تجھے ذی عزت نہیں بنایا تھا؟ میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا اور میں نے تجھے سرداری میں اور آرام میں نہیں چھوڑا تھا؟ ‘ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏
72۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا تذکرہ کر کے جو آیت میں مذکور ہیں، سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ دینے والا تو اللہ ہے، لیکن یہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور دوسروں کا ہی کہنا مانتے ہیں۔
(آیت72) ➊ {وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا …:” حَفَدَةً”حَفَدَ يَحْفِدُ “} (ض) سے {”حَافِدٌ“} کی جمع ہے، خدمت اور اطاعت میں جلدی کرنے والا، جیساکہ قنوت کی ایک دعا میں ہے: [ وَإِلَيْكَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ ] [ ابن خزیمۃ: ۲ /۱۵۵، ح: ۱۱۰۰ ] {”حَفِيْدٌ “} کی جمع {”حُفَدَاءُ“ } آتی ہے۔ {”حَافِدٌ“} اور {”حَفِيْدٌ“} بیٹوں کو اور اولاد کی اولاد کو کہتے ہیں، خادم کو بھی کہہ لیتے ہیں۔ (قاموس) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی احسان ذکر فرمائے ہیں، ایک تو تنہائی اور وحشت دور کرنے کے لیے ساتھی دیا، مرد کے لیے عورت، عورت کے لیے مرد۔ دوسرا یہ کہ وہ ساتھی اس کی جنس انسان سے دیا، کیونکہ دوسری جنس سے نہ انس حاصل ہو سکتا تھا، نہ سکون اور نہ موافقت۔ (دیکھیے روم: ۲۱) ہمارے والد ماجد آدم علیہ السلام کو جنت میں رہنے کے باوجود سکون تبھی حاصل ہوا جب انھیں اپنی جنس سے بیوی ملی۔ (دیکھیے نساء: ۱) اس سے اہل علم نے یہ بات بھی اخذ کی ہے کہ جن و انس کے درمیان نکاح کی اور ان سے اولاد ہونے کی تمام باتیں محض افسانہ ہیں۔ تیسرا یہ کہ میاں بیوی سے اولاد اور اولاد کی اولاد (بیٹے اور پوتے و نواسے) عطا فرمائے، جو بڑھاپے میں خوشی کا باعث اور سہارا بنتے ہیں اور خوش دلی سے بابا کی خدمت کرتے اور اس کے نام اور نسل کی بقا کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چوتھا یہ کہ پھر ان سب کی زندگی کی ہر ضرورت کے لیے پاکیزہ رزق عطا فرمایا۔ ➋ {اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی کیا اپنے بنائے ہوئے خداؤں، حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں اور داتاؤں کا احسان مانتے ہیں کہ انھوں نے ہی بیماری سے شفا دی، بیٹا دیا، یا روزی بخشی، حالانکہ وہ سب باطل ہیں اور وہم و خیال کے سوا ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶)۔ ➌ { وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں، اس کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار کرتے ہیں، اس کے بجائے بتوں اور بزرگوں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی، بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ سب باطل (جھوٹ) ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔
وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت (پرستش) کرتے ہیں جو ان کو آسمان و زمین سے روزی پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں آسمانوں اور زمین سے کچھ بھی رزق دینے کے مالک ہیں اور نہ وہ طاقت رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
73۔ 1 یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔
(آیت73) ➊ {وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …: ” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} میں ہر بت، تھان، آستانہ، زندہ و مردہ بزرگ، غرض ہر چیز آ گئی جسے وہ پوجتے اور پکارتے ہیں اور ان سب کے لیے {” مَا “} کا لفظ استعمال فرمایا جو عام طور پر ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں۔ {” رِزْقًا “ } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے کہ جو کسی معمولی سے معمولی رزق کے مالک بھی نہیںـ۔ اسی طرح {” شَيْـًٔا “} نکرہ ہے کہ کسی بھی رزق کی ملکیت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں، یعنی ان مشرکوں کی جہالت دیکھو کہ ان معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں جو نہ تو آسمان و زمین میں سے کسی بھی طرح کے رزق کی کچھ بھی ملکیت رکھتے ہیں، نہ آسمان سے بارش برسانے کے مالک، نہ زمین سے کچھ اگانے کے قابل، نہ کوئی چیز پیدا کرنے کے قابل، نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھنے کے قابل، پھر وہ معبود کیسے بن گئے؟ ➋ { وَ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ:} یہ اس غلط گمان کی تردید ہے کہ مالک تو واقعی اللہ تعالیٰ ہے، مگر ہمارے یہ دستگیر اس سے دلوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں، جیسا کہ ایک صاحب نے کہا: اولیاء راہست قدرت از اِلہ تیر جستہ باز آرندش زراہ ”اولیاء کو اللہ کی طرف سے یہ طاقت ملی ہوئی ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو راستے سے واپس لے آتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس کسی طرح بھی کوئی طاقت نہیں، نہ خود کچھ دینے کی، نہ اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت یا طاقت اور دھونس کے ساتھ مجبور کرکے دلوانے کی، بلکہ انھیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی ہمیں پکار بھی رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف: ۵، ۶) ان کے اس عقیدے کی تردید سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳) میں بھی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔ {” وَ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ “} میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔
فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ دیا کرو بے شک اللہ بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو۔ بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
74۔ 1 جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا ہے۔ پہلے اسے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بادشاہ تک اس کی رسائی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلی اور اونچی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو نہ اس قسم کی مثالیں دو۔ اس لیے کہ وہ تو واحد ہے، اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے، نہ حاضر و ناظر نہ سمیع وبصیر۔ کہ وہ بغیر کسی ذریعے کے رعایا کے حالات و ضروریات سے آگاہ ہوجائے جب کہ اللہ تعالیٰ تو ظاہر وباطن اور حاضر غائب ہر چیز کا علم رکھتا ہے، رات کی تاریکیوں میں ہونے والے کاموں کو بھی دیکھتا ہے اور ہر ایک کی فریاد سننے پر بھی قادر ہے۔ بھلا ایک انسانی بادشاہ اور حاکم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا مقابلہ اور موازنہ؟
(آیت74) ➊ { فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ:} مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی سننا پڑتی ہے، اسی طرح ہمارے یہ معبود، اوتار اور ٹھاکر بھی اللہ کی سرکار میں صاحبِ اختیار ہیں، اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں، سویہ مثال غلط ہے۔ بادشاہ تو سب کام خود نہیں کر سکتے مگر اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کا رتی برابر بھی دباؤ نہیں ہے۔ ➋ { وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ تمھاری بے علمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کر سکتا، کبھی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت کی طرح اپنے داتاؤں کو سیڑھی قرار دیتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہی نہیں، وہ بالکل قریب ہے اور کسی کا محتاج نہیں کہ اس کی سفارش رد نہ کر سکتا ہو۔ یہ سب تمھاری بے عقلی اور بے سمجھی ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے لیے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں، ان پر غور کرو۔
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ مَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّ جَہۡرًا ؕ ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر کیا وہ برابر ہوجائیں گے سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ایک مثال پیش کرتا ہے کہ ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور ایک دوسرا ہے جسے ہم نے بہترین رزق عطا کر رکھا ہے اور وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ بھی کرتا ہے کیا وہ سب برابر ہو سکتے ہیں؟ الحمد ﷲ (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) مگر اکثر لوگ (اتنی سیدھی بات بھی) نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ایک مثال بیان کی، ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ شخص جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور کھلم کھلا خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن اور کافر میں فرق ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔‏‏‏‏“ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لیے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔‏‏‏‏“
75۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ غلام اور آزاد کی مثال ہے کہ پہلا شخص غلام اور دوسرا آزاد ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ پہلا کافر اور دوسرا مومن ہے۔ یہ برابر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور بت (معبودان باطلہ) کی مثال ہے، پہلے سے مراد بت اور دوسرے سے اللہ ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مطلب یہی ہے کہ ایک غلام اور آزاد، باوجود اس بات کے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور بھی بہت سی چیزیں دونوں کے درمیان مشترکہ ہیں، اس کے باوجود رتبہ اور شرف اور فضل و منزلت میں تم دونوں کو برابر نہیں سمجھتے تو اللہ تعالیٰ اور پتھر کی ایک مورتی یہ دونوں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں۔
(آیت75) ➊ {ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا …: ” عَبْدًا “} کا معنی ہی غلام ہے، پھر بھی {” مَمْلُوْكًا “} کی تصریح اس لیے فرمائی کہ ایک لحاظ سے آسمان و زمین کا ہر شخص ہی {” عَبْدًا “} ہے، فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [ مریم: ۹۳ ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس عبد (غلام) بن کر آنے والا ہے۔“ سو یہاں مراد وہ عبد ہے جو کسی آدمی کی ملکیت میں ہے۔ ➋ {وَ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا …:} یہاں {” مَمْلُوْكًا “} کے مقابلے میں {”مَالِكًا“} کہنے کے بجائے {” وَ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا “} اس لیے فرمایا کہ انسان مالک بھی ہو تو اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ہمارا عطا کردہ ہے، ساتھ اسے یہ بھی یاد دلا دیا کہ ہمارا عطا کردہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے رہو، اپنا سمجھ کر چھپا کر نہ بیٹھ جاؤ۔ ➌ { هَلْ يَسْتَوٗنَ:} یعنی کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے میں ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک عاجز مملوک غلام کو، جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ایک کوڑی خرچ نہیں کر سکتا، ایک آزاد شخص کے برابر کر دے جو اپنے مال کا مالک ہے اور جہاں چاہے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتا رہتا ہے۔ تو کیا یہ بے بس غلام اور وہ آزاد مالک کبھی برابر ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ یہ دونوں انسان ہوتے ہیں، ذہنی اور جسمانی ساخت اور قوتوں میں تقریباً ایک جیسے ہیں، پھر بھی یہ ہر گز برابر نہیں ہو سکتے۔ تو جب یہ برابر نہیں ہو سکتے تو کوئی بھی بت یا بزرگ، نبی یا فرشتہ، زندہ یا مردہ، جو سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں، وہ ساری کائنات کے خالق اور ہر چیز کے مالک کے برابر ہو سکتے ہیں!؟ (قاسمی) ➍ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:} اوپر اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کہ ”کیا یہ برابر ہو سکتے ہیں“ ذکر کرنے کے بعد خود کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اس کا جواب سوال کے اندر ہی موجود ہے اور ہر سننے والا یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ”ہر گز نہیں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف فرمائی کہ ایسی عمدگی سے تمھیں کوئی نہیں سمجھائے گا۔ ➎ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} معلوم ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ توحید کی حقیقت کو پہچانتے تھے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے تثلیث اور مردہ پرستی پر ڈٹے ہوئے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو کسی موقع پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتے تھے، البتہ ان کے اکثر شرک کی قباحت جانتے ہی نہ تھے، بلکہ اپنے آبا و اجداد کی تقلید میں شرک کی راہ پر چلے جاتے تھے، اکثریت کا حال یہی رہا ہے۔
وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ ایک اور مثال دیتا ہے دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے کیا برابر ہوجائے گا ہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے، ف۱۶۷)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ دو آدمیوں کی مثال پیش کرتا ہے جن میں سے ایک گونگا ہے کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے وہ اسے جدھر بھی بھیجے وہ کسی بھلائی کے ساتھ واپس نہیں آتا اور دوسرا وہ ہے جو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے کیا وہ (پہلا) اور یہ (دوسرا) برابر ہو سکتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے ایک مثال بیان کی، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجتا ہے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا یہ اور وہ شخص برابر ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گونگے بت مشرکین کے معبود ٭٭

ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر سکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس یہ دونوں کیسے برابر ہو جائیں گے؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ غلام ہے جس پر آپ رضی اللہ عنہ خرچ کرتے تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
76۔ 1 یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ 76۔ 2 اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہوسکتے۔
(آیت76) ➊ {وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ …: ” اَبْكَمُ “} گونگا، اس کے ساتھ اس کا بہرا ہونا بھی لازم ہوتا ہے، کیونکہ آدمی سن کر ہی بولنا سیکھتا ہے۔ یہ مثال پہلی مثال سے بھی واضح ہے۔ دو آدمی ہیں، ایک میں چار خامیاں ہیں: (1) وہ {” اَبْكَمُ “} ہے کہ نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے۔ (2) {” لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ “} یعنی وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، چلو بول نہیں سکتا تو کسی ہنر ہی کا مالک ہو، ہاتھ پاؤں ہلا کر یا سر پر بوجھ اٹھا کر ہی کچھ کما سکے، نہیں، کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ (3) وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے اور غلام بھی ایسا بے کار کہ مالک ہی کو اس کا سارا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ (4) مالک اسے جہاں بھی بھیجے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بے چارہ راستہ ہی معلوم نہیں کر سکتا، نہ پوچھ سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص میں چار خامیوں کے بجائے دو خوبیاں ہیں: (1) وہ لوگوں کو عدل کا حکم دیتا ہے۔ معلوم ہوا وہ سنتا، بولتا اور سمجھتا ہے، وہ نہ {” اَبْكَمُ “} ہے اور نہ {” لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ “} ہے۔ (2) {” وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} یعنی وہ صحیح ترین راستے پر قائم ہے، جو سب سے مختصر اور منزل پر پہنچا دینے والا ہے، یعنی وہ نہ کسی پر بوجھ ہے، نہ راستے سے سراسر ناواقف۔ تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں! اسی طرح بندوں کے خود ساختہ معبود بت ہوں یا قبریں یا کچھ اور، وہ نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ کچھ کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے ہیں۔ اپنے مالک پر بوجھ ہیں، یعنی بجائے اس کے کہ یہ اپنے پجاریوں کے کسی کام آئیں خود ان کے پجاری مصیبت اٹھا کر پتھر، اینٹیں، سیمنٹ اور مستری لا کر انھیں بنواتے ہیں۔ پھر ان کی حفاظت اور مرمت کرتے، پہرا دیتے اور صفائی کرتے ہیں۔ یہ دونوں کیسے برابر ہو گئے؟ جب وہ دونوں آدمی برابر نہیں، حالانکہ مخلوق ہونے میں اور آدمی ہونے میں دونوں برابر ہیں، تو مشرکین کے بنائے ہوئے بت اور آستانے جو بے جان ہیں اور ان کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہو گئے اور اس کے شریک کس طرح بن گئے؟ ➋ بعض اہل علم نے دونوں آیتوں میں مذکور دو، دو آدمیوں کو مومن و کافر کی مثال قرار دیا ہے۔ بری صفات والے غلام سے مراد کافر اور اچھی صفات والے سے مراد آزاد مومن ہے، مگر اوپر بیان کردہ تفسیر زیادہ صحیح ہے۔
وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے، بلکہ اس سے بھی کچھ کم حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیاده قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آسمان و زمین کا سارا غیب اللہ ہی کے لئے ہے اور قیامت کا حکم تو صرف ایک پل جھپکنے کے برابر یا اس سے بھی قریب تر ہے اور یقینا اللہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے اور قیامت کا معاملہ نہیں ہے مگر آنکھ جھپکنے کی طرح، یا وہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے ‘۔ «وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی ‘۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔ «مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے ‘۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ { جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6502] ‏‏‏‏

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ { پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے }۔ آیت میں بیان ہے کہ ’ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو ‘ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» ۱؎ [67-الملك:23] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے ‘۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ’ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» ۱؎ [67-الملك:19] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے ‘۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ’ اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں ‘۔
77۔ 1 یعنی آسمان اور زمین میں جو چیزیں غائب ہیں اور وہ بیشمار ہیں اور انہی میں قیامت کا علم ہے۔ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لئے عبادت کے لائق بھی صرف ایک اللہ ہے نہ کہ وہ پتھر کے بت جن کو کسی چیز کا علم نہیں نہ وہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہیں۔ 77۔ 2 یعنی اس کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ وسیع و عریض کائنات اس کے حکم سے پلک جھپکنے میں بلکہ اس سے بھی کم لمحے میں تباہ برباد ہوجائے گی۔ یہ بات بطور مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت واقعہ ہے کیونکہ اس کی قدرت غیر متناہی ہے۔ جس کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے، اس کے ایک لفظ کُنْ سے سب کچھ ہوجاتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ تو یہ قیامت بھی اس کے کُنْ (ہو جا) کہنے سے برپا ہوجائے گی۔
(آیت77) ➊ {وَ لِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:غَيْبُ “} جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکے، نہ عقل سے، مخلوق سے پوشیدہ ہو۔ {” لِلّٰهِ “} خبر ہے {” غَيْبُ السَّمٰوٰتِ “} کی۔ بعد میں آنے کے بجائے پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ ”اللہ ہی کے پاس ہے“ کیا گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کے دلائل میں سے یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسے غیب کا ذکر فرما دیا جو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، کیونکہ وہ غیب کا علم کسی کو بتایا ہی نہیں گیا اور وہ قیامت ہے اور اس کا علم ہونا سچا معبود ہونے کی دلیل اور علم نہ ہونا باطل ہونے کی دلیل ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۲۱)۔ ➋ {وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ …: ” السَّاعَةِ “} زمانے کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ، مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ اچانک اتنے کم وقت میں قائم ہو جائے گی۔ {” اَوْ هُوَ اَقْرَبُ “} میں {” اَوْ “} بمعنی {” بَلْ “} ہے، جیسا کہ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ }» [ الصافات: ۱۴۷ ] ”اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“ دوسری جگہ اپنے امر (کُنْ) کے متعلق فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ }» [ القمر: ۵۰ ] ”اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔“ اور یہاں {” اَوْ هُوَ اَقْرَبُ “} فرمایا، کیونکہ آنکھ جھپکنا بھی کچھ وقت چاہتا ہے، قیامت اس سے بھی کم وقت میں قائم ہو جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ بعض علماء نے اس کا معنی یہ بھی بیان کیا ہے کہ تم قیامت کو بہت دور سمجھ رہے ہو، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آنکھ جھپکنے سے بھی زیادہ قریب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا (6) وَ نَرٰىهُ قَرِيْبًا }» [ المعارج: ۶، ۷ ] ”بے شک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔“
وَ اللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ۙ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ تم احسان مانو، ف۱۷۲)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہی نے تمہیں شکمِ مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اسی نے تمہارے لئے کان، آنکھ اور دل قرار دیئے ہیں کہ شاید تم شکر گزار بن جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھیں تمھاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے ‘۔ «وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی ‘۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔ «مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے ‘۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ { جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6502] ‏‏‏‏

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ { پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے }۔ آیت میں بیان ہے کہ ’ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو ‘ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» ۱؎ [67-الملك:23] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے ‘۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ’ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» ۱؎ [67-الملك:19] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے ‘۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ’ اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں ‘۔
78۔ 1 شَیْئًا، نکرہ ہے تم کچھ نہیں جانتے تھے، نہ نیکی و بدبختی کو، نہ فائدے اور نقصان کو۔ 78۔ 2 تاکہ کانوں کے ذریعے تم آوازیں سنو، آنکھوں کے ذریعے سے چیزوں کو دیکھو اور دل، یعنی عقل (کیونکہ عقل کا مرکز دل ہے) دی، جس سے چیزوں کے درمیان تمیز کرسکو اور نفع نقصان پہچان سکو، جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے، اس کی عقل و حواس میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب انسان شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کی یہ صلاحیتیں بھی قوی ہوجاتی ہیں، حتیٰ کہ پھر کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ 78۔ 3 یعنی یہ صلاحیتیں اور قوتیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے عطا کی ہیں کہ انسان ان عضا وجوارح کو اس طرح استعمال کرے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے۔ ان سے اللہ کی عبادت و اطاعت کرے۔ یہی اللہ کی ان نعمتوں کا عملی شکر ہے حدیث میں آتا ہے ' میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ علاوہ ازیں نوافل کے ذریعے سے بھی وہ میرا قرب حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے۔ حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور مجھ سے کسی چیز سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ تنبیہ: اس حدیث کا بعض لوگ غلط مطلب لے کر اولیاء اللہ کو خدائی اختیارات کا حامل باور کراتے ہیں۔ حالانکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ اپنی اطاعت و عباد اللہ کے لیے خالص کرلیتا ہے تو اس کا ہر کام صرف اللہ کی رضا کے کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے کانوں سے وہی بات سنتا اور اپنی آنکھوں سے وہی چیز دیکھتا ہے جس کی اللہ نے اجازت دی ہے، جس چیز کو ہاتھ سے پکڑتا ہے یا پیروں سے چل کر اس کی طرف جاتا ہے تو وہی چیز ہوتی ہے جس کو شریعت نے روا رکھا ہے وہ ان کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں کرتا بلکہ صرف اطاعت میں استعمال کرتا ہے۔
(آیت78) ➊ {وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ …:} اس سورت کی آیت(۶۵) «{ وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً }» سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اور اس کے اکیلے معبود ہونے کے جو دلائل شروع ہوئے تھے وہی سلسلۂ کلام جاری ہے۔ اس آیت میں پہلا انعام ماؤں کے پیٹوں سے نکالنا ہے۔ اس سے پہلے بہت سے مراحل خود بخود اس میں آ جاتے ہیں۔ نو ماہ تک پیٹ میں مکمل بچہ بنانے کے بعد اسے نکلنے کا راستہ مہیا کرنا اور ماں اور بچے دونوں کی خیریت کے ساتھ بچے کو باہر لے آنا کیا معمولی بات ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنے بڑے احسان کے باوجود انسان کے ناشکری اور شرک اختیار کرنے پر اس کے لیے بہت سخت الفاظ استعمال فرمائے، فرمایا: «{ قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ (17) مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ (18) مِنْ نُّطْفَةٍ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ (19) ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ}» [ عبس: ۱۷ تا ۲۰ ] ”مارا جائے انسان! وہ کس قدر ناشکرا ہے، اس نے اسے کس چیز سے پیدا کیا۔ ایک قطرے سے، اس نے اسے پیدا کیا، پس اس کا اندازہ مقرر کیا، پھر اس کے لیے (ماں کے شکم سے نکلنے کا) راستہ آسان کر دیا۔“ ➋ {لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا:} انسان ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو اسے کچھ علم نہیں ہوتا، پھر کچھ چیزیں اللہ تعالیٰ اسے فطری طور پر سکھا دیتا ہے، مثلاً ماں کا دودھ تلاش کر لینا، اسے چوسنا، جو چیز ملے منہ میں ڈالنا وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ کھانے پینے اور زندگی قائم رکھنے کی دوسری ضروریات کے حصول کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے علاوہ ہر چیز کی فطرت میں رکھ دیا ہے، ورنہ کوئی چیز زندہ نہ رہتی۔ ➌ {وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ …:} کان، آنکھیں اور دل اگرچہ ہر جاندار کو عطا ہوئے ہیں، مگر دوسرے تمام جاندار ان سے اتنا ہی فائدہ اٹھاتے ہیں جتنا ان کی فطرت میں ہے۔ بطخ آج سے لاکھوں سال پہلے جس طرح تیرتی تھی اب بھی اس میں کوئی تبدیلی یا ترقی نہیں ہوئی، یہی حال پرندوں کا اور چوپاؤں اور سمندری جانوروں کا ہے، درندے اور کیڑے مکوڑے بھی ایک ہی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں، جب کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار سے بھی نوازا ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے کسی بھی چیز کو اختیار کر سکتا ہے، پھر اس کو عطا کردہ کان، آنکھیں اور دل پچھلی نسلوں کے تجربے قلم سے محفوظ رکھتے ہیں، انھیں بعد والوں تک پہنچاتے اور نئی سے نئی ایجاد میں لگے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انسان ان کی بدولت اتنی دنیاوی ترقی کر چکا ہے کہ رہائش، سفر، کھانے پینے، غرض ہر چیز میں پہلے انسان اور آج کے انسان کی آسائشوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ اسی طرح توانائی کے حصول میں وہ ایٹم تک پہنچ گیا ہے، جس سے وہ بربادی کا بے حساب سامان بھی تیار کر چکا ہے اور انسانی فوائد کا بھی۔ غرض اگر انسان اللہ کی عطا کر دہ صلاحیتوں پر غور کرے تو کبھی نہ اس کے وجود کا انکار کرے، نہ اس کا کوئی شریک بنائے، نہ اس کے علاوہ کسی کو حاجت روا، مشکل کشا، داتا یا غریب نواز قرار دے کر پکارے، کیونکہ کسی نعمت میں کسی اور کا کوئی حصہ ہی نہیں اور نہ اس کی بندگی اور فرماں برداری میں کوتاہی کرے، بلکہ ہر دم اپنے دل، زبان اور ہر عضو کے ساتھ قولاً و عملاً اس کا شکر ادا کرے۔ ➍ { لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لیے بنایا کہ تم شکرکرو۔ یہاں اگرچہ ذکر نہیں فرمایا کہ انسان نے شکر ادا کیا یا نہیں، مگر دوسرے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے، جیسے فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ }» [ المؤمن: ۶۱ ] ”اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ }» [ سبا: ۱۳ ] ”اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر کرنے والے ہیں۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی پہچان کے لیے نہ اپنے ان کانوں سے کام لیتے ہیں، نہ آنکھوں سے اور نہ دلوں سے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹)۔
اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کسی طرح مسخر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے اِن کو تھام رکھا ہے؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں، بیشک اس میں ایمان ﻻنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے پرندے نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں، انہیں کوئی نہیں روکتا سوا اللہ کے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو، ف۱۷۴)
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح فضائے آسمان میں مسخر ہیں کہ اللہ کے علاوہ انہیں کوئی روکنے والا اور سنبھالنے والا نہیں ہے بے شک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھنے والی قوم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا انھوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا، آسمان کی فضا میں مسخر ہیں، انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں تھامتا۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے ‘۔ «وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی ‘۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔ «مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے ‘۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ { جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6502] ‏‏‏‏

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ { پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے }۔ آیت میں بیان ہے کہ ’ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو ‘ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» ۱؎ [67-الملك:23] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے ‘۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ’ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» ۱؎ [67-الملك:19] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے ‘۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ’ اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں ‘۔
79۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے پرندوں کو اس طرح اڑنے کی اور ہواؤں کو انھیں اپنے دوش پر اٹھائے رکھنے کی طاقت بخشی۔
(آیت79) {اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَآءِ …: ” الطَّيْرِ”طَائِرٌ“} کی جمع ہے، اڑنے والا، اگرچہ بعض لوگ {” فَاعِلٌ “} کی جمع {” فَعْلٌ “ } کا انکار کرتے ہیں، مگر شنقیطی رحمہ اللہ نے اس کی کئی مثالیں ذکر فرمائی ہیں، جیسا کہ {”صَاحِبٌ“} کی جمع {” صَحْبٌ۔“ } امرء القیس نے کہا: {وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِيْ عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ لَا تَهْلِكْ أَسًي وَ تَجَمَّلِ ”رَاكِبٌ “} کی جمع {”رَكْبٌ“}، {”شَارِبٌ“} کی {”شَرْبٌ“} اور {”سَافِرٌ“} کی {”سَفْرٌ“} وغیرہ۔ کیا ان مشرکوں نے آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے پرندوں پر غور نہیں کیا، وہ کون سی ہستی ہے جس نے ان کے پروں، بازوؤں اور دموں کی ساخت اڑنے کے قابل بنائی اور زمین و آسمان کے درمیان اڑتے ہوئے انھیں گرنے سے تھامے رکھا، کوئی دعوے دار ہی سامنے لائیں، پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے ہیں، سچ ہے کہ ان نشانیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو بات سمجھ جائیں تو مان لیں، جو ماننے پر آمادہ ہی نہ ہوں ان کے لیے ہر نشانی بے فائدہ ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۹)۔
وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ سَکَنًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُیُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَہَا یَوۡمَ ظَعۡنِکُمۡ وَ یَوۡمَ اِقَامَتِکُمۡ ۙ وَ مِنۡ اَصۡوَافِہَا وَ اَوۡبَارِہَا وَ اَشۡعَارِہَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لیے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو اُس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لیے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کر دیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی، اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقرره تک کے لیے فائده کی چیزیں بنائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں گھر دیئے بسنے کو اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بناےٴ جو تمھیں ہلکے پڑتے ہیں تمھارے سفر کے دن اور منزلوں پرٹھہر نے کے دن، اور ان کی اون اور ببری (رونگٹوں) اور بالوں سے کچھ گرہستی (خانگی ضروریات) کا سامان اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو وجہِ سکون بنایا ہے اور تمہارے لئے جانوروں کی کھالوں سے ایسے گھر بنا دیئے ہیں جن کو تم روزِ سفر بھی ہلکا سمجھتے ہو اور روزِ قیامت بھی ہلکا محسوس کرتے ہو اور پھر ان کے اون، روئیں اور بالوں سے مختلف سامانِ زندگی اور ایک مدت کے لئے کارآمد چیزیں بنا دیں۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے گھروں سے رہنے کی جگہ بنا دی اور تمھارے لیے چوپائوں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جنھیں تم اپنے کوچ کے دن اور اپنے قیام کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو اور ان کی اونوں سے اور ان کی پشموں سے اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کی چیزیں بنائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسانات الٰہی کی ایک جھلک ٭٭

قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات و انعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لیے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لیے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔

درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لیے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنالو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب و زینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ «تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟
80۔ 1 یعنی چمڑے کے خیمے، جنہیں تم سفر میں آسانی کے ساتھ اٹھائے پھرتے ہو، اور جہاں ضرورت پڑتی ہے اسے تان کر موسم کی شدتوں سے اپنے کو محفوط کرلیتے ہو۔ 80۔ 2 اَ صْوَاف، صُوْف، کی جمع۔ بھیڑ کی اون اَوْبَار، وَبَر، کی جمع، اونٹ کے بال، اَشْعَار، شَعَر، کی جمع، دنبے اور بکری کے بال۔ ان سے کئی قسم کی چیزیں تیار ہوتی ہیں، جن سے انسان کو مال بھی حاصل ہوتا ہے اور ان سے ایک وقت تک فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔
(آیت80) ➊ {وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا: ”بُيُوْتٌ“ ”بَيْتٌ“} کی جمع ہے۔ قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا، جو تمھارے اوپر ہو، سایہ کر رہی ہو اسے سقف، چھت اور سماء کہتے ہیں، جو نیچے ہو اسے ارض کہتے ہیں اور جو چاروں طرف سے تمھارے لیے پردہ کر رہی ہو اسے جدار (دیوار) کہتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب کے ساتھ منظم ہو جائیں تو وہ بیت (گھر) ہے۔ {” سَكَنًا “} مصدر ہے، اس کا معنی کسی جگہ میں رہنا بھی ہے، جیسے فرمایا: «{ اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ }» [ الطلاق: ۶ ] ”انھیں (یعنی مطلقہ بیویوں کو) وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق۔“ اس کا معنی سکون اور راحت بھی ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا }» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۸۹ ] ”اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جا کر) سکون حاصل کرے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رہائش کے متعلق اپنی کئی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر میں رہنے کی قدر اور اس میں آ کر ملنے والی راحت، عافیت اور سکون کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کے پاس گھر نہ ہو۔ اس آیت سے مکان کی قدر و قیمت اور اس نعمت کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ گھر جسمانی اور نفسیاتی سکون کی جگہ ہے۔ اسلام گھر کو سکون کی جگہ دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ باہمی جھگڑے اور اختلاف کی، کیونکہ یہ ”گھر“ کی حکمت اور مقصد کے خلاف ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے گھر کی حرمت رکھی۔ فرمایا کہ بلااجازت کوئی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہو، حتیٰ کہ جھانکنے سے بھی منع فرمایا اور تجسس سے بھی۔ گھر کی حرمت سورۂ نور (۲۷ تا ۲۹ اور ۵۸، ۵۹) میں دیکھیں۔ علاوہ ازیں سورۂ احزاب کی آیت (۵۳) بھی ملاحظہ فرما لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلسَّفَرُ قِطْعَةٌ مِّنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهٗ، فَإِذَا قَضَی نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلٰی أَهْلِهِ ] [ بخاری، العمرۃ، باب السفر قطعۃ من العذاب: ۱۸۰۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تمھارے ایک کو اس کے کھانے اور پینے اور اس کی نیند سے روک لیتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص اپنی حاجت پوری کر لے تو جلدی اپنے گھر آ جائے۔“ ➋ {وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا:} اگرچہ گھر کوئی بھی ہو بڑی نعمت ہے، مگر اینٹوں، پتھروں کا گھر بنانے میں نعمت ہونے کے باوجود مشقت، بوجھ اور خرچ زیادہ ہے، سب سے پہلے زمین حاصل کرنا، اینٹیں، پتھر، مصالحہ، مٹی، لکڑی، لوہا، غرض سب کچھ مہیا کرنا، پھر مستریوں کے ناز اٹھانا، سارے مراحل مشکل ہیں، پھر وہ مکان کہیں منتقل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا انعام دیکھیے کہ اس نے ہماری آسانی کے لیے جانوروں کے چمڑوں سے خیمے بنا دیے، چند لکڑیاں اور رسیاں اور بنا بنایا مکمل گھر، جہاں چاہا میخیں ٹھونک کر رسیاں باندھ کر خیمہ بنا لیا، اسی چمڑے کی قناتیں کھڑی کرکے چار دیواری بنا لی۔ پھر جب چاہا اکھاڑ کر تہ کرکے ساتھ رکھ لیا اور اگلی منزل پر روانہ ہو گئے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی ہلکے پلاسٹک اور المونیم کے خیمے عطا فرما دیے۔ ➌ {تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ يَوْمَ اِقَامَتِكُمْ …: ” تَسْتَخِفُّوْنَهَا”خَفَّ يَخِفُّ“} سے باب استفعال جمع مذکر حاضر ہے۔ {”يَوْمَ ظَعْنِكُمْ “} یہاں {” يَوْمَ “} سے مراد وقت ہے۔ {”أَصْوَافٌ“ ”صُوْفٌ“} کی جمع ہے، بھیڑ کی اون۔ {”أَوْبَارٌ“ ”وَبَرٌ “} کی جمع، اونٹ کی پشم۔ {”أَشْعَارٌ“ ”شَعْرٌ“} کی جمع ہے، بکریوں کے بال۔ {” اَثَاثًا “} گھر کا سازو سامان جو بہت ہو۔ {”أَثَّ يَؤُثُّ“} (ن) جب کوئی چیز بہت اور گھنی ہو۔ امرء القیس نے بالوں کی چوٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: {وَ فَرْعٍ يَزِيْنُ الْمَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ أَثِيْثٍ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ الْمُتَعَثْكِلِأَثِيْثٍ “} یعنی گھنے، {” مَتَاعًا “} گھر کی ضرورت کی خاص چیزیں جن سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔{ ” اَثَاثًا “} میں{ ” مَتَاعًا “} بھی داخل ہے، مگر اس کی اہمیت کی بنا پر الگ بھی ذکر فرمایا۔ {” اِلٰى حِيْنٍ “} ایک وقت تک، یعنی جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے، مثلاً نیا سامان آنے تک، یا اس کے پرانا ہونے تک، یا دنیا سے رخصت ہونے تک۔
وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَکۡنَانًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمُ الۡحَرَّ وَ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمۡ بَاۡسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کرده چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وه اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے سائے دیئے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے کہ تم فرمان مانو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے مخلوقات کا سایہ قرار دیا ہے اور پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنائی ہیں اور ایسے پیراہن بنائے ہیں جو گرمی سے بچا سکیں اور پھر ایسے پیراہن بنائے جو ہتھیاروں کی زد سے بچا سکیں۔ وہ اسی طرح اپنی نعمتوں کو تمہارے اوپر تمام کر دیتا ہے کہ شاید تم اطاعت گزار بن جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھارے لیے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں، سائے بنا دیے اور تمھارے لیے پہاڑوں میں سے چھپنے کی جگہیں بنائیں اور تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے، تاکہ تم فرماں بردار بن جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسانات الٰہی کی ایک جھلک ٭٭

قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات و انعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لیے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لیے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔

درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لیے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنالو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب و زینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ «تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟
81۔ 1 یعنی درخت جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ 81۔ 2 یعنی اون اور روئی کے کرتے جو عام پہننے میں آتے ہیں اور لوہے کی زرہیں اور خود جو جنگوں میں پہنی جاتی ہیں۔
(آیت81) ➊ {وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا …: ” ظِلٰلًا”ظِلٌّ“} کی جمع ہے، سائے۔{ ” اَكْنَانًا “} اور{ ”اَكِنَّةٌ“} دونوں {”كِنٌّ“} کی جمع ہیں، چھپاؤ کی جگہ یا چیز، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ» ‏‏‏‏ [ حٰمٓ السجدۃ: ۵ ] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل پردے میں ہیں۔“ {” سَرَابِيْلَ”سِرْبَالٌ“} کی جمع ہے، قمیص یا جو لباس بھی پہنا جائے۔ {” تَقِيْكُمُ”وَقٰي يَقِيْ“} سے مضارع معلوم واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا ضمیر جمع ہے، اس لیے واحد مؤنث ہے۔ چوپاؤں، مکانوں اور خیموں کے بعد گھر سے باہر سردی گرمی اور دشمن سے بچاؤ کرنے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے جن کے پاس مکان یا خیمہ نہیں، یا وہ سفر میں ہیں تو گرمی وغیرہ سے بچاؤ کے لیے مختلف سایوں کا ذکر کیا، مثلاً درختوں کا سایہ، مکانوں، دیواروں اور پہاڑوں کا سایہ، آبادیوں کا سایہ، چھتریوں کا سایہ، غرض یہی سائے گرمی سردی اور بارش سے بچانے کے کام آتے ہیں۔ ➋ { وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا:} اس میں پہاڑوں کی قدرتی غاریں، کھود کر بنائے ہوئے مکان اور پہاڑوں میں کھود کر بنائی ہوئی لمبی سرنگیں، جن میں فوجی سامان، اسلحہ، جہاز اور فوج محفوظ رکھی جاتی ہے، سب شامل ہیں۔ ➌ {وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ:} وہ لباس جو تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں، بعض اہل علم نے فرمایا کہ قرآن کے اولین مخاطب عرب تھے، وہاں گرمی زیادہ تھی، اس لیے صرف گرمی سے بچانے والے لباس ذکر فرمائے۔ مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ گرمی کا ذکر کافی سمجھ کر سردی کا الگ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ لباس گرمی سے بچاتا ہے تو سردی سے بھی بچاتا ہے۔ رہا عرب میں گرمی کا زیادہ ہونا تو اسی سورت کے شروع میں جانوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «{ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ }» [ النحل: ۵] ”تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے۔“ معلوم ہوا عربوں کو بھی سردی سے بچنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ بات زیادہ قوی ہے کہ قرآن مجید نے صرف گرمی کا ذکر کرکے سردی سے بچانے کی نعمت پر غور کرنا سننے والوں پر چھوڑ دیا، یا سورت کے شروع میں {” لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ “} (تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے) میں سردی سے بچاؤ کا ذکر پہلے ہو چکنے کی وجہ سے یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ {” وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ “} اس میں زرہ، خود، بلٹ پروف (گولی سے محفوظ) جیکٹیں، گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ سب شامل ہیں۔ ➍ { لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ:} یعنی تاکہ تم فرماں بردار اور اللہ تعالیٰ کے تابع بن جاؤ، اس لیے کہ جو شخص ان بے پایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضروری ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کی اطاعت اختیار کرے۔
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے محمدؐ، تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر یہ منھ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیﻎ کر دینا ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کے بعد بھی اگر یہ ظالم منہ پھیر لیں تو آپ کا کام صرف واضح پیغام کا پہنچا دینا ہے اور بس۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ پھر جائیں تو تیرے ذمے تو صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ’ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ’ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے ‘، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ’ اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ ‘ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا }۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت82){ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے۔ اس شرط کا جواب محذوف ہے جو بعد والے جملے سے سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر وہ پھر جائیں، نہ مانیں تو آپ کا کوئی نقصان ہے نہ آپ پر کوئی ملامت، کیونکہ آپ کے ذمے صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے، آپ اپنا فریضہ ادا کرتے جائیں، ایمان کی توفیق دینا یا نہ دینا ہمارے ہاتھ میں ہے، فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ }» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔“ پھر ان کا محاسبہ بھی ہمارے ذمے ہے، فرمایا: «{ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ }» [ الرعد: ۴۰ ] ”پس تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“
یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور اِن میں بیش تر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی نعمت پہنچانتے ہیں پھر اس سے منکر ہوتے ہیں اور ان میں اکثر کافر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور پھر انکار کرتے ہیں اور ان کی اکثریت کافر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نا شکرے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ’ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ’ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے ‘، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ’ اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ ‘ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا }۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔
83۔ 1 یعنی اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ساری نعمتیں پیدا کرنے والا اور ان کا استعمال میں لانے کی صلاحیتیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، پھر بھی اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ناشکری کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
(آیت83) ➊ {يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا: } یعنی خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے، مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں۔{ ” ثُمَّ “ } یہاں تعجب کے لیے ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر اللہ کی نعمتوں کا انکار کر دیتے ہیں، گویا دل میں نعمتوں کا اقرار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں، بلکہ پوچھنے پر اللہ کی نعمتوں کا اقرار زبان سے بھی کرتے ہیں، مثلاً تمھیں کس نے پیدا کیا؟ جواب دیں گے اللہ نے۔ (دیکھیے زخرف: ۸۷) اسی طرح سورۂ مومنون (۸۴ تا ۸۹) میں ان کے اعترافات ذکر فرمائے ہیں۔ مگر وہ ایمان لانے پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ صرف ”لا الٰہ الااللہ“ کہنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اپنی مرضی چھوڑ کر ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننا پڑے گا اور اس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بس ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا جنت کے لیے کافی سمجھا گیا ہے، خواہ پوری زندگی اس کے خلاف ہو۔ وجہ اس کی محض طوطے کی طرح کہنا اور مفہوم سے مکمل لاتعلقی ہے۔ بعض اہل علم نے {” نِعْمَتَ اللّٰهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی لی ہے، یعنی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ➋ { وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ:” اَكْثَرُهُمْ “} اس لیے فرمایا کہ ان کے اکثر جانتے ہوئے کافر تھے۔ کچھ جہل کی وجہ سے بھی انکار کرتے تھے، کچھ دل میں ایمان کا ارادہ بھی رکھتے تھے، کچھ چھوٹے بچے تھے، جو فطرتاً مسلمان تھے مگر کفار کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا شمار دنیوی لحاظ سے کفار میں ہوتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انصاف کا اور انتہائی احتیاط کا ایک نمونہ ہے کہ ان سب کو نعمت پہچان کر پھر کفر کرنے والے قرار نہیں دیا، بلکہ یہ حکم ان کے اکثر پر لگایا۔
وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا ثُمَّ لَا یُؤۡذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواه کھڑا کریں گے پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر کافروں کو نہ اجازت ہو نہ وہ منائے جائیں، ف۱۹۳)
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھا کر کھڑا کریں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ان سے اللہ کو راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے معافی کی درخواست لی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے ‘۔ سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» ۱؎ [77-المرسلات:36-35] ‏‏‏‏ ’ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ‘۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

جیسے کہ حدیث میں ہے { پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے }۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:12-14] ‏‏‏‏ ’ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ ‘۔ اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ‏‏‏‏ ’ گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39-40] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی ‘۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:6-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں ‘۔

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:81-82] ‏‏‏‏ ’ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے ‘۔ خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏‏‏‏ ’ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ‘۔
84۔ 1 یعنی ہر امت پر اس امت کا پیغمبر گواہی دے گا کہ انھیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ان کافروں کو عذر پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی، اس لئے کہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر یا حجت ہوگی ہی نہیں۔ نہ ان سے رجوع یا عتاب دور کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی ضرورت بھی اس وقت پیش آتی ہے جب کسی کو گنجائش دینا مقصود ہو، ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ انھیں اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ موقع تو دنیا میں دیا جا چکا ہے جو دارالعمل ہے۔ آخرت تو دارعمل نہیں، وہ تو دارالجزا ہے، وہاں تو اس چیز کا بدلہ ملے گا جو انسان دنیا سے کر کے گیا ہوگا، وہاں کچھ کرنے کا موقع کسی کو نہیں ملے گا۔
(آیت84) ➊ { وَ يَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا:} یعنی قیامت کے دن ہر امت کا پیغمبر اللہ کے سامنے کھڑا ہو گا اور ان تک حق پہنچا دینے کی شہادت دے گا، ساتھ ہی اگر انھوں نے تصدیق کی ہو گی تو اس کی اور اگر جھٹلایا ہو گا تو اس کی بھی شہادت دے گا۔ پیغمبروں کی وفات کے بعد جن لوگوں نے حق پہنچایا وہ یہ شہادت دیں گے۔ اس میں نعمت کے منکروں کے لیے وعید ہے۔ شہادت کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳)، نساء (۴۱)، حج (۷۸) اور سورۂ زمر (۶۹)۔ ➋ { ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کس چیز کی؟ دوسری جگہ اس کی وضاحت آئی ہے، اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس دن نہ وہ بول سکیں گے اور نہ انھیں عذر کرنے کی اجازت دی جائے گی، جیسے فرمایا: «{ هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ (35) وَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ۠ }» [ المرسلات: ۳۵، ۳۶ ] ”یہ دن ہے کہ نہ وہ بولیں گے اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر کریں۔“ دوسری یہ کہ جب وہ کہیں گے: «{ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (99) لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ }» [ المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰ ] (اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں) تو انھیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ واپس جانے پر بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۲۸) قرآن کی بلاغت دیکھیے، یہ فرمایا کہ اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ذکر نہیں کیا کہ کس چیز کی؟ کیونکہ وہ کئی چیزیں ہیں۔ ➌ { وَ لَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ: ”عَتَبَ يَعْتُبُ عَتْبًا“} (ن، ض) ناراض ہونا۔ {”أَعْتَبَ يُعْتِبُ“} ناراضگی دور کرنا۔ {”اَلْعُتْبٰي“} راضی کرنا، منانا۔ {”اِسْتَعْتَبَ فُلَانٌ فُلَانًا“} یعنی فلاں نے دوسرے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی، تاکہ وہ اس کی ناراضگی دور کر سکے، یا معافی مانگ سکے۔{” يُسْتَعْتَبُوْنَ“} کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے اس لیے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا جائے گا کہ وہ معافی کی درخواست کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور کر سکیں، یعنی انھیں اللہ کو راضی کرنے کی درخواست کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا۔
وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الۡعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ اُن کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر کی مہلت دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب یہ ﻇالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وه ڈھیل دیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ظلم کرنے والے جب عذاب دیکھیں گے اسی وقت سے نہ وہ ان پر سے ہلکا ہو نہ انہیں مہلت ملے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ظالم لوگ (ایک بار) عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو دیکھ لیں گے تو نہ وہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے ‘۔ سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» ۱؎ [77-المرسلات:36-35] ‏‏‏‏ ’ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ‘۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

جیسے کہ حدیث میں ہے { پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے }۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:12-14] ‏‏‏‏ ’ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ ‘۔ اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ‏‏‏‏ ’ گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39-40] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی ‘۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:6-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں ‘۔

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:81-82] ‏‏‏‏ ’ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے ‘۔ خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏‏‏‏ ’ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ‘۔
85۔ 1 ہلکا نہ کرنے کا مطلب، درمیان میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا، عذاب اور مسلسل بلا توقف عذاب ہوگا۔ اور نہ ڈھیل ہی دیئے جائیں گے یعنی، ان کو فوراً لگاموں سے پکڑ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا یا توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا، کیونکہ آخرت عمل کی جگہ نہیں، جزا کا مقام ہے۔
(آیت85) ➊ {وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ …:} ”وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا“ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ موحدین تو اپنے گناہوں کی سزا پا کر، یا شفاعت سے، یا محض اللہ کی رحمت سے عذاب سے نکل آئیں گے، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ }» [ النساء: ۱۱۶ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“ جب کہ ان ظالموں کے عذاب دیکھ لینے کے بعد نہ اس میں کمی کی جائے گی، نہ ایک لمحے کی مہلت دی جائے گی، بلکہ اسی وقت عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ {” الْعَذَابَ “} سے مراد کفار کے ہر طبقے کے لیے خاص عذاب مراد ہے۔ ➋ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، جب کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ کے پاس آ پ کے چچا کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: [ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِيْ ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِيْ مِنْهُ دِمَاغُهُ ] [ بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب: ۳۸۸۵۔ مسلم: ۲۱۰ ] ”امید ہے کہ قیامت کے دن اسے میری شفاعت پہنچے گی تو اسے کم گہری آگ میں ڈالا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی، اس سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔“ صحیح بخاری ہی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ] ”اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے درک اسفل میں ہوتا۔“ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب: ۳۸۸۳ ] ان دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ کفار کے حق میں کوئی سفارش آگ سے نکلنے کے لیے قبول نہیں ہو گی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی سفارش ان کے والد کے حق میں قبول نہیں ہو گی اور سورۂ شعراء (۱۰۰) اور سورۂ مدثر (۴۸) میں کفار کے متعلق سفارش نہ ہونے کا ذکر ہے۔ ہاں صحیح بخاری کی اس حدیث سے بظاہر کفار کے حق میں سفارش سے عذاب کی تخفیف ثابت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ جنت کے طبقات کی طرح جہنم کے بھی درکات ہیں۔ جنت کا سب سے اعلیٰ طبقہ فردوس ہے اور جہنم کا سب سے سخت حصہ درک اسفل ہے۔ یہ فیصلہ ہونے کے بعد کہ کس کافر کو کون سا عذاب ہو گا جب انھیں جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو جہنم کے سات دروازوں میں سے ہر ایک کے لیے جو دروازہ اور جو عذاب مقرر ہے وہ وہاں پہنچیں گے، اسے دیکھنے کے بعد پھر انھیں کوئی تخفیف یا مہلت نہیں ملے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی، خدمت اور سفارش کی وجہ سے ابوطالب کا فیصلہ پہلے ہی سب سے ہلکے عذاب کا ہو چکا ہو گا، اب وہاں جانے کے بعد اسے مزید تخفیف یا جہنم سے خلاصی حاصل نہیں ہو سکے گی۔
وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے "اے پروردگار، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے" اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ "تم جھوٹے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار! یہی ہمارے وه شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، پس وه انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے، تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے (دنیا میں) شرک کیا تھا جب وہ (قیامت کے دن) اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہ ہیں ہمارے وہ شرکاء جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے تو وہ (شرکاء) یہ بات ان کی طرف پھینک دیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ لوگ جنھوں نے شریک بنائے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ ان کی طرف یہ بات پھینک ماریں گے کہ بلاشبہ یقینا تم جھوٹے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے ‘۔ سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» ۱؎ [77-المرسلات:36-35] ‏‏‏‏ ’ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ‘۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

جیسے کہ حدیث میں ہے { پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے }۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:12-14] ‏‏‏‏ ’ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ ‘۔ اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ‏‏‏‏ ’ گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39-40] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی ‘۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:6-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں ‘۔

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:81-82] ‏‏‏‏ ’ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے ‘۔ خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏‏‏‏ ’ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ‘۔
86۔ 1 معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہوسکتا ہے؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بیخبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بیخبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ۝) 46۔ الاحقاف:6-5)۔ (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا 81؀ۙ كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا 82؀) 19۔ مریم:82-81)۔ (وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 29۔ العنکبوت:25)۔ (وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا) 18۔ الکہف:52)۔ وغیرھا من الایات ایک یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کرنے کے لیے کبھی نہیں کہا تھا اس لیے تم ہی جھوٹے ہو۔ یہ شرکا اگر حجر وشجر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں قوت گویائی عطا فرمائے گا۔ جنات و شیاطین ہوں گے تو کوئی اشکال ہی نہیں ہے اور اگر اللہ کے نیک بندے ہوں گے جس طرح کہ متعدد صلحا واتقیا اور اولیاء اللہ کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں ان کے نام کی نذر نیاز دیتے ہیں اور ان کی قبروں پر جا کر ان کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح کسی معبود کی خوف ورجا کے جذبات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو میدان محشر میں ہی بری فرما دے گا اور ان کی عبادت کرنے والوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ کا سوال اور ان کا جواب سورة مائدہ کے آخر میں مذکور ہے۔
(آیت86){وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا …:} کفار جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے جنھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے اور اللہ کا شریک بناتے رہے، یا جن کے بتوں یا قبروں کو پوجتے اور سجدہ و طواف کرتے رہے، جیسا کہ صحیح بخاری (۴۲۸۸) میں ذکر ہے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن مشرکین ان بزرگوں کو دیکھیں گے تو اپنے جرم کو ہلکا کرنے اور اپنے بنائے ہوئے داتاؤں و دستگیروں کو اس جرم میں ساتھی بنانے کے لیے کہیں گے، پروردگارا! یہ لوگ ہیں جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب فوراً سختی سے کہیں گے، بلاشک و شبہ یقینا تم جھوٹے ہو۔ فوراً کا مفہوم {” فَاَلْقَوْا “} کی فاء سے ظاہر ہو رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرک انھیں پکارتے تو رہے ہیں، پھر وہ انھیں جھوٹا کیوں کہیں گے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے اسے یعنی اس کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر کو معلوم ہی نہیں کہ کوئی اسے پکار رہا ہے، نہ انھیں ان کا پکارنا سنائی دیتا ہے، تو وہ انھیں جھوٹا نہ کہیں تو کیا کہیں؟ دیکھیے سورۂ فاطر (۱۳، ۱۴) اور سورۂ احقاف (۵، ۶) دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کہیں موجود ہی نہیں، ہر مشرک خواہ بت پرست ہو یا قبر پرست، ولی پرست ہو یا نبی پرست، وہ محض اپنے خیالی بنائے ہوئے حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں کو پکارتا ہے، حقیقت میں ان کا کہیں کوئی وجود نہیں، اس لیے وہ انبیاء و اولیاء اور ان کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر انھیں صاف جھوٹا کہیں گے کہ تم ہمیں نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان اور خیال کو پکارتے اور پوجتے رہے ہو۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) اور سورۂ نجم(۲۳) رہا شیطان تو اس نے واقعی انھیں شرک کی دعوت دی تھی، مگر وہ نہایت بے حیائی کے ساتھ ان سے صاف بے تعلق ہو جائے گا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۲)۔
وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افترا پردازیاں رفو چکر ہو جائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن وه سب (عاجز ہوکر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وه سب ان سے گم ہو جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے، ف۱۹۹)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس دن سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے اور وہ ساری افتراء پردازیاں غائب ہو جائیں گی جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ ’ تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا ‘، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» ۱؎ [20-طہ:111] ‏‏‏‏ ’ سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے ‘۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے ‘ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں ‘۔ ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت87){ وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِ ا۟لسَّلَمَ …: ” السَّلَمَ “} کا معنی مطیع ہونا، فرماں بردار ہونا ہے۔ یعنی پہلے تو قسمیں کھا کر اپنے مشرک ہونے کا انکار کرتے رہیں گے، جیسا کہ سورۂ انعام (۲۲، ۲۳) اور سورۂ مجادلہ (۱۸) میں ہے، پھر اپنے بنائے ہوئے شرکاء کو دیکھ کر انھیں اپنے ساتھ پھنسانے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا۔ جب وہ بھی انھیں صاف جھوٹا کہیں گے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے ہر طرح فرماں بردار اور سرتا پا عجز و انکسار بن جائیں گے اور وہ تمام حاجت روا، مشکل کشا، داتا اور دستگیر جو انھوں نے بنا رکھے تھے اور جن کی مشکل کشائیوں کی جھوٹی کہانیاں انھوں نے گھڑ رکھی تھیں، سب ان سے گم ہو جائیں گے، کوئی نظر نہیں آئے گا۔ بعض لوگوں کو یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام کی طرح قرآن کی بہت سی آیات میں مشرکین کا بولنا، عذر کرنا، قسمیں اٹھانا مذکور ہے اور کئی آیات میں ان کے مونہوں پر مہر لگنا یا انھیں بولنے کی اجازت نہ ملنا مذکور ہے۔ ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے تطبیق یہ دی ہے کہ یہ سب الگ الگ مواقع کا بیان ہے، کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہو گا، کبھی ان کا حال کچھ ہو گا کبھی کچھ۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب إثم مانع الزکوٰۃ: ۹۸۷ ]
اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے اُس فساد کے بدلے جو وہ دنیا میں برپا کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے، یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا
احمد رضا خان بریلوی
جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا،
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا۔ تو ہم ان کے فساد پھیلانے کی پاداش میں ان کے عذاب پر ایک اور عذاب کا اضافہ کر دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب زیادہ دیں گے، اس کے بدلے جو وہ فساد کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ ’ تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا ‘، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» ۱؎ [20-طہ:111] ‏‏‏‏ ’ سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے ‘۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے ‘ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں ‘۔ ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏‏‏‏“
88۔ 1 جس طرح جنت میں اہل ایمان کے درجات مختلف ہوں گے، اسی طرح جہنم میں کفار کے عذاب میں فرق ہوگا جو گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے ہونگے، ان کا عذاب دوسروں کی نسبت شدید تر ہوگا۔
(آیت88) ➊ { اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا …:} ان لوگوں کو ہم عذاب پر عذاب میں زیادہ کرتے جائیں گے، کیونکہ وہ دوہرے مجرم ہوں گے۔ ایک عذاب ان کے کفر کی وجہ سے اور ایک دوسروں کو اللہ کی راہ، یعنی اسلام سے روکنے کی وجہ سے۔ ان کے گمراہ کردہ لوگوں کو جتنا عذاب ہو گا، ان کے اپنے عذاب کے ساتھ وہ بھی شامل ہو جائے گا، بلکہ قیامت تک ان کے گمراہ کردہ لوگوں کی جد و جہد کے نتیجے میں جب بھی کوئی گمراہ ہو گا، تو اس کو دیے جانے والے عذاب جتنا عذاب ان سب لوگوں کے عذاب میں بھی بڑھا دیا جائے گا جو اس کی گمراہی کا باعث بنے۔ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ اہلِ جہنم کے عذاب کے لحاظ سے کئی درجے ہوں گے۔ ➋ {بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ:} اس فساد کی وجہ سے جو وہ پھیلاتے رہے اور اپنے ساتھ کئی دوسروں کو بھی لے ڈوبے، جیسے ناحق قتل کی رسم کی ابتدا کرنے والا آدم علیہ السلام کا بیٹا تھا۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۳۲)، سورۂ اعراف (۳۸) اور سورۂ عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔
وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے محمدؐ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواه کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواه بنا کر ﻻئیں گے اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان کے بالمقابل گواہی دے گا اور آپ کو ان سب کے بالمقابل گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو ہر بات کو کھول کر بیان کرتی ہے اور سرِ تسلیم خم کرنے والوں کے لئے سراسر ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن ہم ہر امت میں ان پر انھی میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ ہر چیز کا واضح بیان ہے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب مبین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ ’ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شرافت وکرامت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر ‘۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورۃ نساء کے شروع کی «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیونکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کر کافی ہے }۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5049] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے ‘۔ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔‏‏‏‏“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ’ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:6] ‏‏‏‏ ’ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» ۱؎ [28-القصص:85] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے ‘۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔
89۔ 1 یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحیح بخاری) 89۔ 2 کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے ' کتاب اللہ ' قرار دیا ہے۔ اور ہر چیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کردی گئی ہیں۔
(آیت89) ➊ { وَ يَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳) اور سورۂ نساء کی آیت (۴۱) {” مِنْ اَنْفُسِهِمْ “} سے مراد خود ان کے چمڑوں اور دوسرے اعضاء کی شہادت بھی ہو سکتی ہے۔ دیکھیے سورۂ حٰمٓ السجدہ (۲۰، ۲۱)۔ ➋ {وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا …: ” تِبْيَانًا “} مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع فرض قرار دے کر سنت و حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے۔ ➌ {لِكُلِّ شَيْءٍ:} قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: [ لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِيْ أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوْبَ، فَجَاءَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِيْ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ وَمَا لِيْ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ؟ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ، فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيْهِ لَقَدْ وَجَدْتِيْهِ، أَمَا قَرَأْتِ: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاقَالَتْ: بَلٰہ، قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْهُ ] [ بخاری، التفسیر، سورۃ الحشر، باب: «‏‏‏‏وما اٰتاکم الرسول فخذوہ…» : ۴۸۸۶ ] ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد میں سوئی کے ذریعے سے نیل کے ساتھ نقش و نگار بناتی ہیں اور جو بنواتی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں اور جو دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ چیز کو بدلتی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک خاتون ام یعقوب نامی کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے، اس میں تو تمھاری یہ بات مجھے نہیں ملی۔“ فرمایا: ”اگر تو نے اسے پڑھا ہوتا تو تجھے مل جاتا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» [ الحشر: ۷ ] ”اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”پھر بات یہ ہے کہ ان کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق اس میں ہر چیز کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہر حکم پر عمل کرنا اور ہر نہی سے باز رہنا بھی قرآن ہی کا حصہ ہے۔ مفسر شعراوی نے یہاں شیخ محمد عبدہ مصری کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں پیرس میں تھا، ایک مستشرق (غیر مسلم عربی عالم) نے مجھ سے کہا کہ قرآن میں ہے: «{ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ }» [ الأنعام: ۳۸ ] ”ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔“ میں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے کہا، اچھا یہ بتاؤ کہ ایک اردب (تقریباً ۴۸ کلو) آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں؟ میں نے کہا، یہ معمولی بات ہے، آؤ کسی روٹیاں پکانے والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس نے کہا، نہیں، میں قرآن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، قرآن نے تو بتا دیا ہے: «{ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ }» [ الأنبیاء: ۷ ] ”اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر (اسے سمجھنے والے) سے پوچھ لو۔“ غرض قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ مزید تفصیل اسی سورت کی آیت (۶۴) اور اس کے حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ {وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ:} یہاں تینوں لفظ اسم فاعل کے بجائے مصدر ذکر فرمائے ہیں، مثلاً{هَادِيٌ “ } کے بجائے {” هُدًى “ } اور اسی طرح {” رَحْمَةً “} اور {” بُشْرٰى “} فرمایا ہے، ایسا مبالغہ کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً زید کو بہت ہی زیادہ عادل کہنا ہو تو {”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے کہتے ہیں {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} یعنی زید عین عدل ہے۔ مقصد یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا بے حیائی اور برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ عدل، احسان اور قرابتداروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم و زیادتی کرنے سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برابر کا بدلہ ٭٭

اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:126] ‏‏‏‏ میں فرمایا کہ ’ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» ۱؎ [42-اشوریٰ:40] ‏‏‏‏ ’ اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ‏‏‏‏ ’ زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے ‘۔ پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:26] ‏‏‏‏، ’ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو ‘۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ { کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] ‏‏‏‏ اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔ حدیث شریف میں ہے { بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378] ‏‏‏‏

اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔ دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔ پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔

اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹھتے نہیں ہو؟ } وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفعتہً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم نے کیا دیکھا؟ } اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ } اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا }، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا }۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:318/1:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: { جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/4:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
90۔ 1 عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ 90۔ 2 احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو و درگزر اور معاف کردینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت 10، 20 روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید 10، 20 روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں ان تعبد اللہ کانک تراہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایتاء ذی القربی رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ فحشاء سے مراد بےحیائی کے کام ہیں۔ آج کل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا تفریح کے نام پر اس کا جواز تسلیم کرلیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بےپردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بےحیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ منکر ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور بغی کا مطلب ظلم و زیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔
(آیت90) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ:} عدل کا معنی اپنے عقیدے اور عمل میں زیادتی یا کمی سے بچ کر اعتدال اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے۔ انصاف بھی یہی ہے اور قسط بھی۔ {” الْاِحْسَانِ “} کا لفظ دو طرح آتا ہے، ایک {”إِلٰی“} یا کسی اور حرف کے واسطے کے بغیر، اس کا معنی کام کو بہت اچھی طرح اور پختگی و مضبوطی سے کرنا ہوتا ہے، مثلاً {”أَحْسَنْتُهٗ “} کہ میں نے یہ کام بہت اچھی طرح کیا، اور ایک {” إِلٰی“} وغیرہ کے واسطے کے ساتھ، جیسے {”أَحْسَنْتُ اِلَيْهِ“} کہ میں نے اس سے اچھا سلوک کیا، یعنی اس {”اِحْسَانٌ“} کا معنی اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی)۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق و مالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن: ۲۱۹۹۵) مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ }» [ النساء: ۵۸ ] ”اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى }» [ المائدۃ: ۸ ] ”اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہر گز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا }» [ النساء: ۱۳۵ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔“ ➋ {” الْاِحْسَانِ “} کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل علیہ السلام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے سوال کہ احسان کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن الإیمان و الإسلام…: ۵۰۔ مسلم: ۸ ] ”احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تمھیں دیکھتا ہے۔“ ظاہر ہے نگرانی کے احساس کے ساتھ ہر کام کرنے والا کام کو اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ہر کام نماز، روزہ، صدقہ، حج، تجارت، صنعت، زراعت اور مزدوری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی دل میں حاضر ہو کہ پروردگار عالم مجھے دیکھ رہا ہے، تو یقینا انسان ہر عمل بہترین طریقے سے کرے گا اور ہر گناہ سے بچے گا۔ اور اگر {”إِلٰي“ } کی وجہ سے کسی دوسرے پر احسان مراد ہو تو اس کی بہترین مثال بنی اسرائیل کا قارون سے یہ کہنا ہے: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [ القصص: ۷۷ ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔“ اللہ نے انسان کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کی خاطر نہیں دیا، بلکہ یہ اس کا احسان اور بے حد لطف و کرم ہے کہ اس نے مخلوق کے کسی حق کے بغیر جو اللہ کے ذمے ہو، ہر نعمت انھیں مفت دی۔ مقصد یہ کہ انسان مخلوق کے ساتھ اس سے کسی معاوضے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرے، اسے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا اور بتایا کہ کس طرح ایک فاحشہ عورت کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت میں گئی اور ایک عورت بلی کو باندھ کر بھوکا مارنے کی پاداش میں جہنم میں گئی۔ (دیکھیے بخاری، ۳۳۲۱، ۲۳۶۵) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ] [مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل…: ۱۹۵۵، عن شداد بن أوس رضی اللہ عنہ ] ”اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، تو جب قتل کرو تو اس کا اچھا طریقہ اختیار کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ مارو اور نہ مثلہ کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔“ قرآن مجید میں کئی جگہ احسان کا حکم اور اس کی فضیلت مذکور ہے، فرمایا: «{ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا }» [ البقرۃ: ۸۳۔ بنی إسرائیل: ۲۳ ] ”اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ }» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۵ ] ”اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏{ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [ الأعراف: ۵۶ ] ”بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [ العنکبوت: ۶۹ ] ”اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ ➌ {وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى:} اگرچہ یہ بھی احسان میں شامل تھا، مگر اس کی خاص تاکید کے لیے اسے الگ بھی بیان فرمایا، کیونکہ قرابت والوں کا حق زیادہ ہے اور انھیں دینا ویسے بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم ہی احسان مند ہوتے ہیں اور باہمی رنجشیں بھی دینے لینے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ {” ذِي الْقُرْبٰى “} کو دینے کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۸)، بنی اسرائیل (۲۶)، بقرہ (۱۷۷) اور سورۂ بلد (۱۴، ۱۵) وغیرہ۔ ➍ {وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ:الْفَحْشَآءِ “} وہ گناہ جو برائی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں، مثلاً زنا اور قوم لوط کا عمل، سورۂ بقرہ میں شدید بخل کو بھی {” الْفَحْشَآءِ “} فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۸) {” الْمُنْكَرِ “} ایسی برائیاں جن کا عقل انکار کرتی ہو اور فطرت انسانی بھی انھیں برا سمجھتی ہو۔ {” الْبَغْيِ “} کسی پر ظلم، زیادتی، زبان درازی یا دست درازی کرنا، سرکشی کرنا۔ ➎ اس آیت میں تین بھلائیوں (عدل، احسان، ایتاء ذی القربیٰ) کا حکم دیا گیا ہے، جن میں تمام بنیادی نیکیاں آ جاتی ہیں اور تین برائیوں (فحشاء، منکر، بغی) سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں، اس لیے یہ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔
وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمۡ وَ لَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَ قَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ عَلَیۡکُمۡ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب بھی تم کوئی عہد کرو اور اپنی قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو ضامن بنا چکے ہو بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو، حالانکہ یقینا تم نے اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنایا ہے۔ بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» ۱؎ [2-البقرۃ:224] ‏‏‏‏ ’ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ ‘۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ «ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:89] ‏‏‏‏ ’ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو ‘۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ میں جس چیز پر قسم کھالوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6623] ‏‏‏‏ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2530] ‏‏‏‏ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6083] ‏‏‏‏ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔

کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام کی پابندی کا اقرار کرتے تھے۔ تو انہیں فرماتا ہے کہ ایسی تاکیدی قسم اور پورے عہد کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21871:] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا }۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:48/2:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بے پناہ چھوڑ دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد و پیمان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔ مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بیوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئیے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ «أَنكَاثًا» کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ «نَقَضَتْ غَزْلَهَا» کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو «كَانَ» کی خبر کا یعنی «أَنْكَاثً» نہ ہو جمع «نَكْثٍ» کی «نَاكِثٍ» سے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کر لو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کر دو ایسا نہ کرو ‘۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولیٰ حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورۃ الانفال میں معاویہ رضی اللہ عنہا کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لیے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بدعہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں }۔ یہ سنتے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1850،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ «أَرْبَى» سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے، یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔
91۔ 1 قَسَم ایک تو وہ ہے جو کسی عہد و پیمان کے وقت، اسے مزید پختہ کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو انسان اپنے طور پر کسی وقت کھا لیتا ہے کہ میں فلاں کام کروں گا یا نہیں کروں گا۔ یہاں آیت میں اول الذکر قسم مراد ہے کہ تم نے قسم کھا کر اللہ کو ضامن بنا لیا ہے۔ اب اسے نہیں توڑنا بلکہ عہد و پیمان کو پورا کرنا ہے جس پر تم نے قسم کھائی ہے۔ کیونکہ ثانی الذکر قسم کی بابت تو حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ ' کوئی شخص کسی کام کی بابت قسم کھالے، پھر وہ دیکھے کہ زیادہ خیر دوسری چیز میں ہے (یعنی قسم کے خلاف کرنے میں ہے) تو بہتری والے کام کو اختیار کرے اور قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے، نبی کا عمل بھی یہی تھا۔ (صحیح بخاری)
(آیت91) ➊ {وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ:} احکام الٰہی پورے کرنے کا عہد جو ایمان لانے کی صورت میں کیا ہے، یا آپس میں ایک دوسرے سے جائز طور پر کیے گئے عہد و پیمان۔ (شوکانی) {” عٰهَدْتُّمْ “} باب مفاعلہ سے ہے، مراد کسی دوسرے کے ساتھ کیا ہوا عہد ہے۔ ➋ {وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا …:} پکا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جن قسموں کو پکا نہ کیا گیا ہو ان کا توڑنا جائز ہے، کیونکہ ہر وہ عہد جس پر قسم کھائی جائے اس پر اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا جاتا ہے اور وہ پکا ہو جاتا ہے اور اسے بلاعذر توڑنا جائز نہیں، بلکہ عہد توڑنا نفاق کی علامت ہے۔ بعض قسمیں انسان خود اٹھا لیتا ہے کہ میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا۔ اگر انھیں پورا نہ کر سکے تو اس کا کفارہ سورۂ مائدہ (۸۹) میں مذکور ہے۔ اسی طرح لغو قسم کا حکم سورۂ بقرہ (۲۲۵) اور سورۂ مائدہ (۸۹) میں گزر چکا ہے۔ ➌ جس قسم کے متعلق معلوم ہو جائے کہ اس کا پابند نہ رہنا دینی لحاظ سے بہتر ہے تو وہ قسم توڑ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حَلَفَ عَلٰی يَمِيْنٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِيْنِهِ وَلْيَفْعَلْ ] [مسلم، الأیمان و النذور، باب ندب من حلف یمینًا فرأی غیرھا خیرَا منہا أن یأتی …: ۱۲ /۱۶۵۰ ] ”جو شخص کسی بات پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ دوسرے کام کو اس سے زیادہ اچھا سمجھے تو وہ (دوسرا) کام اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“ ➍ اگر کسی ناجائز کام کا عہد کرے یا قسم اٹھائے تو اسے پورا کرنا جائز نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۴)۔
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
خبردار تم اس عورت کی مانند نہ ہو جانا جس نے بڑی مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ بناتے ہو۔ تاکہ ایک گروہ دوسرے سے زیادہ فائدہ حاصل کرے اور اللہ اس بات سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور یقیناً قیامت کے دن وہ تمہارے لئے وہ حکمت ظاہر کر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جائو جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا، تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ بناتے ہو، اس لیے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہو، اللہ تو تمھیں اس کے ساتھ صرف آزماتا ہے اور یقینا قیامت کے دن وہ تمھارے لیے ضرور واضح کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» ۱؎ [2-البقرۃ:224] ‏‏‏‏ ’ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ ‘۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ «ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:89] ‏‏‏‏ ’ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو ‘۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ میں جس چیز پر قسم کھالوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6623] ‏‏‏‏ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2530] ‏‏‏‏ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6083] ‏‏‏‏ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔

کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام کی پابندی کا اقرار کرتے تھے۔ تو انہیں فرماتا ہے کہ ایسی تاکیدی قسم اور پورے عہد کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21871:] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا }۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:48/2:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بے پناہ چھوڑ دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد و پیمان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔ مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بیوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئیے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ «أَنكَاثًا» کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ «نَقَضَتْ غَزْلَهَا» کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو «كَانَ» کی خبر کا یعنی «أَنْكَاثً» نہ ہو جمع «نَكْثٍ» کی «نَاكِثٍ» سے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کر لو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کر دو ایسا نہ کرو ‘۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولیٰ حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورۃ الانفال میں معاویہ رضی اللہ عنہا کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لیے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بدعہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں }۔ یہ سنتے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1850،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ «أَرْبَى» سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے، یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔
92۔ 1 یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔ 92۔ 2 یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔ 92۔ 3 جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔
(آیت92) ➊ {وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا …: ”غَزْلٌ“} مصدر بمعنی مفعول ہے، فعل {”غَزَلَ يَغْزِلُ“} (ض) آتا ہے، روئی یا اون کا سوت (دھاگا) بنانا۔ {” اَنْكَاثًا”نِكْثٌ“} (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔ ➋ یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لیے بیان کی گئی ہے، ضروری نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو، جو عورت بھی ایسا کرے گی اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ کتنی احمق ہے۔ اسی طرح قسمیں توڑنے والوں کا حال بھی اس عورت کا سا ہے، اگرچہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی جو سوت کاتتی تھی اور پھر اسے بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی تھی۔ ➌ {تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا …: ” دَخَلًۢا “} سے مراد دھوکا، فریب اور کھوٹ ہے۔ اصل میں {” دَخَلًۢا “} اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز میں داخل کر دی جائے، جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو، مثلاً چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملا دیے جائیں۔ {”اَرْبٰى“ } {”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) سے اسم تفضیل ہے، کسی چیز کا زیادہ ہونا، بڑھنا۔ ➍ یعنی کسی گروہ سے اس لیے بدعہدی نہ کرو کہ جب تم نے عہد باندھا اس وقت تم کمزور تھے اور وہ گروہ طاقتور تھا اور اب تم طاقتور اور وہ کمزور ہو گیا ہے، یا اب تمھیں اس سے زیادہ طاقتور کوئی دوسرا حلیف مل گیا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے تھے۔ (شوکانی، قرطبی) اور جیسا کہ اس زمانے میں اہل مغرب بلکہ تمام کفار کا عام دستور ہے۔ ➎ { اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ:} کہ تم اپنے عہد پر قائم رہتے ہو یا دوسرے گروہ کو طاقتور یا کمزور پاکر اپنے عہد کا خیال چھوڑ دیتے ہو۔ (قرطبی)
وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، اور ضرور تم سے تمہارے کام پوچھے جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ چاہتا تو یقینا تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقینا تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت93) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً …: } یعنی اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل تھی کہ تمھارے درمیان اختلافات نہ رہنے دیتا۔ (دیکھیے یونس: ۹۹۔ ہود: ۱۱۸، ۱۱۹) مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ تمھیں اپنا اختیار استعمال کرنے کا پورا موقع دے، پھر جو گمراہی پر اصرار کرے اس کی رسی گمراہی کی طرف دراز کر دے اور جو حق کی جستجو کرے اسے ہدایت سے سرفراز کر دے۔ دیکھیے سورۂ لیل (۵ تا ۱۰)۔ ➋ { وَ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو بدعہدی کر کے نہ ماریے، ایسی باتوں سے کفر تو مٹتا نہیں الٹا وبال آتا ہے۔ (موضح)
وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِہَا وَ تَذُوۡقُوا السُّوۡٓءَ بِمَا صَدَدۡتُّمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ لَکُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اور اے مسلمانو،) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اِس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، برا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بھگتو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم اپنی قسموں کو آپس کی دغابازی کا بہانہ نہ بناؤ۔ پھر تو تمہارے قدم اپنی مضبوطی کے بعد ڈگمگا جائیں گے اور تمہیں سخت سزا برداشت کرنا پڑے گی کیونکہ تم نے اللہ کی راه سے روک دیا اور تمہیں بڑا سخت عذاب ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم اپنے درمیان اپنی قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔ کہیں کوئی قدم جم جانے کے بعد پھسل نہ جائے اور اس طرح تمہیں اللہ کی راہ سے روکنے کی پاداش میں برائی کا مزہ چکھنا پڑے اور تمہارے لئے عذابِ عظیم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ، (ایسا نہ ہو) کہ کوئی قدم اپنے جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم برائی کا مزہ چکھو، اس کے بدلے جو تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمھارے لیے بہت بڑا عذاب ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔
94۔ 1 مسلمانوں کو دوبارہ مذکورہ عہد شکنی سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری اس اخلاقی پستی سے کسی کے قدم ڈگمگا جائیں اور کافر تمہارا یہ رویہ دیکھ کر قبول اسلام سے رک جائیں اور یوں تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے مجرم اور سزا کے مستحق بن جاؤ۔ بعض مفسرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت مراد لی ہے۔ یعنی نبی کی بیعت توڑ کر پھر مرتد ہوجانا، تمہارے ارادوں کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسلام قبول کرنے سے رک جائیں گے اور یوں تم دگنے عذاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ (فتح القدیر)
(آیت94) ➊ {وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ تمھاری دھوکا دہی اور بدعہدی دیکھ کر کوئی شخص مرتد ہو جائے، یا عہد توڑنے والا شخص خود کفر میں مبتلا ہو جائے۔ زمخشری نے فرمایا کہ {” قَدَمٌ“} کو واحد اور نکرہ اس لیے رکھا کہ بدعہدی کے نتیجے میں ایک شخص کا قدم پھسلنا اور اسلام سے دور ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی بات ہے، کجا یہ کہ اس حرکت سے بہت سے لوگ مرتد ہو جائیں۔ پہلے {” تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ “} میں قسم کھا کر دھوکا دینے کا سبب بیان فرمایا، تو اس آیت میں{” لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا “} فرما کر اس کا برا نتیجہ بیان فرمایا۔ ➋ {بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} اور تم لوگوں کو اسلام سے روکنے کا ذریعہ بن جاؤ اور تم پر دنیا ہی میں اس کا وبال آ جائے۔ ➌ {وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ:} اور پھر آخرت کے عذاب عظیم میں مبتلا کر دیے جاؤ۔ مطلب یہ کہ اسلام کو بدنام نہ کرو کہ ایمان لانے والے شک میں پڑ جائیں، جس کا گناہ تم پر پڑے گا۔ (موضح)
وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اللہ کے عہد کو تھوڑے مول کے بدلے نہ بیچ دیا کرو۔ یاد رکھو اللہ کے پاس کی چیز ہی تمہارے لیے بہتر ہے بشرطیکہ تم میں علم ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو بیشک وہ جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کے عہد و پیمان کو تھوڑی سی قیمت کے عوض فروخت نہ کرو۔ بے شک جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کے عہد کے بدلے کم قیمت نہ لو، بے شک وہ چیز جو اللہ کے پاس ہے وہی تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت95) ➊ {وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا:} اوپر کی آیات میں باہمی معاہدوں کی پابندی پر زور دیا، اب بتایا کہ ایمان لا کر جو اللہ سے عہد باندھا ہے اسے مت توڑو، یعنی مال کے طمع میں آ کر شریعت کی خلاف ورزی نہ کرو (جس میں باہمی معاہدوں کو توڑنا بھی ہے) جو مال خلاف شرع ہاتھ آئے وہ موجب وبال ہے۔ (موضح) کم قیمت سے مراد یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مراد دنیا کا مال ہے، جو قلیل ہی ہے، خواہ پوری دنیا ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ }» [ النساء: ۷۷ ] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔“ ➋ { اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ:} یہ {” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر نہیں بلکہ {”اِنَّ مَا“} ہے، جو مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق اکٹھا لکھا گیا ہے۔ {”مَا“} موصولہ میں مقدر ضمیر کی تاکید{ ” هُوَ “ } کے ساتھ کرنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی جو مال شریعت کے مطابق ہاتھ آئے وہی تمھارے حق میں بہتر ہے، دوسرا کوئی نہیں، جیسا کہ شعیب علیہ السلام نے فرمایا تھا: «{ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ }» [ ھود: ۸۶ ] ”اللہ کا باقی بچا ہوا تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔“ ”جو اللہ کے پاس ہے“ میں جنت بھی شامل ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے اور دنیا فانی ہے۔
مَا عِنۡدَکُمۡ یَنۡفَدُ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ بَاقٍ ؕ وَ لَنَجۡزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔ اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم یقیناً صبر کرنے والوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور یقینا ہم ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، ضرور ان کا اجر بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت96) ➊ {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ:} چاہے وہ مقدار کے لحاظ سے کتنا ہی زیادہ ہو، بلکہ خواہ ساری دنیا ہو۔ ➋ {وَ لَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا …:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کی تاکید اکٹھے ہوں تو قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ صبر کا معنی اپنے آپ کو کسی چیز پر باندھنا اور روک کر رکھنا ہے، یعنی جنھوں نے دنیوی طمع کے مقابلے میں اپنے آپ کو حق پر قائم رکھا۔ صبر بہترین عمل ہے، کیونکہ یہ تمام اعمال کی بنیاد ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر قائم رہنا اور طبیعت کو ان کا پابند رکھنا صبر ہے، اسی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے روکنا صبر ہے اورتیسری قسم مصیبت کے وقت جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کے شکوے سے اپنے آپ کو روکنا صبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔ بہترین عمل سے مراد صبر ہے، یعنی ان کے صبر کے مطابق اجر دیں گے۔ ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہم انھیں ان کے عمل سے بہت زیادہ اچھا اجر دیں گے، جو کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ بے حساب ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو ہم اسے (دنیا) میں پاک و پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب و سنت کے فرماں بردار ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ اپنے ان بندوں سے جو اپنے دل میں اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کامل رکھیں اور کتاب و سنت کی تابعداری کے ماتحت نیک اعمال کریں، وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں دنیا میں بھی بہترین اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا۔ عمدگی سے ان کی عمر بسر ہوگی، خواہ وہ مرد ہوں، خواہ عورتیں ہوں، ساتھ ہی انہیں اپنے پاس دار آخرت میں بھی ان کی نیک اعمالیوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ دنیا میں پاک اور حلال روزی، قناعت، خوش نفسی، سعادت، پاکیزگی، عبادت کا لطف، اطاعت کا مزہ، دل کی ٹھنڈک، سینے کی کشادگی، سب ہی کچھ اللہ کی طرف سے ایماندار نیک عامل کو عطا ہوتی ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اس نے فلاح حاصل کرلی جو مسلمان ہوگیا اور برابر سرابر روزی دیا گیا اور جو ملا اس پر قناعت نصیب ہوئی }}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1054] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جسے اسلام کی راہ دکھا دی گئی اور جسے پیٹ پالنے کا ٹکڑا میسر ہوگیا اور اللہ نے اس کے دل کو قناعت سے بھر دیا، اس نے نجات پا لی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2349، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان کی نیکی کا بدلہ دنیا میں عطا فرماتا ہے اور آخرت کی نیکیاں بھی انہیں دیتا ہے، ہاں کافر اپنی نیکیاں دنیا میں ہی کھا لیتا ہے آخرت کے لیے اس کے ہاتھ میں کوئی نیکی باقی نہیں رہتی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2808] ‏‏‏‏
97۔ 1 حیات طیبہ (بہتر زندگی) سے مراد دنیا کی زندگی ہے، اس لئے آخرت کی زندگی کا ذکر اگلے جملے میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک مومن باکردار کو صالحانہ اور متقیانہ زندگی گزارنے اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور زہد و قناعت میں جو لذت و حلاوت محسوس ہوتی ہے، وہ ایک کافر اور نافرمان کو دنیا بھر کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آتی، بلکہ وہ ایک طرح کی بےچینی و اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ " ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا " جس نے میری یاد سے اعراض کیا اس کا گزران تنگی والا ہوگا۔
(آیت97) ➊ {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى:} لفظ {” مَنْ “} (جو بھی) میں مرد اور عورت دونوں آ جاتے ہیں، مگر پھر دونوں کا خاص الگ الگ ذکر فرمایا، تاکہ نہ عورتیں اپنے آپ کو کمتر یا محروم سمجھیں، نہ کوئی اور انھیں ایسا خیال کرے۔ اسلام کے سوا کہیں عورت کو یہ عزت نہیں ملی۔ ➋ { حَيٰوةً طَيِّبَةً:} پاکیزہ زندگی میں حلال روزی، قناعت (اللہ نے جس حال میں رکھا ہے اسی پر خوش رہنا)، سچی عزت، سکون و اطمینان، دل کا غنی ہونا، اللہ کی محبت، ایمان کی لذت سبھی چیزیں شامل ہیں، جو ایمان اور عمل صالح کی بدولت نصیب ہوتی ہیں، ایمان یا عمل صالح یا دونوں سے محروم لوگوں کو یہ چیزیں کبھی حاصل نہیں ہوتیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح سے اخروی زندگی ہی نہیں بلکہ دنیوی زندگی بھی نہایت سکھ اور چین سے گزرے گی۔ مہائمی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایسا شخص دنیا میں اپنے عمل سے ایسی لذت پاتا ہے جو مال و جاہ کی لذت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی قسمت پر راضی کر کے اسے قناعت عطا فرما دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مال بچا بچا کر رکھنے اور بڑھانے کی حرص کم ہو جاتی ہے۔ کافر کی زندگی مال وجاہ کے باوجود خوشگوار نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی حرص اور دولت کے ہاتھ سے نکل جانے کا خوف دونوں بڑھتے جاتے ہیں۔ اہل ایمان کو آخرت میں اس سے بھی بہت بہتر اجر بدلے میں دیا جائے گا۔ چنانچہ ان سے یہ نہیں کہا جائے گا: «{اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا }» [ الأحقاف: ۲۰ ] ”تم اپنے اچھے اعمال کا بدلہ اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے۔“ بلکہ ان کے ادنیٰ اعمال بھی مکمل کرکے اعلیٰ کے ساتھ ملا دیے جائیں گے۔
فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو
احمد رضا خان بریلوی
تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے،،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو مردود شیطان سے خدا کی پناہ مانگ لیا کریں۔
عبدالسلام بن محمد
پس جب تو قرآن پڑھے تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آعوذ کا مقصد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔
98۔ 1 خطاب اگرچہ نبی سے ہے لیکن مخاطب ساری امت ہے۔ یعنی تلاوت کے آغاز میں اَ عُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھا جائے۔
(آیت98){فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ …:} ہدایت کا سرچشمہ قرآن کریم ہے، ادھر گمراہی کا سرچشمہ شیطان ہے، جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسے کسی صورت آدمی کا قرآن پڑھنا برداشت نہیں، سو وہ ہر حال میں اسے قرآن پڑھنے سے باز رکھتا ہے اور اگر کوئی پڑھنے لگے تو اس کے دل میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنے سے پہلے {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ“} یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ کی دعا کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہی ہمیں اس ظالم سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ شیطان انسان بھی ہوتے ہیں، جن بھی۔ (دیکھیے انعام: ۱۱۲) ان سے پناہ کی دعا کے ساتھ ان سے بچنے کے ذرائع اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ان سے میل جول اور دلی دوستی رکھے اور {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ“} پڑھ کر اپنے آپ کو ان سے محفوظ سمجھے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو توپ کے گولوں سے اوٹ لیے بغیر اللہ سے پناہ مانگتا رہے اور اپنے آپ کو گولوں سے محفوظ سمجھے۔
اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسے اُن لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایماندار ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس (شیطان) کا کوئی تسلط نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کا ان لوگوں پر کوئی غلبہ نہیں جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آعوذ کا مقصد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت99){اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى …:} صحیح ایمان اور توکل والوں پر شیطان کا تسلط اور غلبہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں فرما دیا تھا: «{ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ }» [ الحجر: ۴۲ ] ”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔“ البتہ وہ انھیں گمراہ کرنے کی کوشش سے باز نہیں آتا اور بعض اوقات وہ کچھ متاثر بھی ہو سکتے ہیں، مگر وہ اللہ سے ڈر کی برکت سے فوراً آگاہ ہو کر اس کے پنجے سے نکل جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ }» [ الأعراف: ۲۰۱ ] ”یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ حج (۵۲)۔
اِنَّمَا سُلۡطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوۡنَہٗ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِہٖ مُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں
احمد رضا خان بریلوی
اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کا قابو تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس کا غلبہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور جو اس کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آعوذ کا مقصد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت100) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ:” بِهٖ “} میں{”هُ“} ضمیر شیطان کی طرف جائے تو باء سببیہ ہو گی اور معنی ہو گا کہ وہ لوگ جو اس(شیطان)کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔ متن میں ترجمہ اس کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف جائے، پھر معنی یہ ہو گا کہ وہ لوگ جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک بنانے والے ہیں، یہ معنی بھی درست ہے۔