بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 93
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 93
آیت نمبر: 93 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۳﴾
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی
اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، اور ضرور تم سے تمہارے کام پوچھے جائیں گے،
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔
اور اگر اللہ چاہتا تو یقینا تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقینا تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت93) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً …: } یعنی اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل تھی کہ تمھارے درمیان اختلافات نہ رہنے دیتا۔ (دیکھیے یونس: ۹۹۔ ہود: ۱۱۸، ۱۱۹) مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ تمھیں اپنا اختیار استعمال کرنے کا پورا موقع دے، پھر جو گمراہی پر اصرار کرے اس کی رسی گمراہی کی طرف دراز کر دے اور جو حق کی جستجو کرے اسے ہدایت سے سرفراز کر دے۔ دیکھیے سورۂ لیل (۵ تا ۱۰)۔ ➋ { وَ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو بدعہدی کر کے نہ ماریے، ایسی باتوں سے کفر تو مٹتا نہیں الٹا وبال آتا ہے۔ (موضح)
← پچھلی آیت (92) پوری سورۃ اگلی آیت (94) →