بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 94
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 94
آیت نمبر: 94 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِہَا وَ تَذُوۡقُوا السُّوۡٓءَ بِمَا صَدَدۡتُّمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ لَکُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
(اور اے مسلمانو،) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اِس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، برا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بھگتو
اور تم اپنی قسموں کو آپس کی دغابازی کا بہانہ نہ بناؤ۔ پھر تو تمہارے قدم اپنی مضبوطی کے بعد ڈگمگا جائیں گے اور تمہیں سخت سزا برداشت کرنا پڑے گی کیونکہ تم نے اللہ کی راه سے روک دیا اور تمہیں بڑا سخت عذاب ہوگا
اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو
اور تم اپنے درمیان اپنی قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔ کہیں کوئی قدم جم جانے کے بعد پھسل نہ جائے اور اس طرح تمہیں اللہ کی راہ سے روکنے کی پاداش میں برائی کا مزہ چکھنا پڑے اور تمہارے لئے عذابِ عظیم ہے۔
اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ، (ایسا نہ ہو) کہ کوئی قدم اپنے جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم برائی کا مزہ چکھو، اس کے بدلے جو تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمھارے لیے بہت بڑا عذاب ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔

📖 احسن البیان

94۔ 1 مسلمانوں کو دوبارہ مذکورہ عہد شکنی سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری اس اخلاقی پستی سے کسی کے قدم ڈگمگا جائیں اور کافر تمہارا یہ رویہ دیکھ کر قبول اسلام سے رک جائیں اور یوں تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے مجرم اور سزا کے مستحق بن جاؤ۔ بعض مفسرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت مراد لی ہے۔ یعنی نبی کی بیعت توڑ کر پھر مرتد ہوجانا، تمہارے ارادوں کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسلام قبول کرنے سے رک جائیں گے اور یوں تم دگنے عذاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت94) ➊ {وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ تمھاری دھوکا دہی اور بدعہدی دیکھ کر کوئی شخص مرتد ہو جائے، یا عہد توڑنے والا شخص خود کفر میں مبتلا ہو جائے۔ زمخشری نے فرمایا کہ {” قَدَمٌ“} کو واحد اور نکرہ اس لیے رکھا کہ بدعہدی کے نتیجے میں ایک شخص کا قدم پھسلنا اور اسلام سے دور ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی بات ہے، کجا یہ کہ اس حرکت سے بہت سے لوگ مرتد ہو جائیں۔ پہلے {” تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ “} میں قسم کھا کر دھوکا دینے کا سبب بیان فرمایا، تو اس آیت میں{” لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا “} فرما کر اس کا برا نتیجہ بیان فرمایا۔ ➋ {بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} اور تم لوگوں کو اسلام سے روکنے کا ذریعہ بن جاؤ اور تم پر دنیا ہی میں اس کا وبال آ جائے۔ ➌ {وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ:} اور پھر آخرت کے عذاب عظیم میں مبتلا کر دیے جاؤ۔ مطلب یہ کہ اسلام کو بدنام نہ کرو کہ ایمان لانے والے شک میں پڑ جائیں، جس کا گناہ تم پر پڑے گا۔ (موضح)
← پچھلی آیت (93) پوری سورۃ اگلی آیت (95) →