بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 82
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 82
آیت نمبر: 82 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے محمدؐ، تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے
پھر بھی اگر یہ منھ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیﻎ کر دینا ہی ہے
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
پھر اس کے بعد بھی اگر یہ ظالم منہ پھیر لیں تو آپ کا کام صرف واضح پیغام کا پہنچا دینا ہے اور بس۔
پھر اگر وہ پھر جائیں تو تیرے ذمے تو صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ’ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ’ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے ‘، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ’ اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ ‘ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا }۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت82){ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے۔ اس شرط کا جواب محذوف ہے جو بعد والے جملے سے سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر وہ پھر جائیں، نہ مانیں تو آپ کا کوئی نقصان ہے نہ آپ پر کوئی ملامت، کیونکہ آپ کے ذمے صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے، آپ اپنا فریضہ ادا کرتے جائیں، ایمان کی توفیق دینا یا نہ دینا ہمارے ہاتھ میں ہے، فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ }» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔“ پھر ان کا محاسبہ بھی ہمارے ذمے ہے، فرمایا: «{ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ }» [ الرعد: ۴۰ ] ”پس تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“
← پچھلی آیت (81) پوری سورۃ اگلی آیت (83) →