بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 98
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 98
آیت نمبر: 98 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾
پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو
قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو
تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے،،
پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو مردود شیطان سے خدا کی پناہ مانگ لیا کریں۔
پس جب تو قرآن پڑھے تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آعوذ کا مقصد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔

📖 احسن البیان

98۔ 1 خطاب اگرچہ نبی سے ہے لیکن مخاطب ساری امت ہے۔ یعنی تلاوت کے آغاز میں اَ عُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھا جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت98){فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ …:} ہدایت کا سرچشمہ قرآن کریم ہے، ادھر گمراہی کا سرچشمہ شیطان ہے، جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسے کسی صورت آدمی کا قرآن پڑھنا برداشت نہیں، سو وہ ہر حال میں اسے قرآن پڑھنے سے باز رکھتا ہے اور اگر کوئی پڑھنے لگے تو اس کے دل میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنے سے پہلے {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ“} یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ کی دعا کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہی ہمیں اس ظالم سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ شیطان انسان بھی ہوتے ہیں، جن بھی۔ (دیکھیے انعام: ۱۱۲) ان سے پناہ کی دعا کے ساتھ ان سے بچنے کے ذرائع اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ان سے میل جول اور دلی دوستی رکھے اور {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ“} پڑھ کر اپنے آپ کو ان سے محفوظ سمجھے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو توپ کے گولوں سے اوٹ لیے بغیر اللہ سے پناہ مانگتا رہے اور اپنے آپ کو گولوں سے محفوظ سمجھے۔
← پچھلی آیت (97) پوری سورۃ اگلی آیت (99) →