بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 99
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 99
آیت نمبر: 99 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اُسے اُن لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں
ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا
بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں
جو لوگ ایماندار ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس (شیطان) کا کوئی تسلط نہیں ہے۔
بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کا ان لوگوں پر کوئی غلبہ نہیں جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آعوذ کا مقصد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت99){اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى …:} صحیح ایمان اور توکل والوں پر شیطان کا تسلط اور غلبہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں فرما دیا تھا: «{ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ }» [ الحجر: ۴۲ ] ”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔“ البتہ وہ انھیں گمراہ کرنے کی کوشش سے باز نہیں آتا اور بعض اوقات وہ کچھ متاثر بھی ہو سکتے ہیں، مگر وہ اللہ سے ڈر کی برکت سے فوراً آگاہ ہو کر اس کے پنجے سے نکل جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ }» [ الأعراف: ۲۰۱ ] ”یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ حج (۵۲)۔
← پچھلی آیت (98) پوری سورۃ اگلی آیت (100) →