بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 66
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 66
آیت نمبر: 66 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خو ش گوار ہے
تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے،
اور بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں عبرت کا سامان موجود ہے ہم ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان سے نکال کر تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپائوں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم ان چیزوں میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہیں، گوبر اور خون کے درمیان سے تمھیں خالص دودھ پلانے کے لیے دیتے ہیں، جو پینے والوں کے لیے حلق سے آسانی سے اتر جانے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خوشگوار دودھ اللہ تعالٰی کی عظمت کا گواہ ہے ٭٭

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ «بُطُونِهِ» میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں «مِّمَّا فِي بُطُونِهَا» ۱؎ [23-المؤمنون:21] ‏‏‏‏ ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت «كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ» ۱؎ [74-المدثر:54-55] ‏‏‏‏ میں ہے اور جیسے آیت «وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ» ۱؎ [27-النمل:35-36] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پس «جَاءَ» میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دوسرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نبیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔‏‏‏‏“ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے، اسی کی نگہبانی کے لیے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کر دیں۔ اسی نعمت کا بیان سورۃ یٰسین کی آیت «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-يس:34-36] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اس کا پھل کھائیں، یہ ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کر دی ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

66۔ 1 اَنْعَام (چوپائے) سے اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ، دنبہ) مراد ہوتے ہیں۔ 66۔ 2 یہ چوپائے جو کچھ کھاتے ہیں، معدے میں جاتا ہے، اسی خوراک سے دودھ، خون، گوبر اور پیشاب بنتا ہے، خون رگوں میں اور دودھ تھنوں میں اسی طرح گوبر اور پیشاب اپنے اپنے مخرج میں منتقل ہوجاتا ہے اور دودھ میں نہ خون کی رنگت شامل ہوتی ہے اور نہ گوبر پیشاب کی بدبو۔ سفید اور شفاف دودھ باہر آتا ہے جو نہایت آسانی سے حلق سے نیچے اتر جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت66) ➊ {وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً …:” الْاَنْعَامِ “} لفظاً مفرد ہے، افعال کا وزن یہاں جمع کے لیے نہیں بلکہ یہ اسم جمع ہے، جیسے {”رَهْطٌ“، ”قَوْمٌ“} اور {”بَقْرٌ“} وغیرہ۔ یہاں لفظ کی رعایت سے اس کے لیے واحد مذکر کی ضمیر {” بُطُوْنِهٖ “} لائی گئی ہے، سورۂ مومنون(۲۱) میں {” نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا “} جمع کے معنی کی رعایت سے مؤنث کی ضمیر لائی گئی ہے۔{ ”الْاَنْعَامِ“} اصل میں اونٹوں کو کہتے ہیں، کیوں کہ وہ بہت بڑی نعمت ہیں، اس کے ساتھ گائے اور بھیڑ بکری کو بھی {” الْاَنْعَامِ “} کہہ لیتے ہیں۔ سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) میں ان کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔{ ” لَعِبْرَةً “ } میں تنوین تعظیم کی ہے، بہت بڑی عبرت، معنی ہے عبور کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا، ایک چیز سے ایسی نصیحت حاصل کرنا جو دوسری جگہ کام دے۔ {”نُسْقِيْكُمْ “} قرآن میں {”سَقٰي“} اور {”أَسْقٰي“ } دونوں لفظ آئے ہیں، اکثر لوگ ان کا ایک ہی معنی کر دیتے ہیں، جبکہ ان میں فرق ہے، {”سَقٰي يَسْقِيْ“} پلانا اور {”أَسْقٰي يُسْقِيْ“} پلانے کے لیے دینا، یعنی ہم تمھیں پلانے کے لیے دیتے ہیں، خود پی لو یا کسی کو پلا دو۔ {”فَرْثٍ “} چوپاؤں کی ہضم شدہ خوراک جب تک اوجھڑی میں رہے، جب باہر نکلے تو اسے {”رَوْثٌ“} کہتے ہیں۔ {” لَبَنًا خَالِصًا “} گوبر کی بو اور رنگ اور خون کی سرخی دونوں سے خالص، سفید اور لذیذ دودھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کتنی عظیم نشانی ہے، کوئی ہے جو گوبر اور خون میں سے خالص دودھ کشید کر سکے؟ {” سَآىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ”سَاغَ يَسُوْغُ“} جو آسانی سے حلق میں اتر جائے۔ دودھ ایک مکمل غذا ہے، اس لیے بچے کی مکمل پرورش کے لیے دودھ ہی کافی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا تو میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا، یہ فطرت ہے، آپ بھی اس پر ہیں اور آپ کی امت بھی۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب شرب اللبن…: ۵۶۱۰، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ ] [ ترمذی الأدب، باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب: ۲۷۹۰، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲ /۱۱۸، ح: ۶۱۹ ] ”تین چیزیں رد نہیں کی جاتیں، گاؤ تکیے، تیل (خوشبو) اور دودھ۔“ ➋ اللہ تعالیٰ نے اپنے اکیلے معبود ہونے اور مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے لیے چوپاؤں میں سے ایک چیز کا ذکر فرمایا کہ دیکھیے وہ گھاس اور چارا جو حیوان کھاتے ہیں وہ پانی اور مٹی سے پیدا ہوتا ہے۔ مٹی اور پانی کو گھاس اور چارے میں بدلنا، پھر جانور کے پیٹ میں اسے خون سے بدلنا، پھر اسے دودھ میں بدلنا کس قدر باعث عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری طرح قادر ہے کہ تمام چیزوں کو ایک حالت سے دوسری جس حالت میں چاہے بدل دے۔
← پچھلی آیت (65) پوری سورۃ اگلی آیت (67) →