بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 96
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
مَا عِنۡدَکُمۡ یَنۡفَدُ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ بَاقٍ ؕ وَ لَنَجۡزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے
تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔ اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے
جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو،
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم یقیناً صبر کرنے والوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے۔
جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور یقینا ہم ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، ضرور ان کا اجر بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک مذہب و مسلک ٭٭

اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کر دیتا ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118-119] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ با ایمان ہی ہوتے ‘۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ ’ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا ‘۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ’ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین وبال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لیے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی ‘۔ ’ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہو جائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لیے جو اجر و ثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہو جائے بلکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت96) ➊ {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ:} چاہے وہ مقدار کے لحاظ سے کتنا ہی زیادہ ہو، بلکہ خواہ ساری دنیا ہو۔ ➋ {وَ لَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا …:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کی تاکید اکٹھے ہوں تو قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ صبر کا معنی اپنے آپ کو کسی چیز پر باندھنا اور روک کر رکھنا ہے، یعنی جنھوں نے دنیوی طمع کے مقابلے میں اپنے آپ کو حق پر قائم رکھا۔ صبر بہترین عمل ہے، کیونکہ یہ تمام اعمال کی بنیاد ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر قائم رہنا اور طبیعت کو ان کا پابند رکھنا صبر ہے، اسی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے روکنا صبر ہے اورتیسری قسم مصیبت کے وقت جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کے شکوے سے اپنے آپ کو روکنا صبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔ بہترین عمل سے مراد صبر ہے، یعنی ان کے صبر کے مطابق اجر دیں گے۔ ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہم انھیں ان کے عمل سے بہت زیادہ اچھا اجر دیں گے، جو کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ بے حساب ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →