بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 76
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 76
آیت نمبر: 76 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾
اللہ ایک اور مثال دیتا ہے دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے کیا برابر ہوجائے گا ہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے، ف۱۶۷)
اور اللہ دو آدمیوں کی مثال پیش کرتا ہے جن میں سے ایک گونگا ہے کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے وہ اسے جدھر بھی بھیجے وہ کسی بھلائی کے ساتھ واپس نہیں آتا اور دوسرا وہ ہے جو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے کیا وہ (پہلا) اور یہ (دوسرا) برابر ہو سکتے ہیں؟
اور اللہ نے ایک مثال بیان کی، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجتا ہے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا یہ اور وہ شخص برابر ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گونگے بت مشرکین کے معبود ٭٭

ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر سکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس یہ دونوں کیسے برابر ہو جائیں گے؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ غلام ہے جس پر آپ رضی اللہ عنہ خرچ کرتے تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

📖 احسن البیان

76۔ 1 یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ 76۔ 2 اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہوسکتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت76) ➊ {وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ …: ” اَبْكَمُ “} گونگا، اس کے ساتھ اس کا بہرا ہونا بھی لازم ہوتا ہے، کیونکہ آدمی سن کر ہی بولنا سیکھتا ہے۔ یہ مثال پہلی مثال سے بھی واضح ہے۔ دو آدمی ہیں، ایک میں چار خامیاں ہیں: (1) وہ {” اَبْكَمُ “} ہے کہ نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے۔ (2) {” لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ “} یعنی وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، چلو بول نہیں سکتا تو کسی ہنر ہی کا مالک ہو، ہاتھ پاؤں ہلا کر یا سر پر بوجھ اٹھا کر ہی کچھ کما سکے، نہیں، کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ (3) وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے اور غلام بھی ایسا بے کار کہ مالک ہی کو اس کا سارا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ (4) مالک اسے جہاں بھی بھیجے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بے چارہ راستہ ہی معلوم نہیں کر سکتا، نہ پوچھ سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص میں چار خامیوں کے بجائے دو خوبیاں ہیں: (1) وہ لوگوں کو عدل کا حکم دیتا ہے۔ معلوم ہوا وہ سنتا، بولتا اور سمجھتا ہے، وہ نہ {” اَبْكَمُ “} ہے اور نہ {” لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ “} ہے۔ (2) {” وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} یعنی وہ صحیح ترین راستے پر قائم ہے، جو سب سے مختصر اور منزل پر پہنچا دینے والا ہے، یعنی وہ نہ کسی پر بوجھ ہے، نہ راستے سے سراسر ناواقف۔ تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں! اسی طرح بندوں کے خود ساختہ معبود بت ہوں یا قبریں یا کچھ اور، وہ نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ کچھ کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے ہیں۔ اپنے مالک پر بوجھ ہیں، یعنی بجائے اس کے کہ یہ اپنے پجاریوں کے کسی کام آئیں خود ان کے پجاری مصیبت اٹھا کر پتھر، اینٹیں، سیمنٹ اور مستری لا کر انھیں بنواتے ہیں۔ پھر ان کی حفاظت اور مرمت کرتے، پہرا دیتے اور صفائی کرتے ہیں۔ یہ دونوں کیسے برابر ہو گئے؟ جب وہ دونوں آدمی برابر نہیں، حالانکہ مخلوق ہونے میں اور آدمی ہونے میں دونوں برابر ہیں، تو مشرکین کے بنائے ہوئے بت اور آستانے جو بے جان ہیں اور ان کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہو گئے اور اس کے شریک کس طرح بن گئے؟ ➋ بعض اہل علم نے دونوں آیتوں میں مذکور دو، دو آدمیوں کو مومن و کافر کی مثال قرار دیا ہے۔ بری صفات والے غلام سے مراد کافر اور اچھی صفات والے سے مراد آزاد مومن ہے، مگر اوپر بیان کردہ تفسیر زیادہ صحیح ہے۔
← پچھلی آیت (75) پوری سورۃ اگلی آیت (77) →