بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 73
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں؟
اور وه اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،
اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت (پرستش) کرتے ہیں جو ان کو آسمان و زمین سے روزی پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔
اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں آسمانوں اور زمین سے کچھ بھی رزق دینے کے مالک ہیں اور نہ وہ طاقت رکھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔

📖 احسن البیان

73۔ 1 یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت73) ➊ {وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …: ” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} میں ہر بت، تھان، آستانہ، زندہ و مردہ بزرگ، غرض ہر چیز آ گئی جسے وہ پوجتے اور پکارتے ہیں اور ان سب کے لیے {” مَا “} کا لفظ استعمال فرمایا جو عام طور پر ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں۔ {” رِزْقًا “ } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے کہ جو کسی معمولی سے معمولی رزق کے مالک بھی نہیںـ۔ اسی طرح {” شَيْـًٔا “} نکرہ ہے کہ کسی بھی رزق کی ملکیت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں، یعنی ان مشرکوں کی جہالت دیکھو کہ ان معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں جو نہ تو آسمان و زمین میں سے کسی بھی طرح کے رزق کی کچھ بھی ملکیت رکھتے ہیں، نہ آسمان سے بارش برسانے کے مالک، نہ زمین سے کچھ اگانے کے قابل، نہ کوئی چیز پیدا کرنے کے قابل، نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھنے کے قابل، پھر وہ معبود کیسے بن گئے؟ ➋ { وَ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ:} یہ اس غلط گمان کی تردید ہے کہ مالک تو واقعی اللہ تعالیٰ ہے، مگر ہمارے یہ دستگیر اس سے دلوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں، جیسا کہ ایک صاحب نے کہا: اولیاء راہست قدرت از اِلہ تیر جستہ باز آرندش زراہ ”اولیاء کو اللہ کی طرف سے یہ طاقت ملی ہوئی ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو راستے سے واپس لے آتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس کسی طرح بھی کوئی طاقت نہیں، نہ خود کچھ دینے کی، نہ اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت یا طاقت اور دھونس کے ساتھ مجبور کرکے دلوانے کی، بلکہ انھیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی ہمیں پکار بھی رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف: ۵، ۶) ان کے اس عقیدے کی تردید سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳) میں بھی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔ {” وَ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ “} میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →