بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 74
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 74
آیت نمبر: 74 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ دیا کرو بے شک اللہ بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
پس اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو۔ بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔

📖 احسن البیان

74۔ 1 جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا ہے۔ پہلے اسے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بادشاہ تک اس کی رسائی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلی اور اونچی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو نہ اس قسم کی مثالیں دو۔ اس لیے کہ وہ تو واحد ہے، اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے، نہ حاضر و ناظر نہ سمیع وبصیر۔ کہ وہ بغیر کسی ذریعے کے رعایا کے حالات و ضروریات سے آگاہ ہوجائے جب کہ اللہ تعالیٰ تو ظاہر وباطن اور حاضر غائب ہر چیز کا علم رکھتا ہے، رات کی تاریکیوں میں ہونے والے کاموں کو بھی دیکھتا ہے اور ہر ایک کی فریاد سننے پر بھی قادر ہے۔ بھلا ایک انسانی بادشاہ اور حاکم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا مقابلہ اور موازنہ؟

📖 القرآن الکریم

(آیت74) ➊ { فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ:} مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی سننا پڑتی ہے، اسی طرح ہمارے یہ معبود، اوتار اور ٹھاکر بھی اللہ کی سرکار میں صاحبِ اختیار ہیں، اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں، سویہ مثال غلط ہے۔ بادشاہ تو سب کام خود نہیں کر سکتے مگر اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کا رتی برابر بھی دباؤ نہیں ہے۔ ➋ { وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ تمھاری بے علمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کر سکتا، کبھی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت کی طرح اپنے داتاؤں کو سیڑھی قرار دیتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہی نہیں، وہ بالکل قریب ہے اور کسی کا محتاج نہیں کہ اس کی سفارش رد نہ کر سکتا ہو۔ یہ سب تمھاری بے عقلی اور بے سمجھی ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے لیے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں، ان پر غور کرو۔
← پچھلی آیت (73) پوری سورۃ اگلی آیت (75) →