بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 53
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو
اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو، ف۱۰۹)
اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی جناب میں داد و فریاد کرتے ہو۔
اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» ۱؎ [3-آل عمران:83] ‏‏‏‏ ’ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے ‘۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ ’ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے ‘۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الاسراء:67] ‏‏‏‏ ’ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ‘۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ‘۔ «لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔

📖 احسن البیان

53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت53تا55){ وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ …:” نِعْمَةٍ “} (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، {” مِنْ “} کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہو گئی کہ جو بھی نعمت تمھارے پاس ہے، یعنی تمھارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ {” تَجْـَٔرُوْنَ”جَأَرَ يَجْأَرُ جُؤَارًا“} (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے {” خُوَارٌ “}، بکری کے لیے {” ثُغَاءٌ“ } اونٹ کے لیے {” رُغَاءٌ“} اور بھیڑیے اور کتے کے لیے {”عُوَاءٌ“} آتا ہے۔ {” فَتَمَتَّعُوْا “} سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۱ تا ۲۳)۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →