بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 63
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
خدا کی قسم، اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ) شیطان نے اُن کے برے کرتوت اُنہیں خوشنما بنا کر دکھائے (اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی) وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہوا ہے اور یہ دردناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں
واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے، وه شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے تو آج وہی ان کا رفیق ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
خدا کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے ہیں پس شیطان نے ان کے (برے) اعمال خوشنما کرکے انہیں دکھائے سو وہی آج ان کا سرپرست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے۔ سو وہی آج ان کا دوست ہے اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شیطان کے دوست ٭٭

’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا ‘۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔

📖 احسن البیان

63۔ 1 جس کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی جس طرح پیغمبر قریش مکہ تیری تکذیب کر رہے ہیں۔ 63۔ 2 اَلْیَوْمَ سے یا تو زمانہ دنیا مراد ہے، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، یا اس سے مراد آخرت ہے کہ وہاں بھی یہ ان کا ساتھی ہوگا۔ یعنی یہی شیطان جس نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا، آج وہ ان کفار مکہ کا دوست ہے اور انھیں تکذیب رسالت پر مجبور کر رہا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت63) ➊ { تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ …: } اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا کہ ”ہم“ نے رسول بھیجے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو ایک ہے۔ ➋ { فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ:} تو شیطان جو ازلی دشمن تھا، اس نے ان کے وہی برے اعمال جو وہ کرتے تھے، مثلاً کفر و شرک اور دوسری کمینگیاں، وہ ان کے لیے ایسے خوش نما اور خوبصورت بنا دیے کہ انھوں نے سمجھا ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں، چنانچہ اسی دھوکے میں انھوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ➌ { فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ …:} تو وہی جو ہمیشہ کا دشمن تھا آج ان کا دوست بن گیا اور ظاہر ہے کہ جہاں ان کا دوست جائے گا اس کے ساتھ ہی وہ بھی عذابِ الیم میں جائیں گے۔ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ شیطان جو پہلی کافر قوموں کا دوست بنا تھا آج ان کفار عرب کا بھی وہی دوست ہے اور ان کا نتیجہ بھی وہی ہے جو ان کا ہوا۔ مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں، پہلے بھی ایسے ہوتا رہا ہے۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →