بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 60
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾
بری صفات سے متصف کیے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے رہا اللہ، تو اُس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے
آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے
جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں کا بر ا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی حالت بری ہے اور اللہ کے لئے اعلیٰ صفت ہے وہ زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
ان لوگوں کا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بہت برا حال ہے اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22] ‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

📖 احسن البیان

60۔ 1 یعنی کافروں کے برے اعمال بیان کئے گئے ہیں انھیں کے لئے بری مثال یا صفت ہے یعنی جہل اور کفر کی صفت۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی جو بیوی اور اولاد یہ ٹھہراتے ہیں، یہ بری مثال ہے جو یہ منکرین آخرت اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں۔ 60۔ 2 یعنی اس کی ہر صفت، مخلوق کے مقابلے میں اعلٰی و برتر ہے، مثلاً اس کا علم و سیع ہے، اس کی قدرت لا متناہی ہے، اس کی جود و عطا بےنظیر ہے۔ و علٰی ہذا القیاس یا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر ہے، خالق ہے۔ رازق ہے اور سمیع وبصیر ہے وغیرہ (فتح القدیر) یا بری مثال کا مطلب نقص کوتاہی ہے اور مثل اعلی کا مطلب کمال مطلق ہر لحاظ سے اللہ کے لیے ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت60){لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ …: ” مَثَلُ “} کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل، یعنی کہاوت بھی اور صفت اور حال بھی۔ یہاں اکثر مفسرین نے صفت معنی کیا ہے، یعنی وہ مشرکین جن کا اوپر ذکر ہوا، آخرت، حساب کتاب اور جزا و سزا پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بہت برا حال ہے جو قباحت کی انتہائی مثال ہے، اسی وجہ سے وہ اتنے بے وقوف اور سنگ دل ہو گئے ہیں کہ فرضی خداؤں کے لیے اپنی آمدنی کا ایک حصہ مقرر کرتے ہیں، بیٹیوں کو نہایت حقارت سے دیکھتے ہیں، انھیں زندہ درگور کر دیتے ہیں، حالانکہ بڑھاپے اور کمزوری میں انھی کے محتاج ہوتے ہیں، اپنے لیے بیٹوں کی پیدائش پر فخر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں بتاتے ہیں۔ فرشتوں کی عبادت کرتے اور انھیں اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔ یہ چند روزہ زندگی سے دھوکا کھانے اور آخرت پر ایمان نہ ہونے کا نتیجہ ہے، اگر انھیں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا اور آخرت کی کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی کا یقین ہوتا تو ظلم کی ان صورتوں میں سے ایک کی بھی جرأت نہ کرتے۔ اور اللہ کی صفت تو سب سے اونچی ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، اولاد اور والدین سے پاک ہے۔ صرف وہی تمام صفاتِ کمال، جمال اور جلال کا مستحق ہے اور وہی سب پر غالب ہے، زبردست ہے، مگر کمال درجے کا حکیم بھی ہے، وہ اپنے غلبے کو اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں بلکہ نہایت حکمت سے عمل میں لاتا ہے۔
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →