بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
النحل
سورۃ النحل — 128 آیات — صفحہ 3 از 3
قرآن کریم Surah 16
وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم ایک آیت کو کسی اور آیت سے بدلتے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم (یہ کلام) اپنے دل سے گھڑ لیا کرتے ہو حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ حال کو) نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم کوئی آیت کسی دوسری آیت کی جگہ بدل کر لاتے ہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ نازل کرتا ہے، تو وہ کہتے ہیں تو تو گھڑ کر لانے والا ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی بدنصیب لوگ ٭٭

مشرکوں کی عقلی، بے ثباتی اور بے یقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ ‘ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106] ‏‏‏‏، میں فرمایا ہے۔ ’ پاک روح (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ‘۔
11۔ 1 یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس طرح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بےعلم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 16 کا حاشیہ
(آیت101) ➊ {وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ:} یعنی پہلی آیت کا حکم منسوخ کرکے نیا حکم نازل فرماتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۰۶) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) ➋ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ان کے اکثر لوگ نسخ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مفتری اس لیے کہتے ہیں کہ انھیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں، اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے منسوخ کرکے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔ {” اَكْثَرُهُمْ “} اس لیے فرمایا کہ کچھ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کو مفتری کہتے ہیں۔ ➌ اس آیت کے دو مفہوم ہیں، ایک وہ جو اوپر گزرا، وہاں {” اٰيَةٍ “} سے مراد شرعی آیت اور حکم ہے، دوسرا معنی نشانی اور معجزہ ہے۔ اس وقت {” اٰيَةٍ “} سے مراد آیت کونیہ ہو گی، مثلاً ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں نہ جلنا، عصائے موسیٰ، ید بیضا، اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ۔ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے آیات کونیہ کا نظام بھی بدل دیا اور بطور معجزہ بھی قرآن ہی نازل فرمایا اور صرف کسی ایک سورت کے مقابلے کا چیلنج دیا، جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، نہ دے سکے گا۔ باقی انبیاء کی آیات یعنی معجزوں کے بدلے یہ آیت یعنی معجزہ ایسا نازل ہوا جو آپ کے بعد قیامت تک موجود ہے۔ جب کچھ جواب نہ آیا تو آپ کو مفتری کہہ دیا، فرمایا نبی مفتری نہیں بلکہ یہ بے چارے بے علم ہیں۔
قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو کہ اِسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور اُنہیں فلاح و سعادت کی خوش خبری دے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجیے کہ اس (قرآن) کو تمہارے پروردگار کی طرف سے روح القدس نے حق کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کو ثابت قدم رکھے اور اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت اور نجات کی خوشخبری ثابت ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو ثابت قدم رکھے جو ایمان لائے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی بدنصیب لوگ ٭٭

مشرکوں کی عقلی، بے ثباتی اور بے یقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ ‘ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106] ‏‏‏‏، میں فرمایا ہے۔ ’ پاک روح (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ‘۔
12۔ 1 یعنی یہ قرآن محمد کا اپنا گھڑا ہوا نہیں بلکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ جیسے پاکیزہ ہستی نے سچائی کے ساتھ رب کی طرف سے اتارا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے، (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193؀ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ 194؀ۙ) 26۔ الشعراء:194-193) اسے الروح الامین (جبرائیل علیہ السلام) نے تیرے دل پر اتارا ہے '۔ 12۔ 2 اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ منسوخ کرنے والا اور منسوخ دونوں رب کی طرف سے ہیں۔ علاوہ ازیں منسوخی کی مصلحتیں بھی جب ان کے سامنے آتی ہیں تو ان کے اندر مزید ثبات قدمی اور ایمان میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ 12۔ 3 اور یہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے، کیونکہ قرآن بھی بارش کی طرح ہے، جس سے بعض زمینیں خوب شاداب ہوتی ہیں اور بعض میں کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ مومن کا دل صاف اور شفاف ہے جو قرآن کی برکت سے اور ایمان کے نور سے منور ہوجاتا ہے اور کافر کا دل زمین شور کی طرح ہے جو کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے بھرا ہوا ہے، جہاں قرآن کی ضیا پاشیاں بھی بےاثر رہتی ہیں۔
(آیت102) ➊ {قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ: ”نَزَّلَ“} میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۰۶){ ” رُوْحُ الْقُدُسِ “} یعنی جبریل علیہ السلام، یہاں{ ” رُوْحُ “} (موصوف) {” الْقُدُسِ “} (صفت) کی طرف مضاف ہے جو مصدر ہے۔ اس کا معنی طہارت اور پاکیزگی ہے، مگر یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول{ ” مُقَدَّسٌ “} ہے، یعنی {”اَلرُّوْحُ الْمُقَدَّسُ“ } مبالغے کے لیے اسم مفعول کی جگہ مصدر لائے ہیں، یعنی وہ روح جو سراپا پاکیزگی و طہارت ہے، جیسے {”رَجُلُ صِدْقٍ“} اور {”خَبَرُ سُوْءٍ“ } ہے، جو اصل میں {”اَلرَّجُلُ الصَّادِقُ“} اور {”اَلْخَبَرُ السَّيِّءُ“} تھا۔ {” مِنْ رَّبِّكَ “} کا مطلب ہے کہ قرآن نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے، کسی مخلوق کا کلام نہیں اور اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے، ورنہ تربیت مکمل نہ ہو سکتی اور {” بِالْحَقِّ “ } کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو باطل ہو، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک کے تمام ادوار کے تقاضوں کے عین مطابق اور حق ہے۔ ➋ { لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} تاکہ وہ ایمان والوں کو ایمان پر خوب قائم رکھے اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ اس لیے جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے، اس پر کافر شبہ کرتے ہیں، اس کا جواب سمجھا دیا، یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہر حال سے خبر رکھتا ہے۔“ (موضح) ➌ { وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ:هُدًى “} یعنی ہر حال میں اس کے مطابق راہ سمجھا دے اور {” بُشْرٰى “} ہر کام پر ویسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح) اس کا صحیح اور مکمل مطلب سمجھنے کے لیے سورۂ عنکبوت کی آیات (۵۰، ۵۱) کی تفسیر ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّ ہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم جانتے ہیں کہ وہ (قرآن کے بارے میں) کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبر) کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ (قرآن) تو فصیح عربی زبان میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی ہی سکھاتا ہے، اس شخص کی زبان، جس کی طرف وہ غلط نسبت کر رہے ہیں، عجمی ہے اور یہ واضح عربی زبان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے زیادہ منزلت و رفعت والا کلام ٭٭

کافروں کی ایک بہتان بازی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے۔ قریش کے کسی قبیلے کا ایک عجمی غلام تھا، صفا پہاڑی کے پاس خرید و فروخت کیا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے اور کچھ باتیں کر لیا کرتے تھے، یہ شخص صحیح عربی زبان بولنے پر بھی قادر نہ تھا۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بمشکل اپنا مطلب ادا کر لیا کرتا تھا۔ اس افترا کا جواب جناب باری دیتا ہے کہ ’ وہ کیا سکھائے گا جو خود بولنا نہیں جانتا ‘، عجمی زبان کا آدمی ہے اور یہ قرآن تو عربی زبان میں ہے، پھر فصاحت و بلاغت والا، کمال و سلاست والا، عمدہ اور اعلیٰ پاکیزہ اور بالا۔ معنی، مطلب، الفاظ، واقعات ہیں۔ سب سے نرالا بنی اسرائیل کی آسمانی کتابوں سے بھی زیادہ منزلت اور رفعت والا۔ وقعت اور عزت والا۔ تم میں اگر ذرا سی عقل ہوتی تو یوں ہتھیلی پر چراغ رکھ کر چوری کرنے کو نہ نکلتے، ایسا جھوٹ نہ بکتے، جو بیوقوفوں کے ہاں بھی نہ چل سکے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نصرانی غلام جسے جبر کہا جاتا تھا جو بنو حضرمی قبیلے کے کسی شخص کا غلام تھا، اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے، اس پر مشرکین نے یہ بے پر کی اڑائی کہ یہ قرآن اسی کا سکھایا ہوا ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام یعیش تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ”مکہ شریف میں ایک لوہار تھا جس کا نام بلعام تھا۔ یہ عجمی شخص تھا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے پاس آنا جانا دیکھ کر قریش مشہور کرنے لگے کہ یہی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ سکھاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کلام اللہ کے نام سے اپنے حلقے میں سکھاتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21933:ضعیف] ‏‏‏‏ کسی نے کہا ہے مراد اس سے سلمان فارسی ہیں رضی اللہ عنہ۔ لیکن یہ قول تو نہایت بودا ہے کیونکہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ تو مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور یہ آیت مکے میں اتری ہے۔ عبیداللہ بن مسلم کہتے ہیں ہمارے دو مقامی آدمی روم کے رہنے والے تھے جو اپنی زبان میں اپنی کتاب پڑھتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاتے آتے کبھی ان کے پاس کھڑے ہو کر سن لیا کرتے، اس پر مشرکین نے اڑایا کہ انہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سیکھتے ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21940:] ‏‏‏‏ سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مشرکین میں سے ایک شخص تھا جو وحی لکھا کرتا تھا، اس کے بعد وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور یہ بات گھڑلی۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر۔
13۔ 1 یعنی بعض غلام تھے جو تورات و انجیل سے واقف تھے، پہلے وہ عیسائی یا یہودی تھے، پھر مسلمان ہوگئے ان کی زبان میں بھی روانی نہ تھی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فلاں غلام، محمد کو قرآن سکھاتا ہے۔ 13۔ 2 اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ یہ جس آدمی، یا آدمیوں کا نام لیتے ہیں وہ تو عربی زبان بھی روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے، جب کہ قرآن تو ایسی صاف عربی زبان میں ہے جو فصاحت و بلاغت اور اعجاز بیان میں بےنظیر ہے اور چلینج کے باوجود اس کی مثل ایک سورت بھی بنا کر پیش نہیں کی جاسکتی، دنیا بھر کے عالم فاضل اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ عربی اس شخص کو عجمی (گونگا) کہتے تھے جو فصیح وبلیغ زبان بولنے سے قاصر ہوتا تھا اور غیر عربی کو بھی عجمی کہا جاتا ہے کہ عجمی زبانیں بھی فصاحت و بلاغت میں عربی زبان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔
(آیت103) ➊ {وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ …:} یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا۔ اس شخص کی تعیین میں کئی روایات ہیں، بعض میں اس کا نام بلعام بتایا گیا ہے، بعض میں مقیس، بعض میں ابن الحضرمی کا ایک غلام۔ مگر ان میں سے صحیح روایت وہ ہے جو عبد اللہ بن مسلم الحضرمی نے بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے دو عیسائی غلام تھے جو ”عین التمر“ کے باشندے تھے۔ ایک کا نام یسار تھا، دوسرے کا جبر، وہ دونوں اپنی کوئی کتاب پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے تو ٹھہر جاتے۔ مشرکین کہنے لگے، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان دونوں سے سیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (طبری: ۲۲۰۷۳) {”الاستيعاب في بيان الاسباب“} میں اسے صحیح اور دوسری روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی {”الاصابة“} میں اسے صحیح کہا ہے۔ بہرحال صرف چند لمحے اس شخص کے پاس ٹھہرنے سے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شاگرد اور قرآن کو اس کا کلام ہونے کا بہتان جڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جس کی طرف یہ لوگ غلط نسبت کر رہے ہیں وہ خود عجمی ہے، جبکہ قرآن فصیح ترین عربی ہے۔ ➋ آلوسی نے فرمایا: ”قرآن نے اس شخص کے نام کی تصریح نہیں کی، حالانکہ اس میں کفار کا جھوٹ زیادہ واضح ہوتا، اس لیے کہ بتانا یہ مقصود ہے کہ ان کی اصل غلطی کسی خاص شخص کو آپ کا معلم قرار دینا نہیں بلکہ کسی بھی بشر کو آپ کا معلم قرار دینا ہے۔“ روح القدس کے ذریعے سے نازل شدہ اللہ کے کلام کی اس سے بڑھ کر کیا توہین ہو گی کہ اسے کسی آدمی کا کلام کہا جائے، خواہ وہ کتنا بڑا عالم ہو۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے انہیں اللہ کی طرف سے بھی رہنمائی نہیں ہوتی اور ان کے لیے المناک عذاب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں راہ نهیں دیتا اور ان کے لے درد ناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں لاتے اللہ کبھی انہیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی ٭٭

جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دیندار، اللہ شناس، سچوں کے سچے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی کوئی نہیں۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت کے مداح ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابوسفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1773] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت104) {اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ …:} ہدایت کا معنی سیدھی راہ دکھانا بھی ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دینا بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ انھیں راہِ راست کی ہدایت نہیں دیتا۔ وہی اس قسم کی بے سروپا باتیں کیا کرتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ کتاب کو ایسا شخص تصنیف کر ڈالے جس کی اپنی زبان عربی نہیں ہے۔
اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(جھوٹی باتیں نیا نہیں گھڑ تا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں، جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ یہی لوگ جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جھوٹ بہتان دہی باندھتے ہین جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور دہی جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جھوٹ تو صرف وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جھوٹ تو وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ اصل جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی ٭٭

جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دیندار، اللہ شناس، سچوں کے سچے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی کوئی نہیں۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت کے مداح ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابوسفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1773] ‏‏‏‏
15۔ 1 اور ہمارا پیغمبر تو ایمانداروں کا سردار اور ان کا قائد ہے، وہ کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اس پر نازل نہ ہوئی ہو، اور وہ یونہی کہہ دے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اس لئے جھوٹا ہمارا پیغمبر نہیں، یہ خود جھوٹے ہیں جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے منکر ہیں۔
(آیت105) ➊ {اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ …:} کفار کا قول جو اوپر آیت (۱۰۱) میں ذکر ہوا ہے {” اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ “} (تو تو گھڑ کر لانے والا ہے) یہ اس کا رد ہے کہ جھوٹ تو ان لوگوں کا کام ہے جو ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ انھیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا، جسے اللہ کا خوف ہو وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے، اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے۔ ➋ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ:اُولٰٓىِٕكَ “} سے مراد اللہ پر ایمان نہ رکھنے والے ہیں، یعنی انھی کی عادت جھوٹ ہوتی ہے، کیونکہ وہ ایمان ہی سے محروم ہیں، جو آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے۔ ➌ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ] [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق: ۳۳ ] ”منافق کی نشانیاں تین ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“ شیخ عبد الرحمان معلمی نے {” التنكيل“} میں لکھا ہے کہ اگر غور کیا جائے تو منافق کی تینوں نشانیوں کی بنیاد جھوٹ ہی ہے، کیونکہ وعدہ خلافی پر مؤاخذہ اس وقت ہے جب وعدہ کرتے وقت اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو، اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت ہو، پھر کسی عذر سے پورا نہ کر سکے تو اس پر مؤاخذہ نہیں اور خیانت ہضم نہیں ہو سکتی جب تک جھوٹ نہ بولے۔
مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے مجبور کیا جا ےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اسے مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (کہ اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے) لیکن جو کشادہ دلی سے کفر اختیار کرے (زبان سے کفر کرے اور اس کا دل اس کفر پر رضامند ہو) تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے تو ان لوگوں پر اللہ کا بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہو جائیں پھر کفر پر ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کر لیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہو گا ‘۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بے کار ہو گئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔‏‏‏‏“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔

ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:] ‏‏‏‏ بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8] ‏‏‏‏

پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کر لے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کرکے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ رضی اللہ عنہ کو لٹا کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کر دیا اور اللہ کی توحید ”احد، احد“ کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ”واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا۔‏‏‏‏“ اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔

مسند میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ { جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کر دو } یا فرمایا { جو اپنے دین کو بدل دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:231/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6923] ‏‏‏‏ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔

چنانچہ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی رضی اللہ عنہما کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کر لیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا باربار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کر لو اور آپ رضی اللہ عنہ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔‏‏‏‏“

اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لیے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔‏‏‏‏“ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہو گئے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے آگ میں جلوا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو }۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لیے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو }۔ جب یہ خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں پر افسوس۔‏‏‏‏“ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی وارد کیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3017] ‏‏‏‏
16۔ 1 اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ جان بچانے کے لئے قولاً یا فعلاً کفر کا ارتکاب کرلے جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا، نہ اس کی بیوی اس سے جدا ہوگی اور نہ اس پر دیگر احکام کفر لاگو ہونگیں۔ قالہ الْقُرْطُبِیُّ (فتح القدیر) 16۔ 2 یہ مرتد ہونے کی سزا ہے کہ وہ غضب الٰہی اور عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے اور اس کی دنیاوی سزا قتل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے دیکھئے (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) 2۔ البقرۃ:217) اور آیت (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ:256) کا حاشیہ)۔
(آیت106) ➊ { مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ …:} طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [ مَنْ كَفَرَ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِهِ فَعَلَيْهِ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُ عَذَابٌ عَظِيْمٌ فَأَمَّا مَنْ أُكْرِهَ فَتَكَلَّمَ بِهِ لِسَانُهُ وَ خَالَفَهُ قَلْبُهُ بِالْإِيْمَانِ لِيَنْجُوَ بِذٰلِكَ مِنْ عَدُوِّهِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ لِأَنَّ اللّٰهَ تَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عَقَدَتْ عَلَيْهِ قُلُوْبُهُمْ ] [ طبری: ۱۷ /۳۰۵ ] ”جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس پر اللہ تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے، لیکن جسے مجبور کر دیا جائے اور وہ زبان سے کوئی بات کہہ دے، جب کہ اس کا دل ایمان کی وجہ سے اس کے خلاف ہو، تاکہ اس کے ساتھ دشمن سے جان بچا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ سبحانہ بندوں کو صرف اس چیز پر پکڑتا ہے جو ان کے دلوں کا پکا عقیدہ ہو۔“ ➋ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوْ بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِعَمِّهِ أَبِيْ طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُوْ بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ، فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُوْنَ وَأَلْبَسُوْهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيْدِ وَ صَهَرُوْهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بِلاَلاً، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللّٰهِ، وَهَانَ عَلٰی قَوْمِهِ، فَأَخَذُوْهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوْا يَطُوْفُوْنَ بِهِ فِيْ شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُوْلُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ ] [ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد رضی اللہ عنھم اجمعین: ۱۵۰، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الإسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن ] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنھم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چنانچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بے قدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بے قدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔“ ➌ اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کر لے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ {” اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ “ } کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کر لے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہو گا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح علیھما السلام نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا۔ اسی طرح اصحاب الاخدود کا اور سورۂ یس میں مذکور شہید ہونے والے شخص کا واقعہ ہے اور اسلام میں تو اس کی بے شمار مثالیں ہیں، جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب و تابعین۔ ➍ بعض لوگوں نے جو ابوبکر، عمر، عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغض رکھتے ہیں، جب دیکھا کہ علی، حسن، حسین اور دوسرے بنی ہاشم رضی اللہ عنھم نے تینوں خلفاء کی بیعت کر لی، جو ان کے خلیفہ برحق ہونے کی دلیل ہے تو ان دشمنانِ صحابہ نے یہ بات بنائی کہ انھوں نے یہ کام مجبوری کی بنا پر تقیہ سے کیا تھا، حالانکہ تقیہ تو ایک رخصت ہے جو کمزور لوگوں کا کام ہے، شیر خدا بھی تقیہ کرے تو حق کا اعلان اور عزیمت پر عمل کون کرے گا۔ پھر تقیہ کا بہانہ بنانے والوں کی کتاب ”الکافی“ میں لکھا ہے کہ ان کے امام اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور ان کی مرضی ہوتی ہے تو مرتے ہیں۔ تو ان کے قول کے مطابق پہلے امام علی رضی اللہ عنہ کو جب اپنی موت کا علم تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہو گی تو انھیں کون سی مجبوری تھی کہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے، یا عمر بن خطاب(رضی اللہ عنہ) سے اپنی لخت جگر ام کلثوم کا نکاح کرتے؟ ➎ علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زبردستی کروایا ہوا کوئی قول یا فعل معتبر نہیں، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ نکاح، نہ غلام آزاد کرنا، نہ کسی کے نام جائداد لگوانا، نہ کوئی اقرار یا انکار یا کفر یہ بات کرنا، ہاں جو کچھ وہ شرح صدر کے ساتھ کرے وہ معتبر ہو گا۔ (سیوطی فی الاکلیل) ➏ { فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ: } دنیا میں اللہ کا بڑا غضب یہ ہے کہ مرتد ہونے والا مرد ہو یا عورت اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ ] [ بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالھم، باب حکم المرتد…: ۶۹۲۲ ] ”جو شخص اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔“ اور آخرت میں عذاب عظیم کی عظمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ➐ بعض لوگوں نے اپنے پاس سے کہا کہ عورت مرتد ہو جائے تو قتل نہیں کی جائے گی، یہ بات درست نہیں، کیونکہ ”مَنْ“ میں مرد و عورت سبھی شامل ہیں اور عورت کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اس لیے کہ اُنہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ اُن لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا جو اُس کی نعمت کا کفران کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے زیاده محبوب رکھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راه راست نہیں دکھاتا
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لےٴ کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی، اور اس لےٴ کہ اللہ (ایسے) کافروں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں محبوب رکھا اور اس لیے کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہو جائیں پھر کفر پر ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کر لیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہو گا ‘۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بے کار ہو گئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔‏‏‏‏“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔

ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:] ‏‏‏‏ بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8] ‏‏‏‏

پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کر لے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کرکے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ رضی اللہ عنہ کو لٹا کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کر دیا اور اللہ کی توحید ”احد، احد“ کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ”واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا۔‏‏‏‏“ اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔

مسند میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ { جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کر دو } یا فرمایا { جو اپنے دین کو بدل دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:231/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6923] ‏‏‏‏ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔

چنانچہ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی رضی اللہ عنہما کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کر لیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا باربار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کر لو اور آپ رضی اللہ عنہ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔‏‏‏‏“

اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لیے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔‏‏‏‏“ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہو گئے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے آگ میں جلوا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو }۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لیے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو }۔ جب یہ خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں پر افسوس۔‏‏‏‏“ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی وارد کیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3017] ‏‏‏‏
17۔ 1 یہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے (مرتد ہوجانے) کی علت ہے کہ انھیں ایک تو دنیا محبوب ہے۔ دوسرے اللہ کے ہاں یہ ہدایت کے قابل ہی نہیں ہیں۔
(آیت107){ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا …:} عذاب عظیم کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور کفر اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے توفیق ہدایت سے بھی محروم ہو گئے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ سَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وه لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں وه جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہی غفلت مین پڑے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی اور یہی لوگ بالکل غافل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور یہی لوگ ہیں جو بالکل غافل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہو جائیں پھر کفر پر ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کر لیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہو گا ‘۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بے کار ہو گئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔‏‏‏‏“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔

ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:] ‏‏‏‏ بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8] ‏‏‏‏

پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کر لے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کرکے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ رضی اللہ عنہ کو لٹا کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کر دیا اور اللہ کی توحید ”احد، احد“ کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ”واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا۔‏‏‏‏“ اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔

مسند میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ { جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کر دو } یا فرمایا { جو اپنے دین کو بدل دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:231/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6923] ‏‏‏‏ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔

چنانچہ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی رضی اللہ عنہما کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کر لیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا باربار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کر لو اور آپ رضی اللہ عنہ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔‏‏‏‏“

اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لیے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔‏‏‏‏“ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہو گئے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے آگ میں جلوا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو }۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لیے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو }۔ جب یہ خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں پر افسوس۔‏‏‏‏“ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی وارد کیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3017] ‏‏‏‏
18۔ 1 پس یہ وعظ و نصیحت کی باتیں سنتے ہیں نہ انھیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہی دیکھتے ہیں جو انھیں حق کی طرف لے جانے والی ہیں۔ بلکہ یہ ایسی غفلت میں مبتلا ہیں جس نے ہدایت کے راستے ان کے لئے مسدود کردیئے ہیں۔
(آیت108){ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ …:} دیکھنے اور سننے سے حق دکھائی اور سنائی دیتا ہے اور سوچنے سے سمجھ میں آتا ہے، مگر ان کے عناد اور ضد کی وجہ سے ان تینوں چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، سو وہ حق کی طلب میں انھیں استعمال ہی نہیں کرتے، بلکہ آخرت سے بالکل بے خبر اور بے فکر ہیں۔
لَاجَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ضرور ہے کہ آخرت میں یہی خسارے میں رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کچھ شک نہیں کہ یہی لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
آپ ہی ہوا کہ آخرت میں وہی خراب
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً یہی لوگ آخرت میں نقصان و زیاں اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ، آخرت میں وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہو جائیں پھر کفر پر ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کر لیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہو گا ‘۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بے کار ہو گئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔‏‏‏‏“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔

ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:] ‏‏‏‏ بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8] ‏‏‏‏

پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کر لے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کرکے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ رضی اللہ عنہ کو لٹا کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کر دیا اور اللہ کی توحید ”احد، احد“ کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ”واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا۔‏‏‏‏“ اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔

مسند میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ { جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کر دو } یا فرمایا { جو اپنے دین کو بدل دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:231/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6923] ‏‏‏‏ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔

چنانچہ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی رضی اللہ عنہما کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کر لیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا باربار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کر لو اور آپ رضی اللہ عنہ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔‏‏‏‏“

اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لیے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔‏‏‏‏“ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہو گئے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے آگ میں جلوا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو }۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لیے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو }۔ جب یہ خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں پر افسوس۔‏‏‏‏“ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی وارد کیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3017] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت109){لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ …:} انسان دنیا میں آخرت کے حصول کی تجارت کے لیے آیا ہے، جب وہی حاصل نہ ہوئی تو اس کے خسارے میں کیا شک ہے۔ دیکھیے سورۂ عصر۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَ صَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بخلاف اس کے جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب (ایمان لانے کی وجہ سے) وہ ستائے گئے تو اُنہوں نے گھر بار چھوڑ دیے، ہجرت کی، راہ خدا میں سختیاں جھیلیں اور صبرسے کام لیا، اُن کے لیے یقیناً تیرا رب غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کا ﺛبوت دیا بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے واﻻ اور مہربانیاں کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے بعد اس کے کہ ستائے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے (سخت) آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر سے کام لیا یقیناً (آپ کا) پروردگار ان اعمال کے بعد بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے وطن چھوڑا، اس کے بعد کہ فتنے میں ڈالے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، یقینا تیرا رب اس کے بعد ضرور بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صبر و استقامت ٭٭

یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لیے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔
110۔ 1 یہ مکہ کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ بالآخر انھیں ہجرت کا حکم دیا گیا تو اپنے خویش و اقارب، وطن مالوف اور مال جائداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی کا مرحلہ آیا تو مردانہ وار لڑے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا اور پھر اس کی راہ کی شدتوں اور الم ناکیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور ورحیم ہے یعنی رب کی مغفرت و رحمت کے حصول کے لئے ایمان اور اعمال صالح کی ضرورت ہے، جیسا کہ مذکورہ مہاجرین نے ایمان وعمل کا عمدہ نمونہ پیش کیا تو رب کی رحمت و مغفرت سے وہ شاد کام ہوئے۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُو ا عَنْہُ۔
(آیت110) {ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا …:} مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت نہ کر سکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔
یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِن سب کا فیصلہ اُس دن ہوگا) جب کہ ہر متنفس اپنے ہی بچاؤ کی فکر میں لگا ہوا ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لیے لڑتا جھگڑتا آئے اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (مطلقاً) ﻇلم نہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
(اس دن کو یاد کرو) جس دن ہر شخص اپنی ذات کی خاطر جھگڑا کرتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر (کسی طرح بھی) کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اپنی طرف سے جھگڑ رہا ہو گا اور ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صبر و استقامت ٭٭

یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لیے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔
111۔ 1 یعنی کوئی اور کسی حمایت میں آگے نہیں آئے گا نہ باپ، نہ بھائی، نہ بیٹا نہ بیوی نہ کوئی اور۔ بلکہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ بھائی بھائی سے، بیٹے ماں باپ سے، خاوند بیوی سے بھاگے گا۔ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہوگی جو اسے دوسرے سے بےپروا کر دے گی۔ " لکل امرء منھم یومئذ شأن یغنیہ " ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسا مشغلہ ہوگا جو اسے مشغول رکھنے کیلیے کافی ہوگا۔ 111۔ 2 یعنی نیکی کے ثواب میں کمی کردی جائے اور برائی کے بدلے میں زیادتی کردی جائے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔ برائی کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا کسی برائی کا ہوگا۔ البتہ نیکی کی جزا اللہ تعالیٰ خوب بڑھا چڑھا کر دے گا اور یہ اس کے فضل وکرم کا مظاہرہ ہوگا جو قیامت والے دن اہل ایمان کے لئے ہوگا۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔
(آیت11) ➊ { يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے غفور و رحیم ہے اس دن جب…۔ ➋ {تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى …:} یعنی اس دن ہر مرد و عورت صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہو گا، نہ اسے کسی کی فکر ہو گی نہ کسی کو اس کی۔ ہر ایک بس اپنی ذات کے دفاع کے لیے بحث اور عذر بہانے کر رہا ہو گا، پھر ہر ایک نے جو کیا اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہ ہو گا۔
وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن و اطمینان سے (آباد) تھی اس کی روزی فراغت سے آرہی تھی پس اس نے کفرانِ نعمت شروع کیا تو اللہ نے اس کے باشندوں کے کرتوتوں کی پاداش میں اسے یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف کو اس کا اوڑھنا بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی ، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے ٭٭

اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آ جاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا» ۱؎ [28-القصص:57] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں کیا ہم نے انہیں امن و امان کا حرم نہیں دے رکھا؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تھی ‘۔ جیسے ارشاد باری ہے آیت «‏‏‏‏أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۔ [14-ابراھیم:28-29] ‏‏‏‏ ’ کیا تونے انہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف پہنچا دیا جو جہنم ہے جہاں یہ داخل ہوں گے اور جو بری قرار گاہ ہے ‘۔ ان کی اس سرکشی کی سزا میں دونوں نعمتیں دو زحمتوں سے بدل دی گئیں امن خوف سے، اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے۔
122۔ 1 اکثر مفسرین نے اس قریہ (بستی) سے مراد مکہ لیا ہے۔ یعنی اس میں مکہ اور اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے بد دعا فرمائی ' اے اللہ مضر (قبیلے) پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط کر دے، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ہوئی ' چناچہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا۔ حتیٰ کہ ان کا یہ حال ہوگیا کہ ہڈیاں اور درختوں کے پتے کھا کر انھیں گزارہ کرنا پڑا۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ کفران نعمت کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہوگا، وہ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں۔ اس کے اس عموم سے جمہور مفسرین کو بھی انکار نہیں ہے، گو نزول کا سبب ان کے نزدیک خاص ہے۔
(آیت112) ➊ { وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً …:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دنیا میں بھی کفران نعمت کی سزا خوف اور بھوک کا ذکر کیا، اس لیے آیت کی ابتدا میں واؤ عطف آئی ہے۔ (قاسمی) ➋ { كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً …:} یعنی اس بستی کو نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا، نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی بستی ہو سکتی ہے، جیسے عاد و ثمود اور فرعون کی قوم کی بستیاں، مگر مکہ معظمہ میں یہ اوصاف سب سے زیادہ موجود تھے۔ پورے عرب میں کسی کو امن میسر نہ تھا، کسی بھی وقت کسی بھی قبیلے پر حملہ ہو سکتا تھا۔ مرد قتل، عورتیں اور بچے لونڈی و غلام اور مال مویشی غنیمت بن جاتے۔ کوئی سفر کرتا تو اسے اغوا کرکے بیچ دیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا۔ ان کی معیشت بھی نہایت تنگ تھی، وہ اپنے ریوڑ لے کر پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے۔ صرف مکہ میں بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے مکمل امن تھا اور پوری دنیا سے لوگ حج و عمرہ کے لیے آتے تو اہل مکہ کو ان سے خرید و فروخت اور کرایہ مکان وغیرہ کی صورت میں وافر رزق مل جاتا اور ہر قسم کا پھل اور سبزی اور ضرورت کی ہر چیز میسر رہتی۔ اہل مکہ سردی میں یمن کو تجارتی قافلے لے جاتے اور گرمی میں شام کو۔ ان کے قافلوں کو حرم کے احترام میں کوئی کچھ نہ کہتا، جب کہ دوسرے کسی قافلے کا زبردست جنگجوؤں کی معیت کے بغیر سفر کرنا ہی ناممکن تھا۔ ہاں حرمت کے چار مہینوں میں پورے عرب میں امن ہوتا، وہ بھی بیت اللہ کے حج و عمرہ کے احترام کی خاطر۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قریش، سورۂ قصص (۵۷)، عنکبوت (۶۷)، آل عمران (۹۷) اور سورۂ بقرہ (۱۲۵)۔ ➌ {فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ …: ”أَنْعُمٌ“ ”نِعْمَةٌ“ } کی جمع ہے، جیسا کہ {”أَشُدٌّ“ ”شِدَّةٌ“} کی۔ بعض کہتے ہیں {”نُعْمٰي“} کی جمع ہے، جیسے {”بُؤْسٰي“} کی جمع {”أَبْؤُسٌ“} ہے۔ (قرطبی) اس بستی والوں کی ناشکری اور احسان ناشناسی کی وجہ سے امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخی ٔ رزق کی جگہ بھوک نے انھیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کو گھیر لیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے کلام میں عجیب جامعیت ہے، بھوک اور خوف کی تلخی کے اظہار کے لیے {” فَاَذَاقَهَا “} (اس کو چکھایا) کا لفظ استعمال فرمایا اور اس عذاب کے چمٹ جانے کو لباس بن جانے کے ساتھ تعبیر کیا اور ایک لمبی بات کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا۔ اس استعارے کی لذت مومن عالم ہی اٹھا سکتا ہے، اس جاہل و ملحد کو اس لذت کی کیا خبر جس نے کہا کہ بھلا لباس بھی چکھا جاتا ہے؟
وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡہُمۡ فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا مگر اُنہوں نے اس کو جھٹلا دیا آخر کار عذاب نے اُن کو آ لیا جبکہ وہ ظالم ہو چکے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے پاس انہی میں سے رسول پہنچا پھر بھی انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آدبوچا اور وه تھے ہی ﻇالم
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ن کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا اور وہ بے انصاف تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر خود انہی میں سے ایک رسول ان کے پاس آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا پس عذاب نے انہیں اس حال میں آپکڑا کہ وہ ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انہوں نے اللہ کے رسول کی نہ مانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کمر کس لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سات قحط سالیوں کی بد دعا دی۔ جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں تھی۔ اس قحط سالی میں انہوں نے اونٹ کے خون میں لتھڑے ہوئے بال تک کھائے۔ امن کے بعد خوف آیا۔ ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر سے خوف زدہ رہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دن دگنی ترقی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکروں کی کثرت کا سنتے اور سہمے جاتے تھے یہاں تک کہ بالآخر اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شہر مکہ پر چڑھائی کی اور اسے فتح کر کے وہاں قبضہ کر لیا۔ یہ ان کی بد اعمالیوں کا ثمرہ تھا کیونکہ یہ ظلم و زیادتی پر اڑے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے رہے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ان میں خود ان میں سے ہی بھیجا تھا جس احسان کا بیان آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ» [3-آل عمران:164] ‏‏‏‏ الخ، میں فرمایا ہے اور اسی کا بیان آیت «فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ٽ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:10] ‏‏‏‏ الخ، میں ہے اور اسی معنی کی آیت «كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:151-152] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اس لطیفے کو بھی نہ بھولئے کہ جیسے کفر کی وجہ سے امن کے بعد خوف آیا اور فراخی کے بعد بھوک آئی ایمان کی وجہ سے خوف کے بعد امن ملا اور بھوک کے بعد حکومت، سرداری امارت اور امامت ملی۔ «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔ سليم بن عتر کہتے ہیں ہم ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا زوجہ محترمہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج سے لوٹتے ہوئے آرہے تھے اس وقت مدینہ شریف میں خلیفتہ المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہا گھرے ہوئے تھے۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا اکثر راہ چلتوں سے ان کی بابت دریافت فرمایا کرتی تھیں۔ دو سواروں کو جاتے ہوئے دیکھ کر آدمی بھیجا کہ ان سے خلیفتہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حال پوچھو۔ انہوں نے خبر دی کہ افسوس آپ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے۔ اسی وقت آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اللہ کی قسم یہی وہ شہید ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» “ ۱؎ [16-النحل:112] ‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:655/7:] ‏‏‏‏ عبیداللہ بن مغیرہ کے استاد کا بھی یہی قول ہے۔
113۔ 1 اس عذاب سے مراد وہی عذاب خوف وبھوک ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، یا اس سے مراد کافروں کا وہ قتل ہے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔
(آیت113){وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ …:} یہ ان احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا۔ غالباً اسی لفظ کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے، ورنہ اس کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ پہلے رسولوں کی کوئی بستی بھی مراد ہو سکتی ہے اور ان کی طرف آنے والا رسول بھی۔ البتہ اس سے مکہ بالاولیٰ مراد ہے۔ یہاں جس بھوک اور خوف کا لباس چکھانے کا ذکر ہے اس کی تفصیل عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں (کے ایمان لانے) سے گریز کو دیکھا تو آپ نے عرض کیا: [ اَللّٰهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوْسُفَ ] ”اے اللہ! یوسف(علیہ السلام) کے سات سالوں جیسے سات سال مسلط فرما۔“ تو انھیں ایسی قحط سالی نے آپکڑا جس نے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دیا، یہاں تک کہ وہ چمڑے، مردار اور لاشیں بھی کھا گئے، بھوک کی وہ شدت تھی کہ ان میں سے کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھواں نظر آتا۔ [ بخاری، الاستسقاء، باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم : اجعلھا سنین…: ۱۰۰۷ ] ادھر مسلمانوں کے ساتھ ہر وقت حالت جنگ کی وجہ سے باہر سے آنے والے لوگوں کی آمد بھی رک گئی اور خوف کی یہ حالت تھی کہ وہ ہر وقت مکہ میں اور مکہ سے باہر بھی مسلمانوں کے حملے سے خوف زدہ رہتے تھے۔ بہرحال شوکانی اور کئی مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی متعین بستی کا ذکر نہیں ہے، محض ایک تباہ شدہ بستی کی مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہماری نعمتوں خصوصاً رسول بھیجنے کی ناشکری کی تو تمھارے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ایسے بہت سے شہر ہوتے ہیں، پر احوال فرمایا مکے کا۔“ (موضح)
فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے لوگو، اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اُسے کھاؤ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ حلال اور پاکیزه روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے لوگو) خدا نے تمہیں جو حلال (اور) پاک و پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ (پیو) اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی نعمت کا شکر بھی ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
سو کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں حلال، پاکیزہ رزق دیا ہے اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ’ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ‘۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَا تَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ‘۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:79-80] ‏‏‏‏ ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ‘۔
114۔ 1 اس کا مطلب یہ ہوا کہ حلال وطیب چیزوں سے تجاوز کر کے حرام اور خبیث چیزوں کا استعمال اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
(آیت114){فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا …:} مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو! اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمھارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو البتہ بھوک سے مجبور ہو کر اگر کوئی اِن چیزوں کو کھا لے، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو، یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو، تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں، پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وه خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے واﻻ ہو تو یقیناً اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو حرام کیا ہے۔ پس جو (ان کے کھانے پر) مجبور ہو جائے نہ باغی ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا (تو کوئی مضائقہ نہیں) بے شک خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے گزرنے والا، تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ’ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ‘۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَا تَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ‘۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:79-80] ‏‏‏‏ ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ‘۔
115۔ 1 یہ آیت اس سے قبل تین مرتبہ پہلے بھی گزر چکی ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 2۔ البقرۃ:183)۔ (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 5۔ المائدہ:3)۔ (قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام:145) میں۔ یہ چوتھا مقام ہے۔ یعنی مخاطبین کے عقیدے اور خیال کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ورنہ دوسرے جانور اور درندے وغیرہ بھی حرام ہیں، البتہ ان آیات سے یہ واضح ہے کہ ان میں جن چار محرکات کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ ان سے مسلمانوں کو نہایت تاکید کے ساتھ بچانا چاہتا ہے۔ اس کی ضروری تشریح گزشتہ مقامات پر کی جا چکی ہے، تاہم اس میں (جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے) جو چوتھی قسم ہے۔ اس کے مفہوم میں حقیر عذر کو سامنے رکھ کر شرک کے لئے چور دروازہ تلاش کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی مزید وضاحت پیش خدمت ہے۔ جو جانور غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا جائے اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ غیر اللہ کے تقرب اور اس کی خوشنودی کے لیے اسے ذبح کیا جائے اور ذبح کرتے وقت نام بھی اسی بت یا بزرگ کا لیا جائے بزعم خویش جس کو راضی کرنا مقصود ہے دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود تو غیر اللہ کا تقرب ہی ہو۔ لیکن ذبح اللہ کے نام پر ہی کیا جائے جس طرح کہ قبر پرستوں میں یہ سلسلہ عام ہے۔ وہ جانوروں کو بزرگوں کیلیے نامزد تو کرتے ہیں مثلا یہ بکرا فلاں پیر کا ہے یہ گائے فلاں پیر کی ہے، یہ جانور گیارہویں کے لیے یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی کے لیے ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور ان کو وہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کرتے ہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ پہلی صورت تو یقیناً حرام ہے لیکن یہ دوسری صورت حرام نہیں بلکہ جائز ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا گیا ہے اور یوں شرک کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ حالانکہ فقہاء نے اس دوسری صورت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ بھی وما اھل لغیر اللہ بہ میں داخل ہے چناچہ حاشیہ بیضاوی میں ہے ہر وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے حرام ہے اگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ ہی کا نام لیا جائے اس لیے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ کوئی مسلمان اگر غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے جانور ذبح کرے گا تو وہ مرتد ہوجائے گا اور اس کا ذبیح مرتد کا ذبیحہ ہوگا اور فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں ہے کہ کسی حاکم اور کسی طرح کسی بڑے کی آمد پر حسن خلق یا شرع ضیافت کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی رضامندی اور اس کی تعظیم کے طور پر جانور ذبح کیا جائے تو وہ حرام ہوگا اس لیے کہ وہ وما اھل لغیر اللہ میں داخل ہے اگرچہ اس پر اللہ ہی کا نام لیا گیا ہو اور علامہ شامی نے اس کی تائید کی ہے۔ البتہ بعض فقہاء اس دوسری صورت کو وما اھل لغیر اللہ کا مدلول اور اس میں داخل نہیں سمجھتے اور اشتراک علت کی وجہ سے اسے حرام سمجھتے ہیں۔ گویا حرمت میں کوئی اختلاف نہیں صرف استدلال و احتجاج کے طریقے میں اختلاف ہے۔ علاوہ ازیں یہ دوسری صورت وماذبح علی النصب (جو بتوں کے پاس یا تھانوں پر ذبح کیے جائیں) بھی داخل ہے، جسے سورة المائدہ میں محرمات میں ذکر کیا گیا ہے اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آستانوں درباروں اور تھانوں پر ذبح کیے گئے جانور بھی حرام ہیں اس لیے کہ وہاں ذبح کرنے کا یا وہاں لے جا کر تقسیم کرنے کا مقصد تقرب لغیر اللہ ہی ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہاں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پرستش کی جاتی تھی؟ لوگوں نے بتلایا نہیں پھر آپ نے پوچھا کہ وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تو نہیں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے اس کی بھی نفی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بتوں کے ہٹائے جانے کے بعد بھی غیر آباد آستانوں پر جا کر جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ چہ جائیکہ ان آستانوں اور درباروں پر جا کر ذبح کیے جائیں جو پرستش اور نذر ونیاز کے لیے مرجع عوام ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ
(آیت115) ➊ {وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ:} یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دی جائے، مثلاً گنج بخش کا بکرا، چشتی اجمیری کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا، تو یقینا وہ جانور حرام ہو گیا اور {” اُهِلَّ “} کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے، کیونکہ {” اُهِلَّ “} کا معنی آواز بلند کرنا ہے، لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آ گیا اس میں ایسی خباثت آ گئی جو مردار میں بھی نہیں، کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا مگر {” مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ “} (جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے) میں اس جانور کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی۔ یہ آیت شریفہ قرآن میں چار مرتبہ آئی ہے، سورۂ بقرہ (۱۷۳)، مائدہ (۳)، انعام (۱۴۵) اور یہاں سورۂ نحل (۱۱۵) میں، تمام مقامات پر نظر ڈال لیں۔ اس کے معنی {”مَا رُفِعَ الصَّوْتُ بِهِ لِغَيْرٍ “} ہیں (یعنی جس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا جائے)، نہ کہ {”مَا ذُبِحَ بِاسْمِ غَيْرِ اللّٰهِ“} (یعنی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے)۔ گو یہ اس میں بطریقِ اولیٰ داخل ہے، جس کی بنا پر بعض مفسرین نے {” اُهِلَّ “} کی تفسیر {”ذُبِحَ“} کی ہے، جو اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر اور بیان واقعہ کے لیے ہے۔ ہمارے دور میں اس نئے شرک کا وقوع ہوا ہے، اس برصغیر پاک و ہند کے علماء نے اسے خوب حل فرمایا ہے اور شاہ عبد العزیز کی تفسیر عزیزی اس پر شاہد عدل ہے۔ ➋ {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳)، مائدہ (۳) اور سورۂ انعام (۱۴۵)۔
وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو، سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
(خبردار) تمہاری زبانوں پر جو جھوٹی بات آجائے (اور وہ جھوٹے احکام لگائیں) ان کے متعلق نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام! اس طرح تم اللہ پر جھوٹا افترا باندھوگے بے شک جو لوگ خدا پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی وجہ سے جو تمھاری زبانیں جھوٹ کہتی ہیں، مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ’ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ‘۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَا تَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ‘۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:79-80] ‏‏‏‏ ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ‘۔
116۔ 1 یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کرلیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ:13) اور الا نعام (وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۗءُ ۭ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ ۭاِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 139؁ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَاۗءً عَلَي اللّٰهِ ۭ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ 140؀ۧ وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ ڮ وَلَا تُسْرِفُوْا ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ 141؀ۙ) 6۔ الانعام:139 تا 141) کے حواشی)
(آیت117،116){وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ …: ” اَلْسِنَةٌ “ ” لِسَانٌ “} کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمھاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہو گا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہو جائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہو جانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے اپنے پاس سے حلال و حرام بنانے کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۳، ۱۰۴)، انعام (۱۳۸ تا ۱۴۰) اور سورۂ یونس (۵۹، ۶۰)۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین میں کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کرے، جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو، یا محض اپنی عقل اور رائے سے اللہ کی حلال کردہ چیز کے حرام یا حرام کردہ چیز کے حلال ہونے کا فتویٰ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے صحیح ہونے پر تو ساری امت کا اتفاق ہے: [ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ] “ [ بخاری، العلم، باب إثم من کذب علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۰۷۔ مسلم، المقدمۃ: ۳ ] ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (کیونکہ یہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ ہے)۔ “
مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دنیا کا عیش چند روزہ ہے آخرکار اُن کے لیے دردناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں بہت معمولی فائده ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب
علامہ محمد حسین نجفی
اس افترا پردازی کا چند روزہ فائدہ ہے (آخرکار) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت تھوڑا فائدہ ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ’ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ‘۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَا تَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ‘۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:79-80] ‏‏‏‏ ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور یہ اُن پر ہمارا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اوپر کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہودیوں پر جو کچھ ہم نے حرام کیا تھا اسے ہم پہلے ہی سے آپ کو سنا چکے ہیں، ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں ہم نے سنائیں اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں حرام کر دیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے (سورہ انعام میں) آپ سے کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے وہ چیزیں حرام کیں جو ہم نے تجھ پر اس سے پہلے بیان کی ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے ٭٭

اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتا دیا ہے ‘۔ سورۃ الانعام کی آیت «عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا» ۱؎ [6-الأنعام:146] ‏‏‏‏ میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی ’ یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود نا انصاف تھے ‘۔ «فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ كَثِيرًا» ۱؎ [ 4-النساء: 160 ] ‏‏‏‏ ’ ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کر دیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لیے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
118۔ 1 دیکھئے سورة الا نعام، (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ) 6۔ الانعام:146) کا حاشیہ، نیز سورة نساء۔ (فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا) 4۔ النساء:160) میں بھی اس کا ذکر ہے
(آیت118) ➊ { وَ عَلَى الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جب مسلمان پر حرام کردہ چیزوں مردار اور خون وغیرہ کا ذکر فرمایا اور صرف مجبوری کے وقت انھیں جائز قرار دینے کا ذکر فرمایا، تاکہ امت پر آسانی رہے تو اس کے بعد یہودیوں پر ان چیزوں کے حرام کرنے کا ذکر فرمایا، جن کا ذکر پہلے سورۂ نساء (۱۶۰) اور سورۂ انعام (۱۴۶) میں گزر چکا ہے، جو پاکیزہ اور حلال ہونے کے باوجود ان کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں اور اس اصر و اغلال میں شامل تھیں جو ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر لادے گئے تھے۔ پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر ان کی حرمت ختم ہوئی اور صرف وہ چیزیں حرام کی گئیں جن کا حرام کرنا بطور سزا نہیں بلکہ بطور مصلحت و رحمت تھا۔ ➋ { وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا…:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۰، ۱۶۱) اس سے یہودیوں کے اس دعویٰ کی بھی تردید ہو گئی کہ ان پر حرام کردہ چیزیں ہمیشہ سے حرام چلی آ رہی ہیں، اس لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۳)۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۹﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر برا عمل کیا اور پھر توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لی تو یقیناً توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب اُن کے لیے غفور اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کوئی جہالت سے برے عمل کرلے پھر توبہ کرلے اور اصلاح بھی کرلے تو پھر آپ کا رب بلا شک وشبہ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور نہایت ہی مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جو جہالت و نادانی سے برائی کر گزرتے ہیں اور پھرا س کے بعد توبہ کر لیتے ہیں اور اپنی اصلاح کر لیتے ہیں یقیناً آپ کا پروردگار اس کے بعد بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے جہالت سے برے عمل کیے، پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی، بلاشبہ تیرا رب اس کے بعد یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے ٭٭

اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتا دیا ہے ‘۔ سورۃ الانعام کی آیت «عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا» ۱؎ [6-الأنعام:146] ‏‏‏‏ میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی ’ یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود نا انصاف تھے ‘۔ «فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ كَثِيرًا» ۱؎ [ 4-النساء: 160 ] ‏‏‏‏ ’ ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کر دیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لیے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت119){ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ گاروں کو، وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مشرک یا مسلمان، سب کو توبہ اور اصلاح کے بعد بے انتہا مغفرت اور رحمت کی نوید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جہالت کا معنی لاعلمی نہیں بلکہ بے وقوفی اور اکھڑ پن ہے، جو آدمی سے بے عقلی کے کاموں کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ گھر سے نکلنے کی لمبی دعا میں ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ… أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ] ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ… میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا خرج من بیتہ: ۵۰۹۴۔ ابن ماجہ: ۳۸۸۴، و صححہ الألباني ] اور عمرو بن کلثوم نے کہا: { أَلَا لَا يَجْهَلَنْ أَحَدٌ عَلَيْنَا فَنَجْهَلْ فَوْقَ جَهْلِ الْجَاهِلِيْنَا} ”خبردار! ہم پر کوئی جہالت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے، ورنہ ہم جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر جہالت کریں گے۔“ اس حدیث اور شعر سے جہل کا مفہوم واضح ہوتا ہے جو یہاں مراد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گناہ لاعلمی سے ہو یا جان بوجھ کر، ہوتا ہی بے وقوفی اور جہالت سے ہے، اسلام سے پہلے والے زمانے کو اسی لیے زمانۂ جاہلیت کہتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۴)، نساء (۱۸، ۱۹) اور سورۂ فرقان (۶۳)۔
اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وه مشرکوں میں سے نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ابراہیم ایک امام تھا اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا اور مشرک نہ تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ابراہیم(ع) (اپنی ذات میں) ایک پوری امت تھے اللہ کے مطیع فرمان تھے (سب سے کٹ کر) یکسوئی سے (خدا کی طرف) مائل تھے اور ہرگز مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ابراہیم ایک امت تھا، اللہ کا فرماں بردار، ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا اور وہ مشرکوں سے نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔
120۔ 1 اُ مَّۃٌ کے معنی پیشوا اور قائد کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے اور امت بمعنی امت بھی ہے، اس اعتبار سے حضرت ابراہیم ؑ کا وجود ایک امت کے برابر تھا۔ (امت کے معانی کے لئے (وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) 11۔ ہود:8) کا حاشیہ دیکھئے)
(آیت120) ➊ {اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا …:} ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی: «{ وَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ }» [ الشعراء: ۸۴ ] ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ اس لیے مشرکین مکہ، یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ایک ابراہیم علیہ السلام کی عزت و تکریم کرنے والا اور ان کی ملت کا متبع ہونے کا دعوے دار تھا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ (108) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ }» [ الصافات: ۱۰۸، ۱۰۹ ] ”اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑی کہ ابراہیم پر سلام ہو۔“ یعنی بعد میں آنے والے سب لوگ ان پر سلام بھیجیں گے، اس لیے اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی صفات اور ان کا منہج بیان فرمایا، جس سے واضح ہو رہا ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیم پر قائم نہیں ہے۔ ➋ { اُمَّةً: } اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی پہلی صفت{ ” اُمَّةً “ } بیان فرمائی۔ اس آیت میں لفظ {” اُمَّةً “} کا معنی پیشوا اور امام بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا }» [ البقرۃ: ۱۲۴ ] ”بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔“ اور یہ بھی کہ وہ اکیلے ہی ایک امت (جماعت) تھے، کیونکہ اکیلے ہی میں اتنے کمالات تھے جو ایک جماعت میں ہوتے ہیں اور اکیلے شخص نے اتنا کام کیا جو ایک امت کے برابر تھا۔ تیسرا معنی یہ کہ ایک مدت تک اکیلے ہی وہ اور ان کی بیوی امت مسلمہ تھے، جیسا کہ جبار مصر اور سارہ علیھا السلام کے واقعہ میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیھا السلام سے کہا کہ اس وقت اس سرزمین میں میرے اور تمھارے سوا کوئی مومن نہیں، سو تم ایمان میں میری بہن ہو۔ [ بخاری: ۳۳۵۸ ] ➌ دوسری صفت {” قَانِتًا لِّلّٰهِ “} بیان فرمائی، یعنی اللہ کے فرماں بردار نہایت عاجزی کے ساتھ، کیونکہ ان دونوں کے مجموعی مفہوم کو قنوت کہتے ہیں۔ ➍ {” حَنِيْفًا “} تیسری صفت ہے، {”حَنَفٌ“} کا معنی ہے ایک طرف جھک جانا، یعنی تمام باطل دینوں سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے والا، تمام خداؤں کا انکار کرکے صرف ایک اللہ کی طرف ہو جانے والا۔ جس کی قولی، بدنی اور مالی عبادت، زندگی اور موت سب ایک اللہ کے لیے تھے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۱ تا ۱۶۳)۔ ➎ {وَ لَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ:} یہ مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ پر تعریض اور ان سب کے ابراہیمی ہونے کے دعویٰ کی نفی کا اظہار ہے کہ وہ تو مشرکوں میں سے نہیں تھے، جب کہ تم سب بتوں کو یا قبروں کو، عزیر یا عیسیٰ علیھما السلام کو اور اپنے احبار و رہبان کو رب بنا کر شرک میں گرفتار ہو چکے ہو۔
شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی
احمد رضا خان بریلوی
اس کے احسانوں پر شکر کرنے والا، اللہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھی راہ دکھائی،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں منتخب کر لیا تھا اور انہیں سیدھے راستہ پر لگا دیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ اس نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت121) {شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ:} شکر نعمت زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے شکر نعمت، اس کے احکام کی اطاعت، اس کے امتحانات میں کامیابی اور اس کے حقوق کی ادائیگی سب کو پورا کر دیا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى}» [ النجم: ۳۷ ] ”اور ابراہیم جس نے پورا حق ادا کر دیا۔“ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۴)۔
وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسے دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بےشک وه آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے انہیں دنیا میں بھی بھلائی دی اور آخرت میں تو وہ صالحین میں سے ہی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بے شک وہ آخرت میں بھی یقینا نیک لوگوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت122) ➊ { وَ اٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً:} یعنی دنیا میں حیاتِ طیبہ کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انھیں عطا فرمائیں، مثلاً دین حق کی ہدایت، نبوت کی نعمت، صالح اولاد، سیرت حسنہ، وافر مال و دولت اور سچی ناموری وغیرہ۔ ➋ {وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} خود ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی: «‏‏‏‏{ وَ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» ‏‏‏‏ [ الشعراء: ۸۳ ] ”مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔“ یوسف علیہ السلام نے بھی یہی دعا کی تھی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ ➌ معلوم ہوا کہ نیک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مگر قیامت کو صالحین کا ساتھ ملنا ایک مزید نعمت ہے، اس لیے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری الفاظ یہی تھے: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَأَلْحِقْنِيْ بِالرَّفِيْقِ الْأَعْلٰی] [ترمذی، أبواب الدعوات، باب: ۳۴۹۶۔ ابن ماجہ: ۱۶۱۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۶ /۶۴۱، ۶۴۲، ح: ۲۷۷۵ ] ”اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے سب سے اونچے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔“
ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول(ص) پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسو ہوکر ابراہیم کی ملت (طریقہ) کی پیروی کریں جو یقیناً مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کر، جو ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔
123۔ 1 مِلَّۃَ کے معنی ایسا دین جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی کے ذریعے لوگوں کے لئے شروع کے موافق اور ضروری قرار دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس بات کے کہ آپ تمام انبیاء سمیت اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جس سے حضرت ابراہیم ؑ کی امتیازی اور خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ایسے اصول میں تمام انبیاء کی شریعت اور ملت ایک ہی رہی جس میں رسالت کے ساتھ توحید وعقبیٰ و بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
(آیت123) ➊ {ثُمَّ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ …:} یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل نہ یہودیت ہے، نہ نصرانیت ہے اور نہ شرک کہ جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں، بلکہ اصل ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے جو خالص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کی وجہ سے حرام کر دی گئیں، اس لیے آپ کے لیے پیروی کے لائق اگر کوئی ملت ہے تو وہ صرف ملت ابراہیمی ہے۔ (ابن کثیر) ➋ لفظ {” ثُمَّ “} یہاں حقیقی ترتیب کے لیے نہیں بلکہ ترتیبِ ذکری کے لیے ہے اور آخر میں ابراہیم علیہ السلام کے فضائل میں سے یہ ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی ان فضائل کے ساتھ پھر ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جو اگرچہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں، مگر ساری اولاد آدم کے سردار ہیں)کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ آپ نے ملتِ ابراہیم کی پیروی کرنی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ملتِ ابراہیم کے پیروکار ہونے میں جہاں ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہے وہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بھی ظاہر ہے کہ آپ کو ملتِ ابراہیم کی پیروی کا حکم ابراہیم علیہ السلام کے لیے باعث فضیلت ٹھہرا۔
اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہا سبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلط کیا تھا جنہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا، اور یقیناً تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
ہفتہ تو انہیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے اور بیشک تمہارا رب قیا مت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
(باقی رہا) سبت (کے احترام کا معاملہ) تو یہ صرف ان لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
ہفتے کا دن تو صرف ان لوگوں پر مقرر کیا گیا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا اور بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن یقینا اس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جمعہ کا دن ٭٭

ہر امت کے لیے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لیے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لیے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہو چکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لیے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اتباع کریں۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لیے چھانٹا تھا۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا۔

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی۔ ایک قول ہے کہ آپ علیہ السلام نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ علیہ السلام نے بھی برابر جاری رکھی۔ جب آپ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لیے گئے تو آپ علیہ السلام کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آکر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کرلیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کر لیا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھودیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کر دیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاریٰ نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:856] ‏‏‏‏
124۔ 1 اس اختلاف کی نیت کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم و عبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن رہنے دو، بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کرلو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے مذہبی قیاس کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے کے لئے بیت المقدس کی شرقی جانب کو بطور قبلہ اختیار کیا۔ جمعہ کا دن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مقرر کئے جانے کا ذکر حدیث میں موجود ہے (صحیح بخاری)
(آیت124){اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ …:} یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کر دی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ هٰذَا يَوْمُهُمُ الَّذِيْ فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَهَدَانَا اللّٰهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيْهِ تَبَعٌ، الْيَهُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ ] [ بخاری، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ: ۸۷۶ ] ”ہم سب سے بعد میں آنے والے ہیں، جو قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، باوجود اس کے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ ان کا دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (جمعہ کے دن) کی ہدایت دی، سو لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہودی ہم سے بعد والے دن اور عیسائی اس سے بھی اگلے دن۔“ صحیح مسلم کی حدیث میں اس فرض کردہ دن کی تعیین موجود ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا جس سے اختلاف کرکے یہود نے ہفتہ اور نصاریٰ نے اتوار مقرر کر لیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب ہدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ: ۸۵۵ ]
اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) آپ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف (لوگوں کو) بلائیں حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے بہترین انداز میں بحث و مباحثہ کریں۔ آپ کا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا کون ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بے شک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں ‘۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمہ اللہ ”کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں۔‏‏‏‏“ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:46] ‏‏‏‏ الخ، ’ اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو ‘، الخ۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى» ۱؎ [20-طه:44] ‏‏‏‏ ’ اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے ‘۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے۔ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے۔ حساب ہم آپ لیں گے۔ «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے ‘۔
125۔ 1 اس میں تبلیغ ودعوت کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، اصلاحات کی مناسبت پر مبنی ہیں۔ جدال بالأحسن، درشتی اور تلخی سے بچتے ہوئے نرم ومشفقانہ لب و لہجہ اختیار کرنا ہے۔ 125۔ 2 یعنی آپ کا کام مذکورہ اصولوں کے مطابق وعظ و تبلیغ ہے، ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرنے والا کون ہے اور کون نہیں؟
(آیت125) ➊ {اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ:اُدْعُ “} کا مفعول یہاں مذکور نہیں کہ کسے دعوت دے، اس لیے مراد عام ہو گا، یعنی غیر مسلم اور مسلم سب کو دعوت دے۔ یا اسے فعل لازم کے قائم مقام قرار دیا جائے، اس وقت مراد یہ ہو گی کہ ہمیشہ دعوت دیتا رہ۔ رب کے راستے سے مراد اسلام اور اس کی تفصیلات ہیں۔ {” بِالْحِكْمَةِ”حِكْمَةٌ“} کا لفظ موقع کے مطابق کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، چنانچہ قاموس میں اس کے یہ معانی لکھے ہیں:{” اَلْعَدْلُ وَالْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّةُ وَالْقُرْآنُ وَالْإِنْجِيْلُ“} اور لکھا ہے کہ {”أَحْكَمَهُ“} کا معنی {” أَتْقَنَهُ “} ہے، یعنی اس نے اسے خوب پختہ اور مضبوط کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو چیزوں سے خالی نہیں ہونی چاہیے، ان میں سے ایک حکمت ہے، یعنی ایسی محکم اور پختہ دلیل جو حقیقت کے عین مطابق ہو، جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور مخاطب کے نزدیک بھی مسلم ہو، خواہ وہ عناد کی وجہ سے اسے نہ مانے۔ اسے برہان بھی کہتے ہیں: «{ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۱۱۱ ] ”کہہ دے لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔“ اس لیے حکمت کو دلیل برہانی کہتے ہیں۔ ➋ { وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ:} ”اچھی نصیحت“ سے مراد ایسی بات ہے جو مخاطب کے دل کو نیکی کے عمل کے لیے نرم کرے، یا بدی کے خلاف ابھار دے، ترغیب کے ذریعے سے یا ترہیب (ڈرانے) کے ساتھ، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا }» [ النساء: ۶۳ ] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں وعظ (نصیحت) کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔“ اسے دلیل خطابی کہتے ہیں۔ دعوت کے اس اسلوب میں حسن و خوبی اور نرمی و ملائمت کو ملحوظ رکھنا اور بدزبانی و سخت کلامی سے پرہیز لازم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو حکم دیا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [ طٰہٰ: ۴۴ ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔“ ➌ { وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ:} دعوت کے دوران میں اگر حکمت اور موعظۂ حسنہ کے باوجود مخاطب بحث اور مجادلے (جھگڑے) پر اتر آئیں تو آپ بھی ان سے مجادلہ کریں، کیونکہ پھر اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر یہ ہر حال میں احسن (زیادہ اچھا) ہونا چاہیے۔ کس سے احسن؟ جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر یا کم از کم ان کے مجادلے سے بہتر طریقے کے ساتھ ہو، کیونکہ باب مفاعلہ میں دو فریق ہوتے ہیں، یہاں ایک تم ہو اور ایک وہ، اس لیے احسن کا مطلب یہ ہو گا ان کے طریقے سے بہتر، جس میں گالی گلوچ اور ذاتی حملے وغیرہ نہ ہوں، بلکہ ایسی بات ہو جس سے وہ لاجواب ہو جائیں۔ انبیاء اور ان کے حقیقی وارث علماء کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے خاص طور پر نوازتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی والد کو حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت (دیکھیے مریم: ۴۲)، پھر بت توڑ کر بت پرستوں کے ساتھ بحث میں ان کو لاجواب کرنا (دیکھیے انبیاء: ۵۱ تا ۶۸)، پھر سورج، چاند اور ستاروں کے پوجنے والوں کو بحث میں لاجواب کرنا (دیکھیے انعام: ۷۶ تا ۸۳)، پھر بادشاہِ وقت کو رب ہونے کے دعویٰ میں لاجواب کرنا (دیکھیے بقرہ: ۲۵۸) اور نوح علیہ السلام کی قوم کا مجادلہ و بحث میں لاجواب ہو کر عذاب لانے کا مطالبہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ (دیکھیے ہود: ۳۲) موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے مکالمے بھی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ قرآن مجید مشرکین اور اہلِ کتاب سے مجادلۂ احسن پر مشتمل آیات سے بھرا پڑا ہے، بلکہ یہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سے ایک ہے۔ دیکھیے ”الفوز الکبیر“ از شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ۔ ➍ بعض لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی آیات مکی سورتوں میں ہیں، اس لیے یہ جہاد کے احکام کے ساتھ منسوخ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام اب بھی مؤثر ہیں اور اگر کوئی شخص حکمت، موعظۂ حسنہ اور مجادلۂ احسن کے بعد بھی نہ مانے تو اس کے لیے جہاد کا استثنا مکی سورتوں ہی میں موجود ہے۔ چنانچہ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ }» [ العنکبوت: ۴۶ ] ”اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔“ ظاہر ہے کہ مجادلۂ احسن کے بعد بھی ظلم پر قائم رہنے والوں کے لیے جہاد کے سوا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ یہ ایک فطری حقیقت ہے جیسا کہ فِند زِمّانی نے کہا ہے: {فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ وَأَمْسٰي وَهُوَ عُرْيَانُ وَلَمْ يَبْقَ سِوَي الْعُدْوَانِ دِنَّاهُمْ كَمَا دَانُوْا} ”پھر جب لڑائی بالکل ظاہر ہو گئی اور ننگی ہو کر سامنے آ گئی اور زیادتی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ہم نے بھی بدلے میں ان سے وہی کیا جو انھوں نے کیا تھا۔“ بلکہ اس آیت سے اگلی آیت میں بھی جہاد کا ذکر موجود ہے، صرف غور کی ضرورت ہے۔ ➎ {اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ …:} اس آیت کے فوائد میں سے دو فائدے زیادہ ظاہر ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کسی شخص کے ایمان نہ لانے پر اسے دعوت دینا ترک نہ کریں، آپ کو علم نہیں، ہو سکتا ہے وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہو جنھیں ہدایت نصیب ہونی ہے، یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا {” اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ “} (بے شک تیرا رب ہی اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے) تو آگے بظاہر اتنا ہی کہنا کافی تھا {” بِالْمُهْتَدِيْنَ “} (اور ہدایت پانے والوں کو بھی) مگر اللہ تعالیٰ نے {” وَ هُوَ اَعْلَمُ “} کو دوبارہ ذکر فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ کافر لوگ بے شک اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے رہیں، مگر اصل گمراہ کون ہے اور اصل ہدایت یافتہ کون ہے، یہ علم تیرے رب ہی کے پاس ہے۔
وَ اِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ لَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کرلو تو بےشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہونچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم بدلہ لینا چاہو تو اس قدر لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمھیں تکلیف دی گئی ہے اور بلاشبہ اگر تم صبر کرو تو یقینا وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قصاص اور حصول قصاص ٭٭

قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہو جائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہو گئی۔‏‏‏‏“ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سورۃ النحل پوری مکے شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لیے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ { اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا }۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپ نبی محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آکر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:286/3:مرسل] ‏‏‏‏۔ لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔

بزار میں ہے کہ { جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہو گا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا کہ { آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ رضی اللہ عنہ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا } یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: { جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا }۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا } }۔ ۱؎ [مسند بزار:1795:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بے حرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر رضی اللہ عنہم اجمعین تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا کہ { جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے }۔ چنانچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (‏‏‏‏جن کے نام لیے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا کہ { ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3129،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ» ۱؎ [42-الشورى:40] ‏‏‏‏ میں برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو در گزر کرلے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ‘۔ اسی طرح آیت «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ‏‏‏‏ میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ ’ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی ‘۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ ’ اگر صبر کر لو تو یہ بہت ہی بہتر ہے ‘۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ ’ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہو سکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو ‘۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔

ملائیکہ اور مجاہدین ٭٭

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چنانچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت «اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ۱؎ [8-الأنفال:12] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو ‘۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا تھا آیت «لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» ۱؎ [20-طه:46] ‏‏‏‏ ’ تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں ‘۔ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا آیت «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ۱؎ [9-التوبہ:40] ‏‏‏‏ ’ غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3652] ‏‏‏‏ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الٰہی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت «وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [57-الحديد:4] ‏‏‏‏ اور آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا» ۱؎ [58-المجادلة:7] ‏‏‏‏ الخ اور آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا» ۱؎ [10-يونس:61] ‏‏‏‏ الخ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں ‘۔ پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کر دینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے مروی ہے ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔‏‏‏‏“
126۔ 1 اس میں اگرچہ بدلہ لینے کی اجازت ہے بشرطیکہ تجاوز نہ ہو، ورنہ یہ خود ظالم ہوجائے گا، تاہم معاف کردینے اور صبر اختیار کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔
(آیت126) ➊ {وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ:} واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ اس کا تعلق پچھلی آیت سے ہے کہ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو بدلے میں اتنی زیادتی تم بھی کرو۔ اس آیت سے دو مسئلے واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ قتل وغیرہ کا قصاص اسی طریقے سے لینا جس طریقے سے قاتل نے قتل کیا ہے، جائز ہے اور اس کی تائید اس یہودی سے قصاص والی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس نے ایک بچی کا سر دو پتھروں میں کچل دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی اسی طرح قتل کرنے کا حکم دیا۔ [ دیکھیے مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب ثبوت القصاص فی القتل…: ۱۷ /۱۶۷۲ ] اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کے چرواہوں کو قتل کرنے والے اور اونٹنیاں لے جانے والے مجرموں کو بھی قصاص میں اسی طرح آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں، جیسا کہ انھوں نے کیا تھا۔ [ دیکھیے بخاری، الحدود، باب المحاربین من أہل الکفر و الردۃ: ۶۸۰۲ ] اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ظالم کے ظلم کے برابر بدلہ جائز ہے زیادہ نہیں، فرمایا: «{ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ}» [ البقرۃ: ۱۹۴ ] ”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے زیادتی کی۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مثلہ کرنے سے منع فرمایا اس سے مراد قصاص کے علاوہ صورتیں ہیں اور ابن ماجہ کی روایت (۲۶۶۷) [ لَا قَوَدَ إِلاَّ بِالسَّيْفِ ] (قصاص تلوار کے سوا جائز نہیں) ثابت نہیں، بلکہ ضعیف ہے، تفصیلی بحث ارواء الغلیل (۷؍۲۸۵، ۲۸۹، ح: ۲۲۲۹) میں ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال میں خیانت کرے، یا اس کا مال یا کوئی چیز لے کر واپس نہ دے، پھر مظلوم کو اس کا مال یا کوئی چیز ہاتھ آ جائے، یا وہ اس کے پاس امانت رکھے تو اسے اپنے مال کے برابر اس میں سے رکھ لینا جائز ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْمَظَالِمِ“} میں{ ”بَابُ قِصَاصِ الْمَظْلُوْمِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ“} (مظلوم کا قصاص لینا جب اسے اس پر ظلم کرنے والے کا مال مل جائے) میں اسی آیت سے ابن سیرین رحمہ اللہ کا یہ استدلال نقل فرمایا ہے اور مزید احادیث سے اسے مدلل کیا ہے۔ بعض لوگ ایک روایت کی بنا پر اسے منع کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلٰی مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ] [ أبوداوٗد، البیوع، باب في الرجل یأخذ حقہ من تحت یدہ: ۳۵۳۵ ] ”جو شخص تمھارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمھاری خیانت کرے اس کی خیانت مت کرو۔“ اگرچہ اس حدیث پر کلام ہے، مگر صحیح ماننے کی صورت میں بھی اپنا مال واپس لینے کو خیانت نہیں کہا جا سکتا۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے {” المحلٰي “} کی ” کتاب التفلیس“ کے آخر میں اس مسئلہ پر نہایت عمدہ بحث تحریر فرمائی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ➋ { وَ لَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ:} کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم سے انھیں ان کا بدلہ خود لے کر دے گا اور اپنے ہاں سے انھیں صبر کا اجر عظیم عطا فرمائے گا، اللہ نے فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ (39) وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ }» [ الشورٰی: ۳۹، ۴۰ ] ”اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بے شک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ صحیح بخاری میں ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ (صحابہ کرام) ذلت قبول کرنے کو ناپسند کرتے تھے، مگر جب قدرت پا لیتے تو معاف کر دیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاری، المظالم، باب الانتصار من الظالم، بعد ح: ۲۴۴۶ ] ➌ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے {” اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ “} سے لے کر یہاں تک کا خلاصہ بیان فرمایا: ”پہلے جو فرمایا سمجھاؤ بھلی طرح سے، اس میں رخصت دی کہ بدی کے بدلے بدی بری نہیں، مگر صبر زیادہ بہتر ہے۔“ (موضح)
وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، صبر سے کام کیے جاؤ اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اِن لوگوں کی حرکات پر ر نج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیده نہ ہوں اور جو مکر وفریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، ف۲۸۹)
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا تو محض اللہ کی توفیق سے ہے اور آپ ان لوگوں کے حال پر غم نہ کیجئے اور نہ ہی ان کی مکاریوں سے دل تنگ ہو جایئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور صبر کر اور نہیں تیرا صبر مگر اللہ کے ساتھ اور ان پر غم نہ کر اور نہ کسی تنگی میں مبتلا ہو، اس سے جو وہ تدبیریں کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قصاص اور حصول قصاص ٭٭

قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہو جائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہو گئی۔‏‏‏‏“ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سورۃ النحل پوری مکے شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لیے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ { اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا }۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپ نبی محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آکر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:286/3:مرسل] ‏‏‏‏۔ لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔

بزار میں ہے کہ { جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہو گا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا کہ { آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ رضی اللہ عنہ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا } یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: { جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا }۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا } }۔ ۱؎ [مسند بزار:1795:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بے حرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر رضی اللہ عنہم اجمعین تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا کہ { جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے }۔ چنانچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (‏‏‏‏جن کے نام لیے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا کہ { ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3129،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ» ۱؎ [42-الشورى:40] ‏‏‏‏ میں برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو در گزر کرلے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ‘۔ اسی طرح آیت «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ‏‏‏‏ میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ ’ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی ‘۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ ’ اگر صبر کر لو تو یہ بہت ہی بہتر ہے ‘۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ ’ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہو سکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو ‘۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔

ملائیکہ اور مجاہدین ٭٭

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چنانچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت «اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ۱؎ [8-الأنفال:12] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو ‘۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا تھا آیت «لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» ۱؎ [20-طه:46] ‏‏‏‏ ’ تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں ‘۔ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا آیت «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ۱؎ [9-التوبہ:40] ‏‏‏‏ ’ غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3652] ‏‏‏‏ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الٰہی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت «وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [57-الحديد:4] ‏‏‏‏ اور آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا» ۱؎ [58-المجادلة:7] ‏‏‏‏ الخ اور آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا» ۱؎ [10-يونس:61] ‏‏‏‏ الخ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں ‘۔ پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کر دینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے مروی ہے ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔‏‏‏‏“
127۔ 1 اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مکروں کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ اور محسنین کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے اہل دنیا کی سازشیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں، جیسا کہ ما بعد کی آیت میں ہے
(آیت127) ➊ {وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ:} آخر میں پھر صبر کا حکم دیا، ساتھ ہی متنبہ فرمایا کہ اگر صبر جیسا مشکل اور عظیم کام کر لو تو اسے اپنا کمال مت سمجھنا، بلکہ یقین رکھنا کہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ممکن ہوا، تمھیں اس کا فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اللہ کی نعمت سے غافل نہ ہو، اس کے سامنے عاجز و منکسر رہو اور ہر وقت اس سے دعا کرتے رہو۔ ➋ {وَ لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ …:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر اتنا غم ہوتا کہ شاید اپنی جان گھلا لیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ نہ آپ ان پر غم کریں اور نہ ان کی سازشوں سے دل تنگ ہوں۔ {” ضَيْقٍ “} اور{ ” ضِيْقٌ “} دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۳) اور سورۂ کہف (۶)۔
اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو (خلقِ خدا سے) حسنِ سلوک کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ڈر گئے اور ان لوگوں کے جو نیکی کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قصاص اور حصول قصاص ٭٭

قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہو جائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہو گئی۔‏‏‏‏“ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سورۃ النحل پوری مکے شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لیے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ { اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا }۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپ نبی محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آکر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:286/3:مرسل] ‏‏‏‏۔ لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔

بزار میں ہے کہ { جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہو گا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا کہ { آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ رضی اللہ عنہ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا } یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: { جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا }۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا } }۔ ۱؎ [مسند بزار:1795:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بے حرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر رضی اللہ عنہم اجمعین تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا کہ { جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے }۔ چنانچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (‏‏‏‏جن کے نام لیے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا کہ { ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3129،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ» ۱؎ [42-الشورى:40] ‏‏‏‏ میں برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو در گزر کرلے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ‘۔ اسی طرح آیت «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ‏‏‏‏ میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ ’ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی ‘۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ ’ اگر صبر کر لو تو یہ بہت ہی بہتر ہے ‘۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ ’ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہو سکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو ‘۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔

ملائیکہ اور مجاہدین ٭٭

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چنانچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت «اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ۱؎ [8-الأنفال:12] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو ‘۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا تھا آیت «لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» ۱؎ [20-طه:46] ‏‏‏‏ ’ تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں ‘۔ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا آیت «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ۱؎ [9-التوبہ:40] ‏‏‏‏ ’ غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3652] ‏‏‏‏ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الٰہی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت «وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [57-الحديد:4] ‏‏‏‏ اور آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا» ۱؎ [58-المجادلة:7] ‏‏‏‏ الخ اور آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا» ۱؎ [10-يونس:61] ‏‏‏‏ الخ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں ‘۔ پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کر دینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے مروی ہے ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت128) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا …:} یعنی دل تنگ وہ ہو جس کا کوئی ساتھی و مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر متقی اور محسن کا ساتھی اور مددگار ہے اور آپ اللہ کے فضل سے تمام متقی اور محسن لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ] [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ بني إسرائیل: ۳۱۴۸، و صححہ الألباني ] ”میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ پھر آپ دل تنگ کیوں ہوں؟ احسان کی تفصیل کے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۹۰)، احسان کا مقام تقویٰ سے اونچا ہے۔ ➋ معیت(ساتھ) دو قسم کی ہے، ایک معیت عامہ، یہ ہر شخص بلکہ ہر مخلوق کو حاصل ہے اور اس کے بغیر کوئی چیز باقی نہیں رہ سکتی، فرمایا: «{ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ }» [ الحدید: ۴ ] ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔“ ایک معیت خاصہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا }» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”غم نہ کر بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ اور جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ }» [ الشعراء: ۶۲ ] ”ہر گز نہیں، بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔“ یہ خاص معیت ہے، یعنی ہمارا مددگار ہے۔ اس آیت میں معیت خاصہ مراد ہے۔