بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 122
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 122
آیت نمبر: 122 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾ؕ
دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا
ہم نے اسے دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بےشک وه آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،
ہم نے انہیں دنیا میں بھی بھلائی دی اور آخرت میں تو وہ صالحین میں سے ہی ہیں۔
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بے شک وہ آخرت میں بھی یقینا نیک لوگوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت122) ➊ { وَ اٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً:} یعنی دنیا میں حیاتِ طیبہ کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انھیں عطا فرمائیں، مثلاً دین حق کی ہدایت، نبوت کی نعمت، صالح اولاد، سیرت حسنہ، وافر مال و دولت اور سچی ناموری وغیرہ۔ ➋ {وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} خود ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی: «‏‏‏‏{ وَ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» ‏‏‏‏ [ الشعراء: ۸۳ ] ”مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔“ یوسف علیہ السلام نے بھی یہی دعا کی تھی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ ➌ معلوم ہوا کہ نیک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مگر قیامت کو صالحین کا ساتھ ملنا ایک مزید نعمت ہے، اس لیے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری الفاظ یہی تھے: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَأَلْحِقْنِيْ بِالرَّفِيْقِ الْأَعْلٰی] [ترمذی، أبواب الدعوات، باب: ۳۴۹۶۔ ابن ماجہ: ۱۶۱۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۶ /۶۴۱، ۶۴۲، ح: ۲۷۷۵ ] ”اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے سب سے اونچے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔“
← پچھلی آیت (121) پوری سورۃ اگلی آیت (123) →