بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 123
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 123
آیت نمبر: 123 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾
پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا
پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے
پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا،
اے رسول(ص) پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسو ہوکر ابراہیم کی ملت (طریقہ) کی پیروی کریں جو یقیناً مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کر، جو ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭

امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ’ وہ مشرکوں سے بیزار تھا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏‏‏‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] ‏‏‏‏ ’ وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا ‘ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:51] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے ‘۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ’ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا ‘۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ الخ، ’ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا ‘۔

📖 احسن البیان

123۔ 1 مِلَّۃَ کے معنی ایسا دین جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی کے ذریعے لوگوں کے لئے شروع کے موافق اور ضروری قرار دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس بات کے کہ آپ تمام انبیاء سمیت اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جس سے حضرت ابراہیم ؑ کی امتیازی اور خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ایسے اصول میں تمام انبیاء کی شریعت اور ملت ایک ہی رہی جس میں رسالت کے ساتھ توحید وعقبیٰ و بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت123) ➊ {ثُمَّ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ …:} یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل نہ یہودیت ہے، نہ نصرانیت ہے اور نہ شرک کہ جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں، بلکہ اصل ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے جو خالص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کی وجہ سے حرام کر دی گئیں، اس لیے آپ کے لیے پیروی کے لائق اگر کوئی ملت ہے تو وہ صرف ملت ابراہیمی ہے۔ (ابن کثیر) ➋ لفظ {” ثُمَّ “} یہاں حقیقی ترتیب کے لیے نہیں بلکہ ترتیبِ ذکری کے لیے ہے اور آخر میں ابراہیم علیہ السلام کے فضائل میں سے یہ ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی ان فضائل کے ساتھ پھر ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جو اگرچہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں، مگر ساری اولاد آدم کے سردار ہیں)کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ آپ نے ملتِ ابراہیم کی پیروی کرنی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ملتِ ابراہیم کے پیروکار ہونے میں جہاں ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہے وہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بھی ظاہر ہے کہ آپ کو ملتِ ابراہیم کی پیروی کا حکم ابراہیم علیہ السلام کے لیے باعث فضیلت ٹھہرا۔
← پچھلی آیت (122) پوری سورۃ اگلی آیت (124) →