بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 124
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 124
آیت نمبر: 124 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
رہا سبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلط کیا تھا جنہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا، اور یقیناً تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا
ہفتہ تو انہیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے اور بیشک تمہارا رب قیا مت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے،
(باقی رہا) سبت (کے احترام کا معاملہ) تو یہ صرف ان لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
ہفتے کا دن تو صرف ان لوگوں پر مقرر کیا گیا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا اور بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن یقینا اس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جمعہ کا دن ٭٭

ہر امت کے لیے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لیے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لیے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہو چکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لیے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اتباع کریں۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لیے چھانٹا تھا۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا۔

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی۔ ایک قول ہے کہ آپ علیہ السلام نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ علیہ السلام نے بھی برابر جاری رکھی۔ جب آپ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لیے گئے تو آپ علیہ السلام کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آکر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کرلیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کر لیا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھودیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کر دیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاریٰ نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:856] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

124۔ 1 اس اختلاف کی نیت کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم و عبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن رہنے دو، بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کرلو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے مذہبی قیاس کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے کے لئے بیت المقدس کی شرقی جانب کو بطور قبلہ اختیار کیا۔ جمعہ کا دن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مقرر کئے جانے کا ذکر حدیث میں موجود ہے (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت124){اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ …:} یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کر دی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ هٰذَا يَوْمُهُمُ الَّذِيْ فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَهَدَانَا اللّٰهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيْهِ تَبَعٌ، الْيَهُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ ] [ بخاری، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ: ۸۷۶ ] ”ہم سب سے بعد میں آنے والے ہیں، جو قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، باوجود اس کے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ ان کا دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (جمعہ کے دن) کی ہدایت دی، سو لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہودی ہم سے بعد والے دن اور عیسائی اس سے بھی اگلے دن۔“ صحیح مسلم کی حدیث میں اس فرض کردہ دن کی تعیین موجود ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا جس سے اختلاف کرکے یہود نے ہفتہ اور نصاریٰ نے اتوار مقرر کر لیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب ہدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ: ۸۵۵ ]
← پچھلی آیت (123) پوری سورۃ اگلی آیت (125) →