بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 112
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 112
آیت نمبر: 112 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں
اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا،
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن و اطمینان سے (آباد) تھی اس کی روزی فراغت سے آرہی تھی پس اس نے کفرانِ نعمت شروع کیا تو اللہ نے اس کے باشندوں کے کرتوتوں کی پاداش میں اسے یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف کو اس کا اوڑھنا بنا دیا۔
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی ، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے ٭٭

اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آ جاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا» ۱؎ [28-القصص:57] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں کیا ہم نے انہیں امن و امان کا حرم نہیں دے رکھا؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تھی ‘۔ جیسے ارشاد باری ہے آیت «‏‏‏‏أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۔ [14-ابراھیم:28-29] ‏‏‏‏ ’ کیا تونے انہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف پہنچا دیا جو جہنم ہے جہاں یہ داخل ہوں گے اور جو بری قرار گاہ ہے ‘۔ ان کی اس سرکشی کی سزا میں دونوں نعمتیں دو زحمتوں سے بدل دی گئیں امن خوف سے، اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے۔

📖 احسن البیان

122۔ 1 اکثر مفسرین نے اس قریہ (بستی) سے مراد مکہ لیا ہے۔ یعنی اس میں مکہ اور اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے بد دعا فرمائی ' اے اللہ مضر (قبیلے) پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط کر دے، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ہوئی ' چناچہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا۔ حتیٰ کہ ان کا یہ حال ہوگیا کہ ہڈیاں اور درختوں کے پتے کھا کر انھیں گزارہ کرنا پڑا۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ کفران نعمت کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہوگا، وہ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں۔ اس کے اس عموم سے جمہور مفسرین کو بھی انکار نہیں ہے، گو نزول کا سبب ان کے نزدیک خاص ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت112) ➊ { وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً …:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دنیا میں بھی کفران نعمت کی سزا خوف اور بھوک کا ذکر کیا، اس لیے آیت کی ابتدا میں واؤ عطف آئی ہے۔ (قاسمی) ➋ { كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً …:} یعنی اس بستی کو نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا، نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی بستی ہو سکتی ہے، جیسے عاد و ثمود اور فرعون کی قوم کی بستیاں، مگر مکہ معظمہ میں یہ اوصاف سب سے زیادہ موجود تھے۔ پورے عرب میں کسی کو امن میسر نہ تھا، کسی بھی وقت کسی بھی قبیلے پر حملہ ہو سکتا تھا۔ مرد قتل، عورتیں اور بچے لونڈی و غلام اور مال مویشی غنیمت بن جاتے۔ کوئی سفر کرتا تو اسے اغوا کرکے بیچ دیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا۔ ان کی معیشت بھی نہایت تنگ تھی، وہ اپنے ریوڑ لے کر پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے۔ صرف مکہ میں بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے مکمل امن تھا اور پوری دنیا سے لوگ حج و عمرہ کے لیے آتے تو اہل مکہ کو ان سے خرید و فروخت اور کرایہ مکان وغیرہ کی صورت میں وافر رزق مل جاتا اور ہر قسم کا پھل اور سبزی اور ضرورت کی ہر چیز میسر رہتی۔ اہل مکہ سردی میں یمن کو تجارتی قافلے لے جاتے اور گرمی میں شام کو۔ ان کے قافلوں کو حرم کے احترام میں کوئی کچھ نہ کہتا، جب کہ دوسرے کسی قافلے کا زبردست جنگجوؤں کی معیت کے بغیر سفر کرنا ہی ناممکن تھا۔ ہاں حرمت کے چار مہینوں میں پورے عرب میں امن ہوتا، وہ بھی بیت اللہ کے حج و عمرہ کے احترام کی خاطر۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قریش، سورۂ قصص (۵۷)، عنکبوت (۶۷)، آل عمران (۹۷) اور سورۂ بقرہ (۱۲۵)۔ ➌ {فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ …: ”أَنْعُمٌ“ ”نِعْمَةٌ“ } کی جمع ہے، جیسا کہ {”أَشُدٌّ“ ”شِدَّةٌ“} کی۔ بعض کہتے ہیں {”نُعْمٰي“} کی جمع ہے، جیسے {”بُؤْسٰي“} کی جمع {”أَبْؤُسٌ“} ہے۔ (قرطبی) اس بستی والوں کی ناشکری اور احسان ناشناسی کی وجہ سے امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخی ٔ رزق کی جگہ بھوک نے انھیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کو گھیر لیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے کلام میں عجیب جامعیت ہے، بھوک اور خوف کی تلخی کے اظہار کے لیے {” فَاَذَاقَهَا “} (اس کو چکھایا) کا لفظ استعمال فرمایا اور اس عذاب کے چمٹ جانے کو لباس بن جانے کے ساتھ تعبیر کیا اور ایک لمبی بات کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا۔ اس استعارے کی لذت مومن عالم ہی اٹھا سکتا ہے، اس جاہل و ملحد کو اس لذت کی کیا خبر جس نے کہا کہ بھلا لباس بھی چکھا جاتا ہے؟
← پچھلی آیت (111) پوری سورۃ اگلی آیت (113) →