بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 101
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 101
آیت نمبر: 101 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں
اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں
اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں،
اور جب ہم ایک آیت کو کسی اور آیت سے بدلتے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم (یہ کلام) اپنے دل سے گھڑ لیا کرتے ہو حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ حال کو) نہیں جانتے۔
اور جب ہم کوئی آیت کسی دوسری آیت کی جگہ بدل کر لاتے ہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ نازل کرتا ہے، تو وہ کہتے ہیں تو تو گھڑ کر لانے والا ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ازلی بدنصیب لوگ ٭٭

مشرکوں کی عقلی، بے ثباتی اور بے یقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ ‘ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106] ‏‏‏‏، میں فرمایا ہے۔ ’ پاک روح (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ‘۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس طرح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بےعلم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 16 کا حاشیہ

📖 القرآن الکریم

(آیت101) ➊ {وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ:} یعنی پہلی آیت کا حکم منسوخ کرکے نیا حکم نازل فرماتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۰۶) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) ➋ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ان کے اکثر لوگ نسخ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مفتری اس لیے کہتے ہیں کہ انھیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں، اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے منسوخ کرکے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔ {” اَكْثَرُهُمْ “} اس لیے فرمایا کہ کچھ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کو مفتری کہتے ہیں۔ ➌ اس آیت کے دو مفہوم ہیں، ایک وہ جو اوپر گزرا، وہاں {” اٰيَةٍ “} سے مراد شرعی آیت اور حکم ہے، دوسرا معنی نشانی اور معجزہ ہے۔ اس وقت {” اٰيَةٍ “} سے مراد آیت کونیہ ہو گی، مثلاً ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں نہ جلنا، عصائے موسیٰ، ید بیضا، اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ۔ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے آیات کونیہ کا نظام بھی بدل دیا اور بطور معجزہ بھی قرآن ہی نازل فرمایا اور صرف کسی ایک سورت کے مقابلے کا چیلنج دیا، جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، نہ دے سکے گا۔ باقی انبیاء کی آیات یعنی معجزوں کے بدلے یہ آیت یعنی معجزہ ایسا نازل ہوا جو آپ کے بعد قیامت تک موجود ہے۔ جب کچھ جواب نہ آیا تو آپ کو مفتری کہہ دیا، فرمایا نبی مفتری نہیں بلکہ یہ بے چارے بے علم ہیں۔
← پچھلی آیت (100) پوری سورۃ اگلی آیت (102) →