بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 87
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 87
آیت نمبر: 87 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
اُس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افترا پردازیاں رفو چکر ہو جائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے
اس دن وه سب (عاجز ہوکر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وه سب ان سے گم ہو جائے گی
اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے، ف۱۹۹)
اور اس دن سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے اور وہ ساری افتراء پردازیاں غائب ہو جائیں گی جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ ’ تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا ‘، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» ۱؎ [20-طہ:111] ‏‏‏‏ ’ سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے ‘۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے ‘ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:26] ‏‏‏‏ ’ دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں ‘۔ ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت87){ وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِ ا۟لسَّلَمَ …: ” السَّلَمَ “} کا معنی مطیع ہونا، فرماں بردار ہونا ہے۔ یعنی پہلے تو قسمیں کھا کر اپنے مشرک ہونے کا انکار کرتے رہیں گے، جیسا کہ سورۂ انعام (۲۲، ۲۳) اور سورۂ مجادلہ (۱۸) میں ہے، پھر اپنے بنائے ہوئے شرکاء کو دیکھ کر انھیں اپنے ساتھ پھنسانے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا۔ جب وہ بھی انھیں صاف جھوٹا کہیں گے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے ہر طرح فرماں بردار اور سرتا پا عجز و انکسار بن جائیں گے اور وہ تمام حاجت روا، مشکل کشا، داتا اور دستگیر جو انھوں نے بنا رکھے تھے اور جن کی مشکل کشائیوں کی جھوٹی کہانیاں انھوں نے گھڑ رکھی تھیں، سب ان سے گم ہو جائیں گے، کوئی نظر نہیں آئے گا۔ بعض لوگوں کو یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام کی طرح قرآن کی بہت سی آیات میں مشرکین کا بولنا، عذر کرنا، قسمیں اٹھانا مذکور ہے اور کئی آیات میں ان کے مونہوں پر مہر لگنا یا انھیں بولنے کی اجازت نہ ملنا مذکور ہے۔ ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے تطبیق یہ دی ہے کہ یہ سب الگ الگ مواقع کا بیان ہے، کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہو گا، کبھی ان کا حال کچھ ہو گا کبھی کچھ۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب إثم مانع الزکوٰۃ: ۹۸۷ ]
← پچھلی آیت (86) پوری سورۃ اگلی آیت (88) →